مولانا گوہر رحمن صاحب نے پانچویں بات یہ فرمائی ہے کہ وہ روایات جن میں اطاعت امیر کو لازم ٹھہرایا گیا ہے، ان میں اصل میں جو بات بیان ہوئی ہے، وہ یہ ہے کہ:
۱۔ امیر کے خلاف مسلح بغاوت نہ کی جائے، بلکہ دوسرے طریقوں سے اس کی اصلاح یا تبدیلی کی کوشش کی جائے۔
۲۔ یہ حکم صرف ایسی ہی حکومتوں کے بارے میں ہے جو ملک کا نظام عملاً قرآن و سنت کے مطابق چلا رہی ہوں۔
۳۔ ان روایات کا تعلق ذاتی اور شخصی معاملات میں ظلم سے ہے۔ گویا اس سے مراد یہ ہے کہ جب ملک میں شریعت نافذ کرنے والا حکمران تم پر ذاتی طور پر ظلم بھی کر رہا ہو تو تم اس ظلم پر صبر کرو اور مسلمانوں کی اجتماعیت کو نقصان نہ پہنچاؤ۔
مولانا محترم لکھتے ہیں:

’’...جب حکمران نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت میں کام کرتا ہے تو اس کی اطاعت منوب عنہ کی اطاعت ہے۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے امیر کی اطاعت کی، اس نے میری اطاعت کی۔ لیکن جب حکمران قرآن و سنت کی بالادستی تسلیم نہیں کرتا اور شریعت محمدی سے آزاد ہو کر حکومت کر رہا ہے تو اس کی اطاعت آخر کس بنیاد پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سمجھی جائے گی۔ یہ درست ہے کہ بعض احادیث میں آیا ہے کہ امیر تمھیں پسند ہو یا نا پسند، اس کا حکم تمھاری راے یا طبیعت و مزاج کے مطابق ہو یا نہ ہو، وہ اگر تم پر دوسروں کو ترجیح دے رہا ہو یا تمھارے حقوق ادا نہ کر رہا ہو، جیسی بھی صورت حال ہو، تم اس کی اطاعت کرو اور مسلمانوں کی اجتماعیت کو نقصان نہ پہنچاؤ۔ لیکن ایک تو ان احادیث کا مطلب یہ ہے کہ مسلح بغاوت نہ کرو بلکہ دوسرے ذرائع سے ایسے امیر کی اصلاح یا اس کو بدلنے کی کوشش کرو۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ احادیث اس حکومت کے بارے میں ہیں جو ملک کا نظام شریعت کے مطابق چلا رہی ہو اور اس کی ریاست میں قرآن و سنت کی بالادستی عملاً تسلیم کی جاتی ہو۔ تیسری بات یہ ہے کہ اس مضمون کی احادیث کا تعلق ذاتی اور شخصی حقوق سے ہے اور مطلب یہ ہے کہ اگر حکمران تم پر ذاتی طور پر ظلم بھی کر رہا ہو مگر جب ملک میں شریعت نافذ ہے تو تم صبر کرو اور اجتماعیت کو نقصان نہ پہنچاؤ۔ آخر ان احادیث کا یہ مطلب کیسے ہو سکتا ہے کہ شریعت سے باغی اور منحرف سیکولر حکومت بھی ’’الجماعۃ‘‘ ہے اور اس جماعت کا التزام تقاضاے شریعت ہے؟‘‘(ماہنامہ فاران، جون ۱۹۹۵ء، ۲۸)

