پانچواں باب 

پاکستان میں عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ محض انتخابات ہونے اور اس کے نتیجے میں ایک نمائندہ حکومت کے قیام کو جمہوریت کہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایک ایسی حکومت غلط کام کرتی ہے، تو کہا جاتا ہے کہ جمہوریت تو بالکل بے کارچیز ہے اور ہمارے ماحول کے لیے فِٹ نہیں ہے۔ اسی لیے پاکستان کے اندر ایک بڑا طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ ہمیں ایک دیانت دار اور مخلص ڈکٹیٹر کی ضرورت ہے۔ 
یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جمہوری کلچر، انتخابات سے کہیں آگے ایک منزل کا نام ہے۔ جمہوری کلچر میں بروقت انتخابات ہوتے ہیں۔ اُس کے نتیجے میں ایک نمائندہ حکومت وجود میں آتی ہے۔ اس حکومت کے تحت سب کچھ پارلیمنٹ سے پوچھ کر ہوتا ہے۔ قانون سازی کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔ عدلیہ اور صحافت مکمل طور پر آزاد ہوتی ہے۔ کسی کو اپنی بات کہنے سے نہیں روکا جاتا۔ مملکت کا ہر ادارہ مثلاً پولیس سیاسی اثر سے آزاد ہوتا ہے۔ احتساب کا ایسا غیر جانبدارانہ نظام قائم ہوتا ہے، جس کے تحت ہر وقت اور ہر لمحے اقتدار پر فائز لوگوں کے ہر کام کی نگرانی کی جاتی ہے۔ اربابِ اقتدار سب سے بڑھ کر خود قانون کی پابندی کرتے ہیں، اور اپنے فرائضِ منصبی کی بجاآوری کے علاوہ ان کو کوئی اضافی مراعات حاصل نہیں ہوتیں۔ اگر وہ محسوس کریں کہ رائے عامہ ان کے خلاف ہوچکی ہے، تو نئے انتخابات کا اعلان کرتے ہیں اور کسی بھی مخالفانہ نتیجے کو قبول کرنے میں پس وپیش سے کام نہیں لیتے۔ 
جن قوموں میں جمہوری کلچر موجود ہوتا ہے وہ دن بدن ترقی کرتی چلی جاتی ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ترقی یافتہ قومیں اپنی عقل ودانش کے نتیجے میں یہ جان لیتی ہیں کہ ان کے لیے صحیح طرزِ حکومت، صرف جمہوریت ہے۔ چنانچہ فی الوقت، سوائے چین کے، سارے ترقی یافتہ ممالک میں جمہوری کلچر موجود ہے۔ یہ بات جان لینی چاہیے کہ چین، عوام کے معیار زندگی کے اعتبار سے ترقی یافتہ نہیں ہے۔ اس کے برعکس وہ اوسط سے کچھ کم آمدنی رکھنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ اگرچہ چین ترقی کے راستے پر گامزن ہے، مگر کچھ مدت بعد اس کو دو راستوں میں سے ایک راستہ منتخب کرنا ہوگا۔ یا تو وہ جمہوری کلچر کی طرف بڑھے گا جس کے نتیجے میں وہ مزید ترقی کرسکے گا۔ اور یا وہ موجودہ طرزِ حکومت ہی کو ترجیح دے گا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کی ترقی رک جائے گی۔ 
کہا جاتا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد دو جمہوری ممالک کے درمیان کبھی لڑائی نہیں ہوئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جمہوری کلچر مکالمے کو فروغ دیتا ہے۔ مکالمے اور بات چیت کے نتیجے میں افہام وتفہیم پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ دونوں ممالک کسی متنازعہ ایشو کے بارے میں سمجھوتے تک پہنچ جاتے ہیں۔ اور اگر سمجھوتے تک نہیں پہنچتے، تو کم ازکم یہ تو ہوتا ہے کہ لڑائی کے برعکس گفتگو یا مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کرلیتے ہیں۔ 
