اسی اثنا میں معاشرے کے اندر ایک اور تبدیلی بھی آتی رہی۔ اس تبدیلی کو اب ریناساں(Renaissance)کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے ’’نشاۃ ثانیہ‘‘ ۔کتابوں کے پھیلاؤ کے ساتھ معیشت اور معاشرت میں بہت بنیادی تبدیلیاں آئیں۔ پرانی فراموش کردہ کتابوں کو ازسرِنو شائع کیا گیا۔ لوگوں کی توجہ نئے نئے علوم کی طرف گئی۔ سب سے پہلے معاشرتی علوم کی طرف توجہ گئی۔ اسے ہیومن ازم (Humanism)یعنی انسان دوستی کی تحریک کہا جاتا ہے۔ معاشرتی علوم کے ساتھ ساتھ لوگوں کی توجہ سائنسی علوم کی طرف بڑھنے لگی۔ پہلے تو پرانے سائنس دانوں مثلاً افلاطون کی کتابیں چھپ گئیں اور پھر بہت سے مہم جوؤں نے براہ راست سائنس کی طرف اپنی توجہ مرکوز کرلی۔ مثلاً ایندریاس وسیلئیس (Andreas vesalius)نے 1543ء میں انسانی بدن کی ساخت پر کتاب لکھی۔ اٹلی کی ایک یونی ورسٹی ’’پیڈوا (Padua)نے بالخصوص ابتدائی بڑے سائنس دان پیدا کیے، مثلاً کوپر نیکس، گلیلیو،ویلیم ہاروے۔ انہی تحقیقات پر بعد میں نیوٹن نے بڑے قیمتی اضافے کیے۔ 
یہ ساری کشمکش ڈھائی تین سو برس تک جاری رہی۔ اس تنازعے میں بہت سے لڑائی جھگڑے ہوئے، بہت سا خون بہا اور دونوں طرف کے ہزاروں لاکھوں افراد نے ایک دوسرے کا خون بہایا۔ کبھی پرانے لوگ غالب آجاتے تھے اور کبھی نئے لوگوں کو کامیابی ملتی تھی، لیکن یہ بات واضح ہے کہ آخری کامیابی سائنس اور عقل ہی کی تھی۔ مثلاً گلیلیو کوپوپ کی جانب سے اس کی ایجادات کے جرم میں گناہ گار ٹھہرایا گیا۔ اس کا جرم یہ تھا کہ وہ زمین کے بجائے سورج کو کائنات کا مرکز مانتا تھا۔اگرچہ1633ء میں اس نے اپنے سارے خیالات سے ’’توبہ‘‘ کرلی، تاہم اس نے تجربے اور لکھنا جاری رکھا، اگرچہ اب اس کی تحریریں اٹلی کے بجائے ہالینڈ سے چھپتی تھی۔ گلیلیو کی تحقیقات کی وجہ سے دوربین، خوردبین اور کئی دوسرے آلات بھی ایجاد ہوئے۔ درج بالا تبدیلوں کی وجہ سے انسانی سوچ میں بھی بہت تبدیلی آئی اور دانش وروں نے اس بات پر زور دینا شروع کیا کہ کسی قسم کی سنسرشپ اور دباؤ کے خوف سے آزاد ہوکر ہر معاملے پر آزادانہ مکالمے کی اجازت ہونی چاہیے۔ اس تحریک کو بعد میں Enlightenmentیعنی روشن خیالی کا نام دیا گیا۔ اس تحریک کی وجہ سے لوگوں میں ملکی معاملات پر سوچ بچار اور پڑھنے لکھنے کا شوق بہت بڑھ گیا۔ چنانچہ اٹھارہویں صدی کے خاتمے میں، گویا1799ء سے پہلے پہلے، یورپ کے اکثر ممالک کے دوتہائی مرد تعلیم یافتہ ہوگئے۔ عورتوں میں بھی تعلیم یافتہ خواتین کی تعداد ایک تہائی تک ہوگئی۔ مکالمے اور اظہارِ رائے کی آزادی کی وجہ سے لوگوں میں قوت برداشت پیدا ہوگئی، چنانچہ تخلیقی سرگرمیاں بہت تیزی سے زور پکڑنے لگیں۔ 