اس ضمن میں ہم مولانا محترم سے سب سے پہلے یہ پوچھنا چاہیں گے کہ انھوں نے ان روایتوں کے حوالے سے جو تین باتیں بیان فرمائی ہیں، وہ اس موضوع کی روایتوں میں کہاں اور کن الفاظ میں بیان ہوئی ہیں۔ روایت کے الفاظ اگر یہ ہیں کہ ہر حال میں اپنے امیر کی اطاعت کرو تو اس کے معنی آخر یہ کیسے ہو سکتے ہیں کہ ’’اس کے خلاف بغاوت نہ کرو، بلکہ اس کی اصلاح کرنے اور اسے بدلنے کے لیے کوئی اور طریقہ اختیار کرو؟‘‘ یہ معنی زبان و بیان کے کس اصول پر مبنی ہیں ؟ آخر کس لغت میں ’’اطاعت‘‘ کے معنی: ’’بغاوت نہ کرنے اور دوسرے طریقوں کو بروے کار لاتے ہوئے اصلاح اور تبدیل کرنے‘‘ کے بیان ہوئے ہیں ؟ مولانا محترم اگر برا نہ مانیں تو قرآن مجید میں اللہ اور رسول کی اطاعت کا جو حکم آیا ہے، ذرا اسی اصول پر اس کی شرح و وضاحت بھی فرما دیں۔
اس ضمن میں دوسری بات مولانا محترم نے یہ فرمائی ہے کہ یہ حکم صرف ایسی ہی حکومتوں کے بارے میں ہے جو ملک کا نظام عملاً قرآن و سنت کے مطابق چلا رہی ہوں۔
اپنے مضمون کے پہلے حصے میں ہم نے اس مضمون کی ساری اہم روایات جمع کر دی ہیں۔ ان روایات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف اسالیب اور متنوع مثالیں دے کر یہ بات فرمائی ہے کہ تم لوگ ہر حال میں اپنے حکمرانوں کی اطاعت پر قائم رہنا، کیونکہ امیر کی اطاعت کو چھوڑنا ’’الجماعۃ‘‘ سے نکلنے کے مترادف ہے۔ ان میں سے ایک روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ حکمران نماز کے اوقات کے معاملے میں تساہل برتیں گے، ایک اور روایت میں آپ نے فرمایا کہ فاجر حکمران خدا کی نافرمانی کے ساتھ حکومت کریں گے، ایک روایت میں آپ کا ارشاد ہے کہ حکمران تم پر ظلم کریں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نمازوں کے اوقات میں تساہل، اللہ کے احکام کی نافرمانی (فجور) اور ظلم کی موجودگی میں آخر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ایسی حکومتوں کے بارے میں ہے ’’جو ملک کا نظام عملاً قرآن و سنت کے مطابق چلا رہی ہوں‘‘؟ جو حکمران نمازوں کے اوقات کے بارے میں متساہل ہوں، جو اللہ کے احکام کی نافرمانی کرتے ہوں اور جو اپنی رعایا پر ظلم کرتے ہوں، ان کے بارے میں آخر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ ان کے ملک کا نظام قرآن و سنت کی عملاً پابندی کر رہا ہے ؟ اگر یہ سب کچھ قرآن و سنت سے انحراف نہیں ہے تو پھر قرآن و سنت سے انحراف آخر کہا کس چیز کو جاتا ہے ؟
اس ضمن میں تیسری بات مولانا محترم نے یہ فرمائی ہے کہ ان روایتوں کا تعلق ذاتی اور شخصی معاملات میں ظلم سے ہے۔ گویا اس سے مراد یہ ہے کہ جب ملک میں شریعت نافذ کرنے والا حکمران تم پر ذاتی طور پر ظلم بھی کر رہا ہو تو تم اس ظلم پر صبر کرو اور مسلمانوں کی اجتماعیت کو نقصان نہ پہنچاؤ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ان روایتوں میں اگرچہ ایسی کوئی بات نہیں ہے جس کی بنیاد پر یہ بات کہی جا سکے کہ ان کا تعلق محض ذاتی اور شخصی معاملات میں ظلم کرنے سے ہے، تاہم ہم تھوڑی دیر کے لیے یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ ان روایتوں میں جس ظلم کا ذکر ہوا ہے، وہ کسی ذاتی یا شخصی معاملے ہی سے متعلق ہے، مگر اس صورت میں بھی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا شخصی اور ذاتی معاملات میں ظلم کرنا، مولانا کے نزدیک شریعت اسلامی کی کھلی خلاف ورزی نہیں ہے ؟ کیا یہ قرآن مجید کی صریح نصوص سے انحراف نہیں ہے ؟ کیا یہ ارشادات نبوی سے بغاوت نہیں ہے ؟
مولانا محترم سے ہماری درخواست ہے کہ وہ ہمیں اس بات سے ضرور آگاہ فرمائیں کہ اگر کسی بھی صورت میں حکمران کے خلاف بغاوت یا اس کی اطاعت سے انکار دین میں لازم ہے تو اس کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں نہیں فرمایا؟ آپ سے مروی احادیث میں یہ بات تو ہمیں گوناگوں اسالیب میں ملتی ہے کہ ہر حال میں حکمران کی اطاعت پر قائم رہنا ۔یہ بات بھی ملتی ہے کہ صرف’ کفر بواح‘ ہی کی صورت میں تم اس کی اطاعت کا انکار کر سکتے ہو، مگر آخر یہ بات کیوں نہیں ملتی کہ فلاں فلاں صورت میں تم اپنے حکمرانوں کی اطاعت سے لازماً الگ ہو جانا ؟ مولانا محترم تو حدیث کے استاذ ہیں، وہ تو یقیناًجانتے ہوں گے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کون کون سی صورتوں میں حکمران کی اطاعت سے کنارہ کش ہو جانے کو مسلمانوں پر لازم ٹھہرایا ہے۔ ہماری مولانا محترم سے درخواست ہے کہ وہ ہمیں بھی دو چار ایسی روایات کا پتا دیں جن میں آپ نے یہ حکم فرمایا ہے، لیکن اگر ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے تو پھر ہم اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ اگر ہمارا نقطۂ نظر غلط بھی ہوا تب بھی آخرت کے روز، جب اللہ ہم سے پوچھے گا کہ تم اسلام سے عملاً منحرف اس حکومت کی اطاعت پر کیوں قائم رہے؟ تو ہم یہ عرض کریں گے کہ تیری کتاب اور تیرے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں ہمیں ایسی کوئی چیز نہیں ملی تھی جو ہمیں اس بات کی ترغیب بھی دیتی ہو کہ ہم ایسے حکمران کی اطاعت کو چھوڑ دیں۔ ہم مولانا محترم سے یہ پوچھنا چاہیں گے کہ اگر ’’بفرض محال‘‘ ہماری بات صحیح ہوئی اور روز آخرت آپ سے یہ پوچھ لیا گیا کہ آپ لوگوں کو اسلام سے عملاً منحرف حکمرانوں کی اطاعت کو چھوڑ دینے کا درس کیوں دیتے رہے اور ایک ایسے اقدام کو لازم کیوں قرار دیتے رہے جسے ہم نے لازم نہیں ٹھہرایا تھا تو مولانا محترم اس کا کیا جواب دیں گے ؟

____________