حکمران کی اطاعت کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چند باتیں بڑی وضاحت کے ساتھ بیان فرما دی ہیں: ایک یہ کہ حکمران اپنی ظاہری شکل و صورت اور اپنے معاشرتی رتبے کے اعتبار سے، خواہ ہمیں کتنا ہی ناپسند ہو، ہمیں بہرحال اس کی اطاعت پر قائم رہنا چاہیے۔ آپ نے فرمایا:

إسمعوا وأطیعوا وإن استعمل علیکم عبد حبشی کأن رأسہ زبیبۃ.(بخاری،رقم ۶۶۰۹)
’’تم (اپنے حکمران کی بات) سنو اور اس کی اطاعت کرو، خواہ تم پر کسی ایسے حبشی غلام ہی کو حکمران کیوں نہ بنا دیا جائے جس کا سر کشمش کے دانے جیسا ہو۔‘‘

اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

علیک السمع والطاعۃ فی عسرک ویسرک ومنشطک ومکرہک و أثرۃ علیک.(مسلم،رقم ۳۴۱۹)
’’تم پر لازم ہے کہ حکمران کے معاملے میں سمع و طاعت پر قائم رہو، خواہ تنگی ہو یا کشادگی، پسند ہو یا نا پسند اور خواہ (عدل کے خلاف) دوسروں کو تم پر ترجیح ہی کیوں نہ دی جائے۔‘‘

دوسرے یہ کہ حکمران اگر ظلم و عدوان پر اتر آئے اور اپنی رعایا کے حقوق کے معاملے میں عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا نہ کرے، تب بھی اس کی اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

یا أبا ذر کیف أنت و ولاۃ یستأثرون علیک بہذا الفیء؟ قال: والذی بعثک بالحق، أضع سیفی علی عأتقی فأضرب بہ حتی ألحقک قال: أفلا أدلک علی خیر لک من ذلک تصبر حتی تلقانی.(الفتح الربانی ۱/ ۳۷)
’’اے ابوذر، تم ایسے حکمرانوں کے ساتھ کیا معاملہ کرو گے جو اس مالِ غنیمت کی تقسیم میں دوسروں کو تم پر ترجیح دیں (یعنی تمھاری حق تلفی کریں) گے؟ ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ کر ان کا مقابلہ کروں گا، یہاں تک کہ آپ سے آن ملوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں اس سے بہتر بات کی طرف تمھاری رہنمائی نہ کروں؟ تم ان حالات میں صبر کرنا، یہاں تک کہ اسی حال میں مجھ سے آ ملو۔‘‘

اسی طرح ایک مرتبہ سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ نے آپ سے پوچھا:

یا نبی اللّٰہ أرأیت إن قامت علینا أمراء یسئلونا حقہم و یمنعونا حقنا، فما تأمرنا؟
’’اے اللہ کے نبی، اگر کہیں ایسے لوگ ہمارے حکمران بن جائیں جو اپنے حقوق تو ہم سے لے لیں، مگر ہمارے حقوق روکے رکھیں تو ان کے معاملے میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟‘‘

اس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إسمعوا وأطیعوا فإنما علیہم ما حملوا و علیکم ما حملتم.(مسلم،رقم ۳۴۳۳)
’’ان کے احکام کو سننا اور ان کی اطاعت کرنا، کیونکہ ان کے گناہ کا بار ان پر اور تمھارے گناہ کا بار تم پر ہو گا۔‘‘

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إن السلطان ظل اللّٰہ فی الأرض یأوی إلیہ کل مظلوم من عبادہ فإذا عدل کان لہ الأجر وعلی الرعیۃ الشکر وإذا جار کان علیہ الإصر وعلی الرعیۃ الصبر.(مشکوٰۃ،رقم ۳۷۱۸)
’’بے شک، حکمران زمین پر اللہ کا سایہ ہے۔ اللہ کے مظلوم بندے اسی کی پناہ لیتے ہیں۔ چنانچہ اگر وہ عدل کرے تو اسے اس کا اجر ملے گا اور اس کی رعیت پر لازم ہے کہ وہ شکر گزار ہو۔ اور اگر وہ ظلم کرے تو اسی کو اس کا بوجھ اٹھانا ہو گا اور اس کی رعیت پر لازم ہے کہ وہ صبر کرے۔‘‘