پندرہویں صدی کے خاتمے سے پہلے پہلے یورپ نے بحری راستوں پر اپنی اجارہ داری بڑی حد تک قائم کرلی تھیں۔ اگرچہ اس وقت سلطنت عثمانیہ کے پاس بھی ایک بڑی بحری قوت موجود تھی، تاہم اس نے اپنی قوت کو صرف جنگی مقاصد تک محدود رکھا۔ اس کے برعکس یورپی جہازرانوں نے اپنے ملک سے نکل کر باقی دنیا کو دریافت کرنے، اس سے تجارت کرنے اور بالآخر اس پر قبضہ کرنے کو اپنا مقصد بنالیا۔ اس راقم کے نزدیک Industrial Revolutionیعنی صنعتی انقلاب کی ابتدا یہاں سے ہوئی۔ اس ارتقاء نے زمین کی حیثیت کو بدل دیا۔ اس سے پہلے یہ قانون تھا کہ جاگیر کی وراثت صرف بڑے بیٹے کو ملتی تھی، مگر اب جائیداد سب میں تقسیم ہونے لگی۔ کئی یورپی ملکوں مثلاً ڈنمارک، سویڈن اور ناروے نے 1780ء کی دھائی میں جاگیرداری نظام کو ختم کردیا گیا اور زمین کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے کسانوں کو فروخت کردیا گیا ۔یہ انقلاب کن ایجادات کی بدولت ہوا، اس کا مختصر جائزہ مفید رہے گا۔ 
O۔ 1769ء: جیمز واٹ نے بھاپ سے چلنے والا انجن ایجاد کیا۔ 
O۔ 1776ء: ہنری کیونڈش نے ہائیڈروجن گیس تیار کرلی۔ اور سٹیفن اور ماؤنٹ گالفیا نے غبارہ ایجاد کیا۔ 
O۔ 1784ء: ابتدائی شکل کا پہلا ہوائی جہاز بنا جس میں ہائیڈروجن بھری جاتی تھی۔ 
O۔ 1785ء: جیمز ہٹن نے اپنی کتاب ’’نظرےۂ ارض‘‘ شائع کی۔ اس میں ولیم سمتھ اورلامار نے مزید اضافے کرکے چٹانوں کی ساخت وغیرہ کے متعلق معلومات بہم پہنچائیں۔ 
O۔ 1786ء: گالوانی نے بجلی کی رو ایجاد کی اور وولٹا نے سب سے پہلی بیٹری ایجاد کی۔ 
O۔ 1794ء: فرانس میں کلارڈ شیکے نے تار برقی(Telegram)کی ابتدائی شکل ایجاد کرلی۔ 
O۔ 1797ء: امریکہ کے ایک شخص چارلس نیوبولٹ نے لوہے کا ہل تیار کیا۔ 
O۔ 1798ء: سٹین نے لوہے کے ڈھانچے والا چھاپہ خانہ بنایا۔ 
O۔1802ء: بھاپ سے چلنے والی پہلی کشتی تیار ہوئی ۔ 
O۔ 1803ء: بڑے پیمانے پر کاغذ سازی کی مشین بنی۔ 
O۔ 1804ء: ٹریوی تھک نے پہلا انجن ایجاد کیا اور اسے ریلوے میں استعمال کیا۔ 
O۔ 1805ء: رابرٹ فلٹن نے پہلی تارپیڈو بنائی۔ 
O۔ 1807ء: لندن کے اندر پہلی مرتبہ گیس کی روشنی لگائی گئی۔ 1820ء تک شہر کے بڑے حصے میں یہ بلب لگا دیے گئے۔ 
O۔ 1809ء: ہمفرے ڈیوی نے ایک ایسا لیمپ ایجاد کیا جو کھدائی کے دوران میں کانوں کے اندر محفوظ طریقے پر استعمال ہوسکتاتھا۔ 
O۔ 1820ء: بیلن والا چھاپہ خانہ ایجاد کیا گیا، جسے لندن ٹائمز نے فوراً اپنے ہاں لگایا دیا۔ 
O۔ 1814ء: سٹیفن سن نے ریل گاڑی میں استعمال کے لیے بھاپ کا انجن مکمل کرلیا۔ 
O۔ 1816ء: دوپہیوں والا بائی سائیکل بنایا گیا۔ 
O۔ 1818ء: بحری جہازوں میں لوہا استعمال ہونے لگا۔ 
O۔ 1819ء: بھاپ سے چلنے والا یعنی پہلا دخانی بحری جہاز امریکہ سے برطانیہ کے شہر لیورپول پہنچا۔ 
O۔ 1819ء: رینی لائی نیک نے سٹیتھوسکوپ ایجاد کیا جس سے میڈیکل سائنس میں دل کی دھڑکن سننے کا آغاز ہوا۔ 
