ضبط ولادت

جدید دنیاکاایک اہم مسئلہ ضبط ولادت ہے۔ اسلام کی روسے زندگی کے ہرمیدان میں پلاننگ اورسٹریٹجی ضروری ہے۔ چنانچہ خاندان کی توسیع کے معاملے میں بھی ممکن حد تک انسانی عقل وسائل سے کام لے کرپلاننگ بھی لازم ہے اس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ 
پروردگار نے اس دنیا کو چلانے کے جوضا بطہ مقرر کیا ہے۔ اس کے مطابق یہاں کے تمام کام دو طریقوں سے انجام پاتے ہیں۔ایک طریقہ وہ ہے جس میں انسان کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ مثلاً بارش ، طوفان، زلزلے،موسموں کی تبدیلی اور قدرتی آفات و غیرہ۔ دوسرا طریقہ وہ ہے جس کے مطابق کچھ کاموں کا ذریعہ اور سبب انسا ن بنتا ہے۔ وہ تمام کام جنہیں انسان اپنے اختیار میں سمجھتا ہے۔ ان کے متعلق پروردگار نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ علم ,(knowledge) فکر (rational thinking) ، عقل (intellect)، تدبر (wisdom)، اور حکمت (proper strategy) سے کام لے۔ قرآن مجید میں یہ ہدایت اوراس سے متعلق اشارات ایک سو سے زیادہ مرتبہ آئے ہیں۔ مثلاً:
وقل ربی زدنی علماً (طہٰ20۔ آیت:114)
’’اے نبی! یہ دعا کیا کر کہ اے پروردگار میرا علم بڑھا‘‘۔
قل ھل یستوی الذین یعلمون والذین لایعلمون انمایتذکرواولوالباب (زمر39۔ آیت:9)
بتاؤ! کیا علم والے اور علم نہ رکھنے والے کبھی یکساں ہوسکتے ہیں۔ یقیناً نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہوں‘‘
ومن یؤت الحکمۃ فقد اوتی خیراً کثیراً ومایذکرالااولولالباب (بقرہ2.۔ آیت:269)
’’جسے حکمت ملی۔ اسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی۔ ان باتوں سے صرف وہی لوگ سبق لیتے ہیں جو دانش مند ہیں۔
ان شرَّ الدوآب عنداللہ الصم البکم الذین لایعقلون۔(انفال8۔ آیت:22)
’’جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے۔ وہ خدا کے نزدیک گونگے بہرے بلکہ بدترین قسم کے جانور ہیں‘‘۔
ان فی خلق السمٰوت والارض واختلاف الیل والنہار والفلک التی تجری فی البحر بماینفع الناس وماانزل اللہ من السماء من مآءٍ فاحیا بہِ الارض بعد موتھا وبث فیھا من کل دآبۃٍ وتصریف الریٰح والسحاب المسخربین السمآء والارض لاٰ یٰت لقوم یعقلون۔ (بقرہ2-۔ آیت:164)
’’آسمانوں اور زمین کی پیدایش، رات دن کا الٹ پھیر، کشتیوں کا لوگوں کو نفع دینے والی چیزوں کو لیے ہوئے سمندروں میں چلنا، آسمان سے بارش برسا کر مردہ زمیں کو زندہ کر دینا۔ اس میں ہر قسم کے جانوروں کو پھیلا دینا، ہواؤں کے رخ بدل دینا اور بادل، جو آسمان و زمین کے درمیان مسخر ہیں ان میں عقل والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں‘‘
الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ اولئک الذین ھدٰھم اللہ واولئک ھم اولوالالباب۔(زمر39-۔ آیت:18)
