مولانا محترم نے آٹھویں بات یہ فرمائی ہے کہ اگر اسلامی حکومت موجود ہی نہ ہو تو پھر اس کے لیے منظم اور اجتماعی جدوجہد کرنا ایک دینی فریضہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس فرض کو ادا کرنے کے لیے جو جماعتیں، دین و شریعت اور سنت رسول اور سنت اصحاب رسول کے اصول و ہدایات کے مطابق کام کر رہی ہوں، ان میں سے جس پر زیادہ اعتماد ہو، اس میں شمولیت اختیار کرنا اور اس کے نظم کا التزام کرنا لازم ہے۔
وہ لکھتے ہیں:

’’آج پورے عالم اسلام میں اور ہمارے ملک پاکستان میں بھی ’’الجماعۃ‘‘ یعنی اقامت دین کا فرض انجام دینے والی اسلامی حکومت موجود نہیں ہے بلکہ ایسی حکومتیں قائم ہیں جو عملاً لا دین سیاست کے اصول پر کام کر رہی ہیں۔ تو کیا اس نظام کو بدلنے اور اسلامی نظام کے قیام کے لیے جدوجہد کرنا امت مسلمہ پر فرض ہے یا نہیں ؟ اگر فرض نہیں ہے، تو پھر طاغوت سے انکار، نہی عن المنکر اور جہاد سے متعلق آیات کا مفہوم کیا ہے ؟ اور اگر فرض ہے اور یقیناً فرض ہے تو پھر دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس فرض کی ادائیگی کے لیے انفرادی جدوجہد کافی ہے، یا اس کے لیے اجتماعی جدوجہد کرنا ضروری ہے ؟ میرے خیال میں اس سوال کا جواب ہر ایک کو معلوم ہے کہ ایک اجتماعی نظام کو مٹانے اور اس کی جگہ اسلام کا اجتماعی نظام لانے کے لیے اجتماعی جدوجہد کا نظام قائم کرنا ضروری ہے۔ اور اسی اجتماعی جدوجہد کے نظام کو جماعت اور تنظیم کہا جاتا ہے۔ ایک مسلمہ قاعدہ ہے کہ فرض کا موقوف علیہ بھی فرض ہوتا ہے۔ لہٰذا اقامت دین کی جدوجہد کے لیے دینی جماعتیں بنانا ضروری ہے۔‘‘ (ماہنامہ فاران، جون ۱۹۹۵ء، ۳۳)

