اُنتالیس واں باب 

اس  کتاب میں بیان کیے گئے نقطہ نظر کا خلاصہ یہ ہے کہ: 
O۔ اُمتِ مسلمہ کی موجودہ کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہر مسلمان ملک میں تعلیم اور سائنس کو اولین ترجیح دی جائے، ہر ملک کی سیاست کی بنیاد جمہوری کلچر کو بنایا جائے، ہر ملک اپنے باشندوں کو سستا اور فوری انصاف فراہم کرے، اور ہر ملک اپنی سب داخلہ وخارجہ پالیسیوں میں حکمت، تدبیر اور صبر سے کام لے۔ 
O۔ اِس وقت اُمتِ مسلمہ کو جتنے عالمی مسائل درپیش ہیں، مثلاً مسئلہ کشمیر، فلسطین، عراق، افغانستان اور کشمیر، ان سب کے بارے میں یہ فیصلہ کیا جائے کہ ان مسائل کے حل کی کوشش خالصتاً پُرامن ذرائع اور مکالمے سے کی جائے گی۔ مقابل قوتیں خواہ جتنا بھی ہمیں اشتعال دلائیں، ہم اشتعال میں نہیں آئیں گے،بلکہ ظلم کے مقابلے میں عدم تشدد پر مبنی مظلومانہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔ 
O۔ اُمتِ مسلمہ کے اندر اتفاق واتحاد پیدا کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اختصاصی دینی تعلیم ابتدائی بارہ برس کی عام تعلیم کے بعد شروع کی جائے۔ دینی تعلیم کا مرکز ومحور قرآن مجید اور احادیثِ نبویؐ ہوں، انہی کی روشنی میں ہر طالب علم کو، بغیر تعصب کے، سب مسالک کی تعلیم دی جائے۔ اس طرح وسیع الفہم اور وسیع النظر مسلمان علماء تیار ہوسکیں گے۔
O۔ ہم میں سے ہر ایک فرد کوخود اپنی تربیت کرنی ہے۔ہمیں اپنی ذات میں قانون پسند اور صبر کا پیکر بننا ہے۔ ہمیں اپنے گردوپیش میں تعلیم کو پھیلانا ہے۔ ہمیں عدمِ تشدد، مکالمے اور تدبیر پر عمل پیرا ہونا ہے۔ ہمیں غربت کے خلاف جدوجہد کرنی ہے۔ ہمیں فرقہ بندی سے بالاتر ہوکر قرآن وحدیث کو سمجھنا ہے۔ ہم میں سے ہر فرد کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ روزانہ خدمت خلق کا 
کوئی نہ کوئی کام کرے اور اُس کے ہاتھوں سے مخلوقِ خدا کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ 
جب بھی مسلمان انفرادی اور اجتماعی طور پر درج بالا لائحہ عمل اختیار کریں گے، انشاء اللہ 
چند دہائیوں کے اندر اندر اُن کی حالت بدل جائے گی۔ پھر دنیا کے اندر ایک نئی مساوات جنم لے گی۔ مسلمان ممالک صفِ اول میں آجائیں گے اور دنیا مجبور ہوگی کہ ہم سے ہماری جائز اور منصفانہ شرائط پر معاملہ کرے۔