ہم پیچھے بیان کرچکے ہیں کہ اس دنیا میں اقوام کو مختلف قسم کے چیلنجوں سے سابقہ پڑتا رہتا ہے۔یہ چیلنج قدرت کی طرف سے بھی پیش آتے ہیں اوردوسری اقوام کی طرف سے بھی ۔چنانچہ ان کے لیے لازم ہے کہ ہر آن خطرات سے مقابلہ کی تیاری رکھیں۔اگر وہ تیار نہیں تو تباہی ان کا مقدر ہے۔ خطرات سے مقابلے کی واحد صورت یہ ہے کہ قوم کو اپنے وقت کی ٹیکنالوجی پر غیر معمولی عبور حاصل ہو۔ اس کے افراد علوم و فنون کے جدید رجحانات سے بے خبر نہ ہوں۔اس کی قیادت اپنی کمزوریوں اور دشمنوں کی طاقت سے بخوبی واقف ہو اور اس کے تدارک کے لیے بھرپور تیاری رکھتی ہو۔
یہ ٹیکنالوجی ہر دور کے اعتبار سے بدلتی رہتی ہے۔ مثلاً قرآن نے جب مسلمانوں کو اس امر پر متنبہ کیا تو گھوڑوں کا ذکر فرمایا:


وَاَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْھِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّ اللّٰہِ وَعَدُوَّکُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِھِمْ لَا تَعْلَمُوْنَھُمْ اَللّٰہُیَعْلَمُھُمْ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْ ءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یُوَفَّ اِلَیْکُمْ وَ اَنْتُمْ لَاتُظْلَمُوْنَ.( الانفال۸: ۶۰) 
’’اور ان کے لیے جس حد تک کر سکو قوت اور بندھے ہوئے گھوڑے تیار رکھو، جس سے اللہ کے اور تمھارے ان دشمنوں پر تمھاری ہیبت رہے اور ان کے علاوہ کچھ  دوسروں پر بھی جنھیں تم نہیں جانتے ہو، اللہ انھیں جانتا ہے۔ اور جو کچھ بھی تم ا للہ کی راہ میں خرچ کرو گے، وہ تمھیں پورا کر دیا جائے گا اور تمھارے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔‘‘ 

 

تیر، تلوار،ڈھال، نیزے، زرہ بکتر، خود، رتھیں، منجنیق، آتشی تیراور بارود وغیرہ مختلف ادوار میں ایجاد کیے جاتے رہے اور ان کی مدد سے طاقت ور اور تعداد میں زیادہ دشمنوں کو شکست دی جاتی رہی ہے۔ ہم تاریخ کی ایک دو مثالوں سے اس بات کو واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 
ہکساس نامی حملہ آور وں نے ۱۷۰۰ق م کے لگ بھگ مصر پر حملہ کیا اور بآسانی پورے مصر پر قابض ہوگئے۔ ان کی کامیابی کا ایک اہم سبب جنگ میں رتھوں کا استعمال تھا جو مصریوں کے لیے بالکل اجنبی ہتھیار تھا۔ہکساس نے رتھوں کا طریقۂ استعمال میسوپوٹیمیا کی مٹانی قوم سے سیکھا ، جبکہ انھوں نے گھوڑوں کا یہ استعمال اہل ایران سے لیا تھا۔ مغربی ایشیا کے تمام لوگ جدید تبدیلیوں سے بخوبی واقف تھے، جبکہ عظیم الشان اہرام تعمیر کرنے والے اور ایک شان دار تہذیب کے حامل مصری دنیا سے الگ تھلگ رہنے کی بنا پر جنگی فنون میں تبدیلیوں سے ناواقف رہے۔ اسلامی تاریخ میں بھی متعدد ایسی ہی مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ مثلاًصلیبی جنگوں کے ہیرو سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیت المقد س پر قابض جنونی عیسائیوں کے خلاف جو کامیابی حاصل کی ، اس میں ان آتشی تیروں کااہم کردار تھا جو مخالفین کے لشکر میں آگ بھڑکاکر انھیں بدحواس کردیتے۔ اسی طرح اسلامی تاریخ سے ادنیٰ واقفیت رکھنے والا شخص بھی یہ جانتا ہے کہ جنگ احزاب کے موقع پر جب پورا عرب مدینے کی مختصر آبادی پر چڑھ آیا تھا تو مسلمانوں نے خندق کی عجمی تکنیک کو استعمال کرکے دشمنوں کو حیران کردیا تھا۔
دور جدید میں ٹیکنالوجی سے پڑنے والا فرق تو اتنا نمایاں ہوچکا ہے کہ اس پر مزید گفتگو کرنا غیرضروری ہوگا۔پچھلے کئی سو برسوں میں اہل مغرب کی پے در پے کامیابیوں کے پیچھے کام کرنے والا بنیادی عامل جدید ٹیکنالوجی پر ان کا عبور ہے، جس کا مقابلہ کسی اور ذریعے سے کرنا ممکن نہیں۔ مزید براں یہ کہ آج ٹیکنالوجی کی یہ مہارت صرف جنگی معاملات میں کام نہیں آتی ، بلکہ معاشی اور تہذیبی میدانوں میں، جہاں اصلاً اب قومیں اپنی موت و زندگی کی جنگ لڑتی ہیں، فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔
تاہم یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ٹیکنالوجی کی یہ مہارت صرف ان قوموں میں جنم لیتی ہے جہاں تعلیم و مطالعہ کا عام رواج ہو۔ جن قوموں میں شرح خواندگی ناپنے کا پیمانہ دستخط کرنا ہو اور پھر بھی شرح خواندگی قابل شرم حد تک کم ہو، جہاں اہل علم و فضل کے مقابلے میں کھلاڑیوں ، اداکاروں اور گلوکاروں کو قوم کے ہیروز کا درجہ حاصل ہو، جہاں ایک کتاب خریدنے کے بجاے کنسرٹ کا ٹکٹ خریدنا اور برگرکھانا زیادہ مرغوب ہو ، وہ قومیں مصنوعی اقدامات سے کبھی بھی ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل نہیں کر پاتیں۔ 

____________