باب چہارم

اسلامی دنیا، مغربی دنیا کے ساتھ تقابل کے اعتبار سے چار بڑے ادوار سے گزری ہے۔ ویسے تو تاریخ کا تجزیہ کرنے کے بہت سے زاوئے اور پیمانے ہوسکتے ہیں۔ لیکن یہاں راقم نے تقابلی جائزے کے لیے وہ پیمانہ لیا ہے، جس پر آئندہ صفحات میں تفصیل سے روشنی ڈالی جائے گی۔ یہ ادوار درج ذیل ہیں: 
O دور اول: جو حضورؐ اور خلفائے راشدین کے دور پر مشتمل ہے ، یعنی 622ء سے 660 ء تک
O دور دوم: (سیاسی بالادستی کا دور) خلفائے راشدین کے بعد 1440ء تک کا دور۔ یہ دور تقریباً آٹھ صدیوں پر مشتمل ہے، اسی دور میں مسلمان حکمرانوں کو عموماً سیاسی بالادستی حاصل رہی۔ 
O دور سوم: (سیاسی زوال کے آغاز کا دور) جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے،اس راقم کے نزدیک جب 1440ء میں گٹن برگ نے چھاپہ خانہ ایجاد کیا تو دوسرا دور اپنے اختتام کو پہنچا۔ یہاں سے مغرب نے اپنے عروج کا سفر شروع کیا اور عالمِ اسلام زوال کی طرف جانا شروع ہوا۔ 
یہ دور 1774ء تک جاری رہا۔ اس سال میں ترکی کی عثمانی سلطنت کو’’معاہدہ کوچک کینیری‘ ‘ پرمجبور ہونا پڑا جس کے تحت روس کوترکی کی مقبوضات میں مداخلت کا حق مل گیا۔
سیاسی زوال کے آغاز کے لیے1707ء کو بھی ایک حدِ فاصل مانا جاسکتا ہے۔ یہ وہ سال تھا جب اورنگزیب عالم گیر کی وفات ہوئی، اور اس کے فوراً بعد ہندوستان کی سلطنتِ مغلیہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی۔ 
O دورِ چہارم :(سیاسی زوال کا دور)۔ یہ دور 1774ء سے آج تک جاری ہے۔ اس دوران میں ہندوستان میں مغل حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ اکثر مسلمان ملک مغربی طاقتوں کے قبضے میں چلے گئے۔ سلطنتِ عثمانیہ کا خاتمہ ہوگیا۔ اگرچہ بعد میں مسلمان ملکوں کو آزادی مل گئی، لیکن اس کے باوجود وہ ابھی تک سارے اہم معاملات میں مغرب کے دست نگر ہیں۔ کئی مسلمان ممالک میں مغربی افواج موجود ہیں اور کئی علاقے عملاً مغرب کے زیرِ تسلط ہیں۔ یہ دور اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک کم ازکم آٹھ مسلمان ممالک یعنی انڈونیشیا، ملایشیا، بنگلہ دیش، پاکستان،ایران،سعودی عرب، مصر اورترکی سائنسی اور دفاعی طاقت کے اعتبار سے مغرب کے ہم پلہ نہیں بن جاتے۔ گویا جب تک اُن کے’’ گروپ آف ایٹ‘‘ کے مقابلے میں ہمارا ’’گروپ آف ایٹ‘‘ برابر کی سطح پر نہیں آجاتا، تب تک ہم دورِ زوال ہی میں رہیں گے۔ 


