اندلس کی سلطنتیں

سپین، جسے ہسپانیہ اور اندلس بھی کہا جاتا ہے، پر طارق بن زیاد کی سرگردگی میں پہلا حملہ 711ء میں کیا گیا، جس میں سپین کے ایک بڑے حصے پر قبضہ ہوگیا۔ یہ بنو امیہ کا دور تھا۔ جب بنو عباس نے دمشق میں بنو امیہ کو شکست دے دی تو وہاں سے ایک اموی شہزادہ عبدالرحمان سپین پہنچا اور وہاں اپنی حکومت قائم کی۔ یہ 756ء کی بات ہے۔ اندلس کی اموی حکومت تقریباً ڈھائی سو برس قائم رہی اور اس کا دارالحکومت قرطبہ تھا۔ درمیان میں مرکزی حکومت بہت کمزور بھی ہوگئی تھی اور آخر میں تو ہر طرف بدامنی پھیل گئی، اس لیے کہ خود شاہی خاندان کے لوگ ایک دوسرے سے لڑنے لگے۔ اس حکومت کے زوال کے بعد سپین ٹکڑوں میں بٹ گیا اور اس کے مختلف حصوں میں کئی خودمختار حکومتیں قائم ہوگئیں۔ ان حکومتوں کی آپس میں بھی لڑائیاں ہوتی تھیں اور اردگرد کی عیسائی ریاستوں سے بھی یہ برسرِ پیکار رہتی تھیں۔ یہ حکومتیں بھی تقریباً دوسو سال موجود رہیں اور اس کے بعد اندلس میں مسلمانوں کا پوری طرح زوال شروع ہوگیا۔ اب مسلمانوں کی حکومت ایک چھوٹے سے علاقے میں محدود ہوکر رہ گئی جس کا صدر مقام غرناطہ تھا۔ بالآخر ڈھائی سو برس بعد یعنی 1492ء میں یہ سلطنت بھی ختم ہوگئی۔ قابض عیسائیوں نے ہزاروں مسلمانوں کو قتل کردیا اور اعلان کردیا کہ سب مسلمان یا تو عیسائیت قبول کرلیں اور یا جلاوطن ہوجائیں۔ اندازہ ہے کہ جلاوطن ہونے والے مسلمانوں کی تعداد تیس لاکھ تک تھی۔ باقی آبادی نے جان کے خوف سے عیسائیت قبول کرلی۔ 
یوں تو سپین میں مسلمانوں کی حکو متیں آٹھ سو برس تک رہی، لیکن ابتدائی دو سوبرس کے بعد ہی یہ حکومت نااتفاقی اور خانہ جنگی کا شکار ہوگئی۔ اسی خانہ جنگی کا آخری نتیجہ چھ سو برس بعد ایک ایسے زوال کی صورت میں نکلا کہ آج وہاں اُس عہد کی چند عمارتوں کے سوا ایک بھی مسلمان باقی نہیں بچا۔ 
اندلس کے اندر مسلمانوں نے بہت ترقی یافتہ تہذیت کو جنم دیا۔ صنعت وحرفت، زراعت اور تجارت کو خوب ترقی ہوئی ۔ ایک بہت بڑے طبیب الزہراوی نے سرجری میں کمال حاصل کیا۔ یورپ میں سرجری کا آغاز الزہراوی کی کتاب ’’الصریف‘‘ سے ہوا۔ مشہور موؤخ ابن حیان، فلسفی ابن رشد اور تصوف کے ایک بڑے عالم ابنِ عربی اسی دور میں پیدا ہوئے۔ اندلس کاغذ سازی کا ایک بڑا مرکز تھا۔ یورپ نے یہیں سے کاغذ بنانے کا فن سیکھا۔یہ وہ دور تھا جب یورپ میں سوائے پادریوں اور امیر لوگوں کے کوئی لکھنا پڑھنا نہیں جانتا تھا لیکن اس کے بالکل برعکس اندلس میں تعلیم عام تھی۔ 


چنگیز خان کے جانشین اور وسطِ ایشیا کا تیموری خاندان 

1223ء میں منگولوں نے ترکستان، افغانستان اور شمالی ایران کو فتح کرلیا۔ حتیٰ کہ ہلاکوخان نے 1258ء میں بغداد کو بھی فتح کرکے تباہ وبرباد کردیا لیکن چونکہ مسلمانوں کی تہذیب بہت ترقی یافتہ تھی، اس لیے تاریخ کا یہ عجیب واقع ہوا کہ فاتحین نے مفتوحوں کا مذہب قبول کرلیا، اور یہ پورا علاقہ ایک دفعہ پھر مسلمانوں ہی کے تسلط میں آگیا۔
