عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلام خواتین کو قبرستان جانے سے منع کرتا ہے۔ یہ بات درست نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں شروع شروع میں خواتین کو قصداً قبرستان جانے سے منع کیا گیا تھا، کیونکہ وہ بہت اونچی آواز میں بین اور چیخ وپکار کرتی تھیں اور سر پر خاک ڈالتی تھیں۔ قبرستان جانے سے روکنے کا یہ حکم اس خاص صورت حال پر قابو پانے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدا میں دیا تھا۔ جب اسلام کی تربیت کے نتیجے میں خواتین نے ایسے موقعوں پر خود پر قابو پانا سیکھ لیا اور ان کی جو تربیت کرنا مقصود تھی، وہ ہوگئی تو ان پر سے یہ پابندی اٹھا لی گئی۔
شروع میں ان کو قبرستان جانے سے روکنے کے لیے جن الفاظ میں منع کیا گیا، وہ یہ ہیں:

عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَعَنَ زَوَّارَاتِ الْقُبُوْرِ.(ترمذی، رقم۱۰۵۶)
’’حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والی خواتین پر لعنت کی ہے۔ ‘‘

پھر جب خواتین کی مطلوبہ تربیت ہوگئی تو یہ پابندی ان الفاظ کے ساتھ اٹھا لی گئی:

عَنِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: نَہَیْتُکُمْ عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُوْرِ فَزُوْرُوْہَا فَإِنَّ فِیْ زِیَارَتِہَا تَذْکِرَۃً. (ابوداؤد، رقم۳۲۳۵)
’’ابن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمھیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا، اب تم قبرستان جا سکتی ہو، اس لیے کہ اس سے (موت کی) یاددہانی حاصل ہوتی ہے۔‘‘

إبْنُ أَبِیْ مُلَیْکَۃَ عَنْ عَاءِشَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِیْ زِیَارَۃِ الْقُبُوْرِ. (ابن ماجہ، رقم۱۵۷۰)
’’ابن ابی ملیکہ حضرت عائشہ ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (عورتوں کو)قبروں کی زیارت کرنے کی اجازت دے دی ہے۔‘‘

لہٰذا اب خواتین اپنے عزیزوں کی قبروں کی زیارت کے لیے قبرستان جا سکتی ہیں۔ انھیں صرف یہ احتیاط کرنی چاہیے کہ وہاں وہ بہ آواز بلند رونا دھونا نہ کریں اور باوقار طریقے سے رہیں۔

____________