دورِ زوال کے کچھ مزید حالات 

جیسا کہ پہلے بتایا جاچکا ہے، اسی دوران میں ہندوستان میں مغلیہ دور کا خاتمہ ہوا۔ اس سے پہلے جون 1757ء میں پلاسی کے میدان جنگ میں کلائیو کی تین ہزار افراد پر مشتمل انگریزی فوج نے بنگال کے حکمران سراج الدولہ کی سترہزار فوج کو شکست دے کر بنگال پر قبضہ کرلیا۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ سراج الدولہ کی شکست میں اس کے رشتہ دار میر جعفر کی غداری کا بڑا حصہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ انگریزوں کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ اُن کی فوجی برتری اور عسکری تنظیم تھی۔ سراج الدولہ کی فوج محض ایک بھیڑ تھی، جب کہ انگریزوں کے پاس جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ایک منظم فوج تھی۔ واضح رہے کہ تین ہزار افراد پر مشتمل انگریزی فوج میں محض چند سو انگریزی سپاہی شامل تھے۔اسی زمانے میں اودھ میں بھی ایک نیو خودمختار حکومت قائم ہوئی۔ یہ دور اِس وجہ سے قابلِ ذکر ہے کہ ملا نظام الدین نے تعلیم کا وہ مشہور نصاب اسی زمانے میں مرتب کیا جو درس نظامیہ کے نام سے مشہور ہے۔ 
جنوبی ہند میں واقع میسور کی حکومت بھی قابل ذکر تھی۔ اس ریاست کی نوے فیصد آبادی ہندوؤں پر مشتمل تھی۔ وہاں کے ہندوراجہ کی فوج میں سپاہی کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کرنے والا ایک شخص حیدر علی اپنی بہادری اور قابلیت کی بدولت جلد ہی سپہ سالار بن گیا اور پھر اس نے میسور کی حکومت پر قبضہ بھی کرلیا۔ حیدر علی کی وفات کے بعد اس کا بیٹا ٹیپو سلطان تخت نشین ہوا۔ ٹیپو سلطان بہت ہوش مند اور دینی اعتبار سے نہایت قابلِ تعریف حکمران تھے۔ اُن کو شکست دینے کے لیے انگریزوں نے نظام حیدرآباد اور مرہٹوں کے ساتھ مل کر میسور پر حملہ کردیا۔ بالآخر ٹیپو سلطان نے انگریزوں سے صلح کرلی اور اپنی آدھی ریاست ان کے حوالے کردی۔ اس کے ساتھ انہوں نے اپنے دو بیٹے بھی بطور یرغمال انگریزوں کے پاس بھیج دیے۔ اس کے بعد ٹیپو سلطان نے انتہائی کوشش کی کہ انگریزوں کے خلاف ایک متحدہ محاذ بنایا جائے۔ انہوں نے افغانستان، ایران،فرانس اور ترکی تک اپنے سفیر بھیجے لیکن کہیں سے بھی اُن کو مدد نہ مل سکی۔انگریزوں نے الزام لگایا کہ ٹیپو سلطان ان کے خلاف فرانسیسیوں سے ساز باز کررہے ہیں۔ اسی کو جواز بناکر انگریزوں نے دوبارہ ان پر حملہ کردیا۔ بالآخر سلطان کو شکست ہوگئی اور وہ شہید ہوگئے۔ 