’’اے نبی۔ بشارت دے دو میرے ان بندو ں کو جو بات کو غور سے سنتے ہیں اور اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ ہدایت یافتہ لوگ ہیں اور یہی اہل دانش ہیں‘‘
ایسے تمام اختیاری معاملات میں انسان جو بھی فیصلہ کرتا ہے اور راہ عمل متعین کرتا ہے۔ اگر وہ بلحاظ مجموعی انسانیت کے مفاد میں ہو اور اس سے انسانیت کو کسی بڑے نقصان کا اندیشہ نہ ہو تو انسان کی یہی کوشش پروردگار کا فیصلہ بن جاتی ہے۔ اسی طرح انسان ترقی کی منازل طے کرتا رہتا ہے۔ انسان کی آج تک کی تمام علمی، فکری اور سائنسی ترقی اسی طریقہ سے ہوئی ہے۔ پروردگار نے اپنے اس اصول کو قرآن مجید میں کئی مرتبہ بیان کیا ہے کہ پروردگار کسی کا عمل ضائع نہیں ہونے دیتا۔
الّاتزرووازرہ اُخریٰ۔ وان لیس للانسان الاماسعیٰ۔(نجم53-۔ آیت: 38-39)
’’کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور یہ کہ ہر انسان کے لیے صرف وہی کچھ ہے جس کی کوشش خود اس نے کی‘‘
البتہ اگر انسان کی کوئی کوشش بلحاط مجموعی عالم انسانیت کے خلاف ہو اور اس سے کوئی برائی اس طریقہ سے پھیلنے کا امکان ہو جس سے نیکی کی آواز بالکل ہی ختم ہو کر رہ جائے تو ایسی ہر کوشش پروردگار کے فیصلے کے تحت ناکامی سے دوچار ہوتی ہے۔
ولولادفع اللہ الناس بعضھم ببعضٍ لھدمت صوامع وبیع وصلوٰ ت ومسٰجد یذکرفیھااسم اللہ کثیرا ولینصرن اللہ من ینصرہ ان اللہ لقوی عزیز۔(حج22-۔ آیت:40)
’’اگر اﷲ (خراب) لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے سے دفع نہ کرتا رہے تو خانقاہیں اور گرجا اور یہودیوں کی عبادت گاہیں اور مسجدیں، جن میں اﷲ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے سب مسمار کر ڈالی جائیں۔
ولولادفع اللہ الناس بعضھم ببعض لفسدت الارض ولٰکن اللہ ذوفضل علی العٰلیمن۔(بقرہ2-۔ آیت:251)
’’اگر اﷲ بعض لوگوں کو بعض (دوسرے) لوگوں کے ذریعے دفع نہ کرتا تو زمین میں فساد پھیل جاتا۔ مگر اﷲ دنیا والوں پر بڑا فضل و کرم کرنے والا ہے‘‘۔
بچے کی پیدایش بھی انہی اختیاری کاموں میں سے ایک کام ہے ۔ جس میں انسان کے فیصلے کو اللہ اپنی مشیت کے تحت روبہ عمل ہونے دیتا ہے۔ ہر بچے کی پیدایش بھی اگرچہ اللہ ہی کے حکم سے ہوتی ہے۔ مگر اس کا ذریعہ اور سبب انسان بنتا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی عمل ہے جیسے کسان فصل اگاتا ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر کہا گیا ہے کہ یہ کھیتی جو تم بوتے ہو اسے تم اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں۔ بے شک کھیتی اللہ ہی کے حکم سے اگتی ہے۔ لیکن کسان ہی اس کا ذریعہ اور سبب بنتا ہے۔ چنانچہ جس طرح انسان فصل اگانے میں اپنی عقل اور علم استعمال کرتا ہے۔ اسی طرح اسے اپنی نسل کی کھیتی اگانے میں بھی عقل اور علم استعمال کرنا چاہیے۔ سورہ واقعہ میں ان دونوں باتوں کو یوں یکجا کر دیا گیا ہے۔
