تیسرا باب 

ہم میں سے ہر شخص کی خواہش اور اُس کا مطالبہ ہے کہ ملک میں اسلامی نظام نافذ کیا جائے ۔ اسی لیے وطنِ عزیزمیں پچھلے ساٹھ برس سے تسلسل کے ساتھ یہ نعرہ لوگوں کے دلوں کو گرما رہا ہے۔ لیکن اسلامی نظام ہے کیا چیز؟ اس کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں؟ اگرچہ اس موضوع پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ لیکن اب بھی ایک ایسی تحریر کی ضرورت ہے جو سادہ اور واضح الفاظ میں ہمیں بتائے کہ اسلامی نظام کیا چیز ہے اور مسلمان ممالک اُس سے کتنے دور ہیں۔ 
الحمدللہ، اس دنیا کے تقریباً سبھی مسلمان اسلام پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ چنانچہ جس ملک میں بھی مسلمانوں کی اکثریت ہے اور ریاست کا نظام مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے، وہ ایک مسلمان یا باالفاظ دیگر اسلامی ملک ہے۔ ایک مسلمان تین طرح کا ہوسکتا ہے، یعنی بہت اچھا مسلمان، درمیانہ مسلمان یا ایک بُرا مسلمان۔ بالکل اسی طرح مسلمانوں کی ریاست بھی تین طرح کی ہوسکتی ہے، یعنی بہت اچھی مسلمان ریاست، ایک درمیانی مسلمان ریاست یا ایک بُری مسلمان ریاست۔ 
کچھ عرصہ پہلے ایک بڑے صاحبِ علم کی طرف سے ایک اصطلاح استعمال کی گئی تھی۔ وہ تھی ’’مسلمانوں کی کافرانہ ریاست‘‘۔ اس راقم کے نزدیک ایسی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ایک گئی گزری مسلمان ریاست کو بُری ریاست تو کہا جاسکتا ہے، مگر اسے کافرانہ ریاست نہیں کہنا چاہیے۔ 
ظاہر ہے کہ دنیا بھر کی سبھی ریاستیں اپنی سرحدات کی حفاظت کرتی ہیں اور اپنے ملک کے اندر امن وامان کو قائم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ تاہم اس سے آگے بڑھ کر قرآن مجید نے ایک بہت اچھی مسلمان ریاست کے سامنے بطورِ مقصد چند مزید معیارات رکھے ہیں۔ ان معیارات پر حضورؐ نے عمل فرمایا، اور پھر صحابہ کرامؓ نے بھی ان پر عمل کیا۔ ظاہر ہے کہ یہ ہمارے لیے ایک منزل اور روشنی کے مینار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آج کے اس دور میں بھی ہمارے لیے وہی معیارات ہیں، تاہم یہ بات واضح ہے کہ اُن پر عمل کے سلسلے میں ہم صحابہ کرامؓ کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتے، تاہم اس منزل کی طرف ہم اپنا سفر ضرور جاری رکھیں گے۔ قرآنِ کریم اور سنت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک معیاری مسلمان ریاست کو درج ذیل چیزوں پر عامل ہونا چاہیے۔ 


1۔ جمہوری طرزِ حکومت:

ایک معیاری مسلمان حکومت خالص جمہوری ریاست ہوتی ہے، جہاں حکمران عوام کی رائے سے منتخب ہوتے ہیں اور عوام کی رائے ہی سے معزول ہوتے ہیں۔ جہاں آزادئ رائے اور آزادئ تحریر وتقریر ہوتی ہے۔ جہاں حکمرانوں کا احتساب روزمرہ کا معمول ہوتا ہے۔ جہاں حکمران سب سے بڑھ کر خود قانون پر عمل کرنے والے ہوتے ہیں اور جہاں حکمرانوں کا طرزِعمل عام لوگوں کے لیے ایک بہترین ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ جہاں حکمران کے دروازے شب وروز لوگوں کے لیے کھلے رہتے ہیں اور جہاں ایک حکمران اپنا معیارِ زندگی اختیاری طور پر ایک عام انسان کی سطح تک لے آتا ہے۔ 


2۔ اقامتِ صلواۃ :

اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کے سبھی ذمہ دار لوگ نماز کا اہتمام کریں۔ جمعہ اور عیدین کا خطبہ ریاست کے ذمہ دار افراد دیں۔ اور مملکت کے اندر ایک ایسا ماحول بنایا جائے جس میں نماز کی پابندی ایک معمول بن جائے۔ 
حضورؐ کی سنت سے یہ امر بھی واضح ہے کہ یہ سارا کام ترغیب اور تلقین سے کیا جائے گا۔ اور اس کے نفاذ میں طاقت کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔


3۔ زکواۃ کی ادائیگی:

اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومتی سطح پر زکواۃ کو جمع کرنے اور اس کی تقسیم کا پورا نظام بنایا جائے۔ اس راقم کو اُن اہلِ علم کی رائے سے اتفاق ہے جن کے خیال میں زکواۃ وہ واحد ٹیکس ہے جو ایک مسلمان ریاست اپنے باشندوں سے لے سکتی ہے۔ 
حضورؐ کی سنت سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ زکواۃ کے جمع کرنے میں پہلے ترغیب اور تلقین سے کام لیا جائے گا، تاہم اس کے نفاذ میں طاقت بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔ 


4۔ ہر اچھی، مثبت اور مفید بات کی ترویج: 

ایک اچھی مسلمان ریاست مسلسل یہ کوشش کرے گی کہ اپنے ملک میں ہر اُس اچھی اور مثبت بات کو ترغیب وتلقین کے ذریعے ترویج دے جو انسانی ضمیر کے متفقہ فیصلے کے مطابق اچھی ہے اور جو تجربے سے بھی ایک مفید چیز ثابت ہوچکی ہے۔گویا یہ عالمی اقدار (universal values) ہیں۔مثلاً تجربے سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ہر بچے کی پہلی بارہ برس کی تعلیم ریاست کی طرف سے مفت اور لازم ہونی چاہیے۔ چنانچہ ایک اچھی مسلمان ریاست کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ اس پر عمل درآمد کرے۔ اسی طرح معاشرے کے اندر کمزور اور نادار افراد کو ضروریاتِ زندگی مہیا کرنا ایک اچھی ریاست اور اچھی سوسائٹی کا فرض ہے۔ ایسی سب چیزوں کو’’معروف‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان میں سے بہت سے امور کی طرف قرآن وحدیث میں بھی توجہ دلائی گئی ہے۔ 
ایک اسلامی سوسائٹی کی اپنی تہذیب اور آداب ہوتے ہیں۔ یہ سارے آداب حضورؐ کی سنت کے ذریعے امت کو منتقل ہوئے ہیں، اور ان کو امتِ مسلمہ ہمیشہ سے جانتی اور پہچانتی ہے۔ ان میں ایک دوسرے سے ملاقات کے آداب، ذاتی صفائی کے آداب اور پیدائش سے لے کر جنازے اور تجہیز و تکفین تک کے آداب شامل ہیں۔ ان میں دو انتہائی اہم آداب حیا اور حفظِ مراتب بھی ہیں۔ یہ سب آداب بھی معروفات میں شامل ہیں۔ مسلمان حکمرانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان تمام آداب پر بھرپور عمل کریں تاکہ پوری قوم ان کی پیروی کرے۔ ان تمام آداب پر بھی عمل درآمد ترغیب وتلقین کے ذریعے ہوگا۔ 


5۔ ہربُری چیز کی حوصلہ شکنی: 

ایک اچھی مسلمان ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہر اُس بری چیز سے معاشرے کو پاک صاف رکھنے کی کوشش کرے جس کے متعلق انسانی ضمیر کا یہ اتفاق ہے کہ یہ بری چیز ہے اور تجربے سے بھی یہ بات ثابت ہوچکی ہو۔ گویا یہ عالمی برائیاں(Universal evils)ہیں۔ قرآن وحدیث نے بھی ایسی بہت سی چیزوں کی طرف توجہ دلائی ہے، مثلاً رشوت، بدعنوانی، ملاوٹ، بددیانتی وغیرہ۔ موجودہ زمانے میں ایسی مزید بہت سی چیزیں اس فہرست میں شامل ہوگئی ہیں جن کی طرف پہلے لوگوں کی توجہ نہیں گئی تھی مثلاً ہوا اور پانی کی آلودگی یا مختلف بیماریاں کے پھیلاؤ کے طریقے۔ چنانچہ ان چیزوں کی روک تھام ہونی چاہیے۔ ایسی سب بُری چیزوں کو ’’منکر‘‘ کہا جاتا ہے۔ اگرچہ منکر کو روکنے کے لیے بھی پہلے ترغیب وتلقین ہی کا ذریعہ استعمال ہوگا، تاہم اس ضمن میں ریاست طاقت بھی استعمال کرسکتی ہے۔ 


