بیش تر فقہا کی یہ راے ہے کہ خواتین کی گواہی (جن معاملات میں بھی وہ قابل قبول ہے) مردوں کی گواہی کے مقابلے میں آدھی ہے۔ ۸؂  وہ اپنی اس راے کی بنیاد قرآن مجید کی اس آیت پر رکھتے ہیں:

وَاسْتَشْہِدُوْا شَہِیْدَیْْنِ مِنْ رِّجَالِکُمْ فَاِنْ لَّمْ یَکُوْنَا رَجُلَیْْنِ فَرَجُلٌ وَامْراَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَمِنَ الشُّہَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰہُمَا فَتُذَکِّرَ اِحْدٰہُمَا الاُخْرٰی.(البقرہ۲: ۲۸۲)
’’اور اپنے مردوں میں سے دو مردوں کو گواہ بناؤ۔ اگر دو مرد نہ ملیں تو ایک مرد اور دو عورتیں گواہوں میں سے جو تمھیں پسند ہوں لے لو، مبادا ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد کروا دے۔‘‘

اس راے پر تنقید کرتے ہوئے جاوید احمد صاحب غامدی لکھتے ہیں:

’’اِس آیت سے فقہا کا استدلال ، ہمارے نزدیک دو وجوہ سے محل نظر ہے :
ایک یہ کہ واقعاتی شہادت کے ساتھ اِس آیت کا سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ یہ دستاویزی شہادت سے متعلق ہے۔ ہر عاقل جانتا ہے کہ دستاویزی شہادت کے لیے گواہ کا انتخاب ہم کرتے ہیں اور واقعاتی شہادت میں گواہ کا موقع پر موجود ہونا ایک اتفاقی معاملہ ہوتا ہے۔ ہم نے اگر کوئی دستاویز لکھی ہے یا کسی معاملے میں کوئی اقرار کیا ہے تو ہمیں اختیار ہے کہ اُس پر جسے چاہیں گواہ بنائیں ، لیکن زنا ، چوری ، قتل ، ڈاکا اور اِس طرح کے دوسرے جرائم میں جو شخص بھی موقع پر موجود ہو گا ، وہی گواہ قرار پائے گا۔ چنانچہ شہادت کی اِن دونوں صورتوں کا فرق اِس قدر واضح ہے کہ اِن میں سے ایک کو دوسری کے لیے قیاس کا مبنیٰ نہیں بنایا جا سکتا۔
دوسری یہ کہ آیت کے موقع و محل اور اسلوب بیان میں اِس بات کی کوئی گنجایش نہیں ہے کہ اِسے قانون و عدالت سے متعلق قرار دیا جائے۔ اِس میں عدالت کو مخاطب کر کے یہ بات نہیں کہی گئی کہ اِس طرح کا کوئی مقدمہ اگر پیش کیا جائے تو مدعی سے اِس نصاب کے مطابق گواہ طلب کرو۔ اِس کے مخاطب ادھار کا لین دین کرنے والے ہیں اور اِس میں اُنھیں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اگر ایک خاص مدت کے لیے اِس طرح کا کوئی معاملہ کریں تو اُس کی دستاویز لکھ لیں اور نزاع اور نقصان سے بچنے کے لیے اُن گواہوں کا انتخاب کریں جو پسندیدہ اخلاق کے حامل ، ثقہ ، معتبر اور ایمان دار بھی ہوں اور اپنے حالات و مشاغل کے لحاظ سے اِس ذمہ داری کو بہتر طریقے پر پورا بھی کر سکتے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اِس میں اصلاً مردوں ہی کو گواہ بنانے اور دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد کے ساتھ دو عورتوں کو گواہ بنانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ گھر میں رہنے والی یہ بی بی اگر عدالت کے ماحول میں کسی گھبراہٹ میں مبتلا ہو تو گواہی کو ابہام و اضطراب سے بچانے کے لیے ایک دوسری بی بی اُس کے لیے سہارا بن جائے۔ اِس کے یہ معنی ، ظاہر ہے کہ نہیں ہیں اور نہیں ہو سکتے کہ عدالت میں مقدمہ اُسی وقت ثابت ہو گا ، جب کم سے کم دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں اُس کے بارے میں گواہی دینے کے لیے آئیں۔ یہ ایک معاشرتی ہدایت ہے جس کی پابندی اگر لوگ کریں گے تو اُن کے لیے یہ نزاعات سے حفاظت کا باعث بنے گی۔ لوگوں کو اپنی صلاح و فلاح کے لیے اِس کا اہتمام کرنا چاہیے ، لیکن مقدمات کا فیصلہ کرنے کے لیے یہ کوئی نصاب شہادت نہیں ہے جس کی پابندی عدالت کے لیے ضروری ہے۔ چنانچہ اِس سلسلہ کی تمام ہدایات کے بارے میں خود قرآن کا ارشاد ہے:

ذٰلِکُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ وَ اَقْوَمُ لِلشَّہَادَۃِ وَاَدْنٰی اَلاَّ تَرْتَابُوْا. (البقرہ۲: ۲۸۲)
’’یہ ہدایات اللہ کے نزدیک زیادہ مبنی برانصاف، گواہی کو زیادہ درست رکھنے والی اور زیادہ قرین قیاس ہیں کہ تم شبہات میں مبتلا نہ ہو۔‘‘

ابن قیم اِس کے بارے میں اپنی کتاب ’’اعلام الموقعین‘‘ میں لکھتے ہیں :

فہٰذا فی التحمل والوثیقۃ التی یحفظ بہا صاحب المال حقہ، لا فی طریق الحکم و ما یحکم بہ الحاکم، فإن ہٰذا شیء وہٰذا شیء. (۱/ ۱۳۲)
’’یہ گواہی کا بار اٹھانے اور اُس میں مضبوطی سے متعلق ہے جس کے ذریعے سے کوئی صاحب مال اپنے حق کی حفاظت کرتا ہے ، عدالت کے فیصلے سے اِس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ چنانچہ یہ اور چیز ہے ، اور وہ اور۔ ‘‘ (برھان۲۹)

_____
۸؂ بدایہ المجتہد ، ابن رشد ۴/ ۳۱۱۔

____________