دوسرا باب 

اس دنیا میں ہمیشہ مختلف تہذیبوں کے درمیان مشترک مفادات بھی ہوتے ہیں اور ان کے درمیان اختلاف بھی ہوتا ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ دوتہذیبوں کی ساری اقدار ایک دوسرے سے مختلف ہوں۔ کئی انتہائی اہم ایسی اقدار ہیں جو اِس وقت تقریباً سب تہذیبوں کے درمیان، کم ازکم نظری(Theoratical)طورپر، یکساں ہیں، مثلاً انصاف، دیانت داری، اور سچائی وغیرہ۔ اسی طرح ساری تہذیبیں اس بات پر متفق ہیں کہ قاتل، چور،ڈاکو،مجرمانہ حملہ آور، دھوکہ دہی کا مرتکب، رشوت لینے والا، کرپشن کرنے والا، خیانت کرنے والا اور اسی طرح کے دوسرے جرائم کرنے والا انسان سزا کا مستحق ہے۔ تاہم کئی امور ایسے ہیں جن کے متعلق مختلف تہذیبوں کے درمیان آپس میں اختلاف ہے۔ یہی حال اسلامی اور مغربی تہذیب کا ہے۔ اسلامی تہذیب کا بنیادی امتیاز یہ ہے کہ اس میں ہر انسان کی زندگی میں اللہ کی عبادت بالکل نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ جب وہ کسی سے ملتا ہے تو السلام علیکم کہتا ہے۔ مکالمے کے درمیان میں مسلسل انشاء اللہ، ماشاء اللہ اور الحمد للہ کا استعمال کرتا ہے۔ وہ دن میں پانچ مرتبہ نماز میں اللہ کے سامنے جھکتا ہے اور اگر وہ کسی جگہ پر غیر مسلموں کے ساتھ ہوتو اس کی نماز اور کھانے کی میز پر اس کا حلال وحرام میں تمیز اس کو فوراً دوسروں سے ممتاز کردیتا ہے۔ یہی حال ایک مسلمان کی پوری زندگی کا ہوتا ہے۔ وہ رمضان کے روزے رکھتا ہے، قرآن مجید سے ایک زندہ تعلق رکھتا ہے اور وہ جانتے بوجھتے یا انجانے میں اپنی زندگی کے بہت سے امور سنت کے مطابق انجام دیتا ہے۔ مثلاً اگر وہ بچہ ہے تو اس کا ختنہ ہوچکا ہوتا ہے، اگر وہ بالغ مردوعورت ہے تو وہ اپنے بدن کی صفائی کرتا ہے، جنابت کے وقت نہاتا ہے، نماز سے پہلے وضو کرتا ہے اور رمضان کے موقعے پر تو دوسروں سے اس کا فرق وامتیاز اتنا واضح ہوتا ہے کہ اس کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ 
اسلامی تہذیب کا دوسرا بڑا وصف حیااور خاندانی نظام ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی مردوعورت کے درمیان میں جنسی تعلق صرف اور صرف اسی وقت جائز ہے جب یہ دونوں قانونی طریقے سے رشتۂ ازدواج میں بندھ جائیں۔ مردوزن کے باہمی روابط سے متعلق باقی تمام ہدایات دراصل اسی ایک بات کی تشریح ہیں۔ 
اسلامی تہذیب کا تیسرا نمایاں وصف شراب جوئے اور سود سے اجتناب ہے۔ ایک مسلمان کو ہر اُس چیز سے اجتناب کرنا چاہیے جس میں ان چیزوں کی آمیزش ہو۔ 
اسلامی تہذیب کا چوتھا وصف ’حفظِ مراتب‘ ہے۔ اسلامی تہذیب آزادئ رائے پر پورا یقین رکھتی ہے لیکن اس میں اس بات کی گنجائش نہیں کہ آزادئ رائے کے نام پر کسی مقدس ہستی کا مذاق اڑایا جائے اور چھوٹے بڑے کی تمیز مٹ جائے۔ اس تہذیب کے اندر بڑوں اور چھوٹوں کے درمیان احترام اور محبت کا ایک خاص رشتہ ہوتا ہے جس سے تجاوز کرنا غلط اور خلافِ تہذیب سمجھا جاتا ہے۔ 
ویسے تو کئی دوسرے نکات بھی بیان کیے جاسکتے ہیں لیکن اصل اہمیت انہی چار نکات کو حاصل ہے۔ 