جمہوریت کیوں ضروری ہے، اس کی تین بنیادی وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ جس معاملے کا تعلق پوری قوم سے ہو، اس میں کسی ایک شخص کا اپنی رائے سے فیصلہ کرنا اور دوسروں کو نظرانداز کرنا غلط ہے۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ایک معاملہ جن لوگوں کے مفاد سے تعلق رکھتا ہو، اس میں اُن کی یا اُن کے نمائندوں کی رائے لی جائے۔ مشترک معاملات میں کسی کو اپنی من مانی کرنے کا حق نہیں ہے۔ 
دوسری وجہ یہ ہے کہ جب ایک انسان اجتماعی معاملے میں اپنی رائے سے فیصلہ کرتا ہے، تو یا تو وہ متکبر ہوتا ہے اور اپنے آپ کو بڑی چیز اور دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے۔ اور یا پھر وہ اپنی ذاتی اغراض کے لیے دوسروں کا حق مارنا چاہتا ہے۔ تکبر، خودپسندی اور دوسروں کا حق مارنا اجتماعی انسانی ضمیر کے خلاف ہے اور ان کو ہمیشہ بہت بڑی خامی سمجھا گیا ہے۔ 
تیسری وجہ یہ ہے کہ جن معاملات کا تعلق اجتماعی حقوق اور مفادات سے ہو، ان میں فیصلہ کرنا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ کوئی بھی انسان اس بھاری بوجھ کو تنہا اپنے سر لینے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ ہر انسان جانتا ہے کہ وہ عقلِ کُل نہیں ہے۔ چنانچہ یہ ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو شریک مشورہ کیا جائے تاکہ مبنی بر انصاف فیصلہ کیا جاسکے، اور اگر کوئی غلطی ہوبھی جائے تو تنہا کسی ایک ہی شخص پر اُس کی ذمہ داری نہ آئے۔ 
جمہوری کلچر اپنے وجود سے ہی یہ تقاضا کرتا ہے کہ اجتماعی معاملات جن لوگوں کے حقوق اور مفادات سے تعلق رکھتے ہیں، انہیں اظہار رائے کی پوری آزادی حاصل ہو۔ وہ اس بات سے مستقلاً باخبر ہوں کہ ان کے معاملات حقیقت میں کس طرح چلائے جارہے ہیں۔ انہیں اس بات کا بھی پورا حق حاصل ہو کہ اگر وہ اپنے معاملات کی بجاآوری میں کوئی غلطی دیکھیں تو اس پر باز پرس کرسکیں۔ لوگوں کی زبانیں بند کرکے اور ان کو بے خبر رکھ کر اجتماعی معاملات چلانا خیانت اور بددیانتی ہے۔ 
جمہوری کلچرکا یہ بھی تقاضا ہے کہ جس شخص کو بھی ذمہ داری کے منصب پر فائز کرنا ہو، اسے لوگوں کی آزادانہ رضامندی سے مقرر کیا جائے۔ اگر یہ رضامندی جبر، لالچ، دھوکے، فریب اور مکاری سے لی گئی ہو تو یہ کوئی رضامندی نہیں بلکہ بددیانتی ہے۔ 
جمہوری کلچر کا یہ بھی تقاضا ہے کہ ریاست کا سربراہ صرف وہی لوگ اپنے وزیر اور مشیر مقرر کرے جن کو بذات خود بھی قوم کا اعتماد حاصل ہو۔ 
جمہوری کلچر کا یہ بھی تقاضا ہے کہ ووٹر اپنے علم اور ایمان وضمیر کے مطابق ووٹ دیں۔ اگر وہ کسی لالچ، خوف یا محض سیاسی گروہ بندی کی بنیاد پر اپنے علم اور ضمیر کے خلاف رائے دیں تو یہ درحقیقت خیانت ہے۔ 
جمہوری کلچر کا یہ بھی تقاضا ہے کہ ملک کے اندر جس بات کو پارلیمنٹ کی اکثریت کی تائید حاصل ہو، اسے تسلیم کیا جائے۔ اسی طرح ایک سیاسی گروہ کے اندر بھی کسی فردِ واحد کو من مانی کا اختیار نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہر فیصلے کو اکثریت کی تائید حاصل ہونی چاہیے۔ ملک ہو یا کوئی گروہ، اگر کسی ایک شخص کو من مانی کا اختیار دیا جائے تو پھر جمہوریت کے کوئی معنی ہی نہیں رہتے۔ 
