دوسرا باب

اس دنیا میں ہمیشہ سے یہ طریقہ چلا آرہا ہے کہ کچھ اقوام بہت کامیاب ہوجاتی ہیں، حتیٰ کہ وہ اپنے وقت کی سُپر پاور بن جاتی ہیں۔ کچھ ریاستیں اتنی کامیاب تو نہیں بنتیں لیکن بہرحال باوقار طریقے سے زندگی بسر کرتی ہیں۔ جب کہ اس کے برعکس کچھ قومیں بہت کمزوری کی حالت میں زندگی بسر کرتی ہیں، اور وہ اکثر اوقات حقیقتاً یا عملاً غلامی کی زندگی گزارتی ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ درحقیقت یہ سارا اُتار چڑھاؤ کچھ عوامل کا مرہونِ منت ہوتا ہے۔


معلوم تاریخ کا پہلا دور 

وقت اور حالات کی مناسبت سے ان عوامل میں کچھ تبدیلیاں بھی آتی ہیں،تاہم ان کا بنیادی ڈھانچہ یکساں ہوتا ہے۔ مثلاً آج سے چند صدیاں قبل وہ عوامل جو کسی قوم کی تقدیر کا فیصلہ کرتے تھے، درج ذیل تھے 
O کسی بڑے مقصد پر اتفاق 
O امورِ مملکت مشورے سے چلانا 
O انصاف 
قوموں کی ترقی ، بقا اور غلبے کے لئے یہ ضروری تھا کہ ان کا کسی بڑے مقصد پر اتفاق ہو۔ یہ مقصد عموماً جہانگیری ہوا کرتا تھا، یعنی یہ کہ زیادہ سے زیادہ علاقوں کو فتح کیا جائے، وہاں کی رعایا کو اپناباج گزار بنایا جائے اور دوسروں کے وسائل سے فائدہ اٹھایا جائے۔ عموماً کوئی بادشاہ اس کا خواب دیکھتا تھااور پھر وہ اپنی پوری قوم میں اس کے لیے ایک جوش وجذبہ بھر رہتا تھا۔ یوں یہ قوم پرعزم اور توانا ہوجاتی تھی اور بہت سے علاقوں کو فتح کرلیتی تھی۔ ظاہر ہے کہ اس عمل کو کہیں نہ کہیں تو ٹھہرنا ہوتا ہے۔ چنانچہ اس کے بعد ٹھہراؤ کا ایک دور آتا تھا۔ چند نسلوں تک یہ آن بان اور شان قائم رہتی تھی۔ پھر عام طور پر بادشاہ اور رعایا دونوں سُستی اور آرام طلبی کے رسیا ہوجاتے تھے۔ چنانچہ کوئی دوسری زیادہ پُرعزم قوم اس کو اپنا غلام یا اطاعت گزار بنالیتی تھی۔ یوں یہ پہیہ چلتا رہتا تھا۔ 
پچھلے زمانوں میں بھی جن ممالک میں بادشاہ اور اُمرا مشورے کو اہمیت دیتے تھے اور اتفاق رائے سے فیصلے کیے جاتے تھے، وہ اقوام زیادہ کامیاب رہتی تھیں۔ تاریخ میں جتنی بڑی سلطنتوں کی شان وشوکت کے قصے بیان کیے جاتے ہیں، وہاں مشورے کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی تھی۔ حتیٰ کہ منگولوں کے حکمرانوں، چنگیز خان، ہلاکو خان اور قبلائی خان جنہیں تاریخ وحشی حکمرانوں کی حیثیت سے جانتی ہے، جیسے لوگوں کے ہاں بھی مشورے کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا تھا۔ اس کے برعکس جہاں جہاں مطلق العنان بادشاہ ہوتے تھے، وہاں بہت جلد سازشیں جڑپکڑ لیتی تھیں، بغاوتیں ہوتی تھیں اور قسم قسم کے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ 
اسی طرح جن ملکوں میں انصاف کا دور دورہ ہوتا تھا، وہاں کے رعایا بادشاہ سے خوش ہوتے تھے اور ملک کے اندر معاشی اعتبار سے بھی خوش حالی ہوتی تھی، اسی لئے یہ ملک نسبتاً پائیدار ہوتے تھے اور دشمنوں کے حملے کے وقت سارے رعایا مل کر دشمن کا مقابلہ کرتے تھے۔ 
یہ بھی واضح رہے کہ ہر زمانے میں چھوٹی اور بڑی اقوام ہوتی ہیں۔ چنانچہ جن اقوام کا رقبہ اور آبادی زیادہ نہیں ہوتی تھی یا ان کے پاس زرعی زمینیں نہیں ہوتی تھیں، وہ ملک صبر اور بہتر حکمت عملی کے ذریعے اپنا بچاؤ کرتے تھے۔ یعنی وہ ہر پیش آمدہ خطرے پر ٹھنڈے دل سے غوروفکر کرتے،پورے حساب کتاب کے ساتھ اپنے اور حملہ آور قوم کے تناسب پر غورکرتے اور اگر اس نتیجے پر پہنچ جاتے کہ وہ لڑائی میں جیت سکتے ہیں تو مسلح دفاع کرتے۔ورنہ صلح کرکے یہ وعدہ کرتے کہ وہ حملہ آورقوم کو سالانہ اتنا خراج (ٹیکس) دیں گے۔ یوں وہ وقتی طور پر اپنے آپ کو محفوظ کرلیتے اور پھر جب دشمن کچھ اور عوامل کے نتیجے میں کمزور ہوجاتا، تب یہ لوگ بھی کامل آزادی کا اعلان کرلیتے۔ 
جن اقوام، خصوصاً چھوٹی اقدام، نے صبروحکمت سے کام لیا، انہوں نے تاریخ میں اپنے آپ کو زندہ رکھا، اپنے لوگوں کو فنا کے گھاٹ اترنے اور مصیبتوں سے محفوظ رکھا اور اس طرح دوسروں سے بہتر زندگی گزاری۔ 