تیموری سلطنت کا بانی تیمور ایک تُرک قبیلے برلاس سے تعلق رکھتا تھا جو چنگیز خان کے خاندان کی سپہ سالاری کے فرائض انجام دیتا تھا۔ چونکہ تیمور ایک بہت اچھا سپہ سالار تھا، اس لیے اس نے 1366ء میں موجودہ افغانستان کے مقام بلخ میں تخت نشینی کا اعلان کردیا۔ اس کی ساری زندگی اردگرد کے ملکوں کو فتح کرنے میں گزری، جن کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ اگرچہ ہماری تاریخوں میں تیمور کو ایک ہیرو کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ وہ بہت ظالم اور سفاک حکمران تھا۔ 1398ء میں اس نے دہلی اور میرٹھ کو فتح کرنے کے بعد لاکھوں ہندوؤں کا قتل عام کیا۔ سلطنت عثمانیہ کے ساتھ بھی اس کی لڑائیاں رہیں۔ سلطنت عثمانیہ کے ایک شہر سیورس پر جب اس کا قبضہ ہوگیا تو اس نے چار ہزار قیدی سپاہیوں کو زندہ دفن کردیا۔ یہ سب کے سب مسلمان تھے۔ اصفہان، بغداد اور دمشق میں اس نے لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ وہ انتقام کے جوش میں شہر کے شہر ڈھا دیتا تھا۔ خوارزم، بغداد اور سرائے کے ساتھ اس نے یہی کچھ کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان ہونے کے باوجود وہ خونریزی اور سفاکی میں چنگیز خان اور ہلاکو خان سے کم نہیں تھا۔

 
انڈونیشیا اور ملائشیا میں اشاعت اسلام 

اِس پورے علاقے میں تیرہویں صدی اور چودہویں صدی میں مسلمان تاجروں کی بدولت اسلام کی دعوت پھیلی۔ تیرہویں صدی میں ایک مبلغ مولانا برہان الدین نے سماٹرا کے بادشاہ کو مسلمان کیا۔ ان مبلغین میں ایک اہم نام مَلک ابراہیم کا بھی ہے۔ انہوں نے 1391ء میں جاوا میں اسلام کی دعوت کاکام شروع کردیا۔ وہاں کے ہندوراجہ نے ان کے ہاتھوں پر اسلام قبول کرلیا۔ چنانچہ ان دوسوبرسوں میں اس پورے علاقے کے کروڑوں لوگوں نے مسلمان تاجروں اور مبلغین کے ذریعے اسلام قبول کیا۔

 
سلطنتِ عثمانیہ

1260ء کے لگ بھگ قسطنطنیہ کے قریب ایک بہادرخانہ بندوش سردار اُرطغرل کی ایک جاگیر تھی۔ 1288ء میں وہ فوت ہوگیا اور اس کے بیٹے عثمان خان نے اپنے جاگیر کو ایک سلطنت قراردے دیا اور بہت جلد اردگرد کے علاقوں کو فتح کردیا۔ اسی سے سلطنت عثمانیہ کی بنیاد پڑی۔ یہ سلطنت کسی نہ کسی طرح 1923ء تک، یعنی اگلے تقریباً ساڑھے چھ سو برس جاری رہی۔ درمیان میں اس سلطنت پر آزمائش کے بھی بڑے دور آئے۔ اس کے ابتدائی کئی حکمران انتظامِ سلطنت کے لحاظ سے بڑے باصلاحیت تھے، لیکن اسلام کے حوالے سے ان کو کوئی مقام نہیں دیا جاسکتا۔ اس دور کاسب سے بڑا حکمران محمد فاتح تھا۔ اس نے باقاعدہ یہ قانون بنایا کہ جب کوئی بادشاہ تخت پر بیٹھے تو وہ اپنے بھائیوں کو قتل کردے تاکہ لڑائیاں نہ ہوں۔ اس دور کے ابتدائی دوسو برسوں میں عثمانی حکمرانوں نے یورپ پر بہت سے حملے کیے اور البانیہ، بلغاریہ، یونان، سربیا، بوسنیا، کوسوو، کریمیااور اٹلی کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کرلیا۔ ان میں سے کچھ علاقے درمیان میں ہاتھ سے نکلتے رہے اور دوسری طرف مسلمان ریاستوں سے بھی لڑائیاں جاری رہیں۔ عثمانی سلطنت اپنے وقت کی ایک بہت بڑی ریاست تھی۔ 