اسی زمانے میں حیدرآباد دکن میں ایک خودمختار ریاست ’’مملکت آصفیہ‘‘ کے نام سے بنی۔ اس کے حکمران نظام کہلاتے تھے۔ 1798ء میں اس حکومت نے انگریزوں کی ماتحتی قبول کرلی۔ جب کہ ٹیپو سلطان نے اس ماتحتی کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔ بہرحال نظام کی مصلحت آمیز پالیسی نے اس کی ریاست کو محفوظ کرلیا۔ اگرچہ اس ریاست میں بھی نوے فیصد آبادی ہندوؤں کی تھی، تاہم برطانوی ہند کی محکوم ریاست کی حیثیت سے حیدرآباد کا وجود مزید ڈیڑھ سوسال تک قائم رہا، حتیٰ کہ بھارت نے 1948ء میں اُس کو ضم کرلیا۔ اس طرح 232سال تک قائم رہنے کے بعد یہ سلطنت ختم ہوگئی۔ اس سلطنت میں دین کی خدمت کا بہت کام ہوا۔ شبلی نعمانی، مولوی چراغ علی، سید علی بلگرامی، ڈپٹی نذیر احمد، عبدالحلیم شرر، مولانا مناظر احسن گیلانی اور مولانا ظفر علی خان نے حیدر آباد سے وابستہ ہوکر علمی کام کیا۔ ریاست حیدرآباد کا ایک اور بڑا کارنامہ جامعہ عثمانیہ کا قیام ہے جو عالم اسلام میں جدید طرز کی ایک اہم یونی ورسٹی تھی۔ حیدرآباد میں دائرۃ المعارف کے نام سے ایک اور علمی ادارہ بھی قائم تھا جس کا کام عربی کی نایاب قلمی کتابوں کو جمع کرنا اور ان کو شائع کرنا تھا۔ نظام حیدر آباد نے مولانا مودودیؒ کی بھی کافی مالی مدد کی۔
یہاں ہمارے سامنے ایک بے حد اہم سوال آتا ہے، وہ یہ کہ کسی کمزور ترین دور میں ٹیپو سلطان کی حکمت عملی صحیح تھی یا سلطنت حیدرآباد کی، یا ان دونوں کے علاوہ کسی اور حکمت عملی کو اختیار کیا جانا چاہیے تھا۔ کیا1857ء کی جنگ آزادی والی حکمت عملی ٹھیک تھی، یا اس کے علاوہ کوئی اور حکمت عملی اختیار کرکے اس دور میں مسلمانوں کو بچایا جاسکتا تھا اور ان کی تعلیم وتربیت کی طرف بہتر توجہ دی جاسکتی تھی۔ 
اس دور کا ایک عظیم نام شاہ ولی اللہؒ (متوفی1763ء) کا ہے جنہوں نے پہلی مرتبہ قرآن مجید کا فارسی میں ترجمہ کیا۔ انہی کے مشورے پراحمد شاہ ابدالی نے حملہ کرکے پانی پت کی جنگ میں مرہٹوں کو شکست دی تھی۔ لیکن افسوس کہ اس فتح کے بعد وہ واپس چلے گئے۔ شاہ ولی اللہ کے تینوں بیٹوں نے اسلام کی بہت بڑی خدمت کی۔ شاہ عبدالعزیزؒ حدیث کے بہت بڑے عالم تھے اور عیسائی پادریوں کے اسلام پر حملوں کا انھوں نے بڑی کامیابی سے مقابلہ کیا۔ شاہ رفیع الدین ؒ نے پہلی مرتبہ اردو زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ کیا اور شاہ عبدالقادر ؒ نے پہلی مرتبہ قرآن مجید کی اردو تفسیر لکھی۔ 
اسی دور کی انتہائی اہم شخصیت سید احمد شہیدؒ ہیں۔ وہ دہلی کے قریب بریلی نامی جگہ کے رہنے والے تھے۔ اس زمانے میں پنجاب پرسکھوں کا قبضہ تھا جس میں آج کا صوبہ سرحد (پختون خوا) بھی شامل تھا۔ سید احمد نے فیصلہ کیا کہ وہ ان مسلمانوں کو سکھوں کی غلامی سے نجات دلائیں گے۔ چنانچہ وہ مجاہدین کی جماعت کے ساتھ سندھ کے راستے سے افغانستان میں داخل ہوکر درہ خیبر سے 1827ء میں پشاور پہنچ گئے اور یہاں انھوں نے ایک حکومت کی بنیاد ڈال دی۔ بہت جلد پشاور، مردان اور ہزارہ پر بھی ان کا قبضہ ہوگیا جو چار برس تک جاری رہا۔ اس موقعے پر سید احمد شہید سے حکمت عملی کی ایک غلطی ہوگئی۔ وہ یہ کہ انھوں نے نہایت سختی کے ساتھ اور فوری طور پر پورے علاقے میں اسلامی قوانین نافذ کردیے اور تدریج اور لوگوں کی تعلیم وتربیت کا پورا خیال نہیں رکھا۔ (میرے دادا نے مجھے بتایا کہ اُن کو اُن کے والد نے بتایا کہ اگر مکئی کی فصل آنے سے پہلے کوئی شخص فصل سے تازہ بھٹے توڑ کر کھا لیتا اور ابھی فصل سے حکومت نے زکواۃ وصول نہ کی ہوتی تو اس شخص کو سزا دی جاتی۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ بھٹے کھائے گئے ہیں یا نہیں، ہر شخص کا منہ کھول کر دیکھا جاتا جس میں بچے بھی شامل ہوتے) ۔چنانچہ عام لوگ سید احمد شہید کے خلاف ہوگئے اور ان کو بے سروسامانی کی عالم میں ہزارہ جانا پڑا ،جہاں بالاکوٹ کے قریب سکھوں نے حملہ کرکے سید احمدؒ ، شاہ اسماعیلؒ اور بے شمار دوسرے مجاہدین کو شہید کردیا۔ یہ مئی1831ء کا واقعہ ہے۔ تحریکِ مجاہدین کا مشاہدہ کرنے والوں کی یہ متفقہ گواہی ہے کہ ان کی زندگیوں میں اسلام کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ بہت سے لوگ تو کہتے ہیں کہ انھوں نے لوگوں کو ایک دفعہ پھر صحابہ کرامؓ جیسے زندگیاں دکھا دی تھیں۔ چنانچہ اگر کامیابی کے لیے صرف دینی حمیت اور ذاتی کردار کافی ہوتا تو سید احمد شہیدؒ اور ان کے ساتھی لازماً کامیاب ہوجاتے۔ لیکن اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیوی کامیابی کے لیے صحیح حکمت عملی، فوجی تنظیم اور جدید ترین اسلحہ بھی لازم ہے۔ 


سرزمین عرب میں سعودی حکومت کا قیام

جزیرہ نمائے عرب میں سعودی خاندان کی حکومت بھی اسی زمانے میں قائم ہوئی۔ اس کے بانی نجد کے ایک شہر درعیہ کے امیر محمد بن سعود(متوفی1765ء) تھے جنہوں نے امام محمد بن عبدالوہاب کے ہاتھ پر بیعت کرلی تھی۔ ان کی وفات کے بعد 1765ء میں ان کا بیٹا امیر عبدالعزیز تخت نشین ہوا جس نے اردگرد کے بہت سے علاقوں کو فتح کرکے اپنی حکومت کی سرحدیں بہت پھیلادیں۔ امیر عبدالعزیز کی وفات کے بعد اس کے بیٹے سعود بن عبدالعزیز (متوفی1814ء) کے دور میں سرزمینِ حجاز یعنی مکہ اور مدینہ پر بھی سعودیوں کا قبضہ ہوگیا۔ 
چونکہ اس وقت حجاز یعنی مکہ اور مدینہ سلطنتِ عثمانیہ کے تحت تھے، اس لیے سلطنتِ عثمانیہ اور آلِ سعود میں جنگ چھڑ گئی۔ یہ جنگ سات برس تک جاری رہی۔ بالآخر عثمانی افواج نے 1818ء میں آل سعود کے دارالحکومت دُرعیہ پر قبضہ کرکے اس کی اینٹ سے اینٹ بجادی، عورتوں کی بے آبروئی کی اور ہزاروں عام مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس طرح سرزمینِ حجاز ایک دفعہ پھر سلطنت عثمانیہ کے قبضے میں آگئی۔ کچھ مدت کے بعد آلِ سعود نے ایک دفعہ پھر نجد میں اپنا اقتدار قائم کرلیا۔ نجد دراصل موجودہ دارالحکومت ریاض کے اردگرد کے علاقے کا نام ہے۔ اس کے بعد اگلے ایک سو برس تک سلطنت عثمانیہ اور آلِ سعود اور دوسری طرف آلِ سعود کی اندرونی لڑائیاں جاری رہیں۔ حتیٰ کہ 1915ء میں پہلی جنگ عظیم کے درمیان میں وہاں کے حکمران عبدالعزیز السعود کا عثمانی سلطنت کے خلاف برطانوی حکومت سے دوستی کا معاہدہ ہوگیا۔ یوں انگریزوں کی مدد سے یہ حکومت مستحکم ہوگئی۔ 
