باب ششم 

اس باب میں ان معاملات کو لیا جائے گا۔جس کا تعلق عام طور پر ایک خاتون کی ذاتی زندگی سے ہوتا ہے۔ ان مین بھی کئی معاملات ایسے ہیں۔ جس کے متعلق بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ ایسے سب مسائل کو یکجا کیا جائے۔ 


حیض، نفاس اور استخاضہ

طہارت و پاکیزگی انسان کی فطری ضرورت ہے اور اسی لئے اس کا احساس انسان کی فطرت میں ہے۔ اسلام انسان کی اسی فطرت کو مزید جلا بخشتے ہوئے اسے نہ صرف خود پاکیزہ رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ بلکہ پورے معاشرے کو اخلاقی و معاشرتی لحاظ سے پاکیزہ بننے اور پاکیزہ رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ ہمار ا دین جسم و روح اور خورد و نوش سمیت ہر معاملے میں پاکیزگی پر زور دیتا ہے۔ اسی لئے حضورؐ کا فرمان ہے"پاکیزگی آدھا دین ہے"
پاکیزگی کے ضمن میں مردوں کے لئے بھی کچھ خصوصی احکام ہیں اور عورتوں کیلئے بھی کچھ خصوصی احکام ہیں۔ ان احکام کا تعلق حیض، نفاس اور استحاضہ سے ہے۔ حیض اس خون کو کہتے ہیں جو ہر مہینے چند روز کے لیے عورتوں کو آتاہے۔ یہ بلوغت کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور چالیس، پینتالیس حتٰی کہ پچاس پچپن سال تک جاری رہتا ہے۔ عام طور پر اس کا دورانیہ چھ سات دن ہوتا ہے۔ تاہم ہر عورت میں اس کا دورانیہ مختلف ہوتا ہے۔ 
نفاس اس خون کو کہتے ہیں۔ جو بچے کی پیدائش یا حمل ساقط ہونے کے بعد خواتین کو آتا ہے۔ یہ عام طور پر بیس سے لے کر چالیس دن تک جاری رہتا ہے۔ 
حیض اور نفاس کے دنوں میں شوہر اور بیوی کے درمیان جنسی تعلق منع ہے۔ البتہ روزمرہ زندگی کے باقی تمام تعلقات کو برقرار رکھا جائے گا۔ 
ان دنوں میں خواتین کو نماز معاف ہے اور اس کی قضا نہیں ہے۔ ان دنوں میں خواتین روزے بھی نہیں رکھیں گی۔ البتہ ان کی قضا بعد میں پوری کرلیں گی۔ اگر ایام حج میں حیض آجائے تو طواف و سعی معاف ہے۔ البتہ جب ماہواری کے ایام گزر جائیں تو طواف و سعی کرلیں۔
ان دنوں میں خواتین کے لیے قرآن مجیدچھونا منع ہے۔ البتہ وہ چاہیں تو ذکر بھی کر سکتی ہیں اور ان کوقرآن مجیدکا جتنا حصہ زبانی یاد ہو، وہ بھی پڑھ سکتی ہیں۔ یہ موقف امام مالکؓ کا ہے اور ہمیں اسی پر اطمینان ہے۔ حیض کے دوران میں بعض خواتین کو بطور طالبہ یا بطور معلمہ اسلامیات کی کتاب پڑھنی یا پڑھانی ہوتی ہے۔ یا ان کو اسلامیات کا پرچہ حل کرنا ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں اسلام کا مستقل اصول یہ ہے کہ لایکلف اللہ نفساالاوسعھیٰ" پروردگار کسی پر اس کی وسعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔" (بقرہ 2۔ آیت286) چنانچہ یہ جائز ہے۔
بعض اوقات خواتین کو حیض یا نفاس کے علاوہ بھی مختلف بیماریوں میں خون اور دوسری رطوبتیں آتی ہیں۔ انہیں استحاضہ کہا جاتا ہے۔ استحاضہ کے دوران میں نماز اور دوسری عبادات جائز ہیں۔
حیض ونفاس کے بعد خواتین کو چاہیئے کہ وہ غسل کریں۔ بعض خواتین کے سر کے بال اس طریقے سے گوندھے ہوئے ہوتے ہیں یا مینڈھیاں بنائی ہوئی ہوتی ہیں کہ غسل کے دوران میں ان کا کھولنا اور پھر بالوں کا بنانا مشکل ہوتا ہے۔ ایسی خواتین کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ بالوں کو کھولے بغیر ان پر پانی ڈال دیں۔