1512ء میں سلطنت عثمانیہ میں سلیم اول حکمران ہوا۔ اُس نے اپنی فتوحات کا رُخ مشرق کی طرف کرلیا اور ساری زندگی مسلمان حکومتوں کو فتح کرتا رہا۔ 1517ء میں سلیم اول نے مصر اورحجاز پر بھی قبضہ کرلیا اور وہاں سے واپسی پر وہ عباسی خلیفہ متوکل سوم کو اپنے ساتھ استنبول لے گیا۔ وہاں متوکل ایک تقریب کے دوران میں سلیم اول کے حق میں خلافت سے دستبردار ہوگیا۔ اس کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کو خلافت عثمانیہ کا نام دیا گیا۔ اگلے دوسو برسوں میں یہ سلطنت پورے آب وتاب سے جاری رہی، حتیٰ کہ 1699ء میں معاہدہ کارلووٹز کے تحت یورپ میں ترکوں کی پیش قدمی رک گئی۔ اس دور میں 1737ء میں استنبول میں پہلا چھاپہ خانہ قائم ہوا۔ یہ اسلامی دنیا کا پہلا چھاپہ خانہ تھا، لیکن مفتی اعظم نے اس شرط پر اس کو قائم کرنے کی اجازت دی کہ اس میں قرآن مجید اور دینی کتابوں کو شائع نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ مفتی صاحب کے خیال میں چھاپہ خانہ بنیادی طور پر ایک شیطانی مشین کی حیثیت رکھتا تھا۔ 
سلطان عبدالحمید اول کے زمانے میں 16جولائی 1774ء کو ترکی کو معاہدہ کوچک کناری پر مجبور ہونا پڑا۔ اس معاہدے کی رو سے کریمیا کو ایک آزاد مملکت قرار دیا گیا اور روس کو یہ حق دیا گیا کہ وہ سلطنت عثمانیہ کی عیسائی رعایا کی حقوق کی حمایت کرسکتا ہے۔ گویا اس معاہدے کے ذریعے روس کو سلطنت عثمانیہ کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا حق مل گیا۔ چنانچہ اس معاہدے کے آخری نتیجے کے طور پر اگلی صدی میں ترکی کو اپنے تمام مقبوضات سے دستبردار ہونا پڑا۔

 
سلطنت عثمانیہ ، اپنے خاتمے تک 

اس مکمل دورِ زوال کو سلطنت عثمانیہ کے حکمران سلطان سلیم ثالث نے روکنے کی بہت کوشش کی۔اس نے تعلیم اور جدید سائنسی علوم کی طرف توجہ دی ۔ اس نے جنگی فنون سے متعلق یورپی کتابوں کا ترکی زبان میں ترجمہ بھی کیا اور فرانسیسی انجنئیروں کی مدد سے توپ ڈھالنے کے جدید طرز کے کارخانے بھی قائم کیے۔ سلطان سلیم نے جاگیرداری نظام کو بھی ختم کردیا۔ ایک ایسے اہم وقت میں ترکی کے صوفیوں اور علماء نے مذہب کے نام پر ان سب اصلاحات کی مخالفت کی۔ انہوں نے یورپی طرز پر فوج کی تنظیم کو بے دینی سے تعبیرکیا، جدید فوجی وردیوں کے متعلق فتویٰ دیا کہ یہ دراصل نصاریٰ کی مشابہت اختیار کرنا ہے۔ انھوں نے یہ فتویٰ بھی دیا کہ کافروں کے ایجاد کردہ اسلحے کو استعمال کرنا گناہ ہے۔ چنانچہ سلطان سلیم کے خلاف یہ کہہ کر نفرت پھیلائی گئی کہ وہ کفار کے طریقے رائج کرکے اسلام کو خراب کررہا ہے۔ بالآخر شیخ الاسلام کے فتوے پر عمل کرتے ہوئے 1807ء میں سلطان سلیم کو معزول کرکے قتل کردیا گیا۔ اس کے بعد سلطنتِ عثمانیہ نے زوال کی طرف اپنا سفر جاری رکھا۔ یہ سلطنت بہت پہلے ختم ہوجاتی، لیکن چونکہ اس سلطنت کے مستقبل کے متعلق بڑی طاقتوں کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہوا اس لیے یہ سلطنت قائم رہی۔ 
1876ء میں سلطان عبدالحمید خان نے عوامی دباؤ پر ایک جمہوری دستور کا اعلان کیا اور دوایوانوں پر مشتمل پارلیمنٹ قائم کی گئی جس کا افتتاح مارچ1877ء میں ہوا۔ مسلم دنیا میں مغربی انداز کی یہ پہلی پارلیمنٹ تھی۔ لیکن چند ہی مہینے بعد جنوری1878ء میں سلطان نے دستور کو معطل کردیا، پارلیمنٹ برخواست کردی ، اہم ترین سیاسی رہنما مدحت پاشا کو گرفتار کرلیااور چند برس بعد اس کو قید خانے میں قتل کردیا گیا۔ اس کے بعد سلطان نے اپنے سیاسی مخالفین کچلنے کے لیے ہر طرح کی سختیاں کیں، ہزاروں لوگوں کو قید میں ڈال دیا اور بے شمار لوگوں کو دوردراز کے علاقوں میں جلاوطن کردیا۔ اس نے ایک زبردست جاسوسی نظام بھی قائم کیا اور سب اختیارات پرکڑی نگرانی قائم کردی۔ تاہم عوامی بے چینی بڑھتی رہی۔ فوج میں بھی بے چینی اتنی بڑھی کہ فوج نے بھی دستور کی بحالی کا مطالبہ کردیا۔ چنانچہ تیس برس بعدیعنی جولائی 1908ء میں سلطان نے مجبوراً دستور کو بحال کردیا۔ مذہبی طبقہ دستور اور جمہوریت کے بالکل خلاف تھا، چنانچہ اپریل1909ء میں مذہبی گروہوں نے کچھ فوجی دستوں کو ساتھ ملاکر نئی جمہوری حکومت کے خلاف بغاوت کردی اور شریعت کی حکمرانی کا مطالبہ کرلیا۔ فوج نے جلد ہی اس بغاوت پر قابوپالیا۔ چونکہ سلطان عبدالحمید اس بغاوت کی پشت پر تھا، اس لیے اسے معزول کرکے اس کے بھائی رشاد کو نیا خلیفہ اور بادشاہ مقرر کردیا گیا۔ 
جب 1914ء میں جنگ عظیم اول شروع ہوگئی تو اس میں سلطنتِ عثمانیہ جرمنی کی حلیف بن گئی۔ حالانکہ سلطنت عثمانیہ کے لیے صحیح حکمت عملی یہ تھی کہ وہ اس جنگ میں مکمل طور پر غیر جانبدار رہتی۔ جرمنی کے شکست کھانے کے بعد ترکوں کو بھی ہتھیار ڈالنے پڑے اور اتحادی فوجیوں نے سلطنت کے دارالحکومت استنبول پر قبضہ کرلیا۔ اس دوران میں مصطفی کمال اتاترک نے آزادی کی جنگ شروع کردی اور بالآخر1922ء میں اس نے اصل ترکی کو دشمنوں سے آزاد کرلیا۔ مارچ 1924ء میں بادشاہت اور خلافت کو ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا۔ یوں عثمانی سلطنت 625سال قائم رہنے کے بعد ختم ہوگئی۔ 