O۔ 1821ء: فیراڈے نے بجلی کی موٹر اور بجلی پیدا کرنے والا آلہ ایجاد کیا۔ 
O۔ 1822ء:ولیم چرچ نے ٹا ئپ کی پہلی مشین بنائی۔ 
O۔ 1824ء:فرانس میں توپ کا نیا پھٹنے والا گولہ اور اس کی توپ ایجاد ہوئی جس نے جنگ کی تاریخ میں انقلاب برپا کیا۔ 
O۔ 1825ء:انگلستان میں سب سے پہلی ریلوے لائن کا افتتاح ہوا۔ 
O۔ 1825ء: جیمز مل کی میڈیکل سائنس کے متعلق کتاب شائع ہوئی جس میں اس نے انسانی دل کے بارے میں معلومات پیش کیں۔ 
O۔ 1827ء: کیمرہ ایجاد ہوا۔ 
O۔ 1830ء: سرچارلس لائل نے زمین کی مختلف تہوں کی ساخت کے متعلق اپنی تحقیقات پیش کی۔ 
O۔ 1832ء: مورس نے مکمل ٹیلی گرام ایجاد کیا۔ 
O۔ 1834ء: فصل کاٹنے والی مشین بنائی گئی۔ 
O۔ 1835ء: فیراڈے نے برقی مقناطیس کی طاقت کا مظاہرہ کیا جس سے Electro Magneticکی سائنس کی بنیاد پڑی۔ 
O۔ 1836ء: سوئی دار بندوق ایجاد ہوئی۔ یہی بندوق اب تک استعمال کی جاتی ہے۔ 
O۔ 1836ء:امریکہ میں ریوالور ایجاد ہوا۔ 
O۔ 1838ء: حیوانی خلیے یعنی Cellکا نظریہ دریافت ہوا۔ 
O۔ 1839: ربر میں گندھک ملاکر اس میں لچک پیدا کی گئی اور اس سے ٹائر بنائے گئے۔ 
O۔ 1839ء: محوری گردش والی موٹر کو کشتی میں لگایا گیا۔ 
O۔ 1839ء: ایسٹ انڈیا کمپنی نے انگلستان سے مصرتک دخانی جہاز چلانے شروع کیے۔ وہاں سے مسافروں اور سامان کو سویز پہنچایا جاتا تھا، جہاں دوسرے جہاز ان کو ہندوستان لے جاتے تھے۔ 
O۔ 1840ء: بجلی کی روشنی ایجاد ہوگئی۔ 
O۔ 1842ء: فلپس نے ہیلی کاپٹر بنایا جو بھاپ کی قوت سے چلتا تھا۔ 
O۔ 1846ء: امریکہ میں سیونگ مشین ایجاد ہوئی۔ 
O۔ 1848ء: یہ دریافت ہوا کہ ایتھر کوانسانی جسم کے سن کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ 
O۔ 1851ء: امریکہ اور برطانیہ کے درمیان سمندر کے نیچے ٹیلی گراف لائن بچھائی گئی۔ 
O۔ 1855ء: رائفل بنانے کا اصول توپوں اور دوسرے اسلحے میں استعمال ہونے لگا۔ اس سے دور مار توپیں وجود میں آئیں جن کا نشانہ بالکل ٹھیک تھا۔ (یہاں یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ اسی دور میں یعنی 1857ء میں ہندوستان کی جنگ آزادی ہوئی تھی۔اُس وقت سارا عالمِ اسلام ان ایجادات اور تحقیقات سے بالکل بے خبرتھا)۔ 
O۔ 1859ء: چارلس ڈارون نے اپنی کتاب (Origion of the (species یعنی ’’اصلِ انواع‘‘ شائع کی۔ 
O۔ 1859ء: مشین کے ذریعے سے پٹرول نکالنے کا سلسلہ جاری ہوا۔ اسی سال میں فرانس میں نپولین نے پہلی مرتبہ ایسی کشتی تیار کرائی جو پوری کی پوری لوہے سے منڈھی ہوئی تھی۔ 
O۔ 1860ء: ایک سے زیادہ گولیاں چلانے والی رائفل ایجاد ہوئی۔ 
O۔ 1862ء: کلدار توپ بنائی گئی اور گیس سے چلنے والا انجن ایجاد ہوا۔ 
O۔ 1864ء: ریل گاڑی کے ایسے ڈبے بنائے گئے جن میں سونے کا انتظام موجود تھا۔ 