مختلف عبادات میں رعایت

پرودگار خواتین پر خصوصی مہربان ہے۔ اس لئے عبادات کے ضمن میں خواتین کو ایسی رعایتیں دی گئی ہیں جن سے بہت کم محنت کے ساتھ مردوں کے برابر اجر کما سکتی ہیں۔ یہ بات تو پہلے گزر چکی ہے کہ حیض و نفاس کے دوران میں خواتین کے لئے نماز معاف ہے۔ اس دوران میں اگر رمضان کے فرض روزے آجائیں تو وہ بھی وہ بعدمیں اپنی سہولت کے لحاظ سے رکھ لیں۔ دودھ پلانے والی خاتون کو بھی پروردگار نے یہ سہولت دی ہے کہ وہ بھی بعد میں روزے رکھ لے۔ حج کے دوران بھی انہیں غیر معمولی رعایتیں دی گئی ہیں۔ وہ اپنے معمول کے لباس میں حج کر سکتی ہیں۔ انہیں بالوں کو کاٹنے کی بھی ضرورت نہیں۔ بس علامت کے طور پر چند بال کاٹ لیں۔ ان کے لئے اس بات کی بھی ضرورت نہیں کہ وہ شیطانوں کو کنکریاں ماریں۔ اس کے بجائے ان کی طرف سے ان کے مرد کنکریاں مار سکتے ہیں۔ اگر حج یا عمرہ کے دوران میں انہیں مخصوص ایام آجائیں تو ان کے لیے طواف و سعی بھی معاف ہے۔ وہ بعد میں طواف و سعی کرلیں۔ 
باجماعت نماز کے معاملے میں بھی خواتین کو بہت سی رعایتیں دی گئی ہیں۔ جہاں مردوں کے لیے اصل نماز مسجد میں پانچ وقت کی باجماعت حاضری ہے۔ وہاں عورتوں کے لئے یہ رعایت ہے کہ وہ چاہیں تو مسجد میں حاضر ہوں۔ لیکن اگر وہ اپنے گھرمیں نماز پڑھ لیں تو انہیں اتنا ہی اجر ملے گا جتنا کہ ایک مرد کو باجماعت نماز ادا کرنے کا ملتا ہے۔ جمعہ کی نماز میں ان کی حاضری پسندیدہ ہے۔ تاہم یہ نماز بھی وہ گھر پر پڑھ سکتی ہیں۔ البتہ عیدین کی نماز کے متعلق حضورؐ نے بہت زور دے کر یہ فرمایا ہے کہ اس نماز میں خواتین لازماً حاضر ہوں اور اگر ان کے ماہواری کے ایام ہوں ، تب بھی وہ آکر صرف بیٹھی رہیں اور دعا میں شریک ہوں۔ 
خواتین کی نماز سے متعلق ہمارے ہاں کی سوسائٹی میں دو مسائل نے جنم لے لیا ہے۔ ایک یہ کہ اب اکثر مساجد میں خواتین کے لیے کوئی جگہ ہوتی ہی نہیں۔ اسلامی تعلیمات کی رو سے یہ صحیح نہیں۔ جو مساجد سڑک کے کنارے واقع ہیں وہاں ضرور خواتین کی نماز کے لئے جگہ ہونی چاہیئے۔ اس لئے کہ راستے میں انہیں بھی نماز پڑھنی ہوتی ہے۔ اسی طرح شہر کی چند بڑی مساجد میں، پارکوں میں اور پبلک اہمیت کے تمام مقامات والی مساجد میں خواتین کی نماز کا بندوبست ضروری ہے۔ 
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ عید کی نماز کے موقع پر خواتین کے لئے عام طور پر کوئی بندوبست نہیں کیا جاتا۔ حالانکہ اسلامی تعلیمات کی رو سے یہ ضروری ہے۔ چنانچہ اس ضمن میں ریاست، سوسائٹی کے اکابرین اور علماء سب پر یہ لازم ہے کہ اس مقصد کیلئے سہولت بہم پہنچائیں۔ 


خواتین اور فیشن

ہر وہ چیز جو انسان کے ذوق جمال کو تسکین بخشتی ہو وہ اسلام کی رو سے جائز ہے۔ بشرطیکہ وہ بے حیائی ، شرک، اسراف اور دھوکے سے آلودہ نہ ہو۔ اس میں ہر طرح کا مہذب اور باوقار فیشن شامل ہے۔ 
اس ضمن میں قرآن مجید نے لباس کا خصوصی طور پر ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہے۔