اسی اثنا میں سرزمینِ حجاز پر شریف حسین کی حکومت قائم تھی۔ اس نے بھی سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف انگریزوں سے دوستی کا معاہدہ کرلیا اور انگریزوں نے اسے حجاز کا حکمران تسلیم کرلیا۔ جنگ عظیم اول کے بعد دونوں حکومتیں قائم رہیں، حتیٰ کہ 1924ء میں دونوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی، جس میں آلِ سعود کامیاب ہوئے، چنانچہ سارے جزیرۂ نمائے عرب پر آل سعود کا قبضہ ہوگیا۔ 1927ء میں ایک نئے معاہدۂ دوستی کے تحت برطانیہ نے ابنِ سعود کو اس پورے علاقے کا جائز حکمران تسلیم کرلیا۔ یہ سلطنت آج تک قائم ہے۔ 


مختلف مسلمان ممالک آزادی کے راستے پر

1857ء کی جنگ آزادی میں شکست کے بعد سارا برصغیر برطانوی حکومت کے براہ راست تسلط میں چلا گیا۔ اس سوال کا بھی جائزہ لینا چاہیے کہ کیا اُس وقت، جب کہ برطانیہ اور برصغیر کے مسلم حکمرانوں کی طاقت میں سو اور ایک سے بھی زیادہ فرق موجود تھا، کوئی اور ایسا راستہ نہیں تھا جس سے مسلمانوں کی رہی سہی طاقت کو بچایا جاسکتا اور انہیں تعلیم کے ذریعے مستقبل میں اوپر اٹھانے کا کام سرانجام دیا جاتا۔ وہ وقت جب کہ برطانوی فوجوں کے پاس ہر طرح کا اسلحہ اور منظم فوج موجود تھی، دہلی کے اندر مغلیہ افواج کا یہ حال تھا کہ بڑی بڑی کڑائیوں میں بارود بنانے کی کوشش کی جاتی۔ سلطنت کے خزانے میں فوجیوں کو تنخواہ دینے کے لیے رقم موجود نہیں تھی۔ پہلے مہینے کی تنخواہ بہادرشاہ ظفر نے شہزادیوں کے زیورات فروخت کرکے دی۔ ظاہر ہے کہ آئندہ کے لیے تنخواہ تو کیا سامانِ رسد کا بھی کوئی انتظام نہ تھا۔ 
برصغیر کو اگست 1947ء میں آزادی ملی اور یوں پاکستان بھی وجود میں آگیا۔ پاکستان کے دوحصے، جن کے درمیان میں بھارت کا ملک تھا، ایک دوسرے سے دسمبر1971ء میں علیحدہ ہوگئے۔ مشرقی پاکستان، بنگلہ دیش بن گیا اور مغربی پاکستان، پاکستان ہی بنا۔ اس سانحہ پر بھی اگلے صفحات میں تفصیل سے بحث کی جائے گی۔ 
موجودہ انڈونیشیا اور ملائیشیا پر ولندیزیوں یعنی ہالینڈ کے رہنے والوں نے 1700ء سے قبضہ جما لیا تھا۔ اس کے بعد اس علاقے کے مختلف حصوں پر انگریزوں نے بھی قبضہ جمالیا۔ دوسری جنگ عظیم میں جاپان نے انڈونیشیا پر قبضہ کرلیا اور جاتے جاتے انڈونیشیا کو آزادی دے دی۔ اگرچہ انڈونیشیا کی آزادی کا اعلان اگست1945ء میں ہوچکا تھا، تاہم کچھ مہینے بعد ولندیزیوں نے دوبارہ اپنی فوج داخل کرنے کی کوشش کی۔ چنانچہ انڈونیشی حکومت اور ولندیزی حکومت کے درمیان جنگ شروع ہوگئی۔ یہ جنگ اگلے تین برس تک جاری رہی۔ اقوام متحدہ نے بھی انڈونیشیا کی آزادی کے حق کو تسلیم کرلیا اور یوں عالمی رائے عامہ کے دباؤ کے تحت دسمبر1949ء میں ہالینڈ کی افواج واپس چلی گئیں۔ 