یہ واضح رہے کہ قرآن مجید میں اکل اموال بالباطل، حق تلفی، بے انصافی اور ظلم و جور کے خلاف واضح احکام موجود ہیں، مگر حکمرانوں کی طرف سے قرآن مجید کے اس حکم کی خلاف ورزی کے باوجود،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تعلیم دی ہے کہ ان کی اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچے جائیں اور اس صورت میں بھی ’’الجماعۃ‘‘ سے جڑ کر رہا جائے۔
حکمران کی اطاعت کے بارے میں تیسری بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واضح فرمائی کہ وہ اگر فاجر و فاسق ہوں، تب بھی ’’الجماعۃ‘‘ سے جڑے رہنے کا تقاضا ہے کہ ان کی اطاعت سے انکار نہ کیا جائے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت کے مطابق آپ نے فرمایا:

سیلیکم ولاۃ بعدی فیلیکم البر ببرہ والفاجر بفجورہ، فاسمعوا لھم وأطیعوا فی کل ما وافق الحق و صلوا وراء ھم فإن أحسنوا فلکم ولھم وإن أساء وا فلکم وعلیھم.(تفسیرالقرآن العظیم ۱/ ۵۱۷)
’’میرے بعد تم پر مختلف قسم کے لوگ حکومت کریں گے۔ نیک لوگ اپنی نیکی کے ساتھ اور نافرمان اپنی نافرمانی کے ساتھ تم پر حکومت کریں گے۔ تم بہرحال ان کی ایسی ہر بات کے معاملے میں سمع و طاعت پر قائم رہنا جو حق کے موافق ہو اور ان کے پیچھے نماز بھی پڑھتے رہنا۔ اگر وہ خوب کار ہوئے تو تمھیں بھی اجر مل جائے گا اور انھیں بھی۔ اور اگر وہ گناہ گار ہوئے تو تمھیں اجر مل جائے گا اور گناہ ان کے حصے میں آئے گا۔‘‘

اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ایک روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إنکم سترون بعدی أثرۃ وأمورًا تنکرونھا قالوا: فما تأمرنا یا رسول اللّٰہ؟ قال: أدوا إلیہم حقہم وسلوا اللّٰہ حقکم.(بخاری،رقم ۶۵۲۹)

’’میرے بعد تم یقیناً جانب داری (کرنے والے حکمران) اور ایسے معاملات دیکھو گے جو تمھارے لیے بالکل اجنبی ہوں گے، لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، ایسے میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: تم ان (حکمرانوں) کے حقوق ادا کرتے رہنا اور اپنے حقوق اللہ سے مانگنا۔‘‘

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہی بات بیان کرتے ہوئے کہا:

إنما الإمام جنۃ یقاتل من وراۂ و یتقی بہ فإن أمر بتقوی اللّٰہ عزوجل و عدل کان لہ بذلک أجر وإن یأمر بغیرہ کان علیہ منہ.(مسلم،رقم ۳۴۲۸)
’’حکمران ایک ایسی ڈھال ہوتا ہے جس کے پیچھے قتال کیا جاتا ہے اور جس کے ذریعے سے فتنوں سے بچا جاتا ہے، اس وجہ سے وہ اگر خدا خوفی کی تلقین کرے اور اپنی رعیت میں عدل کرے تو اسے اس کا اجر ملے گا۔ اور اگر وہ اس کے برعکس کرے تو اسی پر اس کی ذمہ داری آئے گی۔‘‘

