حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت کے الفاظ اس طرح ہیں:

قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من خرج من الطاعۃ و فارق الجماعۃ ثم مات مات میتۃ جاہلیۃ و من قتل تحت رایۃ عمیۃ یغضب للعصبۃ و یقاتل للعصبۃ فلیس من أمتی ومن خرج من أمتی علی أمتی یضرب برھا وفاجرھا لا یتحاش من مؤمنہا ولا یفی بذی عہدہا فلیس منی.(مسلم،رقم ۳۴۳۷)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (حکمران کی) اطاعت سے نکل گیا اور (اس طرح) الجماعۃ سے الگ ہوا، پھر اسی حالت میں مر گیا، اس کی موت جاہلیت پر ہوئی۔ یاد رکھو، جو شخص ایسی گمراہی میں مارا گیا کہ وہ اپنی ہی کسی عصبیت کے لیے غصے میں آیا اور اسی بنا پر لڑا، وہ میری امت میں سے نہیں ہے۔ اور اس امت کے کسی فرد نے اگر اس امت ہی پر ہلہ بول دیا اور اس کے نیک و بد کو مارنے لگا اور اس کے مومنوں اور معاہدوں کی کوئی پروا نہ کی، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘

اس روایت سے ہماری پہلی بات کی تائید بھی ہوتی ہے کہ حکمران کی اطاعت ’’الجماعۃ‘‘ کے ساتھ منسلک رہنے کا ایک تقاضا ہے۔ چنانچہ اس روایت میں آپ نے اسی بات کا نقیض واضح فرما کر یہ بتا دیا ہے کہ حکمران کی اطاعت کا انکار ’’الجماعۃ‘‘ سے الگ ہو جاناہے۔ اسی بات کو مزید واضح کرتے ہوئے آپ نے فرمایا:

من مات بغیر إمام مات میتۃ جاہلیۃ.(الفتح الربانی۲۳/ ۵۲)
’’جو شخص اس حالت میں مرا کہ وہ کسی حکمران کی اطاعت میں نہیں تھا (یعنی وہ مسلمانوں کے نظم اجتماعی سے الگ ہو کر رہا)، وہ جاہلیت کی موت مرا۔‘‘

اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک موقع پر آپ نے فرمایا:

من خلع یدًا من طاعۃ لقی اللّٰہ یوم القیامۃ لا حجۃ لہ ومن مات لیس فی عنقہ بیعۃ مات میتۃ جاہلیۃ.(مسلم، رقم ۳۴۴۱)

’’جوشخص حکمران کی اطاعت سے الگ ہوا، وہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے پاس اپنی صفائی میں کہنے کو کچھ نہ ہو گا۔ اور جو شخص اس حال میں مرا کہ اس نے کسی حکمران کی بیعت نہیں کی ہوئی تھی (یعنی وہ اپنے نظم اجتماعی کے ساتھ منسلک نہیں تھا)، وہ جاہلیت کی موت مرا۔‘‘

____________