ان ادوار کی کچھ مزید تفصیل 

مسلمانوں کے دورِ اول میں اُن کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ ایک واضح اور اعلیٰ مقصد کا شعور تھا۔ اس شعور نے اُن کو متحد کیا۔ مسلمانوں کے اندر ’’ریاستِ مدینہ‘‘ بنتے ساتھ ہی کا مل شورائیت نے جنم لیا۔ حضورؐ نے اپنی پوری زندگی میں ’صلح حدیبیہ‘ کو چھوڑ کر کبھی جمہور کی رائے کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ اس نظام نے کامل انصاف کو جنم دیا۔ چنانچہ ا ن تین عوامل کی وجہ سے یہ ریاست اپنے وقت کی عظیم ترین طاقت بن گئی اور اس نے اپنے وقت کی دونوں سُپر پاورز کو زیر کرلیا۔ 
اس دور کو بھی دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلا حصہ حضورؐ، حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت عمر فاروق ؓ اور حضرت عثمان غنی ؓ کے دورِ حکومت کے پہلے پانچ برس پر مشتمل ہے۔ گویا یہ دور تقریباً تےئس(23) برس تک جاری رہا۔ دوسرا دور حضرت عثمانؓ کے آخری پانچ برس اور حضرت علیؓ کے ساڑھے چار برس پر مشتمل تھا۔ اس دور کو دورِ فتن کہا جاتا ہے، اس لیے کہ حضرت عثمانؓ کے آخری پانچ برس میں اندرونی ہنگامے اور شورشیں ہوئیں، جب کہ حضرت علیؓ کے پورے دور میں بھی اندرونی لڑائیاں ہوتی رہیں۔ اسی دور میں جنگِ جمل اور جنگِ صفین ہوئی جس میں دونوں طرف سے لاکھوں مسلمان شہید ہوئے۔ 
اس پورے دور کو اس وجہ سے خلافتِ راشدہ کہا جاتا ہے کہ اس میں حکمرانوں کا تقرر عوام کی رائے سے ہوتاتھا، حکمران اپنے آپ کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھتے تھے، ان کی ذاتی زندگی صداقت وامانت اور اخلاقِ عالیہ کا مظہر تھی، اور عوام کو انصاف دلانا مملکت کا فرضِ اولین سمجھا جاتا تھا۔
دورِ دوم: 

(خلفائے راشدین کے بعد سے لے کر 1440تک کا دور) 

یہ دور مسلمانوں کے لیے عمومی سیاسی کامیابی کا دور تھا۔ مختصر وقفوں کو چھوڑ کر مسلمان مملکتیں ہی دنیا میں سُپر پاور تھیں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کو چھوڑ کر اس پورے دور کے حکمرانوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا دور اس وجہ سے ایک استثنائی حیثیت رکھتا ہے کہ اُن کے دور میں خلفائے راشدین کی ساری خوبیاں جمع ہوگئیں تھیں۔ انہوں نے تخت نشین ہوتے ہی جامع مسجد میں یہ اعلان کردیا کہ وہ رضاکارانہ طور پر اپنے منصب سے دستبردار ہوتے ہیں، عوام چاہیں تو کسی بھی دوسرے فرد کو حکمران منتخب کرلیں۔ اس موقعے پر موجود سبھی لوگوں نے بالاتفاق ان کو امیرالمؤمنین مان لیا۔ ان کے اسی رویے کی وجہ سے بجا طور پر اُن کو خلیفۂ راشد کہا جاتا ہے۔ اُن کو چھوڑ کر باقی حکمرانوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ 
O اچھے حکمران: یہ وہ حکمران جوتھے تو غیر جمہوری، مگر علانیہ فسق وفجور میں مبتلا نہیں تھے، عوام کو انصاف دلاتے تھے ، دوسری مسلمان حکومتوں پر حملہ نہیں کرتے تھے اور اپنی حکومت کے بارے میں بیدار مغزی سے کام لیتے تھے۔ اس پورے دور میں ایسے حکمرانوں کی تعداد اندازاً دس فیصد تھی۔ 
O غیر معیاری حکمران: یہ وہ حکمران تھے جو کسی حد تک عوام کو انصاف دلاتے تھے اور مملکت کے معاملات پورے انہماک کے ساتھ چلاتے تھے۔ لیکن ان کی ذات ،خاندان اوران کے امراء پر قانون کا اطلاق نہیں ہوتا تھا،یہ جس کو چاہتے قانون سے مبرا قرار دے سکتے تھے، وہ علانیہ فسق وفجور مثلاً شراب نوشی میں مبتلا ہوتے تھے، انہوں نے اور اُن کے امراء نے بیسیوں بلکہ سینکڑوں کنیزوں کو اپنے حرم کی زینت بنایا ہوتا تھا اور اکثر وبیشتر ان کے دربار میں خواجہ سرا بھی بڑی تعداد میں موجود ہوتے تھے۔اسی فیصد (80%) حکمرانوں کا تعلق اسی طبقے سے تھا۔ 
O بہت بُرے حکمران: یہ وہ حکمران تھے جن میں درج بالا ساری کمزوریاں پائی جاتی تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی عیاشی میں ایسے ڈوبے ہوئے رہتے تھے کہ امورِ مملکت کی طرف سے بالکل ہی غافل ہوتے تھے۔ ایسے حکمرانوں کی تعداد بھی اندازاً دس فیصد تھی۔ 