مولانا محترم کی یہ بات تو بالکل ٹھیک ہے کہ اگر ’’اقامت دین‘‘ کی جدوجہد کرنا فرض ہے تو پھر ہر ایسا انتظام جو اس جدوجہد کے لیے ناگزیر ہو، آپ سے آپ لازم ہو جائے گا۔ مگر ہمارا مولانا سے سوال یہ ہے کہ ’’اقامت دین‘‘ کے لیے ’’جدوجہد‘‘ قرآن مجید کی کس آیت کے تحت ’’فرض‘‘ ہوئی ہے؟
مولانا محترم مثبت طور پر اس بات کی کوئی دلیل دینے کے بجاے یہ فرماتے ہیں کہ اگر ’’اقامت دین‘‘ کی جدوجہد فرض نہیں ہے تو پھر طاغوت کے انکار، نہی عن المنکر اور جہاد سے متعلق آیات کا مفہوم کیا ہے ؟ ہم افسوس کے ساتھ یہ اعتراف کرتے ہیں کہ طاغوت کے انکار، نہی عن المنکر اور جہاد سے متعلق آیات کا ’’اقامت دین‘‘ کے لیے کسی جدوجہد کے ساتھ کوئی تعلق ہماری سمجھ میں نہیں آیا۔
’’طاغوت سے انکار‘‘ کے معنی شیطان کی پیروی کرنے سے انکار کرنے کے ہیں۔ قرآن مجید میں ’’طاغوت‘‘ کا لفظ خدا اور رسول کے مقابلے میں قائم ہونے والی عدالتوں کے لیے بھی آیا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید سے زیادہ سے زیادہ جو بات نکلتی ہے، وہ یہ ہے کہ جب ایسی صورت پیدا ہو جائے کہ ایک طرف اللہ کا قانون نافذ ہو اور دوسری طرف اس کے مقابلے میں شیطانی نظام بھی کام کر رہا ہو تو مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ ’’طاغوت سے اجتناب‘‘ کریں۔ اس سے ہر گز یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اللہ کا نظام جہاں نافذ نہ ہو، وہاں اس کے نفاذ کی جدوجہد ’’طاغوت کا انکار‘‘ کرنے کی آیت کے تحت فرض ہو جاتی ہے۔ اسی طرح ’’نہی عن المنکر‘‘ کے معنی بری بات سے روکنے کے ہیں۔ یہ کام افراد کو اپنی سطح پر اور اجتماعیت کو اپنی سطح پر انجام دینا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ’’نہی عن المنکر‘‘ کے الفاظ میں وہ کون سی چیز ہے جو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اگر اجتماعیت یہ کام انجام نہیں دے رہی تو اس اجتماعیت کو بدل کر ایک ایسی اجتماعیت کو بنانے کی جدوجہد کرنا ’’فرض‘‘ ہے جو یہ کام انجام دے۔ مزید یہ کہ قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کی روشنی میں ایک عام آدمی کے لیے ’’نہی عن المنکر‘‘ اصلاً اپنے ماحول اور اپنے ملنے جلنے والوں میں حق اور حق پر ثابت قدمی کی خیرخواہانہ نصیحت کرنا ہے۔ جہاں تک جہاد و قتال کا تعلق ہے، اس کے بارے میں بھی قرآن مجید سے جو بات معلوم ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ کچھ شرائط پورے کرنے کے بعد، بعض صورتوں میں ایک اسلامی ریاست کے لیے مسلح اقدام کرنا جائز اور بعض صورتوں میں ضروری ہو سکتا ہے۔ اس سے بھی یہ بات کسی طرح نہیں نکلتی کہ اگر مسلمانوں کا نظم اجتماعی جہاد نہیں کر رہا تو مسلمانوں پر یہ لازم ہے کہ وہ انفرادی طور پر جہاد کے لیے نکل پڑیں یا ایسی حکومت قائم کرنے کی اجتماعی جدوجہد شروع کر دیں جو مولانا کے الفاظ میں اقامت دین کا فریضہ انجام دیتی ہو۔
دین و شریعت میں کسی چیز کو فرض، واجب یا نفل قرار دینا اللہ ہی کا کام ہے۔ پیغمبر کے بعد یہ کسی شخص کا مقام نہیں ہے کہ وہ اپنے قیاس و اجتہاد سے کسی چیز کو ’’فرض‘‘ قرار دے۔ دین میں کسی چیز کو غلط طور پر فرض، واجب یا مستحب قرار دینے سے دین کا مجموعی توازن بگڑ سکتا ہے، اس وجہ سے ہمارے نزدیک مولانا محترم کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں ایسی واضح نصوص کی طرف ہماری رہنمائی فرمائیں جو ’’اقامت دین‘‘ کا ’’فریضہ‘‘ انجام دینے والی حکومت قائم کرنے کی جدوجہد کو فرض قرار دیتی ہیں۔ ظاہر ہے، اگر یہ جدوجہد مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ نے فرض ٹھہرائی ہے تو مولانا محترم کو کسی منطقی استدلال کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ انھیں دین کے ماخذ میں ایسی واضح اور قطعی نصوص مل جائیں گی جن کے نتیجے میں ان کا مقدمہ آپ سے آپ ثابت ہو جائے گا۔ دین میں جو کچھ فی الواقع فرض ہے، اس کی فرضیت کے بارے میں قرآن مجید اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے واضح اور قطعی ارشادات موجود ہیں کہ ان ارشادات ہی کو نقل کر دینے سے ہر شخص پر ان معاملات کا لازمی ہونا ظاہر ہو جاتا ہے۔ پھر آخر کیا وجہ ہے کہ ’’اقامت دین‘‘ کرنے والی حکومت بنانے کی جدوجہد کا معاملہ اس سے مستثنیٰ ہو ؟

[۱۹۹۹ء]

____________