بعض علما حضرات کی راے ہے کہ جس طرح لڑکوں کا ختنہ کیا جاتا ہے، اسی طرح خواتین کا بھی ختنہ کرنا ضروری ہے۹؂۔ وہ اپنی راے کے حق میں درجہ ذیل حدیث سے استدلال کرتے ہیں:

عن الحجاج عن أبی ملیح بن أسامۃ عن أبیہ قال: قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: الختان سنۃ للرجال ومکرمۃ للنساء. (احمد، رقم ۲۰۷۳۸)
’’ابو ملیح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ختنہ مردوں کے لیے سنت ہے اور خواتین کے لیے پسندیدہ ہے۔‘‘ ۱۰؂

یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اس روایت کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحت کے ساتھ ثابت نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں حجاج بن ارطاء نامی ایک ضعیف راوی ہے۱۱؂۔ چنانچہ اس روایت سے کوئی حکم اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف لڑکوں کا ختنہ کرنا ہی نبیوں کی مسلمہ سنت ہے۔

_____
۹؂ المناوی کی کتاب ’’التیسیر‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے شمس الحق عظیم آبادی لکھتے ہیں کہ امام شافعی اسے لازمی قراردیتے ہیں۔ دیکھیے: عون المعبودشرح سنن ابوداؤد ۱۴/ ۱۲۵۔
۱۰؂ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت بیان کرتے ہیں، اگرچہ بیہقی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ دیکھیے: السنن الکبریٰ ۶/ ۳۲۴۔ ایک اور روایت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس کی سند میں سعید بن بشیر ہیں۔حدیث کے ماہر فن جیسے یحییٰ بن معین اور ابن نمیر نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ دیکھیے: الجرح و التعدیل ، ابن ابی حاتم ۴/ ۶۔
۱۱؂ تنقیح تحقیق الاحادیث التعلیق ، شمس الدین حنبلی ۲/ ۲۶۴۔ ابن عبد البرکے مطابق ان کی وہ روایات جن کی دوسری روایتوں سے تائید نہ ہو ، ان سے استدلال نہیں کیا جاسکتا۔ دیکھیے: التمہید۲۱/ ۵۹۔ شمس الحق عظیم آبادی نے اس روایت کی سند کے بارے میں دوسرے اکابرین کی آرا بھی بیان کی ہیں۔ بیہقی کے مطابق یہ روایت ضعیف اور منقطع ہے۔ عراقی نے بھی اس کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے۔ ابو حاتم کے مطابق اس روایت کا غلط متن الحجاج کی اختراع ہے یا اس راوی کی جو الحجاج سے نقل کرتا ہے۔ دیکھیے: عون المعبود شرح سنن ابو داؤد، شمس الحق عظیم آبادی ۱۴/ ۱۲۵۔

____________