O۔ 1865ء: ایتھر کے ذریعے انسانی جسم کے مختلف حصوں کو سن کرکے ان پرسرجری کا طریقہ ایجاد کیا گیا۔ 
O۔ 1869ء: کیمرے میں رنگ دار تصویروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ 
O۔ 1869ء: نہر سویز کا افتتاح ہوا۔ 
O۔ 1875ء: چھاپے کی روٹری مشین ایجاد ہوئی۔ 
O۔ 1876ء: گراہم بیل نے ٹیلی فون ایجاد کیا۔ 
O۔ 1877ء:ایڈیسن نے فونو گراف ایجاد کیا اور دو برس بعد بجلی کا بلب بنالیا۔ 
O۔ 1880ء: ملیریا بخار کے جراثیم اور اس کے مچھر کو دریافت کیا گیا۔ 
O۔ 1883ء:فوٹو گرافی کے لیے سیلولائیڈ فلم بنی۔ 
O۔ 1883ء: خناق(diphtheria)کے جراثیم کا پتہ لگالیا گیا، اور ان کو ختم کرنے کے لیے سیرم تیار کرلیا گیا۔ 
O۔ 1884ء: دور دراز کے علاقوں کو ٹیلی فون کے ذریعے ملادیا گیا۔ 
O۔ 1884ء: تپ دق(T.B)اور ہیضے (Cholera)کے جراثیم دریافت کیے گئے۔ 
O۔ 1885ء: لوئی پاسچر نے باولے کتوں کے کاٹنے کے جراثیم دریافت کرلیے اور ان کے لیے ٹیکہ بھی تیار کرلیا۔ 
O۔ 1885ء: آبدوزیں تیار کرلی گئیں۔ 
O۔ 1886ء: بغیر دھوئیں کے بارود کو ایجاد کرلیا گیا۔ 
O۔ 1887ء: ایڈیسن نے متحرک تصاویر کی مشین ایجاد کیں، جس سے آگے چل کر سینما کی فلمیں بنیں۔ 
O۔ 1887ء: موٹر کاریں بنیں۔ 
O۔ 1892ء: برق پاروں کا نظریہ پیش کیا گیا۔ 
O۔ 1894ء: پٹرول سے چلنے والی موٹر کاریں بنیں۔ ایک سال بعد ڈیزل انجن بھی ایجاد ہوا۔ 
O۔ 1894ء: طاعون (Plague)کے جراثیم کا پتہ لگالیا گیا۔ 
O۔ 1895ء: مارکونی نے تار کے بغیر برقی پیغامات بھیجنے کا کامیاب تجربہ کرلیا۔ 
O۔ 1895ء: ایکسریز(X-Rays)دریافت کی گئیں۔ 
O۔ 1896ء: ٹائی فائیڈ کے جراثیم دریافت کرلیے گئے اور اس کا ٹیکہ ایجاد کرلیا گیا۔ 
O۔ 1898ء: مادام کیوری نے ریڈیائی لہروں سے ریڈیم کو الگ کرلیا۔ 
O۔ 1903ء: دوامریکی بھائیوں ولبر رائٹ اور اوررائٹ نے پہلا صحیح ہوائی جہاز تیار کیا۔ 
O۔ 1904ء: آواز کے ساتھ متحرک تصویریں ایجاد کی گئیں۔ 
O۔ 1905ء: آئن سٹائن نے نظرےۂ اضافیت(Theory of Relativity) پیش کیا۔ 
O۔ 1906ء: پہلی مرتبہ برطانیہ میں ایسے بحری جہاز بنائے گئے جن پر بھاری توپیں نصب تھیں۔ 
O۔ 1906ء: وٹامن دریافت کیے گئے۔ 
O۔ 1911ء:ردر فورڈ نے ایٹم کو پھاڑنے کے لیے پہلا قدم اٹھایا۔ 
O۔ 1913ء: آسمان میں موجود ستاروں اور سیاروں کا زمین سے فاصلہ معلوم کرنے کا طریقہ دریافت کرلیا گیا۔ 
O۔ 1913ء:ٹائفس بخار کا علاج دریافت کیا گیا۔ 
O۔ 1920ء: ردرفورڈ نے ایٹم کو توڑنے کے ضمن میں مزید کامیابی حاصل کرلی۔ 
O۔ 1920ء: ریڈیو ایجاد ہوا۔ 
O۔ 1920ء: امریکہ کے چار فوجی ہوائی جہازوں نے پوری زمین کا چکر لگایا۔ 
O۔1927ء: ٹیلی ویژن شروع ہوا۔ 
O۔ 1944ء: کونین دریافت ہوئی۔ 
O۔ 1945ء: امریکہ نے ایٹم بم تیار کرلیا۔ 