اسی طرح حضرت عاصم بن عبیداللہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إنہا ستکون من بعدی أمراء یصلون الصلٰوۃ لوقتہا ویؤخرونہا عن وقتہا فصلوہا معہم فإن صلوہا لوقتہا و صلیتموہا معہم فلکم و لہم وإن أخروہا عن وقتہا فصلیتموہا معہم فلکم و علیہم من فارق الجماعۃ مات میتۃ جاہلیۃ.( احمد، رقم ۱۵۱۲۷)
’’میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے جو نماز (کے بارے میں غیر محتاط ہوں گے۔ وہ اس کو) کبھی صحیح وقت پر پڑھیں گے اور کبھی مؤخر کر کے پڑھیں گے۔ تم لوگ بہرحال ان کے ساتھ نماز پڑھنا۔ اگر وہ وقت پر نماز پڑھیں اور تم ان کے ساتھ پڑھو تو تمھیں بھی اس کا اجر مل جائے گا اور انھیں بھی۔ اور اگر وہ اسے مؤخر کرکے پڑھیں اور تم ان کے ساتھ پڑھو تو تمھیں اس کا اجر مل جائے گا اور گناہ ان کے سر آئے گا۔ یاد رکھو، جو ’’الجماعۃ‘‘ سے الگ ہوا اور اسی حال میں مر گیا، وہ جاہلیت کی موت مرا۔‘‘

یہاں یہ واضح رہے کہ نماز دین کا سب سے اہم اور بنیادی ستون ہے۔ اس کے معاملے میں بے پروائی پورے دین سے بے پروائی کے مترادف ہے۔ مزید یہ کہ نماز کے حوالے سے اوقات کی پابندی کے بارے میں قرآن مجید نے یہ واضح حکم دیا ہے کہ ’اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتٰبًا مَّوْقُوْتًا۔‘ ۱؂ اس کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے حکمرانوں کی اطاعت پر قائم رہنے اور ان کے پیچھے نماز ادا کرنے کو لازم قرار دیا ہے اور اسے ’’الجماعۃ‘‘ کے ساتھ منسلک رہنے کا تقاضا قرار دیا ہے۔
حکمرانوں کی اطاعت کے بارے میں چوتھی بات آپ نے یہ فرمائی ہے کہ مسلمان رعایا کو ہر حال میں ان کا خیر خواہ اور ناصح ہونا چاہیے۔ ۲؂ چنانچہ امام بخاری کی ایک روایت کے مطابق آپ نے فرمایا:

الدین النصیحۃ للّٰہ ولرسولہ ولأئمۃ المسلمین وعامتہم.(کتاب الایمان، رقم باب ۴۰)
’’دین خیر خواہی ہے۔ اللہ کے لیے، اللہ کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے حکمرانوں کے لیے اور ان کے عوام کے لیے۔‘‘

اسی خیر خواہی کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ ہر معاملے میں آدمی اپنے حکمران کی ہاں میں ہاں ملانے کے بجاے وہی بات کہے جسے وہ فی الواقع حق سمجھتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

أفضل الجہاد کلمۃ عدل عند سلطان جائر.(ابن ماجہ،رقم ۴۰۰۱)
’’انصاف کی بات ایک بڑا جہاد ہے جب وہ ظالم حکمران کے سامنے کہی جائے۔‘‘

یہاں یہ بھی واضح رہے کہ حکمرانوں کی خیر خواہی کا تقاضا یہ ہرگز نہیں ہے کہ موقع بے موقع ان کے خلاف تنقید کی جاتی رہے۔ حکمرانوں کی خیر خواہی خود اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اس کے لیے ایسے مواقع، ایسے اسالیب اور ایسے طریقے تلاش کیے جائیں جن کے ذریعے سے ان لوگوں کے لیے قبول حق کی گھاٹی طے کرنی آسان ہو جائے۔ استاذ گرامی اپنی کتاب ’’میزان‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’دعوت کے مخاطبین میں جو لوگ اپنی قوم کے لیڈر اور پیشوا ہوں، اُن کے بارے میں یہ بات خاص طور پر ملحوظ رہنی چاہیے کہ اِس طرح کے لوگ چونکہ دوسروں کی عزت و تکریم کے خوگر ہوتے ہیں، اِس وجہ سے داعی کے لب و لہجے اور مخاطبت کے اسلوب سے اُن کے پندار نفس پر چوٹ نہ پڑے کہ مبادا یہی چیز اُن کے لیے قبول حق میں رکاوٹ بن جائے۔...
یہاں تک کہ اگر کسی وقت اِن لوگوں کے اخلاق و کردار کی پستی پر تنقید خود دعوت کی ضرورت بن جائے تو اِس کے لیے بھی بالواسطہ اسلوب ہی اختیار کرنا چاہیے۔‘‘( ۵۶۶)