موجودہ ملائیشیا کے علاقے1786ء کے بعد برطانوی حکومت کے قبضے میں چلے گئے، تاہم یہاں کی ریاستوں نے انگریزوں کی عمل داری تسلیم کرکے اپنی اندرونی خودمختاری قائم رکھی، جس کی وجہ سے یہاں مسلمانوں کا مالی وجانی نقصان بہت کم ہوا۔ (گویا یہاں کی ریاستوں نے اُسی پالیسی پر عمل کیا جس پر برصغیر کے اندر نظام حیدرآباد، کشمیر اور ریاستِ سوات سمیت کئی دوسری ریاستوں نے عمل کیا)۔ اگست1957ء میں ملایشیا آزاد ہوگیا اور اگست 1965ء میں سنگاپور کی ریاست وفاق سے علیحدہ ہوگئی۔ 
جنگِ عظیم اول سے پہلے عالمِ عرب نظری طور پر سلطنت عثمانیہ کے تحت رہا، اگرچہ اس کے بہت سے حصے خودمختار یا نیم خودمختار ہوچکے تھے۔ جنگ عظیم کے دوران میں برطانوی حکومت نے عربوں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ سلطنت عثمانیہ کے خلاف برطانیہ کی حمایت کریں تو جنگ کے بعد انہیں آزادی دے دی جائے گی۔ چنانچہ جنگ کے بعد عراق، اُردن،شام، لبنان، نجد اور حجاز کی مملکتیں آزاد ہوگئیں۔ارضِ فلسطین کے متعلق تفصیلی بحث بعد کے صفحات میں آئے گی۔ کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور عمان جیسے ممالک ساٹھ اور ستر کی دہائی میں آزاد ہوگئے۔ 
سیاسی آزادی ملنے کے بعد اکثر مسلمان ملکوں میں آمریتیں قائم ہوگئیں۔ کچھ مسلمان ممالک ابتدا میں جمہوریت پر گامزن تھے، مگر بہت جلد وہاں بھی فوجی حکومتیں قائم ہوگئیں۔ مثلاً پاکستان میں 1958ء میں فوجی حکومت قائم ہوگئی۔ اسی طرح مملکتِ شام میں جناب شکری القوتلی کو مارچ 1943ء میں پہلا صدر منتخب کیا گیا اور یہاں جمہوری حکومت قائم ہوگئی۔ تاہم مارچ1949ء میں اس جمہوری حکومت کا خاتمہ کرکے فوجی آمریت قائم کردی گئی۔ 
اس وقت مسلمان ملکوں کی صورت حال یہ ہے کہ سوائے ملایشیا اور کسی حد تک ترکی کے، باقی سارے ملک صنعتی اعتبار سے غیر ترقی یافتہ ہیں۔ دفاع کے حوالے سے ملایشیا، پاکستان،ایران،ترکی، اور مصر کسی حد تک اپنا دفاع کرسکتے ہیں، جب کہ باقی ممالک درحقیقت عالمی طاقتوں کے رحم وکرم پر ہیں۔ عالم اسلام کی آبادی دنیا کا بیس فیصد ہے، مگر دنیا کی صرف چھ فیصد دولت اُس کے پاس ہے۔ سیاسی نظام کے حوالے سے یہ صورت حال ہے کہ سوائے ملایشیاکے، باقی سارے ممالک میں فوجی، نیم فوجی یا بادشاہت پر مبنی مطلق العنان حکومتیں قائم ہیں۔ ترکی اور انڈونیشیا بھی جمہوریت کے راستے پر کسی حد تک گامزن ہیں، مگر کچھ معلوم نہیں کہ کس وقت یہاں جمہوریت کی بساط الٹ دی جائے۔ 
تعلیم اور صحت کے اعتبار سے بھی مسلمان ممالک ایک ناقابل رشک حالت میں ہیں۔ بہت سے مسلمان ممالک میں بدترین غربت پائی جاتی ہے۔ بہت سے مسلمان ممالک مثلاً بنگلہ دیش، پاکستان، افغانستان، عراق، سوڈان اور صومالیہ بری طرح اندرونی خلفشار کا شکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ راقم الحروف کیمطابق عالم اسلام ابھی تک دورِ زوال کے اندر ہے۔ 