اس کے برعکس مغربی تہذیب کی بنیاد ’آزادی‘ پر ہے۔ اگرچہ مغربی تہذیب کے اندر بھی اس آزادی پر کئی جگہ قدغنیں لگ جاتی ہیں، لیکن وہ قدغنیں جو اسلامی تہذیب ایک مسلمان پر بحیثیتِ تہذیب لگاتی ہے، اس کا مغربی تہذیب کے اندر نشان نہیں ملتا۔ مثلاً مغربی تہذیب میں عبادت ہر فرد کا ذاتی مسئلہ ہے۔ وہ چاہے تو عبادت کرے یا نہ کرے اور جس طرح سے چاہے عبادت کرے۔ اسی طرح حیا بھی اس کا ذاتی مسئلہ ہے۔ وہ چاہے تو اس کا خیال رکھے اور چاہے تو اس کا خیال نہ رکھے۔ اسی طرح الکوہل کا استعمال بھی اس کی ذات پر منحصر ہے۔ قانون اُس کو صرف اُس وقت روک سکتا ہے جب وہ شراب پی کر دوسروں کو نقصان پہنچائے یا سڑک پر گاڑی چلائے۔ لیکن اس کے علاوہ ایک فرد پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جاسکتی۔ یہی حال ’حفظِ مراتب‘ کا ہے۔ وہ چاہے تو ذاتی طور پر کسی کی عزت کرے یا نہ کرے۔ اُس کا یہ حق ہے کہ کسی بھی شخص کا خاکہ اڑائے،اُس کے متعلق کارٹون بنائے یا طنز آمیز کلمات کہے۔ ان چیزوں پر پابندی مغربی تہذیب کے خیال میں آزادئ رائے کے حق کے خلاف ہے، اس لیے ان چیزوں پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جاسکتی۔ 
اسلامی اور مغربی تہذیب کے درمیان بہت سی چیزوں پر اتفاقِ رائے بھی موجود ہے۔ مثلاً دونوں تہذیبیں انصاف، دیانت داری، امانت ودیانت، میرٹ، محنت، محروم اور کمزور طبقات کی خدمت پر یقین رکھتی ہیں۔ دونوں تہذیبیں رشوت وسفارش، جھوٹ، دھوکہ دہی، خیانت، چوری، کسی کا مال ہتھیانے اور کسی پر ظلم کو غلط سمجھتی ہیں ۔ جن چیزوں کو اسلامی تہذیب جرم سمجھتی ہے، کم وبیش ان تمام چیزوں کو مغربی تہذیب بھی جرم سمجھتی ہے۔ اس میں صرف چند جرائم ہی کو استثناء حاصل ہے۔ مثلاً مغربی تہذیب کے مطابق زنا بالرضا، شراب نوشی، جوا بازی اور سود جرائم کی فہرست میں نہیں آتے،جب کہ اسلامی تہذیب کے مطابق یہ تینوں چیزیں جرم ہیں۔ 
کچھ پہلو ایسے بھی ہیں جن کے متعلق غلط فہمی سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان پہلوؤں کے حوالے سے بھی اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کے درمیان ایک بڑا فرق ہے۔ حالانکہ ان پہلوؤں میں اختلاف سے کہیں زیادہ اتفاق موجود ہے۔ ان میں سے ایک پہلو جمہوریت ہے۔ کسی بھی معاشرے کی جمہوری بنیادوں کے متعلق دونوں تہذیبوں کے درمیان بنیادی اتفاق ہے۔ عالم اسلام میں یہ سوچ عام ہے کہ کسی مسلمان معاشرے کے اندر جمہوریت پر بہت ساری قانونی پابندیاں عائدہونی چاہئیں۔ اس راقم کے خیال میں یہ بات صحیح نہیں ہے۔ اگر کسی جگہ جمہوری کلچر جاری وساری ہوتو اس ملک کی معاشرتی اقدار کے حوالے سے وہاں کی جمہوری روایات پر خودبخود ایسی قدغنیں لگ جاتی ہیں جن کو قانون کی کتابوں میں تحریر نہیں کیا گیا ہوتا، لیکن وہ روایات کا حصہ ہوتی ہیں۔ یہی حال ایک مسلمان معاشرے کا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر ایک مسلمان معاشرے میں جمہوری کلچر موجود ہوتو پارلیمنٹ کے اندر ارکان کی ایک بڑی تعداد مسلمان ممبروں پر مشتمل ہوگی۔ پورا معاشرہ جس حد تک اسلام کے رنگ میں رنگا ہوا ہوگا، اسی حد تک ارکانِ پارلیمنٹ بھی اسلام کے رنگ میں رنگے ہوئے ہوں گے، اور قانون سازی کے وقت وہ لازماً قرآن وحدیث کی ہدایات کا خیال رکھیں گے۔ اگر اس بارے میں آئین میں کوئی خاص پابندیاں نہ بھی لگائی جائیں، تو پھر بھی ایک جمہوری معاشرے میں ایسا ہی ہوگا۔ ایسی جگہ میں قرآن وسنت کے خلاف قانون سازی کا کوئی سوچ بھی نہ سکے گا، اس لیے کہ اگلی دفعہ بھی وہ عوام کے ووٹوں کا محتاج رہے گا۔ یہی حال سارے مغربی ممالک کا ہے۔ اگرچہ وہاں نظری طور پر پارلیمنٹ بالکل خودمختار ہے اور وہ ہر طرح کی قانون سازی کرنے کی مجاز ہے لیکن جس ملک کی جو بھی اقدار ہوتی ہیں، عملاً انہی کے مطابق قانون سازی ہوتی ہے۔ 
مغربی تہذیب کی طرح اسلامی تہذیب بھی آزادئ رائے کی قائل ہے، مگر احترام اور شائستگی کے اصول کے ساتھ۔ مسلمان معاشرے میں بھی ہر فرد کو یہ اجازت ہوتی ہے کہ وہ اپنی بات کا دلیل کے ساتھ اظہار کرے، چاہے اس کی بات مانی جائے یا نہ مانی جائے۔ یہ دراصل مسلمانوں کا اجتماعی شعور ہوتا ہے جو کسی بات کے ماننے یا نہ ماننے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اس شعور کی زندگی دانش وروں اور مصلحین کے کام پر اپنی بنیاد رکھتی ہے۔ جس مسلمان معاشرے میں دانش وربیدار مغز اور ہوش مند ہوں اور مصلحین دلیل کے ساتھ سوسائٹی میں اثرونفوذ کریں، اُس سوسائٹی کا اجتماعی شعور اُتنا ہی زندہ وبیدار ہوتا ہے۔ جس کا اظہار سوسائٹی کے نظمِ اجتماعی اور حکومت وریاست کی شکل میں بھی ہوتا ہے۔ 


تہذیبیں اپنا اثر کیسے قائم کرتی ہیں

اثرونفوذ کے اعتبار سے تہذیبوں کی دواقسام ہیں۔ ایک وہ تہذیبیں جن کی جڑیں ایک ماحول اور علاقے میں پیوست ہوتی ہیں، اور دوسری وہ تہذیبیں جو عالم گیر پیغام کی حامل ہوتی ہیں۔ پہلی قسم کی تہذیبوں کی مثال چینی اور ہندو تہذیب ہیں۔ جب کہ دوسری قسم کی تہذیبوں کی مثال اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب ہے۔ علاقائی تہذیبیں دوسری جگہوں میں اپنا پیغام عام کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتیں، اس لیے اِن تہذیبوں سے باہر کے معاشرے بھی زیادہ متاثر نہیں ہوتے۔ لیکن عالمگیر تہذیبیں جب بھی دوسرے معاشروں کے ساتھ رابطے میں آتی ہیں تو اُن کو متاثر کرتی ہیں۔ عموماً ایک فاتح تہذیب کے اندر اثرونفوذ کامادہ (Potential) زیادہ ہوتا ہے، تاہم یہ کوئی لازمی قانون نہیں۔ سبھی تہذیبیں ایک خاص دائرے میں ایک دوسرے کو متاثر کرتی ہیں اور ایک دوسرے سے سیکھتی ہیں۔ کوئی تہذیب خلاء میں زندہ نہیں رہ سکتی، اس لیے اس اختلاط وارتباط سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ مثلاً اب اگر ایک طرف ہمارے ہاں مغربی کھانوں کا رواج بڑھ گیا ہے تو دوسری طرف یورپ اور امریکہ میں ہمارے کھانے بھی بہت مقبول ہوگئے ہیں۔ یہی حال زندگی کے باقی تمام معاملات کا ہے۔ اگر کسی معاشرے کی اپنی اقدار زندہ رہیں تو کوئی دوسری تہذیب باوجود کوشش کے اُس پر ایک خاص حد سے زیادہ اثرانداز نہیں ہوسکتی۔ ماضی قریب میں ایران اور الجزائر اس کی دو بڑی مثالیں ہیں۔ شہنشاہ کے وقت کا ایران، یوں محسوس ہوتا تھا، جیسے مغرب کے رنگ میں پوری طرح رنگا ہواہو۔ لیکن اسی ملک کے عوام نے اس کے خلاف بغاوت کرکے ایک ایسی تہذیب کی طرف رجوع کرلیا جس کی بنیاد حیا پر ہے۔ اسی طرح الجزائر کے اندر ہر ٹیلی ویژن سیٹ پر یورپ، خصوصاً فرانس کے ٹیلی ویژن سٹیشنوں کے پروگرام عام انٹینا کے ذریعے دیکھے جاسکتے ہیں۔ وہاں ایک لمبے عرصے تک ایسی حکومتیں رہی تھیں جو اپنے آپ کو سوشلسٹ کہتی تھیں۔ لیکن سبھی لوگ یہ جانتے ہیں کہ اِس ملک کے اندر اسلام کی جڑیں کتنی گہری ہیں۔ اس کا اظہار1991ء کے آزادانہ انتخابات میں سامنے آچکا ہے۔ 
بعض اوقات یہ سوچا جاتا ہے کہ مختلف قانونی پابندیوں کے ذریعے دوسری تہذیبوں کی یلغار کو روکا جائے۔ ایسی ہر کوشش ناکامی سے دوچار ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قانونی پابندی ایک خاص حد سے زیادہ عائد نہیں کی جاسکتی۔ ہر گھر میں کمپیوٹر آنے کے بعد تو اب یہ مزید مشکل بلکہ ناممکن ہوگیا ہے۔ البتہ اس کا اصل مقابلہ مثبت طور پر کیا جاسکتا ہے۔ وہ یہ کہ اگر معاشرے میں اپنی مثبت اقدار کو دلیل اور ایمان کی قوت کے ساتھ ہر فرد کے دل ودماغ میں جاں گزیں کردیا جائے اور علماء وصالحین مسلسل اپنے حصے کاکام کرتے رہیں تو اباحیت کی ساری رنگینیاں ماند پڑجاتی ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ان چیزوں کے متعلق سرے سے ہی کوئی قانون سازی نہ کی جائے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قانون سازی پر زیادہ انحصار نہ کیا جائے اور قانونی پابندیوں کو اس انتہا تک نہ لے جایا جائے جہاں قانون ہر گھر کے بیڈروم پر دستک دینے لگے، جب بھی حاکموں کو ایسے اختیارات مل جاتے ہیں تو وہ عوام کو بے جا تنگ کرتے ہیں اور لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دیتے ہیں۔ 


تہذیبی انتہاپسندی کا انجام 

اس دنیا میں وہی تہذیب دوسرے پر غلبہ پاتی ہے جس کے پیچھے علم کی طاقت موجود ہو۔ ایسا بھی ہو اہے کہ فاتح قوم نے مفتوح قوم کی تہذیب کو قبول کرلیا۔ اس کی ایک مثال منگول حکمرانوں کی ہے۔ ہلاکو خان کی سرکردگی میں منگولوں نے چین سے نکل کر بہت سے مسلمان علاقوں پر قبضہ کرلیا، لیکن بہت جلد تاریخ نے ہمیں یہ منظر دکھایا کہ فاتحین نے مفتوحوں کا مذہب اور ان کی تہذیب قبول کرلی۔ 
آج مغربی تہذیب کی برتری کی اصل وجہ علمی میدان میں اس کی برتری ہے۔ گویا اگر کسی تہذیب کے علمبردار یہ چاہتے ہوں کہ دنیا میں ان کی تہذیب کو قبولِ عام حاصل ہوجائے، لوگ اپنے اندر کے جذبے سے ان کی تہذیبی اقدار کو مان لیں اور ان کی تہذیب کا بول بالا ہوجائے، تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو علم کے اسلحے سے مسلح کیا جائے اور دوسروں سے اس میدان میں بڑھ کر کارہائے نمایاں انجام دیے جائیں۔ کوئی بھی تہذیب مصنوعی اور جبر کے طریقوں پر زندہ نہیں رہ سکتی۔ اپنے آپ کو جبروتشدد کے ذریعے زندہ رکھنے والی تہذیبیں انتہا پسند بن جاتی ہیں۔ اس انتہا پسندی کی ایک شکل یہ ہے کہ طاقت کے زور پر اپنی تہذیب کو دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کی جائے۔ یہ طریقہ ہمیشہ ناکام ثابت ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پروردگار نے اس دنیا کو آزمائش کی جگہ بنایا ہے۔ اگر یہاں طاقت کے ذریعے سے ایک تہذیب کو فیصلہ کُن غلبہ مل جائے تو آزمائش کا مقصد فوت ہوجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اس دنیا میں ہمیشہ سے مختلف تہذیبیں پہلو بہ پہلو زندہ رہی ہیں اور قیامت تک ایسا ہی رہے گا۔ 