تاریخ کا دوسرا اور حالیہ دور 

حالیہ دور میں جو عوامل کسی قوم کی کامیابی وناکامی کا فیصلہ کرتے ہیں، اُن میں کچھ تبدیلی آگئی ہے۔ مگر اس حالیہ دور کی ابتدا کہاں سے ہوتی ہے، اہلِ علم اور مفکرین نے اس کے کئی جوابات دیے ہیں۔ کسی کے نزدیک یہ دور یورپ میں ریناساں(Renaissance)، یعنی نشاء تہ ثانیہ سے ہوا۔ کچھ اور اہلِ علم کے مطابق اس کی ابتدا ریفارمیشن (Reformation) یعنی اُس تحریکِ اصلاحِ مذہب سے ہوئی جو مارٹن لوتھر کنگ نے شروع کی تھی۔ بعض مفکرین کے خیال میں حالیہ دور کی ابتدا صنعتی انقلاب (Industrial Revolution) سے ہوتی ہے جس میں بھاپ، لوہے اور تیل کے استعمال سے تیز رفتار ترقی ممکن ہوئی۔ تاہم اس راقم کے نزدیک حالیہ دور کی ابتدا بنیادی طور پر 1440ء میں اُس وقت ہوئی جب جرمنی میں گُٹن برگ نے چھاپہ خانہ ایجاد کیا۔ اس ایجاد سے بڑے پیمانے پر کتابوں کی اشاعت ممکن ہوئی، چنانچہ عام لوگ بہت تیزی کے ساتھ نئے علوم وفنون سے واقف ہوئے۔ اور جب چھاپہ خانے کے ذریعے بائبل بھی بہت بڑی تعداد میں شائع ہوئی تو لوگوں میں احساس پیدا ہوا کہ وہ خود بھی بائبل کو پڑھ سکتے اور سمجھ سکتے ہیں، چنانچہ یہ ضروری نہیں کہ وہ بائبل کی وہی تعبیر مانیں جو پادری اب تک اُن کے سامنے پیش کررہے تھے۔ اس طرح عیسائی دنیا کے ایک بڑے حصے پر اہلِ مذہب کی اجارہ داری ختم ہوگئی۔ 
جب پوری سوسائٹی میں علم سیکھنے اور سکھانے کا شوق بڑھ گیا تو انسان کے تجسس میں بھی اضافہ ہوگیا۔ اس سے نئی نئی ایجادات نے جنم لیا، جس کا نتیجہ صنعتی انقلاب کی شکل میں سامنے آیا۔ اس صنعتی انقلاب کی وجہ سے معاشرے میں دولت آئی، نئے نئے طبقات وجود میں آگئے، اُن طبقات میں اپنے حقوق کا احساس پیدا ہوااور اسی احساس نے جمہوریت کو جنم دیا۔ 
گویا حالیہ دور کی ابتدا دراصل تعلیم سے ہوئی۔ تعلیم ہی وہ کنجی ہے جس سے ترقی کا تالہ کھلتا ہے۔ جب علم پر کچھ خاص طبقات کی اجارہ داری ختم ہوئی اور عوام کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا تو اُن کے اندر آگہی پیدا ہوئی اور اُن میں اپنے آپ پر اعتماد پیدا ہوا۔ یہی اعتماد وقار، عزت اور ترقی کی بنیاد ہے۔ 
حالیہ دور میں آگے بڑھنے اور باوقار زندگی گزارنے کے لیے درج ذیل عوامل لازم ہیں۔ 
O تعلیم سب کے لیے ،جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر بچے کی پہلی بارہ سال کی تعلیم مفت، لازمی اور یکساں ہو، ملک کے اندر سائنسی تعلیم کا جال بچھا ہوا ہو، عزت کا سب سے بڑا شرف تعلیم ہو، اور تعلیم ہی مملکت کی اولین ترجیح ہو۔ 
O جمہوری کلچر، جس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت عوام کی مرضی سے منتخب ہو، عوام کی مرضی سے ختم ہو، حکومت ہر معاملے میں عوام کے سامنے جواب دہ ہو، ہر چیز کے لیے ادارے قائم ہوں، سارے ادارے پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ ہوں، سارے حکومتی معاملات شفاف ہوں، ہر اہم معاملے کا فیصلہ مشورے سے ہو، آزاد پریس ہو اور احتساب کا آزاد اور کڑا نظام نافذ ہو۔ 