مسلمانوں کے دورِ زوال وعروج میں مسلم دنیا اور یورپ کے درمیان فرق 

750ء سے لے کر 1440ء کے درمیان میں مسلمان حکومتیں ہر اعتبار سے دوسروں کی نسبت ترقی یافتہ تھیں۔ مسلمانوں کے پاس بہترین زمینیں موجود تھیں۔ تعلیم، انصاف، اور اسلحہ کی صنعت میں مسلمان دوسروں سے آگے تھے۔ مسلمان مملکتوں میں دو درجن سے زیادہ ایسے شہر تھے جن کی آبادی ایک لاکھ سے زیادہ تھی۔ اس کے برعکس پورے یورپ میں صرف قسطنطنیہ کی آبادی ایک لاکھ تھی۔ مسلمانوں کے پاس ہر شہر میں پختہ عمارتیں ہوتی تھیں، پانچ سے آٹھ منزلہ عمارتیں عام تھیں، شہروں میں پختہ سڑکیں ہوتی تھیں اور گندے پانی کے نکاس کے لیے بڑی بڑی نالیاں ہوتی تھیں۔ اس کے برعکس یورپ کے اکثر شہروں میں کچے مکانات ہوتے تھے، سڑکیں بھی زیادہ تر کچی ہوتی تھیں اور گندے پانی کے نکاس کا کوئی انتظام ہی نہیں ہوتا تھا۔ مسلمان ممالک میں تعلیم کی طرف توجہ تھی، ہر شہر میں قطب خانے موجود تھے،کاغذ بنایا جاتا تھا اور علم ہےئت(Astronomy)کی تحقیق کے لیے رصدگاہیں موجود ہوتی تھی۔ جب اس کے بالکل برعکس یورپ میں بہت کم مدر سے تھے، کوئی قابل ذکر کتب خانہ یارصدگاہ نہیں تھا اور وہاں کاغذ بھی نہیں بنایا جاتا تھا۔ مسلمان ممالک میں بہت سے عالی شان ہسپتال تھے، لیکن یورپ میں پہلا ہسپتال تیرہویں صدی میں کہیں جاکر روم میں بنا۔ 
یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان اور چین میں بھی بڑی ترقی ہوئی تھی۔ مسلمانوں نے ان دونوں ملکوں سے بھی بہت کچھ سیکھا۔ مثلاً ہندسوں کا استعمال اور صفر کا استعمال مسلمانوں نے ہندوستان ہی سے سیکھا۔ اسی طرح کاغذ بنانے کا فن اور قطب نما کا استعمال مسلمانوں نے چین سے سیکھا۔ تاہم اگر اس پورے دور کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان ممالک بحیثیتِ مجموعی ہندوستان اور چین سے بھی بہت آگے تھے۔ 


پندرہویں صدی کے بعد یورپ میں کیا ہوا

چودہویں صدی سے پہلے یورپ کا وہ وقت تھا جب یورپ انتہائی برے حالات سے گزر رہا تھا۔ عام طور پر رائی کی روٹی کھائی جاتی تھی جب کہ گیہوں کی روٹی کو ایک عیاشی سمجھا جاتا تھا۔ کپڑے دھونے کا رواج بہت کم تھا۔ لوگ بہت کم نہاتے تھے۔ شرح اموات بہت زیادہ تھی۔ عام طور پر لوگوں کی عمریں زیادہ نہیں ہوتی تھی۔ حتیٰ کہ امیر لوگ بھی محض پچپن سال کی عمر تک زندہ رہتے تھے۔ لوگ گوشت بھی کم کھاتے تھے۔ سال میں سات آٹھ مہینے سخت سردی ہوتی تھی جس سے بچاؤ کے لئے اُون کا بھاری لباس پہنا جاتا تھا، جس کی وجہ سے جلد کی بیماریاں ہوجاتی تھی۔ شہروں میں ہر طرف بدبو ہوتی تھی۔ ماحول میں ہر طرف تشدد تھا۔ لوگوں میں بے شمار توہمات موجود تھے۔ علاج کے لیے جادو ٹونے پر عمل کیا جاتا۔ بہت سے لوگ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ انہوں نے ہر بیماری کے موثر علاج کے لیے ’’اکسیر‘‘ تیار کرلی ہے۔ (قارئین نے یہ نوٹ کیا ہوگا کہ ہمارے ہاں ’’اکسیر‘‘ بنانے کی اشتہار بازی اب بھی پورے عروج پر ہے)۔ 
