چھٹا باب 

اقبال کا ایک بہت ہی مشہور شعر ہے: 
؂ جلالِ بادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو 
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
 
اس انتہائی خوب صورت شعر کو بڑا ہی غلط سمجھا گیا ہے۔ اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کرتے وقت یا سیاسی جدوجہد کرتے وقت سب مسلمہ دینی اخلاقیات کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ ان اخلاقیات میں انصاف، مشورہ، مکالمہ، تنقید کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا، جھوٹے پروپیگنڈوں سے اجتناب، غلط دعوؤں سے احتراز، عوام کو غلط بیانی کے ذریعے گمراہ نہ کرنا، محنت اور ہر وقت ملک کی بھلائی کے لیے سوچنا جیسی اقدار شامل ہیں۔ اگر ان مسلمہ اخلاقیات سے ہٹ کر سیاست کی گئی اور امورِ مملکت انجام دیے گئے، تو اس کا نتیجہ ملک وقوم کے لیے تباہی اور بدترین ڈکٹیٹر شپ کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہ بھی ایک بہت اہم حقیقت ہے کہ اسلامی تعلیمات میں تو یہ اخلاقیات شامل ہیں ہی، لیکن دنیا کے سب اہم مذاہب میں یہ اخلاقیات شامل ہیں۔ گویا یہ عالمگیر اخلاقیات ہیں جن پر عمل ہر قوم اور ملک کے لیے ضروری ہے۔ 
بدقسمتی سے ہمارے ہاں کے کچھ لوگوں نے اس شعر کو بالکل مختلف معنی پہنا دیے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ سیاست لازماً دین کے نام پر ہونی چاہیے اور دین کے لیے ہونی چاہیے، اور اگر سیاست میں دین کا نام نہیں لیا گیا تو اس سے چنگیزی جنم لے گی۔ یہ اس شعر کی بالکل غلط تعبیر ہے۔ درج بالا مسلمہ اخلاقیات سے ہٹ کر اگر دین وسیاست کے آپس کے تعلق پر غور کیا جائے تو صرف دس فیصد امور کا تعلق ان دونوں کے مشترکہ دائرے سے ہے اور نوے فیصد کا تعلق اس کے دائرے میں نہیں آتا۔ ظاہر ہے کہ ان نوے فیصد امور کے متعلق مختلف پارٹیوں کا ایک دوسرے سے علیحدہ علیحدہ نقطہ نظر ہوگا۔ جہاں تک اس دس فیصد حصے کا تعلق ہے جن میں دین وسیاست مشترک ہوجاتے ہیں، وہاں بھی تعبیر، تشریح اور حالات کے مطابق حکمت عملی اختیار کرنے پر اختلاف ہوگا۔یہی اختلاف سیاسی تنظیموں کو جنم دیتا ہے۔ اسی کی بنیاد پر عوام فیصلہ کرتے ہیں اور ایک جمہوری ملک میں اجتماعی زندگی کا پہیہ رواں دواں رہتا ہے۔ 
اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتی امور چلاتے اور سیاست کرتے وقت مسلمہ دینی اور عالمگیر اخلاقیات کا خیال رکھا جائے۔ جو پارٹی ان اخلاقیات کا جتنا زیادہ خیال رکھتی ہے، اُتنا ہی اُس کی سیاست خیر اور شورائیت سے قریب تر رہتی ہے اور چنگیزئیت نہیں بننے پاتی۔