بنو امیہ 

حضرت امیر معاویہؓ کے بیس سالہ دورِ حکومت کے بعد ان کا بیٹا یزید تخت نشین ہوا۔ اس دور میں امامِ حسینؓ کی شہادت کا افسوس ناک سانحہ پیش آیا۔ اسی دور میں یزید نے مدینہ کو اپنی حکومت میں شامل کرنے کے لیے فوج بھیجی، جس نے مدینہ کو فتح کرنے کے بعد شہر میں قتلِ عام کیا اور تین دن تک شہر میں لوٹ مارکی۔ مدینہ منورہ کی پوری تاریخ میں ایسے قتلِ عام اور لوٹ مار کی مثال نہیں ملتی۔ اسی دور کے ایک اور حکمران عبدالملک نے بیت المقدس میں ایک چٹان کے اوپر گنبد تعمیر کیا، جسے قبۃالصخرہ کہا جاتا ہے۔ یہ وہی گنبد ہے جس کی تصویر ہر جگہ نظر آتی ہے۔ جب کہ اس کے مقابلے میں مسجد اقصیٰ کی تصویر سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔ عبدالملک نے انتہائی سفاکی کے ساتھ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کے اقتدار کو ختم کیا۔اس دور کے ایک حاکم حجاج بن یوسف کے ظلم وستم سے تو ساری دنیا واقف ہے۔اسی عہد کے ایک حکمران سلیمان بن عبدالملک نے مشہور سپہ سالاروں، محمد بن قاسم اور موسیٰ بن نصیرکو انتقام کا نشانہ بناکر قید کردیا جہاں ان کا انتقال ہوگیا۔ 
حضرت عمر بن عبدالعزیز کے بعد ہشام برسراقتدار آیا۔ اُس نے چالیس دن بعد ہی حضرت عمر بن عبدالعزیز کی تمام اصلاحات کو منسوخ کرکے وہی پرانا استبدادی نظام پھر قائم کردیا۔ بنی امیہ کے دور میں نو مسلموں پر بھی جزیہ لگایا جاتا تھا۔ شراب نوشی عام تھی۔ بڑے بڑے حرم وجود میں آئے جو کنیزوں اور لونڈیوں سے بھرے ہوئے تھے۔ رومی اور ایرانی اثرات کے تحت درباروں میں خواجہ سراؤں (ہجڑوں) کا شرم ناک رواج شروع ہوا۔ تاہم چونکہ اردگرد کے سارے ممالک کی نسبت یہ حکومت معاشی اور دفاعی اعتبار سے مضبوط تھی۔ اس لیے یہی سُپر پاور رہی۔ 
اس دور میں اہلِ علم نے حکومتوں سے بے نیاز ہوکر دین کی خدمت کی اور یوں عوام کو دین پر پوری طرح راسخ رکھا۔ عظیم علماء امام زین العابدینؒ ، امام باقرؒ ، امام جعفر صادقؒ ، سعید بن مسیّبؒ ، عروہ بن زبیرؒ ، حسن بصریؒ ، مجاہدؒ بن جبیر، شعبیؒ ، قتادہؒ ، مکحولؒ ، یزیدؒ بن حبیب، حمادؒ اور عیسیٰؒ بن عمراسی دور سے تعلق رکھتے ہیں۔حکومتوں نے افواج کی طرف بھرپور توجہ دی۔ اُس دور میں مسلمان آسانی سے دولاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ فوج بیک وقت میدانِ جنگ میں لاسکتے تھے۔ اسلحہ اور فوجی تنظیم بہت بہتر تھی۔ مسلمانوں کے پاس وقت کے لحاظ سے جدیدترین اسلحہ موجود تھا۔ 
اس زمانے میں مسلمانوں کی بحری قوت بھی سب سے زیادہ تھی۔ شام، مصر اور تیونس میں جہاز سازی کے کارخانے قائم تھے جنہیں ’’دارالصناعہ‘‘ کہا جاتا تھا۔ حکومت کے پاس ہر وقت ہزاروں جنگی جہازوں پر مشتمل بیڑہ تیار رہتا تھا۔ مالی اعتبار سے لوگ عام طور پر خوش حال تھے۔ اپنے وقت کے سائنسی علوم کی طرف پوری توجہ دی جاتی تھی۔ مثلاً ایک اموی شہزادہ خالد بن یزید نے یونانیوں سے فلسفہ، طب اور علم کیمیا کی تعلیم حاصل کی اور خود بھی علم کیمیا پر کتابیں لکھیں۔ 