1950ء کے بعد ترقی یافتہ دنیا میں جو ایجادات ہوئیں ان سے عام طور پر ہم واقف ہیں۔ مثلاً 1951ء میں پہلی مرتبہ کمپیوٹر بنالیا گیا۔ اس کے بعد اس میں مسلسل ترقی ہوتی رہی۔ حتیٰ کہ 1971ء میں گھریلو استعمال کے لیے بھی کمپیوٹر بننے لگے۔ اس کے بعد کمپیوٹر کی دنیا میں دن بدن جو ترقی ہورہی ہے، اس سے ساری دنیا واقف ہے۔ اسی طرح میزائل، مصنوعی خلائی سیارے، انسان کا چاند پر جانا، موبائل ٹیلی فون، فیکس، مریخ اور دوسرے سیاروں کی طرف خلائی جہاز بھیجنا اور اسی طرح کے دوسرے بے شمار ایجادات مثلاً مصنوعی سیاروں کے ذریعے بیک وقت سینکڑوں ٹیلی ویژن چینلز اور لاکھوں کروڑوں ٹیلی فون کے پیغامات بھیجنے کی داستان تو ہمارے سامنے ہی ہے۔ 
سوال یہ ہے کہ کیا اس پورے دور میں مسلمان دنیا کے اندر بھی کوئی ایجاد کی گئی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اسلامی دنیا کا یہ پورا دور ہر طرح کی ایجاد، دریافت اور انکشاف سے مکمل طور پر خالی ہے۔ یہ فی الوقت بھی خالی ہے اور مستقبل میں بھی کسی پیش رفت کی توقع نظر نہیں آتی۔ 
جمہوریت کی طرف پیش قدمی 
چھاپہ خانے کی ایجاد سے یورپ میں علم پھیلا۔ علم کے پھیلنے کے نتیجے میں لوگوں نے مذہبی پیشواؤں سے بغاوت کرلی اور ساتھ ہی یہ سوال اٹھایا کہ ہمارے بادشاہ آخرکس اتھارٹی کی رو سے ہم پر حکومت کررہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں یہ فکر پھیلی کہ حکومت کا حق صرف ایک خاص طبقے کو نہیں بلکہ اس ضمن میں ہر انسان کی رائے لینی ضروری ہے اس مقصد کے لیے یورپ میں بہت بڑا فکری کام ہوا۔ سینکڑوں دانش وروں اور مفکرین نے اس سلسلے میں شعور اور آگہی پھیلانے میں اپنا حصہ ادا کیا۔ ہابز، لاک،مانٹسکو(1748ء) اور روسو( 1762ء)اس میں چند اہم نام ہیں۔ 
جمہوریت کی طرف سب سے بڑی اور سب سے پہلی پیش رفت برطانیہ میں ہوئی، جہاں اگرچہ1500ء کے لگ بھگ پارلیمانی انتخابات شروع ہوچکے تھے، مگر1668ء کے شاندار انقلاب نے بادشاہ کے اختیارات کو بہت محدود کردیا۔ 1669ء میں ’’بل آف رائٹس‘‘ (Bill of Rights)پاس کیا گیا، جس کے تحت بادشاہ پارلیمنٹ کے انتخابات میں کوئی دخل نہیں دے سکتا تھا اور پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر کوئی ٹیکس بھی نہیں لگا سکتا تھا۔ اس کے بعد مسلسل جمہوریت کی طرف پیش قدمی ہوتی رہی۔ یہ وہ وقت تھا جب برصغیر میں اورنگ زیب کی حکومت تھی۔ 
اس سلسلے میں دوسری اہم ترین پیش رفت ’’فرانسیسی انقلاب‘‘ ہے۔ یہ انقلاب 1780ء میں امراء اور بادشاہ کے درمیان تصادم سے شروع ہوا، لیکن بہت جلد یہ متوسط طبقہ، عوام اور کسانوں کی بغاوت کی نتیجے میں ظاہر ہوا۔ اس انقلاب کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی اور ہر مرحلے پر اس کے راہنما بدلتے رہے، تاہم اپنی بنیاد میں یہ ایک مکمل عوامی انقلاب تھا۔ اگست1789ء کے پارلیمنٹ کے اجلاس میں جاگیر داری نظام کے خاتمے کا اعلان ہوا، چرچ کی جائیداد کو ضبط کرلیا گیا، امراء نے اپنی مراعات سے دستبرداری کا اعلان کیا اور ’’قراردادِ حقوق انسانی وشہری‘‘ (Declaration of Rights of Man and Citizen)پاس ہوا۔ اس میں اعلان کیا گیا کہ ہر فرد آزاد ہے، قانون کی نظر میں سب برابر ہیں، اقتدارِ اعلیٰ قوم کا حق ہے، کسی فرد کو بھی بغیر کسی وجہ کے قید نہیں کیا جائے گا اور نجی جائیداد کا تحفظ کیا جائے گا۔ اس انقلاب کے تین نعرے تھے ،یعنی آزادی، مساوات اور اخوت۔ اس انقلاب نے فرانس کے طبقاتی نظام پر زبردست ضرب لگادی اور ساری قوم کو متحد کرکے اس کو ایک نئی توانائی دی۔ اس انقلاب کے ذریعے دنیا میں پہلی مرتبہ ایک ملک یعنی فرانس نے جھنڈا اور قومی ترانہ روشناس کرایا۔ اس کے بعد دنیا کے باقی ملکوں میں بھی یہ رواج شروع ہوا۔ اگرچہ اس انقلاب کے بعد باربار ’’ردِّ انقلاب‘‘ آتے رہے، لیکن وہ شعوروآگہی کو آگے بڑھنے سے نہ روک سکے۔ اس انقلاب کے اثرات، سوائے روس کے، سارے یورپ میں پھیل گئے اور1844ء تک اکثر ممالک میں عوام کو پارلیمنٹ میں نمائندگی دی گئی۔ 
بہت جلد یہ شعور بھی پیدا ہوا کہ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ یہ تو ایک پورا کلچر ہے، جس کا ایک جُزویہ بھی ہے کہ حکمرانوں کے احتساب کے لیے آزاد ادارہ قائم ہو، عدلیہ آزاد ہو، پریس پر کسی قسم کی قدغن نہ ہو اوربنیادی انسانی حقوق کو کسی حالت میں بھی ختم یا معطل نہ کیا جاسکے۔ گویا رفتہ رفتہ یہ بات مان لی گئی کہ سوسائٹی کے ہر ادارے کی بنیاد جمہوریت پر ہو اور سارے ادارے جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے کام کریں۔ یہ بات بھی سب کی سمجھ میں آگئی کہ تعلیم، سماجی انصاف، معاشی انصاف، عدالتی انصاف ، آزادئ رائے ،آزاد پریس اور جمہوریت کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ 
یہ سارا عمل کسی ہموار طریقے سے پاےۂ تکمیل کو نہیں پہنچا، بلکہ اس کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹیں آتی رہیں۔ مفادات، جذباتیت اور تعصب کی وجہ سے بہت سے حکمران جمہوریت کی پٹڑی سے اترتے رہے۔ اس کا خمیازہ دنیا نے جنگ عظیم اول اور دوم کی شکل میں اور اس کے علاوہ بے شمار دوسری جنگوں کی شکل بھگتا، جس میں کروڑوں انسان ہلاک اور زخمی ہوئے۔ تاہم پچھلی چھ صدیوں کا مطالعہ اور تجزیہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ انسان بحیثیت مجموعی جمہوری کلچر کے راستے پر مسلسل رواں دواں ہے۔ 

(اس باب کی تیاری میں درج ذیل ماخذوں سے مدد لی گئی ہے
O۔کولئیرز انسائیکلوپیڈیا
O۔اردو دائرہ معارف اسلامیہ 
O۔ملتِ اسلامیہ کی مختصر تاریخ ازثروت صولت
O۔انسائیکلوپیڈیا تاریخِ عالم ازویلیم ایل لینگر۔ اردو ترجمہ غلام رسول مہر
O۔سلطنتِ مغلیہ کا زوال از ڈاکٹر سیدشاہد حسن رضوی)