O انصاف، جس کا مطلب یہ ہے کہ عدالتیں آزاد ہوں، انصاف سستا اور جلد ملتا ہو، لوگوں کے اندر ہر اجتماعی معاملے میں احساسِ ذمہ داری پیدا ہو، وہ ہر خطرے سے بے نیاز ہوکر گواہی دیں، پولیس دیانت دار ہو اور انصاف کسی حالت میں خریدا نہ جاسکے۔ اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ معاشرے میں ہر فرد ہر وقت یہ سوچے کہ کیا وہ ہر عمل انصاف کے مطابق کررہا ہے۔ یعنی سوسائٹی کی ترقی کے لیے یہ ضروری ہے کہ اجتماعی زندگی میں انصاف بطورِ زندہ قدر (Value) جاری وساری ہو۔
O صبروحکمت، یعنی سوسائٹی میں دانش مندی اور مکالمے کا دور دورہ ہو۔ ہر معاملے پر ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ غوروفکر کیا جائے۔ فوری ردِعمل (Instant Reaction) نہ کیا جائے۔ جذباتیت سے کام نہ لیا جائے۔ہر فیصلے کے دوررس نتائج پر نگاہ رکھی جائے۔ ٹکراؤ اور مڈھ بھیڑ (confrontation) کے بجائے تدبر کے ساتھ، اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے حالات کے بدلنے کا انتظار کیا جائے۔ صبروحکمت کا یہ بھی مطلب ہے کہ حکمران، سیاسی لیڈر اور مذہبی رہنما عوام کے اندر ہیجان اور سنسنی خیزی (Sensationlism) پید انہ کریں، بلکہ عوام کو سوچنے سمجھنے اور مکالمے کی ترغیب دیں۔ 
آپ نے دیکھا ہوگا کہ پہلے دور کے ایک اہم عامل یعنی ’’کسی بڑے مقصد پر اتفاق‘‘ کو ہم نے جدید دور کے عوامل میں شامل نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جمہوریت کی وجہ سے اب ہر ملک کو ایک بڑا مقصد مل گیا ہے۔ وہ مقصد ہے اپنے ملک کو بحیثیتِ ملک ترقی دینا اور اس کا بچاؤ کرنا۔ 


ان عوامل کے کچھ اہم فوائد

جمہوریت کی وجہ سے سوسائٹی میں مساواتِ انسانی کا شعور بڑھتا ہے۔ ہر انسان اپنے آپ کو پوری قوم کا ایک زندہ حصہ تصور کرتا ہے، اُسے خوداعتمادی حاصل ہوتی ہے اور پوری قوم کے اندر ہر وقت آگہی کی کیفیت موجود ہوتی ہے۔ انصاف کی وجہ سے سوسائٹی میں امانت ودیانت فروغ پاتی ہے اور میرٹ کا اصول پروان چڑھتا ہے یعنی یہ کہ ہر فرد کو قابلیت وصلاحیت کی بنیاد پر جانچا جائے۔ جس سوسائٹی میں انصاف کا دور دورہ ہو، وہاں رشوت وسفارش کم ہوتی جاتی ہے، سب کے لیے ترقی کے یکساں مواقع وجود میں آتے ہیں اور لوگ ملکی قانون کی پابندی کرتے ہیں۔ گویا کوئی بھی اپنے آپ کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھتا۔ 
تعلیم اِن سب اقدار (Values) کی ماں ہے۔ اس سے سوسائٹی کے اندر محنت کی قدر پیدا ہوتی ہے۔ سوسائٹی میں محنت کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ نئی نئی ایجادات ہوتی ہیں۔ معیارِزندگی اور دولت کا براہِ راست تعلق تعلیم سے جُڑجاتا ہے۔ ہر جگہ صحت مند مقابلے کا رجحان پیدا ہوجاتا ہے۔ لوگ صحت کی طرف توجہ دینے لگتے ہیں۔ جذباتیت اور تعصبات کم سے کم تر ہونے لگتے ہیں۔ سوسائٹی کے اندر محروم، غریب اور کمزور طبقات کی خدمت کا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے بہت سے ادارے وجود میں آجاتے ہیں۔ 
درج بالا چار اقدار گویا ترقی کا دروازہ ہیں، جس کے بعد خودکار طریقے سے دوسری مفید اقدار (Values) جنم لیتی ہیں اور ہر معاملے کے لیے ادارے وجود میں آجاتے ہیں۔ 