بنوعباس 

بنوامیہ 661ء سے لے کر 750ء تک برسراقتدار رہے۔ اس کے بعد بنوعباس اقتدار میں آئے۔ اس کے پہلے حکمران ابوالعباس سفاح نے بنوامیہ کے اقتدار کو ختم کرنے کے لیے چھ لاکھ انسانوں کو ہلاک کیا۔ دمشق کو فتح کرکے کئی دن تک وہاں قتلِ عام کیا گیا۔ بنی امیہ کے بچے بچے کو قتل کردیا گیا اور اموی سرداروں کی تڑپتی لاشوں پر فرش بچھا کر کھانے کی دعوت کی گئی۔ سفاح کا مطلب ہی خون ریزی کرنے والا ہے۔ 
اس دور کا دوسرا حکمران منصور امورِ مملکت چلانے میں بڑا ماہر لیکن برتاؤ میں بہت سخت تھا۔اُس نے اپنے سب سے بڑے ساتھی ابومسلم خراسانی کو قتل کردیا۔ اس دور کا سب سے مشہور حکمران ہارون الرشید تھا۔ اُس کی زندگی تضادات کا مجموعہ تھی۔ ایک طرف وہ بڑا عیش پرست تھا اور دوسری طرف وہ علم دوست بھی تھا۔ ہارون الرشید نے اپنے وزیراعظم جعفر برمکی کو بالکل بے قصور قید خانے میں ڈال کر قتل کرادیا۔ ہارون الرشید نے اپنی سلطنت اپنے دو بیٹوں امین اور مامون میں تقسیم کردی۔ ان دونوں بھائیوں کی لڑائی کئی سال تک جاری رہی۔ بالآخر مامون الرشید جیت گیا اور امین کو قتل کردیا گیا۔ مامون نے بیس برس تک حکومت کی۔ اس کے دور میں پہلی مرتبہ مذہبی اختلافِ رائے میں حکومت نے اپنے مخالفین پر بے جا سختیاں کرکے مذہبی آزادی میں مداخلت کردی۔ 
اسی سلسلے کے ایک اور حکمران متوکل نے کربلا میں حضرت امامِ حسینؓ کا مزارڈھا دیا اور عیسائیوں پر یہ پابندی لگادی کہ وہ ایک مخصوص لباس پہنا کریں گے۔ بنو عباس کے دورِ زوال میں بڑی ہنگامہ آرائیاں ہوئیں۔ حبشیوں اور عراقیوں کی لڑائی میں پچیس لاکھ بے گناہ شہری مارے گئے۔بنو عباس کے اکثر حکمران تن آسان، عیش پرست اور شراب کے رسیا تھے۔ ایک حکمران مقتدر بااللہ کے دور میں شاہی محل میں گیارہ ہزار خواجہ سرا تھے۔اس دور میں غلامی کے نظام نے باقاعدہ کاروبار کی صورت اختیار کرلی۔ محض غلام حاصل کرنے کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جاتے تھے۔ تمام بڑے شہروں میں باقاعدہ بازار لگتے تھے، جہاں لونڈی غلاموں کی فروخت ہوتی تھی۔
تاہم ان تمام خرابیوں کے باوجود چونکہ حکومت دفاعی اور معاشی اعتبار سے مضبوط تھی، اسی لیے یہی حکومت سُپر پاور رہی۔ اس دور میں بہت بڑے صاحبانِ علم وفن پیدا ہوئے جنہوں نے حکومتوں سے تعرض کیے بغیر سوسائٹی کی تعمیر وترقی میں اپنا عظیم کردار اداکیا۔ امامِ ابو حنیفہؒ ، امام مالکؒ ،امامِ شافعیؒ ، امام احمد بن حنبلؒ اور امام بخاریؒ نے اپنے کارنامے اسی دور میں انجام دیے۔اگر حکومتو ں نے کبھی ان کے کام میں رکاوٹ ڈالی تو انہوں نے ڈٹ کر اختلاف کیا،تاہم عام حالات میں انہوں نے حکومتوں سے کبھی جھگڑا مول نہیں لیا۔ احادیث کے چھ بنیادی مجموعے یعنی جامع بخاری، جامع مسلم، ترمذی، ابوداؤد، ابنِ ماجہ اور نسائی اسی دور میں لکھی گئیں۔ موطا امام مالکؒ بھی اسی دور میں تحریر کی گئی۔ ابن ہشام نے ’’سیرت النبیؐ‘‘ لکھی ، ابن سعد نے ’’طبقات ابنِ سعد‘‘ لکھی، بلا ذری نے ’’فتوح البلدان‘‘ تحریر کی اور ابن جریر طبری نے چودہ جلدوں پر مشتمل تاریخِ اسلام لکھی۔ اسی دور میں مشہور جغرافیہ دان مسعودی نے اپنی تحقیقات پیش کیں۔ ابوالحسن اشعری نے عقلی بنیاد پر اسلامی نظریات کی صداقت ثابت کی۔ اسی دور میں مشہور ریاضی دان محمد بن موسیٰ خوارزمی پیدا ہوئے۔ مشہور کیمیا دان جابر بن حیان بھی اسی دور میں تھے اور علم طب میں محمد بن زکریا رازی نے بنیادی تحقیقات کیں۔ ان کی کتابوں کا یورپ کی کئی زبانوں میں ترجمہ ہوا جن کی مدد سے دنیا نے علمِ طب سیکھا۔ 