افرءَ یتم ماتمنون۔ ءَ انتم تخلقونہ ام نحن الخٰلقون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔افرء یتم ماتحرثون۔ ءَ انتم تزرعونہ ام نحن الزٰرعون۔ (واقعہ۔ 56 آیت: 58-59,63-64)
’’کیا تم نے کبھی غور کیا کہ جو نطفہ تم ڈالتے ہو اُسے تخلیق کرنے والے تم ہو یا ہم ہیں تخلیق کرنے والے ۔۔۔۔ کیا تم نے کبھی سوچاہے کہ جو بیج تم بوتے ہو کیا اس سے کھیتی تم اگاتے ہو یا اس کے اگانے والے ہم ہیں؟‘‘
چنانچہ آج کے حالات میں خاندان میں اضافے کا سوچتے وقت ہمیں چند امور لازماً ملحوظ رکھنے چاہیں۔ 
پہلی قابل غور بات یہ ہے کہ جس ماں کوبچہ پیدا کرنے کی ذمہ داری سونپی جارہی ہے کیا وہ جسمانی اور نفسیاتی اعتبار سے نئے بچے کی پیدایش برداشت کرسکتی ہے؟ بچے کی پیدایش کے بعد ایک ماں نہ صرف جسمانی اعتبار سے کمزور ہو جا تی ہے،بلکہ بعض حالات میں نفسیاتی اعتبار سے بھی بہت نڈھال ہوجاتی ہے۔
دوسرا قابل غورپہلو یہ ہے کہ کیا ماں پہلے بچے کی تعلیم و تر بیت کی ذمہ داریوں سے فارغ ہو گئی ہے؟تعلیم وتربیت کے ضمن میں ماں کی گود ابتدائی چند سالوں میں سب سے اہم ہے۔اگر اس کا خیال نہ رکھا گیا تو بچوں کی مناسب تربیت نہیں ہو سکے گی۔
تیسری قابل غوربات یہ ہے کہ ایک باپ کی آمدنی کیا ہے؟اوراس آمدنی میں وہ کتنے بچوں کی ان تمام ضروریات کو پورا کرسکتاہے جس کے پورا کرنے کا اسے اللہ نے ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ مثلاً تعلیم،علاج ،صحیح رہائش اور باعزت زندگی؟
چو تھی قابل غور بات یہ ہے کہ باپ کتنے بچوں پر ذاتی توجہَ دے سکتاہے۔ اس کے پاس فارغ وقت کتناہے اور وہ کتنے بچوں کی تعلیم و تربیت ذاتی طوپر بطریق احسن کرسکتاہے؟
پانچویں قابل غور بات یہ کہ پورے ملک اور معاشرے کی صورت حال کیسی ہے؟ بے روزگاری کی کیا صورت حال ہے؟ کیا ہر چیز کے بارے میں صحیح پلاننگ ممکن ہے یا نہیں؟ چونکہ ہر فرد معاشرے کا جزو ہے اس لیے ہر فرد کو پورے معاشرے کے بارے میں بھی سوچنا ہے۔
درج بالا بحث کا مختصراً مطلب یہ ہے کہ جس طرح زندگی کے ہر میدان میں پلاننگ ضروری ہے اور دین کی ہدایت کے مطابق ہے اسی طرح خاندان کے معاملے میں بھی پلاننگ ضروری ہے۔اور یہ پلاننگ دین کے مطابق ہے۔
ہمارے درج بالانقطہ نظر پر بعض اعتراضات وارد ہوتے ہیں۔ مناسب یہ ہے کہ ان کا جائزہ بھی لے لیا جائے۔