یورپ کے لیے یہ انتہائی پریشان کن دور تھا۔ آبادی تیزی سے بڑھ رہی تھی اور ذرائع معاش بہت کم تھے۔ اکثر زمینیں بے کار تھیں اور سال میں صرف ایک فصل اگائی جاسکتی تھی۔ چنانچہ اس خراب ماحول سے نمٹنے کے لیے کچھ لوگوں میں شعور بیدار ہونا شروع ہوا ۔چنانچہ چودہویں صدی میں شیشہ سازی کی ترقی کے نتیجے میں عینک ایجاد ہوئی۔ اس سے پہلے یورپ میں وقت کا کوئی خاص تصور نہیں تھا۔ صرف مخصوص جگہوں پر سورج اور پانی کی گھڑیاں ہوتی تھیں۔ تاہم تیرہویں صدی میں میکینکل گھنٹے وجود میں آئے۔ اگرچہ گھنٹہ، منٹ اور سیکنڈ کی تقسیم ابھی نہیں ہوئی تھی۔ 1440ء میں گٹن برگ نے جرمنی میں چھاپہ خانہ ایجاد کیا۔ پچاس برس کے اندر اندر یہ ایجاد پورے یورپ میں پھیل گئی اور اس کی وجہ سے ایک انقلاب برپا ہوگیا۔ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں کتابیں چھپنے لگیں۔ کئی نئے پیشے وجود میں آئے۔ خواندگی کی شرح بڑھنے لگی اور عام لوگوں کا رجحان تعلیم کی طرف ہونے لگا۔ 
یہ وہ وقت تھا جب یورپ کے اندر بنیادی طور پر طاقت کے تین مراکز تھے، یعنی بادشاہ، امراء اورچرچ۔ تاجر طبقہ ابھی آہستہ آہستہ ابھر رہا تھا۔ تعلیم عام ہونے کی وجہ سے سب سے بڑا خطرہ بادشاہوں اور چرچ کے لیے پیدا ہوا، لیکن اس سے پہلے یہ ہوا کہ چرچ اور بادشاہ آپس میں ٹکرا گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ چرچ کے پاس بے انتہا دولت اور جاگیریں آگئی تھیں۔ اس طرح ہر چرچ نے ریاست کے اندر ایک ریاست کی حیثیت اختیار کرلی، جہاں ان کے اپنے قوانین اور ٹیکس سسٹم نافذ ہوتا تھا۔ بادشاہوں نے اسے اپنے لیے ایک بڑا چیلنج جانا اور یوں دونوں کے درمیان کشمکش شروع ہوگئی۔ لیکن اس زمانے میں سب سے پہلا انقلاب خود مذہب کے اندر آیا۔ وہ یوں کہ اس سے پہلے مذہب پر صرف پادریوں کی اجارہ داری تھی۔ وہی بائبل کو پڑھ سکتے تھے اور اس کی تشریح وتعبیر کا اختیار بھی صرف انہیں حاصل تھا۔ جب بائبل ہر ایک ہاتھ میں پہنچی اور دوسری مذہبی کتب تک بھی سب کی رسائی ہوگئی تو یہ خیال پیدا ہونے لگا کہ مذہب پرصرف پادریوں ہی کی اجارہ داری کیوں ہو۔ چونکہ اس وقت چرچ کے بہت سے طبقے اندرونی تضادات، عیاشیوں اور دوعملیوں کا شکار تھے، اس لیے اس تحریک کو مزید تقویت ملی۔ اس بغاوت کا سرخیل جرمنی کا رہنے والا ایک شخص مارٹن لوتھرنامی ایک شخص بنا جو خود مذہبیات کا پروفیسر تھا۔ اکتوبر1517ء میں اس نے چرچ کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔ اس کے پیروکاروں کو پروٹسٹنٹ کہا جانے لگا۔ جلد ہی یہ تحریک سارے یورپ میں پھیل گئی۔ اس کو Reformationیعنی تحریکِ اصلاحِ مذہب کہا جاتا ہے۔ اس تحریک کے نتیجے میں بے شمار لوگوں نے مذہب کو چھوڑے بغیر چرچ کی قیادت کو خیرباد کہہ لیا۔