یہ گیارہ ستمبر کے واقعہ کے بعد کا ذکر ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب امریکا افغانستان پر حملے کے لیے پر تول رہا تھا۔پاکستان میں لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو یقین تھا کہ روس کی طرح امریکا بھی افغانستان کی دلدل میں دھنس کر تباہ ہوجائے گا۔میں اپنے ایک دوست کے ہمراہ کراچی کے ایک شاپنگ سنٹر میں گیا۔ہمارے درمیان موضوع بحث امریکا کا معاشرہ تھا۔گفتگو کرتے ہوئے ہم ایک دوکان میں پہنچے۔ صاحب دوکان ، جو وضع قطع سے ایک دین دارآدمی نظر آتے تھے، ہماری گفتگو دل چسپی سے سننے لگے۔انھوں نے مجھ سے دریافت کیا: اس وقت امریکی ڈالر کتنے روپے کا ہے۔غالباً اس وقت ایک ڈالر ۶۵روپے کا تھا۔ یہی میں نے انھیں بتادیا۔ میرا جواب سن کر انھوں نے ایک مشہور مذہبی جہادی لیڈر کے حوالے سے انتہائی وثوق، اعتماد اور تحقیر آمیز مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ حضرت فرماتے ہیں کہ عنقریب ایک روپے میں ۶۵امریکی ڈالر آنے لگیں گے۔میں اس بات کے جواب میں خاموش رہا۔جذبات کے مارے اور خطابت کی جادو گری کے اسیر کسی شخص کو میں کیا سمجھاتا کہ قوموں کا عروج و زوال کن بنیادوں پر ہوتا ہے۔عوام کے جذبات ابھار کر چندہ اور مقبولیت جمع کرنے والے رہنماؤں کی تقریروں کی بنیاد پر تو اس کا فیصلہ، کم از کم، نہیں ہوتا۔
اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعدلاہور میں حضرت الاستاذ جاوید احمد غامدی صاحب کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع ملا۔مجھے جاوید صاحب کے دیے ہوئے کچھ موضوعات پر تحقیقی انداز میں لکھنا تھا۔ان میں سے ایک موضوع قوموں کے عروج وزوال سے متعلق بھی تھا۔اثناے گفتگو میں امریکا کے زوال کا ذکر چھڑا تو انھوں نے فرمایا کہ امریکا کے زوال میں آپ کے لیے کوئی چیزباعث مسرت نہیں، کیونکہ یہ معلوم ہے کہ امریکا کے زوال کے بعد بھی اس کی جگہ کم از کم آپ کی قوم نہیں لے گی۔آپ کو اس وقت خوش ہونا چاہیے جب امریکا کے بعد آپ اس کی جگہ سپر پاور کے مقام پر پہنچیں۔یہ وہ لمحہ تھا جب میں نے فیصلہ کیا کہ میں ان تمام موضوعات میں سب سے پہلے عروج و زوال کے عنوان پر قلم اٹھاؤں گااور اس مقالہ کو خاص پاکستان کے پس منظر میں تحریر کروں گا۔
میرے اس عزم کا نتیجہ یہ کتاب ہے جو اس وقت آپ کے ہاتھوں میں ہے۔تاریخ نہ صرف ابتدا سے میرا پسندیدہ موضوع رہی ہے ،بلکہ اس کتاب کی تصنیف کے لیے پچھلے ایک سال میں، میں نے اپنے مطالعہ کو تاریخ اور عروج وزوال سے متعلق کتابوں تک محدود کردیا ۔پھر مقصد جب پاکستان پر لکھنا ہو توصرف تاریخ کا تذکرہ کافی نہیں،بلکہ قرآن اور دین کو بھی موضوع بحث بنانا ضروری ہے ۔چنانچہ کتاب کے ابتدائی دو ابواب میں عروج و زوال کے عمل پر تاریخ اور قرآن کی روشنی میں گفتگو کی گئی ہے۔تاریخ پر لکھتے وقت میری کوشش رہی کہ عام طور پر معروف واقعات کو بیان کروں۔اسی طرح قرآن کی روشنی میں بات کرتے وقت ہر جگہ قرآنی آیات نقل کی گئی ہیں۔ یہ دونوں ابواب اپنی جگہ عروج وزوال پر ایک مکمل بات بیان کرتے ہیں۔کوئی شخص اگر صرف پاکستان میں دل چسپی کی بنا پر اس کتاب کو پڑھے گا تو شاید اسے یہ ابواب غیر متعلق معلوم ہوں۔ تاہم آخر میں پاکستان کے حوالے سے جو کچھ لکھاگیا ہے، اسے سمجھنے کے لیے ان دونوں ابواب کا مطالعہ ضروری ہے۔
مجھے یہ یقین ہے کہ پچھلی دو صدیوں میں جو غیر علمی اور جذباتی فضا ہمارے ہاں پروان چڑھی ہے، اس میں ایسی کسی تحریر سے قوم کی ذہنیت میں کسی انقلاب کے رونما ہونے کا بظاہر کوئی امکان نہیں،تاہم اتنی امید ضرور ہے کہ یہ تحریر جمود کی اس فضا میں ارتعاش کا پہلا پتھر ضرور ثابت ہوگی۔کتاب کے بعض موضوعات جو بہت اہم ہیں اور میں نے ان پر اختصار سے لکھا ہے، انھیں کچھ تفصیل کے ساتھ الگ کتابچوں کی شکل میں چھاپ دیا گیا ہے۔ ان میں ’ہمارااخلاقی بگاڑ‘ اور ’مسلمان اوردنیا پرستی‘ نمایاں ہے۔
موضوع کی اہمیت کے پیشِ نظر میری یہ خواہش ہے کہ یہ کتاب ہر باشعور اور دردمند پاکستانی تک پہنچے۔ چنانچہ حتی الامکان یہ کوشش کی گئی ہے کہ عام لوگوں کے لیے اس کا مطالعہ آسان ہو۔ چنانچہ اس موضوع پر ان گنت کتابیں پڑھنے اور موضوع کی وسعت کے باجود کتاب انتہائی مختصر رکھی گئی ہے۔علمی اسلوب کے بجائے پیراےۂ بیان سادہ اور آسان رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔کتاب کی قیمت بھی کوشش کرکے کم ہی رکھی گئی ہے۔اس سلسلے میں میرے وہ سارے دوست شکریہ کے مستحق ہیں جن کے تعاون کے بغیر یہ کتاب آپ تک اس طرح نہ پہنچتی۔ ان میں برادرم منظورالحسن، برادرم معظم صفدر، برادرم جمیل شبیر،مخدومی و مکرمی محمد نثار صاحب، میرے اہل خانہ اور وہ تمام لوگ جنہوں نے اس کتاب کی اشاعت میں کسی طرح بھی تعاون کیا، شامل ہیں۔خاص طور پر استاذ گرامی جاویداحمد غامدی صاحب کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ہمیشہ کی طرح اس کتاب کی تصنیف میں بھی میری رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی۔
ایک آخری بات ذاتی حوالے سے۔اِس عاجز نے امریکہ، کینیڈا اور سعودی عرب کے اپنے سفرنامے ’’مغرب سے مشرق تک‘‘کے آخر میں اقبال کی ایک غزل لکھی تھی ۔۔۔آج ہی کے دن آج سے ٹھیک دو سال قبل۔اس کا ایک شعر اس طرح تھا:

باغِ بہشت سے مجھے حکمِ سفر دیا تھا کیوں
کارِ جہاں دراز ہے، اب میرا انتظار کر

یہ کتاب اسی ’’کارِجہاں‘‘ کا آغاز ہے جو بہشت کے مالک کی خدمت میں پیش ہے۔ پاکستان خدا کا ملک ہے۔اس کاکام خدا کا کام ہے۔یہ کام ذرا طویل ہے۔ مجھے امید ہے کہ ایک روز اس کارِ جہاں کا اختتام بھی ہوگا۔ پتا نہیں کہ اس کے خاتمے سے قبل اپنا انتظار ختم نہ ہو جائے۔آثار بظاہر ایسے ہی ہیں۔ ایسا اگرہو بھی جائے تو کوئی غم نہیں ۔ ہمارا مسئلہ یہ کارِ جہاں نہیں، باغِ بہشت ہے۔ ہاں بہشت کے مالک سے اسی وقت ایک دعا اور بھی کی تھی۔ اسے پھر دہرادیتے ہیں:

نغمۂ نو بہار اگر میرے نصیب میں نہ ہو
اس دم نیم سوز کو تو طا ئرکِ بہار کر

ریحان احمد یوسفی

۳۰؍ اگست ۲۰۰۳ء
کراچی

____________