مسلمان ملکوں کے اندر عموماً یہ بات کہی جاتی ہے کہ ہمیں مادر پدر آزاد جمہوریت نہیں چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کبھی بھی مادر پدر آزاد نہیں ہوتی۔ جمہوریت تو لوگوں کی اجتماعی سوچ کی عکاس ہوتی ہے۔ عام لوگ جس طرح سوچتے ہیں، اور ان کے جو بھی عقائد اور خیالات ہوتے ہیں، وہ جمہوریت کے ذریعے امورِمملکت میں ظاہر ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ ایک مسلمان ملک میں ، جہاں کے باشندے باشعور ہوں اور اپنے دین سے محبت کرتے ہوں، پارلیمنٹ کی قانون سازی کے وقت یہ سب شعور وآگہی ایک عکس کی صورت میں سامنے آئے گا۔ آخر پارلیمنٹ کے ممبران مسلمان ہی ہوں گے، اور انہیں مسلمانوں نے ہی منتخب کیا ہوگا۔ گویا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ جمہوریت پر قانونی اور آئینی قدغنیں لگادی جائیں، بلکہ اصل ایشو یہ ہے کہ عوام کو باشعور بنایا جائے۔ علماء اور دانش وروں کا اصل کام یہی ہے کہ وہ پارٹی پالیٹکس سے بالاتر رہتے ہوئے عوام کے اندر شعور بیدار کریں اور سیاسی پارٹیوں کے لیے خیر خواہ ناقد اور محتسب کا کردار ادا کریں۔ پھر سیاسی پارٹیوں کے ذریعے قوم کا اجتماعی شعور اقتدار میں منعکس ہوجاتا ہے۔ 
ایک مسلمان ملک کے اندر اسلام کی تعبیر کے اختلاف میں بھی پارلیمنٹ کی رائے ہی حال کے اعتبار سے موثر ہوتی ہے۔ اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ تعبیر لازماً صحیح بھی ہوگی۔ نہیں، بلکہ وہ تعبیر غلط بھی ہوسکتی ہے۔ تاہم اس غلط تعبیر کو درست کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ عوام کو مزید ایجوکیٹ کیا جائے۔ اس کے نتیجے میں ایک وقت آسکتا ہے جب پارلیمنٹ پہلے قانون کے برعکس نئی قانون سازی کرلے۔ 
کیا جمہوری کلچر کا یہ مطلب ہے کہ حکمرانوں سے کوئی غلطی ہوگی ہی نہیں؟ یقیناًایک جمہوری ملک کے اندر حکمرانوں میں غلطیاں، خامیاں اور کمزوریاں ہوتی ہیں۔ وہ خلافِ قانون کاموں میں بھی ملوث ہوسکتے ہیں۔ وہ انتہائی غلط فیصلے بھی کرسکتے ہیں۔ لیکن جمہوریت کی خوبی یہ ہے کہ کچھ عرصے بعد ان غلط فیصلوں سے رجوع بھی کرلیا جاتا ہے، ان پر نظرثانی بھی کرلی جاتی ہے اور یہ اعتراف بھی کرلیا جاتا ہے کہ ہم سے غلطی ہوئی تھی۔ 
اگر جمہوری کلچر کے اعتبار سے پاکستانی معاشرے کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے بالادست طبقات اور ہماری سیاسی پارٹیوں کے ذہن ابھی اس کلچر سے بہت دور ہیں۔ 
ہمارے بالادست طبقات کے اندر تکبر، دکھاوا، اختیارات کو اپنی ذات میں مرتکز کرنے کا رجحان، مال ودولت اور عہدے کی نمائش اور شاہی مزاج پر مبنی جاگیردارانہ ذہنیت اپنی انتہائی حدوں میں موجود ہے۔ تقریباً سبھی سیاسی پارٹیوں میں لیڈرشپ ایک میراث بن چکی ہے۔ خوشامد کو پسند کیا جاتا ہے اور خوشامد کے کلچر کے ذریعے لوگ آگے بڑھتے ہیں۔ ہر پارٹی کے اندر لابیینگ (lobbying) ،سازشوں اور دھڑے بندیوں کی بنیاد پر سیاست ہوتی ہے۔ نظریاتی،فکری اور ملکی ایشوز کی بنیاد پر سیاست کم ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ایسی پارٹیاں موجود تھیں جو منشور کی بنیاد پر سیاست کرتی تھیں، مگر اب کسی پارٹی کا کوئی واضح لائحہ عمل نہیں رہا۔ اصل مقصد حصولِ اقتدار بن گیا ہے۔ 
لیکن کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ پاکستان میں جمہوری کلچر نہیں چل سکتا اور یہ زمین جمہوریت کے بیج کے لیے غیر موزوں ہے؟ یوں نہیں ہے۔ درحقیقت جمہوری کلچر ہی ملکی مسائل کے حل کی طرف پہلا قدم ہے۔ اگر ہمارے ہاں جمہوری کلچر کا خیال نہیں رکھا جاتا تو اس کا حل یہ ہے کہ اس ملک کو جمہوری عمل کے دوا کی مزید خوراکیں پلائی جائیں۔ گویا جمہوریت کی خامیوں پر قابو پانے کا علاج یہ ہے کہ سوسائٹی میں مزید جمہوریت لائی جائے۔ جمہوریت کی طرف مسلسل پیش قدمی ہی ترقی کا پہلا زینہ ہے۔ اس کے بغیر اور کوئی راستہ نہیں۔