یہی بات حضرت عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ہشام بن حکیم بن حزام کو سمجھاتے ہوئے بتائی۔ ’’مسند احمد بن حنبل‘‘ کی ایک روایت کے مطابق، ایک مرتبہ حضرت عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ۳؂ نے کسی شخص کو کوڑوں کی سزا دی۔ اس پر ہشام بن حکیم کو غصہ آ گیا اور انھو ں نے عیاض کو بہت برا بھلا کہا۔ ہشام کی باتیں سن کر عیاض کو بھی طیش آ گیا۔ کچھ دنوں کے بعد ہشام، عیاض کے پاس گئے اور ان سے اپنے کیے کی معذرت کی اور اپنے غصے کی وجہ بتاتے ہوئے عیاض سے کہا:

ألم تسمع النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: إن من أشد الناس عذابًا أشدہم عذابًا فی الدنیا للناس.

’’کیا آپ نے نبی صلی ا للہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ (قیامت کے دن) سب سے زیادہ عذاب میں وہ شخص ہو گا جس نے دنیا میں لوگوں کو سب سے زیادہ تکلیف پہنچائی ہو گی۔‘‘

اس بات کے جواب میں عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا:

یا ہشام بن حکیم قد سمعنا ما سمعت و رأینا ما رأیت أولم تسمع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول من أراد أن ینصح لسلطان بأمر فلا یبدلہ علانیۃ ولکن لیأخذ بیدہ فیخلو بہ فان قبل منہ فذاک وإلا کان قد أدی الذی علیہ لہ وإنک یا ہشام لأنت الجرئ إذ تجترئ علی سلطان اللّٰہ فھلا خشیت أن یقتلک السلطان فتکون قتیل سلطان اللّٰہ تبارک وتعالٰی.(احمد، رقم ۱۴۷۹۲)

’’اے ہشام، میں نے بھی وہ بات سن رکھی ہے جو تم نے سنی اور میری بھی وہی راے ہے جو تمھاری ہے، مگر کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہیں سنا کہ جو شخص کسی معاملے میں کسی صاحب اقتدار کو نصیحت کرنا چاہے، وہ سب کے سامنے ایسا کرنے کے بجاے اس کا ہاتھ پکڑ کر، اسے کسی گوشے میں لے جائے اور اکیلے میں ایسا کرے۔ اگر وہ اس کی بات مان لے گا تو اس کا مقصد پورا ہوا اور اگر ایسا نہ ہو تو کم از کم اس کی ذمہ داری تو بہرحال ادا ہو گئی، مگر اے ہشام، تم تو بہت جری ہو۔ تم نے خدا کے ٹھہرائے ہوئے حکمران پر جرأت دکھائی اور یہ بھی نہ سوچا کہ وہ حکمران کہیں تمھیں قتل نہ کر دے اور تم خداے بزرگ کے (ٹھہرائے ہوئے) حکمران کے قتیل قرار پاؤ۔‘‘

اسی روایت سے ضمناً یہ بات بھی معلوم ہو جاتی ہے کہ حکمرانوں کے خلاف آواز اٹھانے میں عام حالات میں وہ کون سے حدود ہیں، جن کا خیال رکھنا چاہیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ’فإن قبل منہ فذاک وإلا کان قد أدی الذی علیہ لہ ۴؂ ‘ میں یہ حد بڑی وضاحت کے ساتھ بیان ہو گئی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہمارا کام حکمرانوں کو سیدھی راہ پر لگا دینا نہیں، بلکہ پور ی دل سوزی اور درد مندی کے ساتھ انھیں وہ بات پہنچا دینا ہے جسے ہم حق سمجھتے ہیں۔ وہ اگر اسے صحیح سمجھتے ہوئے قبول کر لیں، تب بھی اور اگر اسے رد کر دیں، تب بھی اس سے آگے بڑھ کر کسی قسم کا کوئی اقدام کرنا، عام حالات میں، ہمارے لیے صحیح نہیں ہے۔ڈاکٹر محمد قلعہ جی اس معاملے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی راے بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’رعایا پر امیر کی خیر خواہی واجب ہے۔ چنانچہ روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت عمر سے کہا کہ میں اللہ کے احکام کی تعمیل میں کسی ملامت گر کی ملامت سے خوف نہیں کھاتا، خواہ صاحب اختیار ہو یا معاملہ میرا اپنا ہو۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو شخص مسلمانوں کے کسی معاملے کا ولی بنایا گیا ہو، اسے اللہ کے احکام کی تعمیل میں کسی سے نہیں ڈرنا چاہیے، لیکن جس پر کوئی ذمہ داری نہ ہو، اسے چاہیے کہ اپنی اصلاح کی طرف توجہ دے اور ولئ امر (امیر) کی خیرخواہی کرے۔‘‘(فقہ حضرت عمر، ترجمہ: ساجد الرحمن صدیقی، ۱۱۸)

