ماہنامہ ’’ساحل‘‘ کے مئی ۱۹۹۷ء کے شمارے میں مولانا عبد المالک مد ظلہ العالی کا ایک مضمون شائع ہوا ہے۔ اس مضمون میں مولانا محترم فرماتے ہیں کہ جہاد کے لیے ایک بااختیار اور بااقتدار امیر کی قیادت کی شرط لگانا، ایک لغو، لا یعنی اور تاریخ اسلام سے ناواقفیت پر مبنی بات ہے۔ مولانا محترم کے استدلال کا خلاصہ ہم یہاں درج کیے دیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

’’...پہلے ان بنیادوں کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے، جن پر جہاد و قتال فی سبیل اللہ کا مدار ہے۔ اگر وہ بنیادیں پائی جائیں تو جہاد نہ صرف جائز، بلکہ فرض شمار ہوتا ہے اور نہ پائی جائیں، تو جہاد شرائط پورا ہونے تک ملتوی ہوتا ہے۔‘‘ ( ۵۹)

اس کے بعد مولانا محترم نے تین بنیادیں واضح فرمائی ہیں:
انھوں نے پہلی بات یہ فرمائی ہے کہ جہاد کا مقصد انسانوں کے تشریعی اقتدار کو ختم کر کے، اللہ کا تشریعی اقتدار قائم کرنا ہے۔ چنانچہ جب تک ساری روے زمین پر اللہ کا اقتدار قائم نہ ہو جائے، اس وقت تک جہاد جاری رہے گا۔
دوسری بات مولانا نے یہ فرمائی ہے کہ اس مقصد کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ یہ جہاد ایسا شخص یا گروہ کرے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے تشریعی اقتدار کو قائم کرنے کے لیے نام زد کیا ہو اور اس کے اقتدار کو اپنا اقتدار قرار دیا ہو۔
تیسری بات مولانا محترم نے یہ فرمائی ہے کہ یہ نبی اور اس کی امت ہی ہوتے ہیں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین پر اپنا اقتدار قائم کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی، رسول اور نام زد حکمران ہیں اور آپ کے بعد آپ کی امت آپ کی نیابت کرے گی۔ اس امت کو آپ کے مشن کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا ہے، اس وجہ سے یہ امت اس وقت تک جہاد و قتال کرے گی، جب تک پوری زمین پر اللہ کا دین غالب نہ ہو جائے۔
مولانا محترم نے اپنے مضمون میں جو دوسری باتیں فرمائی ہیں، ان پر غور کرنے سے پہلے ہم مولانا سے ان کی بیان کردہ ان بنیادوں کے بارے میں کچھ طالب علمانہ سوال پوچھنا چاہتے ہیں۔
اس معاملے میں سب سے پہلے تو ہم مولانا محترم سے اصولی طور پر یہی پوچھنا چاہیں گے کہ انھوں نے قرآن مجید یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی کون سی نص کی بنا پر ان تین بنیادوں کی موجودگی میں جہاد کو فرض قرار دیا ہے؟ یہ بنیادیں قرآن میں کس جگہ بیان ہوئی ہیں؟ کیا ان بنیادوں کے پورا ہو جانے کے بعد، جیسا کہ انھوں نے فرمایا ہے، ہر حال میں قتال فرض ہو جاتا ہے یا اس کے لیے کچھ مزید تقاضے بھی پورے ہونے چاہییں؟
مولانا محترم کی بات کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا پر اپنا تشریعی اقتدار قائم کرنے کے لیے جہاد و قتال کا حکم دیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے اس مشن کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اب اس امت کو اس وقت تک جہاد کرنا ہے، جب تک پوری دنیا پر اللہ کا تشریعی اقتدار قائم نہ ہو جائے۔
ہم مولانا محترم سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ:
۱۔ وہ قرآن مجید کی کس آیت کی بنیاد پر یہ فرما رہے ہیں کہ جہاد و قتال کا مقصد اللہ تعالیٰ کا تشریعی اقتدار قائم کرنا ہے؟
۲۔ جہاد و قتال کا مقصد اگر فی الواقع اللہ تعالیٰ کا تشریعی اقتدار قائم کرنا ہی ہے تو پھر اہل کتاب کی طرح مشرکین مکہ کو اس بات کی گنجایش کیوں نہیں دی گئی کہ وہ مسلمانوں کو جزیہ دے کر ان کے تابع ہو کر رہیں؟ سورۂ توبہ (۹)کی آیت ۲۹ میں اہل کتاب کو گنجایش دی گئی ہے کہ وہ ایمان لے آئیں یا مسلمانوں کے محکوم ہو کر زندگی گزاریں۔ اس کے برعکس، اسی سورہ کی آیت ۵ کے تحت مشرکین مکہ کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ ایمان لائیں، ان کے لیے اس بات کی کوئی گنجایش نہیں تھی کہ وہ کفر کی حالت میں زندہ رہ سکیں، جبکہ ظاہر ہے کہ جہاد و قتال کا مقصد اگر محض زمین پر اللہ کا تشریعی اقتدار قائم کرنا تھا تو پھر عدل کا تقاضا یہ تھا کہ مشرکین مکہ کو بھی یہ گنجایش دے دی جاتی۔
۳۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری دنیا پر اللہ کا تشریعی اقتدار قائم کرنے کا حکم قرآن مجید میں کس مقام پر دیا گیا ہے؟ مولانا محترم کے نزدیک اگر ’’اقامت دین‘‘ یا ’’اظہار دین‘‘ والی آیات اس کا ماخذ ہیں، تو مولانا سے ہماری گزارش ہے کہ ان آیتوں کے بارے میں ماہنامہ ’’اشراق‘‘، فروری اور نومبر ۱۹۹۶ء کے شماروں میں ہماری جو معروضات شائع ہوئی تھیں، ان میں ہماری غلطی کی بھی ضرور نشان دہی فرمائیں۔
۴۔ ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد، اس امت کو آپ کے مشن کی تکمیل کرنی ہے۔‘‘ مولانا کی اس بات کے معنی، ظاہر ہے کہ یہی ہو سکتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن آپ کی زندگی میں پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچا۔ چنانچہ اس سلسلے میں ہم مولانا سے چند سوال پوچھنا چاہتے ہیں۔ ایک یہ کہ اگر فی الواقع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن آپ کی زندگی میں پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچا تو پھر سورۂ الم نشرح کی درج ذیل آیات کے کیا معنی ہیں؟

فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ وَاِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ.(۹۴: ۷۔۸)
’’چنانچہ (اپنے کام سے) جب تم فارغ ہو جاؤ تو (عبادت کے لیے) کمر باندھ لو اور اپنے رب سے لو لگائے رکھو۔‘‘

اس آیت سے تو بظاہر یہ معلوم ہو رہا ہے کہ مکہ ہی میں اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرما دیا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن، خواہ وہ جو کچھ بھی تھا، آپ کی زندگی ہی میں پورا ہو جائے گا۔ ’فَاِذَا فَرَغْتَ‘ سے اس کے علاوہ اور کوئی معنی آخر کس طرح لیے جا سکتے ہیں؟ مولانا سے ہماری گزارش ہے کہ وہ ہماری رہنمائی فرما دیں کہ اس آیت میں اگر تکمیل مشن کی فراغت کا ذکر نہیں ہے تو پھر کون سی فراغت کا ذکر ہے؟
اسی طرح سورۂ نصر کے الفاظ سے بھی یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ ’’الفتح‘‘ یعنی فتح مکہ ہی آپ کی جدوجہد کا اصل ہدف تھی۔ اگر مولانا کے نزدیک ایسا نہیں ہے، اور پوری دنیا پر تشریعی اقتدار قائم کرنا ہی آپ کا مشن تھا تو پھر فتح مکہ کو اس سورہ میں تکمیل مشن کی حیثیت سے کیوں پیش کیا گیا ہے؟ چنانچہ دیکھیے، اس سورہ کے بارے میں ابن کثیر رحمہ اللہ نے حضرت ابن عباس اور حضرت عمر رضی اللہ عنہم کی راے ان الفاظ میں نقل کی ہے:

نعی فیہا إلی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم روحہ الکریمۃ وأعلم أنک إذا فتحت مکۃ وہی قریتک التی أخرجتک و دخل الناس فی دین اللّٰہ أفواجًا فقد فرغ شغلنا بک فی الدنیا فتہیأ للقدوم علینا والوفود إلینا. (تفسیر ابن کثیر ۴/ ۵۶۲)