ایک بڑے عرصے سے سارا عالمِ عرب، عثمانی سلطنت کے تحت تھا اور عثمانیوں نے کافی سختی کے ساتھ عربوں کو دبایا ہوا تھا۔ اُس وقت عرب اپنے آپ کو سلطنتِ عثمانیہ کا غلام سمجھتے تھے۔ اس دوران میں آزادی حاصل کرنے کے لیے کئی بغاوتیں ہوئیں، تاہم عثمانی حکمرانوں نے ان بغاوتوں کو بڑی سختی سے کچل دیا۔ پہلی جنگ عظیم میں انگریزوں نے عربوں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ ان کا ساتھ دیں تو جنگ کے خاتمے کے بعد سب عرب ممالک کو سلطنتِ عثمانیہ کے پنجے سے آزاد کردیا جائے گا۔ چنانچہ پہلی جنگ عظیم میں سب عربوں نے سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف انگریزوں کا ساتھ دیا۔ اس طرح وہ عرب ممالک وجود میں آئے جن کو آج ہم دنیا کے نقشے پر دیکھتے ہیں۔ اس دور میں ایسے لوگ بھی موجود تھے جو ایک طرف سچے مسلمان تھے اور دوسری طرف آزادی اور جمہوریت کے علمبردار تھے۔ ان متوازن فکر کے حامل لوگوں میں نامق کمال اور سعید حلیم پاشا کے نام بہت اہم ہیں۔ اسی طرح احمد رسمی اور محمد متوفی نے بھی اس زمانے میں بہت متوازن خیالات کا اظہار کیا۔ ان سب نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں ایک طرف اسلامی تعلیمات کو بھی پوری طرح اختیار کرنا چاہیے اور دوسری طرف ہمیں جمہوریت، آزادی اور جدید علوم کی طرف بھی بھرپور توجہ دینی چاہیے۔ بعض نو مسلموں نے بھی اس کام میں پورا حصہ لیا۔ مثلاً مسلمان دنیا میں جس شخص نے 1739ء میں پہلا چھاپہ خانہ لگایا، وہ ہنگری کا ایک نو مسلم ابراہیم متفرقہ تھا۔ اس نے ایک بہت اہم کتاب لکھی جس میں اس نے عثمانی سلطنت کے سیاسی اور فوجی نظام کو یورپ کے نمونے پر ڈھالنے کی سفارش کی۔ 
اُس زمانے میں مسلم دنیا میں ایسے اور لوگ بھی منظر عام پر آئے جنہوں نے یورپ کی ترقی کے اسباب کا گہری نظر سے مطالعہ کیا۔ ان میں تیونس کے خیرالدین پاشا اور مصر کے جناب رافع طہطاوی بہت قابل ذکر ہیں۔ یہ دونوں اسلامی علوم سے بھی باخبر تھے اور انہوں نے یورپ کا بھی قریب سے مطالعہ کیا تھا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ مسلمانوں کو ایسے اہل علم کی ضرورت ہے جو ایک طرف جدید علوم اور جدید مسائل سے واقف ہوں اور دوسری طرف دینی علوم پر بھی ان کی نظر ہو۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مسلمان ممالک میں ملوکیت اور استبدادی نظام کی جگہ جمہوری حکومت کو لینی چاہیے جو قانون اور دستور کی پابند ہو۔ انھوں نے یورپ سے ان تمام علوم اور فنون کو حاصل کرنے کی حمایت کی جو اسلام سے مطابقت رکھتے ہیں۔اس زمانے میں مصر پر فرانس کا قبضہ تھا، چنانچہ طہطاوی نے ایک طرف فرانسیسی استعمار کی ڈٹ کر مخالفت کی مگر دوسری طرف فرانسیسیوں کی صداقت، انصاف،کردار اور محنت کی بھی خوب تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ اسلامی حدود کی پابندی میں رہ کر مغربی تہذیب کی اچھی چیزوں کو اپنانے میں کوئی ہرج نہیں۔انھوں نے مغربی لبرل ازم کے بارے میں کہا کہ یہ وہی چیز ہے جیسے اسلام میں عدل وانصاف کہا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ایک آئینی اور نمائندہ حکومت ہی دراصل ایک شورائی حکومت ہوتی ہے۔