حکمرانوں کے حوالے سے پانچویں بات آپ نے یہ فرمائی ہے کہ وہ اگر کوئی ایسا حکم دیں جس کی تعمیل سے پروردگار عالم کی معصیت اور نافرمانی لازم آتی ہو تو اس معاملے میں ان کی اطاعت نہ کی جائے:

علی المرء المسلم السمع والطاعۃ فیما أحب وکرہ إلا أن یؤمر بمعصیۃ فإن أمر بمعصیۃ فلا سمع ولا طاعۃ.(مسلم،رقم ۳۴۲۳)
’’مسلمان پر (حکمران کی) سمع و طاعت لازم ہے، خواہ وہ پسند کرے یا نا پسند، الاّ یہ کہ اسے اللہ کی نافرمانی کا حکم دیا جائے، پھر اگر ایسا کوئی حکم اسے دیا جائے تو اس معاملے میں اس پر سمع و طاعت کی کوئی ذمہ داری نہیں۔‘‘

یہی بات ایک اور روایت میں ان الفاظ میں نقل ہوئی ہے:

لا طاعۃ فی معصیۃ اللّٰہ تبارک و تعالٰی.(الفتح الربانی ۲۳/ ۲۷)
’’اللہ تبارک و تعالیٰ کی نافرمانی میں کوئی اطاعت نہیں۔‘‘

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی ایک روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إلا أنہ سیکون بعدی أمراء یکذبون و یظلمون فمن صدقہم بکذبہم ومالأہم علی ظلمہم فلیس منی ولا أنا منہ ومن لم یصدقہم بکذبہم ولم یمالۂم علی ظلمہم فہو منی وأنا منہ.(الفتح الربانی ۲۳/ ۲۷)
’’لوگو، اچھی طرح سے سن لو، میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے جو جھوٹ بولیں گے اور ظلم کریں گے۔ تو جس نے ان کے جھوٹ میں ان کا ساتھ دیا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کی، اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ اور جس نے نہ ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق کی اور نہ ان کے ظلم میں ان کی مدد کی، وہ میرا ہے اور میں اس کا۔‘‘

بالکل یہی بات حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی نقل ہوئی ہے۔ ۵؂
اسی طرح عبدالرحمن بن عبد رب کعبہ، عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے ساتھ اپنی ایک گفتگو کا حال بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:

إنتہیت إلی عبد اللّٰہ بن عمرو بن العاص (رضی اللّٰہ عنہما) وہو جالس فی ظل الکعبۃ فسمعتہ یقول بینا نحن مع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی سفر (فذکر حدیثًا طویلًا) وفیہ، من بایع إمامًا فأعطاہ صفقۃ یدہ و ثمرۃ قلبہ فیطعہ ما استطاع فإن جاء آخر ینازعہ فاضربوا عنق الاخر قال فأدخلت رأسی من بین الناس فقلت أتشدک باللّٰہ أنت سمعت ہذا من رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم؟ قال فأشار بیدہ إلی أذنیہ فقال: سمعتہ أذنای ودعاہ قلبی قال فقلت ہذا ابن عمک معاویۃ یعنی یأمرنا بأکل أموالنا بیننا بالباطل وأن نقتل أنفسنا وقد قال اللّّٰہ تعالٰی: یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْکُلُوْا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ قال فجمع یدیہ فوضعہما علی جبہتہ ثم نکس ہنیءۃ ثم رفع رأسہ فقال أطعہ فی طاعۃ اللّٰہ واعصہ فی معصیۃ اللّٰہ عزوجل. (الفتح الربانی ۲۳/ ۵۵)