انسانی شخصیت اور جبلت اپنی بنیاد میں اعتدال پسند ہے۔ جس طرح ہر انتہا پسندی بدنی اور طبعی طور پر انسان کو نقصان پہنچاتی ہے، بالکل اسی طرح ہر نفسیاتی، روحانی، اورتہذیبی انتہا پسندی بھی انسانوں کے گروہ کو بلحاظ مجموعی نقصان پہنچاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تہذیب کے نام پر انتہا پسندانہ رجحانات کو بزور رائج کرنے کی ہر کوشش ناکامی سے دوچار ہوئی ہے۔ کسی تہذیب کا اصل کام دوسروں کو جسمانی طور پر مغلوب کرنا نہیں بلکہ ان کے دلوں کو مفتوح کرنا ہے۔ یہ کام صرف اعتدال اور دلیل کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے۔ ہر تہذیب نے مختلف اوقات میں جبروتشدد کے ذریعے اپنی اقدار کو دوسروں سے منوانے کی کوشش کی ہے۔ مسلمانوں کے ہاں بھی بارہا ایسی کوششیں ہوئی ہیں، لیکن ایسی ہر کوشش ناکامی سے دوچار ہوئی ہے۔ اس کی مثالیں ماضی میں بھی ملتی ہیں اور زمانۂ حال میں بھی اس کی کئی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ ایسی ہر کوشش یاتو کسی بیرونی جارحیت کا شکار ہوجاتی ہے، یا پھر اس کے اندر ایک بدترین منافقت جنم لے لیتی ہیں کہ باہر سے تو سب کچھ قانون اور قاعدے کے مطابق ہورہا ہوتا ہے لیکن اندر سے سب کچھ اس کے برعکس ہورہا ہوتا ہے۔ اگر کسی انتہا پسندانہ تہذیب کے اندر کوئی جمہوری یا نیم جمہوری عمل جاری ہوجائے تو ایسی تہذیب اپنے اندرونی عوامل کے دباؤ کی وجہ سے خودبخود اعتدال کی طرف جھکنے لگتی ہے۔ 


مغربی تہذیب اور عیسائیت کے درمیان فرق 

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مغربی تہذیب اور عیسائی تہذیب درحقیقت ایک ہیں۔ یہ بات حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ مغربی تہذیب جتنی اسلام سے دور ہے، اُتنی ہی وہ عیسائیت اور یہودیت سے بھی دور ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ دنیا کے دوسرے مذاہب مثلاً ہندومت، بُدھ مت اور کنفیوسش ازم سے بھی وہ اُتنی ہی دور ہے۔ اسلام کی طرح عیسائیت اور یہودیت بھی خاندان کی حفاظت پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ تینوں مذاہب قانونی شادی سے باہر جسمانی تعلق کو غلط سمجھتے ہیں۔ ان تینوں مذاہب کے مطابق حیا انسان کی بنیادی قدر ہے۔ ان تینوں مذاہب کے مطابق انسان مادرپدر آزاد نہیں ہے بلکہ وہ کچھ بنیادی اقدار میں جکڑا ہوا ہے۔ یہ تینوں مذاہب شراب، جوئے اور عورتوں اور مردوں کے بے محابا اختلاط کو غلط سمجھتے ہیں۔ اس کے بالکل برعکس مغرب کی سب سے بنیادی قدر لبرلزم یعنی آزادی ہے۔ آزادی کی اس قدر کو مغربی تہذیب اُس مقام تک لے جاتی ہے جہاں حیا یا بے حیائی، شراب نوشی یا اس سے پرہیز، جوابازی یا اس سے احتراز اور میاں بیوی پر مشتمل خاندانی نظام کا رکھنا یا نہ رکھنا کسی فرد کی ذاتی پسندوناپسند پر مبنی اقدار بن جاتے ہیں۔ گویا مغربی تہذیب کے مطابق یہ کوئی بنیادی اقدار نہیں ہیں بلکہ یہ لبرلزم کے تابع ہیں۔ ہر فرد کو آزادی ہے کہ وہ چاہے تو انہیں اختیار کرے اور چاہے تو نہ کرے۔ سارے مذاہب میں یہ تعلیم بھی مشترک ہے کہ دوسرے مذاہب کے بزرگوں کا احترام کیا جائے اور اُن کے لیے طنزوتشنیع اور گستاخانہ الفاظ استعمال نہ کیے جائیں۔ لیکن مغربی تہذیب کے مطابق یہ بھی ایک اضافی قدر ہے۔ مغربی تہذیب کے مطابق کوئی فرد چاہے تو دوسرے مذاہب کی بزرگ شخصیتوں کا احترام کرے اور چاہے تو نہ کرے۔ 
جس طرح مغربی تہذیب اور عیسائیت آپس میں لازم وملزوم نہیں ہیں، بالکل یہی حال اسلامی تہذیب اور موجودہ مسلمان ممالک میں موجود تہذیب کا ہے۔ یہاں بھی ہر جگہ کے کلچر اور رسم ورواج میں ایسی چیزیں موجود ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تاہم لوگ اُن پر عمل پیرا ہیں۔ مسئلہ اس وقت گھمبیر صورت اختیار کرلیتا ہے جب مذہب اور کلچر کے درمیان میں فرق کو فراموش کردیا جاتا ہے اور کلچر کی ہر بات کو مذہب کا حصہ سمجھنے پر یقین کرلیا جاتا ہے۔ یہی حال باقی ساری تہذیبوں اور ان کے اختیار کردہ مذاہب کا ہے۔ مثلاً مختلف ممالک کے بدھوں کا اپنا اپنا کلچر اور رسم ورواج ہے، لیکن ضروری نہیں کہ یہ سب کچھ بدھ مت مذہب کی تعلیمات کے بھی مطابق ہو۔ وہ مذہب جس میں ایک مچھر کو بھی مارنے کی اجازت نہیں، اس کے پیروکاروں نے دوسروں کے ساتھ لڑائیوں میں اور باہمی لڑائیوں میں بارہا ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد کا خون بہایا ہے۔ 
اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی تہذیب کی اقدار میں مذہب ہمیشہ ایک بہت بڑے عامل کی حیثیت موجود رہا ہے۔ مثلاً مغربی تہذیب میں رنگا ہوا ایک شخص بسا اوقات عیسائیت سے روحانی سکون واطمینان حاصل کرتا ہے اور اس کا مذہب اسے ایک جذبہ اور حوصلہ بخشتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ دوسری اقدار میں اپنے مذہب کی تعلیمات کے بالکل خلاف عمل کررہا ہوتا ہے۔ چنانچہ یہ بہت ضروری ہے کہ ہر تہذیب کی امتیازی خصوصیات کو مذہب سے علیحدہ کرکے دیکھا جائے اور پھر اس کا تجزیہ کرتے وقت یہ دیکھا جائے کہ ان لوگوں کے اختیار کردہ مذہب سے اس کا اتفاق کہاں تک ہے اور اختلاف کہاں کہاں پر ہے۔ 


تہذیبوں کا تصادم یا بقائے باہمی

اس دنیا میں بیک وقت سینکڑوں ثقافتیں پہلو بہ پہلو زندہ رہتی ہیں۔ انہی ثقافتوں یا کلچرز کی توسیع شدہ شکل کو تہذیب کہا جاتا ہے۔ ہر تہذیب کے کچھ مرکزی نمائندے بھی ہوسکتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی تہذیب کے ایک سے زیادہ نمائندے بیک وقت موجود ہوں۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بلحاظ مجموعی ایک تہذیب تو موجود ہوتی ہے اور اس کی موجودگی کو محسوس بھی کیا جاسکتا ہے، لیکن اس کی کوئی نمائندہ مرکزی حکومت نہیں ہوتی۔ دنیا کی پوری تاریخ شاہد ہے کہ سب تہذیبوں کے درمیان تصادم بھی موجود رہا ہے اور پرامن بقائے باہمی کی بنیاد پر رشتہ بھی رہا ہے۔ تاہم کوئی بھی تہذیب کسی دوسری تہذیب کو مکمل طور پر فنا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ درحقیقت ایسا ہو بھی نہیں ہوسکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تہذیب کی بنیادیں کچھ ایسے عوامل میں پیوست ہیں جن کو یک رنگ اور یک جان بنا دینا کسی کے بس میں نہیں۔ تہذیب کی ایک بڑی بنیاد مذہب ہے۔ ہم یہ توکرسکتے ہیں کہ مختلف مذاہب کے پیروکاروں کو پرامن بقائے باہمی کی بنیاد پر اکٹھے رہنے پر قائل کرلیں، لیکن یہ ممکن نہیں کہ ساری دنیا پر ایک ہی مذہب چھا جائے اور باقی مذاہب نیست ونابود ہوجائیں۔ اسی طرح تہذیب کی ایک بڑی بنیاد تاریخ ہے۔ جب تک تاریخ کی کتاب زندہ ہے، اُس وقت تک انسانی تہذیبی اختلاف بھی زندہ رہے گا۔ یہ واضح ہے کہ تاریخ سے سبق تو حاصل کیا جاسکتا ہے مگر تاریخ کو فراموش کرنا کسی کے بس میں نہیں۔ تہذیب کے کچھ مزید اہم عوامل رنگ، نسل، زبان اور جغرافیہ ہیں۔ ان سب کو نہ تو یک جان کیا جاسکتا ہے اور نہ یہ ممکن ہے کہ صرف ایک کو زندہ رکھ کر باقی سب کو فنا کردیا جائے۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ ایک تہذیب کے علمبرداروں نے کسی دوسری تہذیب کے کچھ پیرووں کو ساتھ ملاکر اپنی تہذیب کے کچھ لوگوں کے خلاف عظیم جنگیں لڑی ہیں۔ 
تہذیبیں اور ان کے مظاہر بعض اوقات تبدیل بھی ہوتے رہتے ہیں۔ بعض اوقات وہ بہت ٹھوس شکل میں موجود ہوتے ہیں اور بعض اوقات اُن میں دوسری تہذیبوں کی کچھ اقدار کی ملاوٹ اس طرح ہوجاتی ہے کہ وہ اُن میں تحلیل ہوکر کچھ اور ہی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔ہمارے خیال میں یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دنیا آزمائش کی جگہ ہے۔ اگر یہاں کسی ایک تہذیب کو کامل غلبہ مل جائے ،یاسب تہذیبیں پرامن بقائے باہمی کے اصول پر زندہ رہ کر آپس میں شیروشکر ہوجائیں تو آزمائش کا مقصد فیل ہوجائے گا۔ قیامت کی نشانیاں شروع ہونے سے پہلے یہ بھی ممکن نہیں کہ دنیا کے اندر ایک ایسی عظیم نیوکلیائی جنگ شروع ہوجائے جس میں سب کچھ زیروزبر ہوجائے، کیونکہ یہ بھی پروردگار کے فیصلے کے خلاف ایک عمل ہوگا۔ یہ بھی ممکن نہیں کہ دنیا کے اندر کسی ظالم قوت کو اتنی بڑی طاقت مل جائے کہ خیر کی قوتیں فیصلہ کن طور پر مفتوح ہوجائیں یا ختم ہوجائیں۔ اس کے بارے میں پروردگار کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ دنیا کے اندر مختلف ظالم قوتوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع کرتا رہتا ہے تاکہ دنیا کے اندر خیر کا چراغ بجھنے نہ پائے۔ اس حقیقت کو قرآن مجید نے سورۃ بقرہ، آیت251اور سورہ حج آیت41میں وضاحت کے ساتھ بیان کردیا ہے۔ 
اس بحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ دنیا میں مختلف ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان میں مسلسل کشمکش بھی جاری رہے گی اور پرامن بقائے باہمی پر بھی عمل ہوگا۔ البتہ وقت کی غالب تہذیب وہی ہوگی جسے دنیوی علم اور صبروحکمت کے لحاظ سے فوقیت حاصل ہوگی۔