عباسی دور یوں تو تقریباً پانچ سو برس یعنی 750ء تا1258ء تک قائم رہا لیکن اس کے عروج کا دور درحقیقت صرف سو برس تک رہا۔ اس کے بعد مزید سو برس عہدِ زوال کے تھے۔ پھر دو سو برس تک عباسی حکمران دوسری مسلمان حکومتوں کے محکوم رہے۔ اس کے بعد مزید سو برس تک وہ دوبارہ خودمختار بن گئے، اگرچہ اس دور میں ان کی حکومت صرف عراق پر ہی مشتمل تھی۔ بغداد کا آخری حکمران معتصم بااللہ ایک مغرور اور بے صلاحیت انسان تھا۔ اس نے اپنی ہی فوج توڑ کر ختم کردی۔ چنانچہ منگول حکمران ہلاکو خان نے 1258ء میں بغداد کو فتح کرکے اس کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ 
جب سو برس کی حکومت کے بعد سلطنتِ عباسیہ کمزور پڑ گئی تو ہر صوبے کے حکمران نے اپنی خودمختار حکومت قائم کرلی۔ اس میں ایک بڑی حکومت کو ’’سامانی عہد‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ حکومت 874ء سے لے کر1005ء تک قائم رہی۔یہ افغانستان، ایران اور بخارا پر مشتمل تھی۔ عظیم فلسفی فارابی کا تعلق اسی دور سے تھا۔ دوسری بڑی حکومت جو اس زمانے میں قائم ہوئی، وہ ’’بنی بویہ‘‘ کی تھی۔ یہ حکومت 934ء سے لے کر1055ء تک بغداد اور ایران کے کچھ علاقوں میں قائم رہی۔ عظیم طبیب اور فلسفی بوعلی سینا اسی دور میں تھے۔ مشہور سائنس دان ابن ہیثم کا تعلق بھی اسی دور سے تھا۔ اس دور میں بغداد فرقہ وارانہ فسادات کا گڑھ بن گیا تھا۔ ہر مسلک دوسرے کو کافر قرار دیتا تھا۔ 
اُس زمانے کی تیسری بڑی سلطنت ’’سلطنتِ فاطمیہ‘‘ تھی۔ یہ حکومت 909ء سے لے کر1171ء تک قائم رہی۔ مصر اور شمالی افریقہ کے دوسرے علاقے اسی سلطنت کے تحت تھے۔ قاہرہ کی بنیاد اسی زمانے میں پڑی۔ جامعہ ازہر بھی اسی دور میں 975ء میں قائم کیا گیا۔ 
1250 ء سے 1382 ء تک مصر و شام پر مملوک بادشاہوں کی حکومت رہی جو نسلاً ترک اور منگول تھے۔ امام ابن تیمیہ ؒ اسی دور میں 1263 ء میں پیدا ہوئے ۔ وہ ایک عظیم عالمِ دین تھے۔ فلسفہء تاریخ کے بانی ابن خلدون بھی اسی دور میں 1332 ء میں تیونس میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے مملوک بادشاہوں اور بعد میں امیر تیمور کے پاس بطورِ چیف جسٹس کام کیا۔
جب ایک سلطنت ٹوٹتی ہے اور اس کے بطن سے بہت سی دوسری حکومتیں وجود میں آتی ہیں، تو یہ ایک تکلیف دہ اور ہنگامہ خیز دور ہوتا ہے۔ گویا ان چارسو برسوں میں مسلمانوں کی مختلف حکومتیں آپس میں لڑتی بھڑتی رہیں۔ درمیان درمیان میں بہت سے اچھے حکمران بھی گزرے، لیکن ایک بڑی اکثریت ایسے حکمرانوں کی تھی جن کا مقصدِ اولین اپنی سلطنت کو بچانا اور اس کی توسیع تھی۔ اس مقصد کے لیے وہ سب کچھ کرنے پر آمادہ رہتے تھے۔ تاہم ان سلطنتوں کی وجہ سے اسلام بھی پھیلتا رہا، کیونکہ جو علاقہ فتح ہوجاتا تھا وہاں علماء اور تاجروں کی وجہ سے اسلام کی روشنی پہنچ جاتی تھی۔ 