’’میں عبداللہ بن عمرو بن عاص (رضی اللہ عنہما) کے پاس پہنچا۔ وہ کعبہ کے سایے میں بیٹھے تھے۔ میں نے انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے ایک سفر کا حال بیان کرتے ہوئے سنا۔ اس میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ جو شخص کسی حکمران کی بیعت کرے، اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے اور سچے دل سے اس کے ساتھ وفاداری کا عہد کرے تو پھر اسے چاہیے کہ مقدور بھر اس کی اطاعت پر قائم رہے۔ اس کے بعد اگر کوئی دوسرا شخص اس سے یہ عہدہ چھیننے کی کوشش کرے تو اس دوسرے شخص کی گردن مار دو۔ عبدالرحمن کہتے ہیں: یہ سن کر میں نے اپنا سر لوگوں کے اندر سے آگے کر کے کہا: آپ کو خدا کی قسم ہے، (سچ سچ بتایئے) کیا آپ نے فی الواقع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی؟ انھوں نے اپنے ہاتھ کے ساتھ اپنے کانوں کی طرف اشارہ کرکے کہا: میرے ان کانوں نے یہ بات سنی اور میرے دل نے اسے سنبھال کے رکھا۔ میں نے کہا: یہ جو آپ کے چچا زاد، معاویہ ہمیں باطل طریقے سے ایک دوسرے کا مال ہڑپ کرنے اور اپنے ہی لوگوں کا خون کرنے کا حکم دے رہے ہیں، حالاں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’ایمان والو، آپس میں باطل طریقے سے مال مت کھاؤ‘‘ (تو اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں)؟ یہ سن کر انھوں نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر رکھ لیے اور کچھ دیر کے لیے سر جھکا لیا، پھر سراٹھا کر بولے: اللہ عزوجل کی اطاعت کے حکم میں ان کی اطاعت کرو اور اللہ کی معصیت کے حکم میں ان کی بات رد کر دو۔‘‘

اس سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ حکمران جب پروردگار عالم کی معصیت پر اتر آئیں تو مسلمانوں کے لیے دین کا حکم یہ ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات میں نہ ان کی معاونت کریں اور نہ اطاعت۔ اس سے بڑھ کر کوئی ذمہ داری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی رو سے مسلمانوں پر عائد نہیں ہوتی۔
حکمرانوں کی اطاعت کے حوالے سے چھٹی بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واضح فرمائی ہے کہ ان کی اطاعت اس وقت تک لازم ہے، جب تک وہ ’’کفر بواح‘‘ کے مجرم نہ ہوں۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:

دعانا النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فبایعناہ فقال فیما أخذ علینا أن بایعنا علی السمع والطاعۃ فی منشطنا ومکرہنا و عسرنا ویسرنا واثرۃ علینا وأن لا ننازع الأمر أہلہ إلا أن تروا کفرًا بواحًا عندکم من اللّٰہ فیہ برہان.(بخاری،رقم ۶۵۳۲)
’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلایا اور ہم سے جن باتوں پر بیعت لی، ان میں یہ بھی تھا کہ حالات نرم ہوں یا جابرانہ، تنگی ہو یا فراخی اور دوسروں کو ہم پر ترجیح ہی کیوں نہ دی جائے، ہم ہر حال میں (اپنے حکمران کی) سمع و طاعت پر قائم رہیں گے اور ان سے اقتدار چھیننے کی کوشش نہ کریں گے، الاّ یہ کہ تم ان کی طرف سے ایسا ’’کفر بواح‘‘ دیکھو جس کے خلاف تمھارے پاس اللہ کی واضح حجت موجود ہو۔‘‘

’’کفر بواح‘‘ کے معنی علانیہ یا صریح کفر کے ہیں۔ چنانچہ ابن اثیر رحمہ اللہ ’’بواح‘‘ کے معنی کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

أی جھارًا، من باح بالشئ یبوح بہ إذا أعلنہ. (النہایہ فی غریب الأثر۱/ ۱۶۱)
’’یعنی بلند بانگ، یہ اس وقت بولتے ہیں جب کوئی شخص علانیہ کوئی بات کرے۔‘‘

عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ’’کفربواح‘‘ کی یہی وضاحت فرمائی ہے، یعنی یہ ایسا کفر ہے جس کے خلاف اللہ تعالیٰ کی واضح اور قطعی حجت موجود ہو۔ یہ کوئی ایسا معاملہ ہی ہو سکتا ہے جس میں تاویل کی کوئی گنجایش، غلط فہمی کا کوئی امکان، لا علمی کا کوئی اندیشہ یا اس پر عمل کرنے میں مجبوری کی کوئی صورت مانع نہ ہو۔ عالم و عامی اس کے کفر ہونے کو یکساں طور پر جانتے ہوں۔ امت کے اندر اس معاملے میں کوئی اختلاف نہ ہو اور لوگ اس کے بارے میں پوری طرح حساس ہوں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مسلمان حکمران کی اطاعت ایک دینی حکم ہے، جبکہ غیر مسلم حکمران کی اطاعت کوئی دینی حکم نہیں ہے، تاہم یہاں یہ بات واضح رہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات کے معنی یہ نہیں ہیں کہ غیر مسلم حکمران کی اطاعت سے ہاتھ کھینچ لینا دین کا کوئی حکم ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی دوسری روایتوں سے اس بات کی مزید تصریح ہوتی ہے کہ حکمران جب تک مسلمان رہیں، اس وقت تک ان کی اطاعت لازم ہے۔ آپ نے اپنے بعد قریش کو حکومتی ذمہ داریاں سونپنے کی ہدایت کی تو فرمایا:

إن ہذا الأمر فی قریش لا یعادیہم أحد إلا کبہ اللّٰہ فی النار علی وجہہ ما أقاموا الدین.(بخاری،رقم ۶۶۰۶)
’’یہ معاملہ میرے بعد، اس وقت تک قریش ہی میں رہے گا، جب تک وہ اپنے دین پر قائم رہیں۔ جو (اس معاملے میں) ان کی مخالفت کرے گا، اللہ اسے اوندھے منہ جہنم میں پھینک دے گا۔‘‘

قرآن مجید میں کسی شخص کے مسلمانوں میں شمار ہونے یا دین پر قائم رہنے اور مسلمانوں کے تمام حقوق پانے کے لیے تین لازمی شرائط بیان ہوئے ہیں۔۶؂ ارشاد ہے:

فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ.(التوبہ ۹: ۱۱)
’’پھر اگر وہ توبہ کر لیں، اورنماز کا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو پھرو ہ دین میں تمھارے بھائی ہیں۔‘‘

استاذ گرامی اپنی کتاب’’میزان‘‘ کے باب ’’قانون سیاست‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’... جو لوگ یہ تین شرطیں پوری کر دیں ، اِس سے قطع نظر کہ اللہ کے نزدیک اُن کی حیثیت کیا ہے، قانون و سیاست کے لحاظ سے وہ مسلمان قرار پائیں گے اور وہ تمام حقوق اُنھیں حاصل ہو جائیں گے جو ایک مسلمان کی حیثیت سے، اُن کی ریاست میں اُن کو حاصل ہونے چاہییں۔
... قرآن نے اِس مدعا کے لیے ’فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں، یعنی وہ دین میں تمھارے بھائی بن جائیں گے ۔ ’الدین‘ کے لفظ سے ظاہر ہے کہ یہاں اسلام مراد ہے اور ’فاخوانکم‘ کے الفاظ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو خطاب کر کے یہ ہدایت کی گئی ہے کہ اِن تین شرطوں کے پورا ہو جانے کے بعد ریاست کے نظام میں تمھاری اور اِن نئے ایمان لانے والوں کی حیثیت بالکل برابر ہو گی۔ تمھارے اور اِن کے قانونی حقوق میں کسی لحاظ سے کوئی فرق نہیں کیا جائے گا۔‘‘ (۴۹۱۔۴۹۲)

ہمارے نزدیک، ایک مسلمان کی طرف سے کفر بواح اصلاً انھی تین شرائط کو مان لینے کے بعد ان کا یا ان میں سے کسی ایک کا انکار کر دینا ہے۔ چنانچہ کوئی شخص جب اپنے قول سے دین کی اساسات میں سے کسی کا انکار کر دے، نماز کے اہتمام یا بیت المال کو زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کر دے تو اس کا نام مسلمانوں کے دفتر سے خارج کر دیا جائے گا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت سے بھی ہماری اس بات کی تائید ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