" یبنی اٰدم قم انزلنا علیکم لباساً یواری سو اتکم وریٍشا" (اعراف 7 ۔ آیت 26)
" اے بنی آدم ! ہم نے تم پر لباس اتارا جو تمہارے لئے ستر پوشی بھی ہے اور زیب و زینت کا باعث بھی"
آگے قرآن مجید نے بطور اصول یہ بات بیان کی ہے کہ پروردگار نے ہر زیب و زینت جائز قرار دی ہے۔ ارشاد ہے۔ 
" قل من حرم زینۃ اللہ اخرج لعبارہ والطیبٰت من الززق قل ھیی للذین اٰمنوفی الحیٰوۃ الدنیاخالصۃً یوم القیٰمۃ"(اعراف7۔ آیت38)
" پوچھو! کس نے حرام ٹھہرایا ہے۔ اﷲ کی اس زینت کو جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی اور رزق کی پاکیزہ چیزوں کو کہ ہ دو کہ وہ دنیا کی زندگی میں بھی ایمان والوں کے لئے ہیں اور آخرت میں تو وہ خاص انہی کا حصہ ہونگی"
خواتین کے ضمن میں قرآن مجیدنے خصوصی طور پر زیب و زینت ، آرائش اور زیورات کا یوں ذکر کیا ہے کہ یہ ان کا حق بھی ہے اور ان کی فطرت میں شامل ایک داعیہ بھی۔ چنانچہ یہ بات واضح ہے کہ ہر وہ فیشن جس سے ایک خاتون ، خاتون نظر آئے، خوب صورت نظر آئے اور باوقار نظر آئے، جائز ہے۔ 
تاہم اس حوالے سے چند ایک سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ بعض روایات میں فیشن کے کچھ خاص اعمال سے منع کیا گیا ہے۔ اس کی اصل توجیہہ کیا ہے؟ ا
اس کا جواب یہ ہے کہ روایات میں جس چیزوں سے منع کیا گیا ہے۔ ان کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ چیز یں جو فیشن نہیں بلکہ بے ہودگی اور بے حیائی کی ضمن میں آتی ہیں۔ چنانچہ ایسی چیزوں کو منع ہو جانا چاہیے۔ اس میں حضور ؐکے زمانے میں تین چیزیں شامل تھیں اور اسی لئے حضورؐ نے ان تین چیزوں کے بارے میں وضاحت فرمائی۔ ایک بدن پر گود کر نقش و نگارtatoo) mark)بنانا۔ یہ ایک ایسا بے ہودہ کام ہے جس کی بے ہودگی پر ساری دنیا متفق ہے۔ کوئی معقول آدمی یہ پسند نہیں کرے گا کہ اس کے بدن پر مستقل نقش و نگار بنائے جائیں۔ دوسری چیز جو اس وقت رائج تھی۔ وہ دانتوں کو کاٹ کر نوک دار بنانا اور ان کے درمیاں درزیں بنانا تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ بھی زیب و زینت نہیں بلکہ ایک بے ہودگی ہے۔ تیسری چیز یہ تھی کہ اس زمانے میں بدکار عورتیں اپنے بھنوؤں کے بال مختلف اطراف سے نوچ کر اس میں نقش و نگار بناتی تھیں۔ یہ کام نہ صرف یہ کہ بے ہودہ ہے۔ بلکہ چونکہ عام طور پر بدکار عورتیں یہ وضع قطع اختیار کرتی تھیں اس لئے ان سے مشابہت کی وجہ سے بھی اسے ممنوع ہونا چاہیے تھا۔ چنانچہ حضورؐ نے اسے منع فرمایا۔ اسے اس زمانے کے اصطلاح میں "نمض" کہتے تھے اور جو عورت یہ کام کرتی تھی۔ اسے " نامضہ" کہتے تھے۔،