تیونس کے خیر الدین پاشا نے ایک اہم کتاب ’’اقوم الممالک فی معرفۃ احوال الممالک‘‘۔ لکھی۔ اس کتاب میں خیرالدین پاشا نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ حکمت مومن کا گم شدہ مال ہے اس لیے یورپ میں ہمیں جو چیز اچھی اور مفید نظر آئے اسے قبول کرنا چاہیے اور جو ناپسندیدہ ہو وہ رد کردینی چاہیے۔ انھوں نے اس کتاب میں ایک اور پتے کی بات یہ لکھی ہے کہ مسلمانوں کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ وہ دوایسے گروہوں میں تقسیم ہوگئے ہیں جو ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ ایک گروہ علمائے دین کا ہے جو شریعت سے واقف ہیں لیکن دنیا سے ناواقف اور دوسرا گروہ سیاست دانوں کا ہے جو دنیا سے واقف ہیں لیکن دین سے واقف نہیں اور چاہتا ہے کہ یورپ کا نظام پورے کا پورا دین کی طرف رجوع کیے بغیر مسلمانوں پر تھوپ دیں۔ خیرالدین پاشا لکھتے ہیں کہ ان دونوں گروہوں کا یہ فرق دور ہونا چاہیے۔ علماء کو دنیا سے واقفیت پیدا کرنا چاہیے اور سیاست دانوں کو دین سے واقف ہونا چاہیے۔ خیرالدین پاشا کے یہ خیالات تقریباً وہی تھے جو ترکی میں ان کے ہمعصر نامق کمال اور تنظیمات کے بعض رہنماؤں کے تھے۔ اسی دور کا ایک اہم نام ضیاگوک الف ہے۔ اگرچہ ایک طرف وہ سیکولرزم کے حامی تھے لیکن دوسری طرف وہ خلافت کے ادارے کے بھی حامی تھے، وہ ترکی زبان سے عربی اور فارسی الفاظ نکالنے کے حق میں نہیں تھے اور مسلمان طلبہ کے لیے دینی تعلیم کو ضروری سمجھتے تھے۔ 
تاہم اس دور کے عظیم ترین صاحبِ علم جمال الدین افغانی تھے ، جو 1839ء میں افغانستان میں پیدا ہوئے اور وہاں وزارت کے منصب پر فائز رہے۔ جمال الدین افغانی مغربی استعمار کے بہت سخت خلاف تھے۔ وہ اتحادِ اسلامی کے بڑے داعی تھے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ جمہوریت پر پختہ یقین رکھتے تھے،وہ جدید دنیا کے اجتماعی مسائل کو قدیم اور جدید اندازِ فکر کو ملاکر حل کرنا چاہتے تھے۔ وہ یورپ سے ہر اُس چیز کو حاصل کرنے کے حق میں تھے جو اسلام سے متضاد نہ ہو۔ 1870ء میں جب وہ ترکی پہنچے تو وہاں کے علماء اور صوفیوں نے ان پر کفر کا فتویٰ لگادیا اور ان کو ترکی چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ۔اس کے بعد وہ مصر، ہندوستان، ایران، روس اور برطانیہ بھی گئے۔ ہر جگہ سے ان کو جلاوطن کیا گیااس لیے کہ اُس وقت کی مسلمان دنیا اُن کے افکار ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ جس جگہ حکمران جمہوریت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوں، علماء تقلید، ذہنی جمود، تعصب اور تنگ نظری کا شکار ہوں اور اہل تصوف لوگوں کو مابعدالطبعاتی مسائل میں مسلسل لوگوں کو الجھانے کے درپے ہوں، وہاں ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔ 


ہندوستان کی مسلمان سلطنتیں 