پہلا اعتراض یہ ہے کہ فیملی پلاننگ پروردگار کے صفت رزاقیت پر عدم اعتماد ہے۔ ہر انسان کو اللہ ہی رزق دیتا ہے۔ اس لیے ضبط ولادت نہیں کرنی چاہیے۔ اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ پھر تو کسی انسان کی ملازمت ، تجارت، کاشتکاری، اور ہر سائنسی ترقی بھی پروردگار کی صفت رزاقیت پر عدم اعتماد ہے۔ کیونکہ انسان یہ سب کچھ رزق کمانے کے لیے تو کرتا ہے۔ پھر تو انسان کو ہاتھ پاؤں توڑ کر اس امید پر زندگی بسر کرنی چاہیے کہ اس کے رزق کی فراہمی پروردگار کے ذمہ ہے۔ انسان پر اس ضمن میں کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔لیکن اگر ایسا نہیں ہے اور سب یہ تسلیم کرتے ہیں کہ رزق حاصل کر نے کے لیے کو شش کرنا ضرو ری ہے توپھر اس بات پر سوچنا چاہیئے کہ پروردگار کی صفت رزاقیت کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ پروردگا ر نے رزق کے خزانے اس زمین میں انسان ہی کے لیے رکھے ہیں اور اسے عقل دی ہے کہ وہ ان سے صحیح طور پر استفادہ کرے۔ وہ اپنی عقل استعمال کر ے گا تو پروردگار یہ اس کے حوالہ کردے گا۔چنانچہ انسان کو اس معاملے میں اپنی پوری پلاننگ کرنی ہے۔پوری کوشش کیے بغیراس کے حصے کا رزق بھی اس کے حوالہ نہیں کیا جائے گا۔چنانچہ اس پلاننگ میں جو انسان ملازمت ،تجارت اور کاشتکاری کے لیے کوشش کرتا ہے، یہ پلاننگ بھی آپ سے آپ شامل ہے کہ خاندان اندازاً کتناہو؟ کب نئے بچے کی تمہید باندھی جائے اور ہر بچے کی بہترین تربیت کیسی کی جائے۔ پس اسی کو ضبط ولادت کہتے ہیں۔
دوسرا اعتراض یہ ہے کہ ایک حدیث کے مطابق قیا مت تک پیدا ہو نے والے بچے تو پیدا ہو کر رہیں گے، پھر کیوں فیملی پلاننگ کے بارے میں سوچا جائے؟ اس اعتراض کا آسان جواب یہ ہے کہ بے شک یہ سب بچے پیدا ہو ں مگر ایک پلاننگ کے تحت پیدا ہوں ۔بغیر مناسب تیاری کے پیدا نہ ہوں۔ لیکن اس پوری بات کا ایک پس منظر ہے ۔وہ یہ کہ حضورﷺ کے زمانے میں صحابہ کرامؓ منع حمل کے طریقے (یعنی عزل) سے کام لیتے تھے۔ یہ بات جب نبی کریمﷺ کے سامنے بیان کی گئی تو آپ نے اس طریقے کو اختیار کرنے کی اجازت دی۔(گو یا اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ منع حمل کے تمام طریقے بنیادی طور پر جائز ہیں) ۔ البتہ یہ بات ضرور فرمائی کہ قیامت تک پیدا ہو نے والے بچے تو پیدا ہو کر رہیں گے ۔ اس ارشاد کا صریح مطلب یہی تھا کہ انسان اپنی تدبیر ہی کو سب کچھ نہ سمجھ لے اور اگر منع حمل کے مروج طریقوں کے استعمال کے باوجود حمل ٹھہر جائے تو کبھی اسقاط حمل یا قتل اولاد کے بارے میں نہ سوچے۔
تیسرا اعتراض یہ ہے کہ قرآن مجید نے قتل اولاد سے منع کیا ہے ،فیملی پلاننگ دراصل قتل اولاد ہی ہے ۔یہ اعتراض صحیح نہیں ہے ۔اصل معا ملہ یہ تھا کہ مشرکین مکہ میں اپنے بچوں کوخصوصاً بچیوں کو قتل کرنے کا جاہلانہ طریقہ رائج تھا۔اس قتل میں دوسرے عوامل کے علاوہ ایک اہم عامل یہ بھی تھا کہ وہ بچیوں کو اپنی معیشت پر بوجھ سمجھ کر قتل کرتے تھے۔چنانچہ قرآن مجید نے جس طرح اپنے زمانہ کی تمام جاہلانہ رسموں پر تنقید کی اسی طرح لوگوں کو اس بھیانک جرم سے بھی روکا۔ قرآن مجید کی اس بات کا فیملی پلاننگ سے کوئی تعلق نہیں،اور نہ ہی اسے فیملی پلاننگ پر منطبق کیا جاسکتاہے۔