’’اس سورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے یہ اطلاع دے دی ہے کہ آپ کی روح اقدس اب لوٹنے والی ہے اور آپ کو یہ بتا دیا ہے کہ جب مکہ، آپ کی وہ بستی جس نے آپ کو نکال دیا تھا، فتح ہو جائے گا اور لوگ فوج در فوج دین میں داخلہوں گے، تو دنیا میں آپ کا کام پورا ہو جائے گا۔ چنانچہ اس کے بعد آپ کو ہماری طرف لوٹنے کی تیاری کرنی ہے۔‘‘

کیا مولانا سیدنا عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے منقول اس راے کو صحیح نہیں سمجھتے؟ اگر فی الواقع ایسا ہی ہے تو پھر اس راے کے رد کے لیے مولانا کا استدلال کیا ہے؟
اسی طرح سورۂ نصر کا موضوع اور مضمون واضح کرتے ہوئے مولانا ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ اپنی تفسیر ’’تفہیم القرآن‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’...اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتا دیا تھا کہ جب عرب میں اسلام کی فتح مکمل ہو جائے اور لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہونے لگیں، تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ کام مکمل ہو گیا، جس کے لیے آپ دنیا میں بھیجے گئے تھے۔ اس کے بعد آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ اللہ کی حمد اور اس کی تسبیح کرنے میں مشغول ہو جائیں کہ اس کے فضل سے آپ اتنا بڑا کام انجام دینے میں کامیاب ہوئے، اور اس سے دعا کریں کہ اس خدمت کی انجام دہی میں جو بھول چوک یا کوتاہی بھی آپ سے ہوئی ہو، اسے وہ معاف فرما دے۔‘‘ ( ۶/ ۵۱۴)

کیا مولانا مودودی رحمہ اللہ کی اس راے سے بھی مولانا محترم کو اختلاف ہے؟ اگر ایسا ہے تو مولانا کس دلیل کی بنا پر اس راے کو رد کرتے ہیں؟
دوسری بات اس حوالے سے ہم مولانا سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ اگر بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن پوری دنیا پر اللہ کا تشریعی اقتدار قائم کرنا تھا تو کیا اس بات کی بھی قرآن میں تصریح نہیں ہونی چاہیے کہ اب اس امت کو آپ کے اس مشن کی تکمیل کرنی ہے؟ امت مسلمہ کو قرآن مجید نے یہ ذمہ داری کس مقام پر دی ہے کہ اب اس کا مشن پوری دنیا پر اللہ کا تشریعی اقتدار قائم کرنا ہے؟ ظاہر ہے، اگر فی الواقع قرآن نے امت پر یہ ذمہ داری عائد کی ہے اور یہی اب اس امت کا مشن ہے تو اس ذمہ داری کو ادا کرنے کا قرآن مجید نے کوئی طریقہ بھی لازماً بیان کیا ہو گا۔ مولانا سے ہماری گزارش ہے کہ وہ مہربانی فرما کر یہ بھی واضح فرما دیں کہ قرآن مجید میں امت مسلمہ کو یہ ذمہ داری ادا کرنے کے لیے کیا طریقہ بتایا گیا ہے؟
اس سلسلے میں ایک آخری بات مولانا محترم سے ہم یہ بھی پوچھنا چاہتے ہیں کہ اگر تھوڑی دیر کے لیے ان کی بیان کردہ ساری ہی بنیادیں تسلیم کر لی جائیں، تب بھی اس سے جو نتیجہ انھوں نے خود نکالا ہے، وہ ان کے اپنے الفاظ میں یوں ہے:

’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی، رسول اور نامزد حکمران ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعدآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نائب ہے اور اس امت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا ہے۔ یہ امت جہاد کرے گی، تاآں کہ ساری روئے زمین پر اللہ کا دین غالب ہو جائے۔‘‘ ( ۶۰)

مولانا کی اس عبارت میں غور طلب بات یہ ہے کہ اس معاملے میں، ان کے نزدیک، امت مسلمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت کر رہی ہے۔ اس کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مولانا کی اس بات سے آپ سے آپ یہ بات نہیں نکلتی کہ پھر یہ جہاد محض کسی خطۂ ارضی میں اقتدار اور اختیار کے ساتھ بھی نہیں، بلکہ بحیثیت مجموعی امت مسلمہ کے نظم اجتماعی کے تحت ہونا چاہیے؟ کیا مسلمانوں کے کسی بھی گروہ کے عمل کو امت مسلمہ کا عمل قرار دے دیا جائے گا؟ کیا ہر مسلمان فرد کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جب چاہے امت مسلمہ کی اس ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے نکل کھڑا ہو؟

____________