6۔ انصاف اور جرائم کی سزائیں: 

ایک مسلمان ریاست کی بہت بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ملک میں انصاف کا ایک ہمہ گیر نظام نافذ کرے جس میں مظلوموں کو انصاف ملے اور ظالموں کو سزا ملے۔
اصل جرائم کسی انسان کی جان، مال اور آبرو کے خلاف جرائم ہیں۔ جرائم کی اس فہرست میں وہ سب جرائم شامل ہیں جن کو سارے انسانی معاشرے جرم سمجھتے ہیں۔ البتہ چار جرائم ایسے ہیں جن کو بعض انسانی معاشرے جرم نہیں سمجھتے، لیکن اسلام کے نزدیک وہ بھی جرائم ہیں۔ وہ ہیں زنااور اس کے متعلقات، شراب نوشی، جوا، اور سود۔ 
قتل، کسی پر حملہ، ڈاکہ اور چوری وغیرہ سارے انسانی معاشروں کے مطابق جرائم ہیں۔ اسلام بھی ان سب کو جرائم قرار دیتا ہے۔ تاہم اسلام نے ان میں سے بعض جرائم کی سزائیں بھی بیان کردی ہیں۔ یہ سزائیں اُس وقت نافذ کی جاتی ہیں جب سوسائٹی کے اندر اُن جرائم کی طرف جانے والے راستوں کا سدباب کیا جاچکا ہو، عوام کی اخلاقی تربیت معیاری سطح تک کی جاچکی ہو اور مجرم سے جرم اپنی آخری انتہا میں سرزد ہوچکا ہو۔ یہ سزائیں غیر مسلموں کے لیے نہیں ہیں۔ غیر مسلم مجرموں کے لیے غیرمسلم عوام سے مشورے کے مطابق قانون سازی کی جاسکتی ہے۔ 


7۔ وراثت اور دوسرے معاشرتی احکام کا نفاذ: 

قرآن مجید نے ہمیں نکاح وطلاق،لباس اور وراثت وغیرہ سے متعلق احکام دیے ہیں۔ ان کے لیے مثبت طور پر قانون سازی کرنا ریاست کے لیے ضروری ہے۔ 
درج بالا تفصیل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام ہمیں حکومت وریاست کے متعلق کچھ اصول تو ضرور دیتا ہے، مگر اُن معنوں میں ایک پورا نظام نہیں دیتا جن معنوں میں موجودہ زمانے میں نظام کا لفظ بولا جاتا ہے۔ ریاست وحکومت کے متعلق اسلام کی یہی ہدایات ہیں۔ ہمارے حکمران ان میں سے کچھ چیزوں پر کسی حد تک عمل پیرا ہیں اور کچھ چیزوں پر کوئی عمل نہیں ہورہا۔بلکہ ایک عجیب سی بات تو یہ ہے کہ ان میں سے چند نکات پر عمل درآمد میں باقی دنیا ہم سے آگے بڑھ گئی ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے قول وفعل میں بہت زیادہ تضاد آگیا ہے۔
موجودہ مسلمان ممالک میں اسلامی نظام کا پہلا قدم جمہوریت ہے۔ اس کے بعد عمومی انصاف، معروف کی ترویج ، منکر کا استیصال اور کچھ جرائم کی خصوصی سزاؤں کا نفاذ ہے۔ اگر ایک دفعہ کسی مسلمان ملک میں حقیقی جمہوری کلچر وجود میں آجائے تو وہاں کے مسلمانوں کا اجتماعی ضمیر خودبخود ایک دباؤ میں ڈھل کر حکمرانوں کو باقی اقدامات پر مجبور کردے گا۔