چوتھا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ فیملی پلاننگ یہودیوں اور مغرب کی سازش ہے تاکہ مسلمانوں کی تعداد نہ بڑھنے پائے۔یہ اعتراض سراسر غلط ہے ۔اس امت کے خلاف اصل سازش تو یہ ہے کہ اس کو زیادہ سے زیادہ بے ہنگم،غیرمنظم،تعلیم سے بے بہرہ اور سائنس سے نابلد رکھا جائے۔آبادی میں غیر منظم اضافہ تمام پلاننگ کو درہم برہم کر کے رکھ دیتا ہے۔ اس کے برعکس ایک منظم اور منصوبہ بند قوم اپنی تہذیب و عملی برتری کو تمام دنیا پر قائم کر دیتی ہے۔اس طرح جب امت مسلمہ اپنے آپ کو برتری کے اعلٰی ترین مقام پر لے جائے تو غیر مسلم اقوام کے قبول اسلام کی راہ کھل جائے گی۔ امت کی کثرت کا صحیح طریقہ یہی ہے۔
پانچواں اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ سورہ بقرہ آیت 223کے مطابق’’تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں ۔تمہیں اختیار ہے جس طرح چاہواپنی کھیتی میں جاؤ۔‘‘ کھیتی سے انسان پیداوار ہی تو حاصل کرتا ہے اور فیملی پلاننگ تودراصل پیداوار نہ لینے کے مترادف ہے۔ اس لیے فیملی پلاننگ خلاف اسلام ہے۔
درحقیت یہ بات یوں نہیں ہے۔ درج بالا آیت میں مرد اور شوہر کو ایک ذمہ دار کسان سے تشبیہ دی گئی ہے ایک ذمہ دار کسان اپنی کھیتی کو پہلے کھاد اور پانی دیتا ہے اور صرف وہی فصل بو تا ہے جس کی ضرورت ہو تی ہے۔فصل لینے کے دوران میں بھی اپنی کھیتی کی پوری حفاظت کر تا ہے اس کوبیماری کے حملے سے بچانے کی کوشش کرتا ہے اور جب فصل لے لیتا ہے تو کھیتی کو آرام کرنے کے لیے ایک وقفہ دیتا ہے۔تاکہ وہ دوسری فصل کے صحیح طریقہ سے قابل ہوجائے۔
جو کسان ایسا نہیں کرتا وہ ایک غیر ذمہ دار کسان ہے۔پس درج بالا آیت ایک شوہر پر بہت ذمہ داری ڈالتی ہے ۔وہ یہ ہے کہ اسے اپنی بیوی کی صحت کا پورا خیال رکھنا ہے۔ صرف اس وقت ایک نئے بچے کی تمہید باندھنی ہے جب بیوی اس کے لیے ہر طرح سے تیار ہو۔ ایک ذمہ دار شوہر حمل کے دوران میں اس کی صحت کا پورا خیال رکھتا ہے اور ایک اولاد کے بعد دوسری اولاد تک مناسب وقفہ دیتا ہے۔ اگر وہ یوں نہیں کرتا تو وہ ایک غیر ذمہ دار شوہر ہے۔
چونکہ فیملی پلاننگ میاں بیوی کومل کرنی ہوتی ہے ۔ اس لئے یہ بھی ممکن ہے کہ بعض اوقات دونوں کے درمیان اختلاف رائے ہوجائے۔ ایک معقول تعداد میں بچوں کی پیدائش کے بعد ایک فریق مزید کے لئے بھی اصرارکرے اوردووسرااس کی مخالفت کرے۔ چنانچہ یہ سوال پیداہوتاہے کہ ایسی صورت میں فیصلہ کن اختیارکس کاہوناچاہیئے۔ 
اس کاجواب یہ ہے کہ اس معاملے میں بدنی ذمہ داری ساری کی ساری ماں پر ہی آتی ہے۔ چنانچہ یہ واضح ہے کہ جس پر بوجھ آئے فیصلے کااختیار بھی اسی کے پاس ہو۔ ارشاد ہے۔
ووصیناالانسان بوالدیہ حملتہ امہ وھنا علیٰ وھنٍ وفصٰلہ فی عامین ان اشکرلی ولوالدیک الیّ المصیر۔(سورۃ لقمان 31- ،آیت 14)