خیار أئمتکم من تحبونہم و یحبونکم و تصلون علیہم ویصلون علیکم وشرار أئمتکم الذین تبغضونہم ویبغضونکم وتلعنونہم ویلعنونکم قلنا: یا رسول اللّٰہ أفلا ننابذہم عند ذلک قال لا ما أقاموا لکم الصلٰوۃ إلا ومن ولی علیہ أمیر وال فرآہ یاتی شیءًا من معصیۃ اللّٰہ فلینکر ما یاتی من معصیۃ اللّٰہ ولا ینزعن یدًا من طاعۃ. (احمد، رقم ۲۲۸۵۶)
’’تمھارے بہترین حکمران وہ ہوں گے جن سے تم محبت کرو گے اور وہ تم سے محبت کریں گے، اور تم ان کے لیے اور وہ تمھارے لیے دعائیں کریں گے۔ اور تمھارے بدترین حکمران وہ ہوں گے جنھیں تم ناپسند کرو گے اور جو تمھیں ناپسند کریں گے، جن پر تم لعنت بھیجو گے اور وہ تم پر لعنت بھیجیں گے۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ، ایسے موقع پر کیا ہمیں ان سے الگ نہیں ہو جانا چاہیے؟ فرمایا: نہیں، جب تک وہ تمھارے اندر نماز کا اہتمام رکھیں اس وقت تک ایسا مت کرنا۔ یاد رکھو، جب کسی پر کوئی امیرمقرر کیا جائے اور وہ یہ دیکھے کہ یہ امیر کوئی ایسا کام کرتا ہے جس سے خدا کی نافرمانی لازم آتی ہے تو اسے چاہیے کہ وہ معصیت والے اس کام کو برا جانے، مگر اس حکمران کی اطاعت سے ہرگز پیچھے نہ ہٹے۔‘‘

_______

۱؂ النساء ۴: ۱۰۳۔ ’’بے شک نماز وقت کی پابندی کے ساتھ مومنوں پر فرض ہے۔‘‘
۲؂ استاذ گرامی اپنے رسالے ’’دین حق‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’...دین کو اختیار کر لینے کے بعد آدمی کی سیرت یہ ہونی چاہیے کہ ہر جگہ اور ہر معاملے میں وہ سراپا خیر خواہی بن کر رہے۔ اپنا بھلا سوچے، دین و دنیا کے اعتبار سے وہ جن لوگوں سے متعلق ہوتا ہے ،اُن کی بھلائی کے لیے سرگرم عمل رہے،

کسی کے لیے اُس کے دل میں کوئی کدورت نہ ہو، کسی کو اُس سے کوئی نقصان نہ پہنچے۔ سورۂ توبہ کی آیت ’اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ‘ (۹: ۹۱، ’’جب وہ اللہ اور اس کے رسول کی خیر خواہی کرتے رہیں‘‘) میں یہی چیز بیان ہوئی ہے۔ نبیوں کی سیرت میں ’اَنَا لَکُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ‘ (الاعراف ۷: ۶۸،’’ میں تمھارا ایسا خیر خواہ ہوں، جس پر تم بھروسا کر سکتے ہو‘‘) اسی رویے کی تعبیر ہے۔‘‘ (۱۳)
۳؂ عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ وہ صحابی ہیں جنھیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد شام کا والی مقرر کیا۔
۴؂ ’’وہ اگر اس کی بات مان لے گا، تو اس کا مقصد پورا ہوا اور اگر ایسا نہ ہو تو کم ازکم اس کی ذمہ داری تو بہرحال ادا ہو گئی۔‘‘
۵؂ الفتح الربانی ۲۳/ ۲۷۔
۶؂ فتح مکہ کے بعد ،جس موقع پر مشرکین بنی اسماعیل کے خلاف دار و گیر کا حکم آیا، اس وقت سورۂ توبہ کی اس آیت میں یہ واضح کر دیا گیا کہ ایک آدمی کے مسلمانوں یا غیر مسلموں میں سے شمار کیے جانے کے لیے امتیاز کی بنیاد کیا ہو گی۔

____________