درج بالا تین چیزوں کے علاوہ ایک ایسا معاملہ بھی ہے۔ جو بظاہر جائز زیب و زینت کی تعریف میں آتا ہے۔ مگر کچھ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورؐ نے اس سے منع کیا ہے۔وہ معاملہ ہے اپنے بالوں میں دوسرے بالوں کو جوڑنا۔ خواہ وہ مصنوعی ہوں یا نقلی، ہم جانتے ہیں کہ سر کے بال ہر عورت کے حسن و جمال کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ قدرت نے ننانوے فیصد عورتوں کو اس نعمت سے نوازا ہے اور جن کو نہیں نوازا یا جن کی کسی بیماری کے سبب سے بال جھڑ گئے ہوں، ان کی یہ خواہش بالکل قدرتی ہے کہ وہ باقی عورتوں جیسی نظر آئیں اور وہ کسی احساس کمتری میں مبتلا نہ ہوں ۔ تاہم صحیح بخاری کی بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورؐ نے اس سے منع کیاہے۔ مثلاً ایک روایت کے الفاظ ہیں" رسول اﷲؐ نے بال جوڑنے والی اور بالوں کو جڑوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے" لیکن جب اس ضمن میں تمام روایت کا دِقت نظر سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ دھوکے کا ہے۔ یعنی جب کسی اہم موقع پر ، جب کہ یہ بتانا ضروری ہو کہ عورت میں یہ عیب موجود ہے اس کو دھوکہ دینے کی غرض سے چھپایا جائے۔ اسی لئے حضورؐ نے اسے " زور" یعنی دھوکے کے لفظ سے واضح کیا۔ اسی طرح روایات میں ایک واقعے کا ذکر ہے۔ اس واقعہ سے متعلق تمام روایات کو جمع کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک لڑکی کا نکاح ہوگیاتھا۔ مگر ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ اس دوران میں اس کو ایک ایسی بیماری لگی۔ جس سے اس کے سر کے سارے بال جھڑ گئے۔ پھر جب خاوند نے رخصتی کے لئے لڑکی کی ماں کو کہا تو اس نے چاہا کہ لڑکی کو مصنوعی بال لگاکر رخصت کردیا جائے۔ گویا یہاں ہونے والے خاوند سے یہ بات چھپانی مقصود تھی کہ لڑکی کے بال جھڑ گئے ہیں۔ کیونکہ عین ممکن ہے۔ اس صورت میں وہ اس لڑکی کو اپنے ساتھ رکھنا پسند نہ کرتا۔ چنانچہ حضورؐ نے اس دھوکہ دہی سے لڑکی کی والدہ کو منع فرمایا۔ 
اصول یہ ہے کہ ہر وہ زیب و زینت جائز ہے جس سے ایک عورت ، عورت نظر آئے۔ خوبصورت نظر آئے اور باوقار نظر آئے۔ البتہ بے حیائی ، بے ہودگی اور دھوکہ ممنوع ہے۔ چنانچہ چہرے کے بال صاف کرنا، سرخی لگانا، نیل پالش لگانا اور اسی قبیل کی تمام آرائش جائز ہے۔ فتح الباری کتاب اللباس کی ایک روایت کے مطابق ایک خاتون نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ کیا میں اپنے رخسار کے بال صاف کرسکتی ہوں ؟ حضرت عائشہؓ نے جواب دیا: ’’اذیت کو ممکن حد تک دور کرو"
مناسب ہے کہ یہاں ایک ضمنی سوال پر بھی بحث کی جائے۔ وہ یہ کہ اگر ایک عورت نے نیل پالش لگایا ہوا ہو تو کیا وضو کرنے کے لئے ضروری ہے کہ نیل پالش اتاراجائے؟ اس سوال کے جواب میں تین نقطۂ ہائے نظر ہیں۔ ایک یہ کہ ہر وضو سے پہلے نیل پالش اتارنا ضروری ہے، اس لئے کہ نیل پالش کی موجودگی میں اصل ناخن خشک رہ جاتا ہے۔ دوسرا یہ کہ اگر وضو کرنے کے بعد نیل پالش لگایا جائے تو تیمم کے اصول کے تحت آئندہ پانچ نمازوں تک اسے اتارنے کی ضرورت نہیں۔ تیسرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ نیل پالش سے وضو پر کوئی فرق نہیں پڑتا، کوئی خاتون جب چاہے نیل پالش لگائے اور جب چاہے اسے اتارے ۔ اس نقطۂ نظر کی دلیل یہ ہے کہ ایسے تمام معاملات میں دین کی بنیاد تنگی پر نہیں بلکہ آسانی پر ہے۔ حضورؐ کے زمانے میں اس نوعیت کی جتنی چیزیں موجود تھیں، ان سب میں کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔ مثلاً یہ بات متفق علیہ ہے کہ داڑھی کو رنگ دیا جا سکتا ہے۔ ہر رنگ دراصل ایک ہلکی سی تہہ(Coating) ہوتی ہے۔ جو نیچے کھال کو چھپا دیتی ہے۔ خواہ وہ مہند ی کا رنگ ہو یا کوئی بھی اور رنگ۔ اب رنگی ہوئی داڑھی کا اصل بال تو گیلا نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود حضورؐ نے مسلمانوں کو اس کی اجازت دی۔ اسی طرح ہاتھوں اور پیروں پر مہندی لگانے کی اجازت ہے اور سب مانتے ہیں کہ اس سے وضو پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ حالانکہ مہندی کا رنگ بھی دراصل ایک تہہ ہے۔ جو نیچے کھال کو چھپادیتا ہے۔ اسی طرح اس پر بھی اتفاق ہے کہ اگرایک خاتون نے بالوں میں مینڈھیاں بنائی ہوں اور اس کے لئے غسل کے وقت ان کا کھولنا مشقت کا باعث ہو تو ان کو کھولے بغیر اوپر سے پانی ڈالنے سے غسل پورا ہو جائے گا۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں بہت سے بال گیلے ہونے سے رہ جائیں گے لیکن خواتین کو تکلیف سے بچانے کے لئے حضورؐ نے اس کی اجازت دی۔ یہی معاملہ نیل پالش کا ہے۔ ہمیں اسی تیسرے موقف پر اطمینان ہے۔ 


جہیز اور وراثت

برصغیر میں جہیز کی رسم کچھ اس طرح مضبوط ہوگئی ہے کہ اس کا استیصال ناممکن حد تک مشکل ہے۔ اسی طرح مختلف دوسرے ملکوں میں ایسے طریقے موجود ہیں۔ جن میں شادی کے موقعہ پر لڑکے کو اپنے والدین کی طرف سے اور لڑکی کو اپنے والدین کی طرف سے اس مقصد کیلئے مال ملتا ہے کہ وہ اپنی نئی زندگی کی بنیاد ڈال سکیں۔ چنانچہ یہ سوال پید ا ہوتا ہے کہ کیا اس طرح کا کوئی مال اگر بیٹے یا بیٹی کو دیا جائے تو اسے وراثت کے موقعہ پر اس کے حصے میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ یا نہیں؟ چونکہ یہ مسئلہ حضورؐ کے زمانے میں موجود نہیں تھا اس لئے اس کے بارے اجتہاد کے ذریعے غور و فکر کرنا پڑے گا۔ 
اس ضمن میں ہمار ا موقف یہ ہے کہ ایسے مال کو وراثت کا حصہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس کی اصل وجہ اسلام کا اصول عدل ہے۔ اگر ایک بچیکی شادی والدین کے وفات کے بعد ہوئی ہے تو وہ اس بہن کی نسبت خسارے میں رہے گی۔ جس کی شادی والدین کی زندگی میں ہوئی تھی۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ ایک لڑکی کی شادی ایسی جگہ ہو جہاں زیادہ جہیز کا مطالبہ ہو اور اس کی بہن کی شادی ایسی جگہ ہو جہاں جہیز کا رواج کمتر ہو۔ 
ہمارے موقف کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اس طرح والدین ایک بڑی پریشانی اور مصیبت سے بچ جائیں گے۔ صحیح طریقہ سے حساب کتاب رکھا جا سکے گا۔ لڑکے اور لڑکی والے سب یہ جان سکیں گے کہ ان کو اپنے حصے میں سے مال مل رہا ہے۔ چنانچہ یہ سب کچھ ایک ناپسندیدہ رسم و رواج کے تحت نہیں بلکہ ایک قانون اور ضابطے کے تحت آجائے گا۔ ہمارے خیال میں حکومت کو اس ضمن میں ضروری قانون سازی کرنی چاہیئے۔


حوران جنت