موجود ہ پاکستان اور شمالی بھارت میں سب سے پہلے مسلمان حکومت شہاب الدین غوری نے1206ء میں قائم کی۔ اس کے بعد اس کا غلام قطب الدین ایبک حکمران بنا ۔اس دور کو عام طور پر خاندان غلامان کہا جاتا ہے اور یہ تقریباً ایک سو برس جاری رہا۔ اس کے بعد خاندان تغلق کی حکومت شروع ہوئی جس کا پہلا حکمران غیاث الدین تغلق تھا ۔یہ دور بھی تقریباً ایک سو برس تک جاری رہا۔ اس دور میں فیروز شاہ تغلق جیسا حکمران بھی آیاجس کو مسلمانوں کے انتہائی نیک دل حکمرانوں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ اس خاندان کی حکومت کو تیمور نے ختم کیا۔ جب تیمور نے دہلی کو فتح کیا تو یہاں بہت بڑا قتلِ عام کیا اور پورے شہر کی یوں اینٹ سے اینٹ بجا دی کہ یہ عظیم الشان شہر ملبے کے ایک ڈھیر تبدیل ہوگیا۔ معین الدین چشتیؒ ، بابا فرید شکر گنجؒ اور خواجہ نظام الدین اولیاءؒ اسی دور میں گزرے۔ امیر خسرو بھی اس دور سے تعلق رکھتے تھے۔ 
تیمور کے ہاتھوں خلجی خاندان کی تباہی کے بعد برِ صغیر کئی حصوں میں بٹ گیا اور ہر جگہ مسلمانوں کی حکومتیں قائم ہوگئیں۔ یہ دور بھی تقریباً ایک سو برس تک رہا۔ اسی دور میں 1498ء میں پرتگال کا مشہور جہاز ران واسکوڈے گاما کالی کٹ کے بندرگاہ پر لنگر انداز ہوگیا اور اگلے دس بارہ برسوں میں پرتگالیوں نے گواکے بندرگاہ سمیت اس ساحلی علاقے پر قبضہ کرلیا۔

 
دورِ زوال کے آغاز میں برصغیر کی حالت 

اپریل1524ء کو پانی پت کی پہلی لڑائی میں بابر نے ابراہیم لودھی کو شکست دے کر برصغیر میں تیموری یا مغل سلطنت کی بنیاد رکھ دی۔
بابر ثمرقند کے قریب ایک چھوٹی سی جگہ فرغانہ کا حاکم تھا۔ 1504ء میں اس نے کابل کو فتح کرکے وہاں ایک مضبوط حکومت قائم کرلی اور اس کے بائیس برس بعد اُس نے ہندوستان کا رُخ کیا۔ اورنگزیب کی وفات 1707)ء )تک یہ سلطنتِ مغلیہ تقریباً ایک سواسی برس سے کچھ زیادہ پورے آب وتاب سے قائم رہی۔ البتہ درمیان میں شیرشاہ سوری اور اس کے بیٹے اسلام شاہ نے پندرہ برس تک دہلی پر حکومت کی۔ بابر نے مسلمانوں سے ہی برصغیر کی حکومتیں چھینی تھیں۔ چونکہ زمین زرخیز تھی اور حکمران بیدار مغز تھے اس لیے عمومی خوش حالی کا دوردورہ رہا۔ تاہم بادشاہت کی تمام خامیاں موجود تھیں۔ اورنگزیب بہت دیانت دار اور رعایا پرور تھا، تاہم اس کی بھی بارہا اپنے بھائیوں سے لڑائیاں ہوئیں جس میں اس نے سب کو شکست دے دی اور داراشکوہ کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ اس نے اپنے باپ شاہ جہان کو زندگی کے آخری برسوں میں نظربند رکھا۔ اگرچہ انہوں نے ’’فتاویٰ عالمگیری‘‘ کے نام سے اسلامی قانون کا بہت اہم مجموعہ تیار کروایا، تاہم انہوں نے غیر مسلموں میں اسلام کی اشاعت کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ اپنی وفات پر اورنگزیب نے اپنی حکومت اپنے تین بیٹوں میں تقسیم کردی جن کے درمیان سخت لڑائیاں ہوئیں۔ آخر میں ایک بیٹا بہادر شاہ اول کامیاب ہوا اور اس نے لڑائیوں میں اپنے باقی بھائیوں شہزادہ اعظم اور شہزادہ کام بخش کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اورنگ زیب کے ایک اور بیٹے شہزادہ اکبر نے اپنے باپ کی زندگی میں اس کے خلاف بغاوت کی تھی، مگر ناکامی کی صورت میں ایران فرار ہوگیا تھا۔ عام طور پر اورنگ زیب کی ایک بڑی صفت یہ بیان کی جاتی ہے کہ وہ اپنے ہاتھ سے قرآن مجید کی کتابت کرکے اس کی فروخت سے حاصل شدہ رقم اپنے ذاتی استعمال میں لاتے تھے، حالانکہ یہ وہ دور تھا جب یورپ میں چھاپہ خانے کی ایجاد کو دو ڈھائی سو برس گزر چکے تھے۔ ان دو صدیوں میں انگلستان کے اندر جمہوریت کی بنیادیں پڑ گئی تھیں لیکن برصغیر کے مغل بادشاہوں میں اس کا کوئی تصور تک بھی نہیں تھا۔ جیسا کہ پہلے بتایا جاچکا ہے، پرتگالی ملاح بابر کی حکومت قائم ہونے سے بھی پچیس برس پہلے ہندوستان میں آئے تھے اور انھوں نے نو آبادی بنالی تھی۔ اُن کے بعد فرانسیسیوں اور انگریزوں نے بھی برصغیر کا رخ کیا۔ اکبر کے زمانے میں 1600ء میں برطانیہ میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی تشکیل کی گئی۔ 1609ء میں انگریزی سفیر ویلیم ہائنس جہانگیر کے دربار میں حاضر ہوا۔ اس کے بعد انگریزمسلسل اپنی تجارتی کوٹھیاں، قلعے اور فیکٹریاں بناتے رہے لیکن مغل بادشاہوں نے قطعاً یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ یورپ میں کیا ہورہا ہے۔ 
اورنگزیب کی وفات کے تئیس برس بعد ایران کے حکمران نادرشاہ نے افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد دہلی پر بھی حملہ کیا۔ اُس وقت اورنگزیب کا پوتا محمد شاہ رنگیلا یہاں حکمران تھا جو ایک آرام طلب اور عیش پسند انسان تھا۔ نادرشاہ نے دہلی پر قبضہ کرکے لاکھوں انسانوں کا قتلِ عام کیا اور اُس کے فوجیوں نے سب کچھ لوٹ لیا۔ یہ تباہی پھیلاکر وہ خود بھی کروڑوں کا خزانہ ساتھ لے کر ایران چلا گیا اور اپنے پیچھے ایک برباد شدہ ملک کو چھوڑ گیا۔ 1761ء میں احمد شاہ ابدالی نے پانی پت کی تیسری لڑائی میں مرہٹوں کو شکست دے کر دہلی کو ان سے چھڑا لیا، لیکن بدقسمتی سے اس نے بھی یہاں اپنی حکومت قائم نہیں کی بلکہ واپس قندہار چلا گیا۔ یوں اس نے میدان انگریزوں کے لیے چھوڑ دیا۔ 
چنانچہ وہ انگریز جو 1600ء میں یہاں آئے تھے، اپنی تنظیم، منصوبہ بندی اور سائنسی ترقی کی بدولت آہستہ آہستہ ہندوستان میں اپنے پنجے میں پھیلاتے رہے۔ حتیٰ کہ ڈھائی سو برس کی جدوجہد کے بعد پورا ہندوستان 1857ء میں ان کے قبضے میں آگیا۔ 
مغلیہ دور میں عمارتوں اور باغات کی طرف بہت توجہ دی گئی، لیکن سائنسی ترقی کے اعتبار سے یہ پورا دور مکمل طور پر ناقابل ذکر ہے۔ اس دور کی سب سے بڑی شخصیت مجددالف ثانی ؒ ہیں جنہوں نے اپنی ذاتی جدوجہد سے اصلاح کا بہت کام سرانجام دیا۔