بارہواں باب 

یہ دنیا آزمائش کی جگہ ہے۔ چنانچہ دنیا میں قیامت تک جنگوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ یہ انسانی زندگی کا ایک ناگزیر اور اہم ترین شعبہ ہے۔ چونکہ جنگ کے ذریعے انسانوں کی جان، مال اور آبرو کو بڑا نقصان پہنچتا ہے، اس لیے ہمارے دین نے اس کے بارے میں ہمیں چند نہایت اہم اصولوں کا پابند بنادیا ہے، تاکہ جنگ کی وجہ سے ہونے والے نقصان کو کم سے کم کیا جاسکے اور جنگ کے نتیجے میں دنیا میں مزید فساد برپا نہ ہو بلکہ امن کا قیام عمل میں آئے۔ 
جنگ کے ضمن میں دین کا پہلا اصول یہ ہے کہ اس کاروائی کا حق صرف حکومت کو ہے۔ حکومت کے بغیر قتال کا کوئی تصور نہیں۔ یہ لازم ہے کہ قتال کا اعلان حکومت کرے، اس کا مکمل انتظام بھی حکومت کے ذمے ہو اور وہی اس کی ہر حرکت کو کنڑول کرے۔ حضورؐ کو بھی جنگ کی اجازت صرف مدنی دور میں اُس وقت دی گئی جب آپؐ کو اقتدار مل گیا۔ مکی دور کے تیرہ برسوں میں جب آپؐ کے پاس اقتدار نہیں تھا، آپؐ کے لیے جنگ ممنوع رہی۔ یہی اصول اس سے پہلے کے سب پیغمبروں کے لیے بھی رہا۔ 
دین کی دوسری شرط یہ ہے کہ جنگ صرف کسی ظلم کے خاتمے کے لیے ہوسکتی ہے۔ اس ضمن میں قرآن مجید نے تین چیزوں کو اللہ کے راستے میں جنگ قرار دیا ہے۔ مثلاً اگر کسی مسلمان ریاست پر حملہ ہو تو اسے اپنی مدافعت کا حق حاصل ہے۔ اگر کسی ملک میں مسلمانوں پر ظلم وستم ہورہا ہوتو ان کی حمایت کے لیے جنگ کرنا جائز ہے۔ اور اگر کسی ملک میں اسلام کی دعوت پھیلانے پر پابندی ہو تو ایسی حکومت کے خلاف بھی اعلان جنگ کیا جاسکتا ہے۔ 
دین کی تیسری شرط یہ ہے کہ اگر کسی ملک کے ساتھ معاہدۂِ امن موجود ہے، تو اُس ملک کے خلاف جنگ چھیڑنا جائز نہیں۔ حتیٰ کہ اگر کوئی ملک اپنے ہاں کے مسلمانوں پر ظلم کررہا ہو لیکن اُس سے مسلمان ریاست کا امن کا معاہدہ موجود ہے تو ایسے ملک کے خلاف بھی اُس وقت تک جنگ نہیں کی جاسکتی جب تک معاہدہِ امن کو ختم کرنے کا اعلان نہ کردیا جائے۔ 
چوتھی شرط یہ ہے کہ جنگ صرف اُس وقت کی جائے جب اُسے جیتنے کا پورا امکان موجود ہو۔ اگر ایسی حالت پیدا ہوجائے کہ دشمن کی تعداد اور اُس کا سازوسامان ہمارے مقابلے میں بہت زیادہ ہو، تو اس وقت جنگ کو حتی الوسع ٹالنے کی کوشش کی جائے۔ حضورؐ نے جنگ احزاب میں یہی کچھ کیا۔ اُس وقت دشمن کی تعداد مسلمانوں سے بہت زیادہ تھی، چنانچہ مسلمانوں نے اپنے آپ کو خندق میں محفوظ کرکے، اپنی طاقت کو بچاکر جنگ سے گریز کا راستہ اختیار کیا۔ اس کے بعد جوں ہی موقع ملا تو بنی قریضہ کو اس کی غداری کی سزا دی گئی اور پھر پوری تیاری کے بعد مکہ پر اُس وقت فوج کشی کی گئی جب مسلمانوں کی طاقت دشمن سے کہیں زیادہ تھی۔سورہ انفال آیت66سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ اگر دشمن تعداد ووسائل میں دوگنے سے زیادہ ہوتو پھر مسلمانوں پر جنگ کرنے کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ 
ان کے علاوہ بھی قرآن مجید نے جنگ کے بارے میں مسلمانوں کو اہم ہدایات دی ہیں۔ اُن میں ایک ہدایت یہ ہے کہ جو لوگ جنگ میں براہ راست حصہ نہیں لے رہے، انہیں قتل کرنا یا نقصان پہنچانا منع ہے۔ دوسری ہدایت یہ ہے کہ اگر دشمن یہ پیش کش کرے کہ وہ متنازعہ امور بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے اور مسلمانوں کی حکومت یہ سمجھتی ہو کہ صلح کی پیش کش خلوص پر مبنی ہے اور دشمن واقعتا منتازعہ امور مکالمے کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے، محض جنگی چال کے طور پر ایسا نہیں کررہا، تو اُس کی پیش کش قبول کرلی جائے۔ 
1980ء کے بعد مسلمانوں کے ہاں اس رجحان نے جنم لیا ہے کہ وہ مختلف مسلح گروہ بناکر ازخود اعلانِ جنگ کرتے ہیں۔ ہمارے دین کی تعلیمات میں اس طرح کی جنگ کا کوئی تصور نہیں ملتا۔ ان تمام امور پر اس راقم نے اپنی کتاب ’’جہادو قتال، چند اہم مباحث‘‘ میں تفصیل سے بحث کی ہے۔