قرآن مجید میں متعدد مقامات پر جنت کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے حوروں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ بعض اوقات ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ اس نعمت کا حقیقی مطلب کیا ہے ؟جنت کی زندگی کیسے ہوگی؟ کیا یہ حوریں محض مردوں کی جنسی لطف و لذت کے لئے ہونگی؟ اور اگر ایسا ہے تو کیا اس سے جنتی مردوں کی بیویوں میں رشک و حسد پید ا نہیں ہوگا۔؟ اورکیا یہ ایک طرح کی بے انصافی نہیں ہے؟ اگرچہ اس سوال کا کوئی براہ راست تعلق اس کتاب کے موضوع سے نہیں تاہم ایک تعلق بنتا بھی ہے۔ اس لئے مناسب ہے کہ اس سوال پر مختصر بحث کی جائے۔ 
قرآن مجیدسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اُخروی زندگی اور جنت و دوزخ کا تمام احوال درحقیقت امورمتشابہات سے ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی اصل حقیقت ہمیں نہیں معلوم۔ صرف انسان کو ایک تصور دینے اور اس کے ذہن میں ایک احساس پیدا کرنے کے لئے تخلیقی رنگ میں ایسے الفاظ استعمال کئے گئے جو انسانی ذہن سے قریب تر ہیں۔ اس پہلو کو ذہن میں رکھتے ہوئے قرآن مجید اور صحیح احادیث سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ جنت میں سب مرد و عورت اپنی جوانی کے بہترین ایام میں ہونگے۔ ان کو کبھی بڑھاپا نہیں آئے گا۔ سب مرد و عورت جوڑے جوڑے ہونگے۔ دنیا میں جو جوڑے تھے وہی آخرت میں ہونگے۔ استثنائی حالات کے لئے استثنائی ضابطے ہونگے۔ مثلاً اگر کسی جنتی خاتون کے اس دنیا میں کئی شوہر رہے ہوں تو اسے یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ ان میں سے ایک منتخب کرلے۔ْ جنت میں ہر فرد کی نظر میں اس کا جوڑا کائنات کا سب سے خوبصورت انسان ہوگا جس سے اس کو کامل لطف و اطمینان میسر آئے گا۔ یوں نہ کبھی اس کا دل اپنے جوڑے سے سیر ہوگا اور نہ ہی اس کے دل میں کبھی کسی دوسرے جوڑے کے لئے حسد و دشمنی کے جذبات آئیں گے۔ ہرجوڑے کے لئے ہر ملاقات بالکل دو کنواروں کی ملاقات ہوگی۔ 
حور دراصل ایک اور لفظ احور کی جمع ہے۔ اس کے لغوی معنی ہیں ایسی حسین و جمیل عورت جس کی ترکیب مثالی حد تک متوازن ہو۔ قرآن مجید پرغور و فکر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ دو معنوں میں استعما ل ہوا ہے۔ ایک اس معنی میں کہ ہر جنتی خاتون کو حور کی تمام صفات دی جائیں گی نسوانی حسن و جمال ، شرم و حیا اور کشش کا مرقع ہوگی۔ جنت میں اہل ایمان مردوں کے ساتھ ان کے جوڑے بنادئیے جائیں گے۔ ارشاد ہے۔
" ھُم وازو اجھم فی ظلٰل علی الارائک متکؤن"(یسں36۔ آیت 56)
" جنتی مرد اور ان کی بیویاں (جنت میں ) گھنے سایوں میں ہونگے ۔ مسندوں پر تکئے لگائے ہوئے""
آگے ارشاد ہے:
وعندھم قٰصرٰتُ الطرف عین۔ کانَّھن بیض مکنون۔(سورۃ صفٰت 37۔آیات 49-48 )
"اور ان کے پاس نگاہیں بچانے والی، خوبصورت آنکھوں والی (عورتیں ہونگی گویا کہ شتر مرغ کے محفوظ انڈے ہیں"
آگے ارشاد ہے۔
" و عندھم قٰصرات الطرف اتراب(صٰ 38۔ آیت 52)
" اور ان کے پاس شرمیلی ہم سن بیویاں ہونگی۔
آگے ارشاد ہے۔ 
" و زوَّجھنٰم بحورعین" (الدخان 44۔ آیت 54 ) (طور52 ۔ آ یت 20)
" اور ہم خوبصورت ترین عورتیں ان سے بیاہ دیں گے"