چھوٹی اقوام کے لیے باوقار زندہ رہنے کا راستہ 

حالیہ دور میں دنیا کے اندر عموماً وہی ملک سُپر پاور بنتا ہے جس کی آبادی زیادہ ہو، رقبہ بڑا ہو اور وہ قدرتی وسائل پر دسترس رکھتا ہو۔ لیکن اگر سُپر پاورز بلاشرکتِ غیرے پوری دنیا کے مالک بن جائیں تو یہ دنیا آزمائش کی دنیا کے بجائے غلامی کی دنیا بن جائے گی۔ چنانچہ پروردگار نے چھوٹی اقوام کو زندہ رہنے، آگے بڑھنے اور مضبوط بننے کا طریقہ بھی رکھا ہے۔ قدرت نے ایسا انتظام کررکھا ہے کہ اگر ایک چھوٹی قوم باوقار طریقے سے زندہ رہنے کا فیصلہ کرلے تو سُپر پاورز کوشش کے باوجود اُس کو اپنے زیرِ نگیں نہیں لاسکتیں۔ آج کے حوالے سے درج بالا چار میدان ایسے ہیں جہاں پیش رفت کے نتیجے میں ایک چھوٹی قوم بھی محیرالعقول کارنامے انجام دے سکتی ہے، بلکہ اپنے آپ کو کئی پہلوؤں سے سُپر پاورز کے لیے ناگزیر بھی بناسکتی ہے۔ یورپ کی کئی چھوٹی مملکتیں اس کی زندہ مثال ہیں۔ مثلاً آٹھ ملین کی آبادی کے ایک ملک آسٹریا کی مجموعی قومی آمدنی عالمِ اسلام کے کسی بھی ملک (بشمول تیل پیدا کرنے والے ممالک) سے زیادہ ہے۔ عالمِ اسلام میں اس معاملے میں کسی حد تک ملایشیا کی مثال دی جاسکتی ہے۔ پچھلے مالیاتی بحران، جس میں مشرقِ بعید کے سارے ممالک کا معاشی نظام بیٹھ گیا تھا، سے ملایشیا کامیابی کے ساتھ بچ گیا۔ خارجہ تعلقات میں ملایشیا کا موقف بہت جرأت مندانہ ہے لیکن سُپر پاورز اُس کے خلاف آج تک کوئی انتقامی کاروائی نہیں کرسکیں۔ 
لیکن اگر کسی چھوٹی قوم کے اندر درج بالا چار میدانوں میں کمزوری ہو یا سرے سے ہی اُس کا شعور مفقود ہو تو پھر بڑی طاقتیں اُس کو اپنے پنجوں میں دبوچ لیتی ہیں۔ اُس کی معیشت پر براہِ راست یا بالواسطہ قبضہ کرلیتی ہیں۔ اُس کے حکمرانوں کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی کوشش کرتی ہیں۔ کیونکہ قانونِ قدرت ہے کہ بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو نگل لیتی ہے۔ 
گویا اگر کوئی چھوٹی قوم اپنے آپ کو سُپر پاورز کے جبڑوں سے نکالنا چاہے، تو اُسے درج بالا چار عوامل پر عمل پیرا ہونا ہوگا۔ یہ بھی بڑی اہم بات ہے کہ اگر کوئی چھوٹی قوم متحد ہوکر ان چار میدانوں میں پیش رفت کرنے کا تہیہ کرلے تو سُپر پاورز اُس کو روک نہیں سکتیں اور اُن کی سازشوں کو قدرت ناکام بنادیتی ہے۔ گویا سُپر پاورز سے گلوخلاصی کوئی ناممکن کام نہیں۔ اصل ضرورت عزمِ صمیم اور صبرواستقامت کے ساتھ ایک فیصلہ کرنے کی ہے۔ باقی کام قانونِ قدرت خودبخود کردیتا ہے۔