’’ اورہم نے انسان کواس کے والدین کے معاملے میں ہدایت کی۔ اس کی ماں نے دکھ پردکھ جھیل کراسے پیٹ میں رکھا اوردوسال میں اس کادودھ چھڑاناہوا کہ میرے اوراپنے والدین کے شکرگزاررہو۔ میری ہی طرف بالآخرلوٹناہے۔‘‘
حمل ،ولادت اوررضاعت تینوں مراحل کا تعلق ماں کے ساتھ ہوتاہے۔ اسی لئے ان تمام معاملات میں ماں کاحق باپ کے مقابلے میں زیادہ ہے اوراسی بناپر نبیؐ نے ماں کاحق باپ سے تین درجے زیادہ بتایاہے۔ مزید ارشاد ہے۔ 
ووصیناالانسان بوالدیہ احسٰناً حمََلتہ اُمۃ کُرھاوّ وضعتہ کرھا وحملہ وفصٰلہ ثلٰثون شھرا (احقاف 46 ،آیت 15-)
’’ ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کی ہدایت کی۔ اس کی ماں نے دکھ کے ساتھ اس کوپیٹ میں رکھااوردکھ کے ساتھ اس کوجنا۔ اس کوپیٹ میں رکھنااوراس کا دودھ چھڑاناتیس مہینوں میں ہوا‘‘  

اسقاط حمل:

اسی ضمن میں ایک سوال یہ پیداہوتاہے کہ اسقاط حمل کے متعلق اسلام کی ہدایت کیاہے؟
اس کاجواب یہ ہے کہ حمل کی ابتداء دراصل ایک انسان کی ابتداہے۔ اس لئے اسقاط حمل ایک بڑاگناہ ہے۔ ارشاد ہے:
ُھوَالذِّی خَلقکُم من نَّفسٍ وَّاحِدۃٍ وَجَعَلَ مِنْہَا زَوجَھا لِیَسْکُنَّ الیھا فَلََّما تَغَشّٰھَاحَمَلتْ حَمَلاًحَفِیفاً فَمَرَّتْ بِہٖ فَلَمَّااَثْقَلَتْ دَّعَوَاللہَ رَبَّہُمَا لَءِن اَتَیتَنَاصَالِحاًلَنَکُونَنَّ مِنَ الشّٰکِرِینَ۔(اعراف 7- ، آیت 189)
’’ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیداکیا اوراس کی جنس سے اس کاجوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھرجب مرد نے عورت کوڈھانک لیا تواسے ایک خفیف ساحمل رہ گیا۔ جسے لئے لئے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھرجب وہ بوجھل ہوگئی تودونوں نے مل کراپنے رب سے دعا کی کہ اگرتونے ہم کو اچھا سابچہ دیاتوہم تیرے شکرگزارہونگے‘‘
آگے ارشاد ہے۔
الذی احسن کل شیءٍ خلقہ وبداخلق الانسان من طین۔ ثم جعل نسلہ من سلٰلۃٍ من مآءٍ مھین ثمّ سوّٰۂ ونفخ فیہ من روحہ وجعل لکم السمع والابصار ولافدۃ قلیلا ماتشکرون۔ (سجدہ 32- ،آیت 7,8-9)
’’ اس پروردگار نے جوچیز بھی بنائی ہے ، خوب ہی بنائی ہے۔ اس نے انسان کی خلقت کاآغا زمٹی سے کیا۔ پھراس کی نسل حقیرپانی کے خلاصے سے چلائی۔ پھر اس کے نوک پلک سنوارے اوراس میں اپنی روح پھونکی اورتمہارے لئے کان، آنکھیں اوردل بنائے۔ (لیکن اے انسانو)تم بہت ہی کم شکرگزارہوتے ہو‘‘
ایک روایت کے مطابق حمل کے تیسرے مہینے میں جنین میں روح پڑجاتی ہے اورچوتھے مہینے میں روح کے الحاق سے انسان حقیقتاً وجود میں آتاہے۔ اس لئے روح کے الحاق کے بعد اسقاط حمل اوربھی بڑاگناہ بن جاتاہے۔ البتہ مستثنیات کے اصول کے تحت اگرماں کی زندگی کوخطرہ لاحق ہوتواسقاط حمل کیا جا سکتا ہے۔