اس کے علاوہ قرآن مجید میں حور کا لفظ ایک اور معنی میں بھی استعمال ہوا ہے۔وہ یہ کہ جنت میں ایک خاص مخلوق بنائی جائے گی۔ جن میں لڑکے(غلمان) بھی ہونگے اور لڑکیاں (حوریں ) بھی ہونگی۔ یہ حور و غلمان جنتی مرد اور عورتوں کی خدمت بھی کریں گی اور ان کے لیئے ہر جائز تفریح کا سامان بھی بہم پہنچائیں گی۔ اس کی سب سے نمایاں مثال سورۃ رحمٰن 55 میں ہے۔ جہاں آیات 56 تا 58 میں اہل جنت کی بیویوں کا ذکر ہے اور پھر آیات 72 تا 74میں حوروں کا ذکر ہے۔ ارشاد ہے۔ 
فیھن قٰصرٰت الطرف لم یطمثھن انس قبلھم ولاجآن۔(سورۃ رحمٰن 55- ،آیت56)
"(جنت میں)ان نعمتوں کے درمیان شرمیلی نگاہوں والیاں ہوں گی جنہیں ان جنتیوں سے پہلے کسی انسان یاجن نے نہ چھویاہوگا(یعنی ان خواتین کونئے سرے سے باکرہ بنادیاجائے گا)۔"
آگے ارشاد ہے:
حورُ، مقصورٗت فی الحیام ۔ فباَیّ اٰلآ ء ربکما تکذبٰن۔ لم یطمثھن اِنسُ، ولاجآن۔ (آیات 74-72،سورۃ رحمٰن 55 )
"خیموں میں ٹھہرائی ہوئی حوریں۔ اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ ان جنتیوں سے پہلے کبھی کسی انسان یا جن کے ان کو نہ چھوا ہوگا"
اس کی تفصیل میں حضرت ام سلمہؓ کی ایک روایت بہت اچھی روشنی ڈالتی ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ " میں نے رسول اﷲؐ سے پوچھا۔ یا رسول ا ﷲؐ دنیا کی عورتیں بہتر ہیں یا حوریں؟ حضورؐ نے جواب دیا: دنیا کی عورتوں کو حوروں پر وہی فضیلت حاصل ہے۔ جو ابرے کو استر پر ہوتی ہے۔ میں نے پوچھا کس بنا پر؟ فرمایا اس لئے کہ ان عورتوں نے نمازیں پڑھی ہیں۔ روزے رکھے ہیں اور عبادتیں کی ہیں۔" (طبرانی)
اسی مخلوق میں لڑکے (غلمان ) بھی شامل ہونگے۔ ارشاد ہے۔
وَیَطُوُف عَلَیھِم غِلمان لَھُم کَانَّھم لُؤلُؤ مَکنون۔(طور 52 ۔ آیت24 )
" اور ان کی خدمت میں وہ لڑکے دوڑتے پھر رہے ہونگے۔ جو انہی جنتیوں کے خدمت کے لئے مخصوص ہونگے۔ ایسے خوبصورت جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتی"
بالکل اسی اسلوب میں قرآن مجید نے حوروں کا بھی ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہے۔
وحور عیٰن۔ کامثال اللؤ لؤ المکنون۔(الواقعہ56 ۔آیت 22 ۔ عربی متن)
" اور ان کے لئے خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہونگی۔ ایسی خوبصورت جیسے چھپاکر رکھے ہوئے موتی"
یہاں دو باتیں مزید واضح ہونی چاہیں۔ ایک یہ کہ قرآن مجید میں ایک ہی لفظ کا دو مختلف معانی میں استعمال ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ متعدد ایسے الفاظ ہیں جنہیں قرآن مجید میں ایک سے زیادہ معنوں میں استعمال کیا گیا ہے۔ مثلاً رسول کا لفظ وحی لانے والے فرشتے جبرائیلؑ کے لئے بھی استعمال ہوا ہے اور نبیوں کی ایک خاص کیٹیگری کے لئے بھی استعمال ہوا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ قرآن و حدیث میں کوئی ایسا اشارہ نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ حور نامی خصوصی مخلوق شہوانی مقصد کے لئے ہے۔ 
پروردگار عادل حقیقی ہے۔ اس لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ پروردگار کے حکم سے ایسا کام ہو جس میں بے انصافی یا تردد کاکو ئی شائبہ تک موجود ہو۔