O غزنویوں، سلجوقیوں اور غوریوں کی حکومتیں

سامانی حکومت کے ایک صوبہ دار سبکتگین نے 976ء میں غزنی میں ایک خودمختار حکومت قائم کرلی اور پھر اردگرد کے علاقوں پر بھی قبضہ کرلیا۔ اس کا بیٹا محمود غزنوی 997ء میں تخت نشین ہوا اور اس نے تقریباً پینتیس برس حکومت کی۔ اگرچہ ہماری تاریخوں میں اُسے بہت بڑا ہیرو بناکر پیش کیا جاتا ہے، تاہم اُس نے اکثر لڑائیاں مسلمان حکومتوں کے خلاف حملے کرکے لڑیں۔ اُس کا یہ کارنامہ قابلِ تحسین ہے کہ اس نے پنجاب اور سندھ کو اپنی حکومت میں شامل کرلیا۔ تاہم اُس نے ہندوستان پر جتنے بھی حملے کیے، وہ محض مالِ غنیمت کے حصول کے لیے تھے۔ سومنات کے بت کو توڑنا اس کا ایک بہت بڑا کارنامہ سمجھا جاتا ہے اور اسی لیے اسے بت شکن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ حالانکہ اسلامی لحاظ سے یہ ایک غلط اقدام تھا۔مسلمانوں پر یہ لازم ہے کہ جزیرہ نمائے عرب سے باہر غیر مسلموں کی ہر عبادت گاہ کا احترام کریں اور اُس کی پوری حفاظت کریں۔ 
مشہورمحقق اور سائنس دان البیرونی کا تعلق اسی زمانے سے تھا۔ اُس نے ریاضی، فلکیات، تاریخ اور جغرافیے پر انتہائی اہم تحقیقات کیں۔ 
غزنوی حکومت دوسودس برس تک قائم رہی۔ 
غزنوی حکمرانوں کے زوال کے وقت ایران میں سلجوقی ابھرنے لگے۔ سلجوقی سردار طغرل نے غزنوی حکمران مسعود کو شکست دے کر اپنی سلطنت کی بنیاد ڈالی۔ سلجوقیوں کا عہدِ عروج1037ء سے لے کر1157ء تک یعنی اندازاً ایک سو بیس برس جاری رہا۔ اس دور میں کچھ بہت اچھے حکمران گزرے۔ مشہور وزیراعظم نظام الملک طوسی کا تعلق بھی اسی دور سے تھا۔ اس نے تعلیم کی ترقی پر بہت توجہ دی اور ملک کے ہر حصے میں بڑے بڑے مدرسے قائم کیے جو اس کے نام پر ’’مدارسِ نظامیہ‘‘ کہلاتے تھے۔ بلند پایہ، صوفی اور فلسفی امام غزالیؒ (1059-1111) ء کا تعلق اسی دور سے تھا۔عظیم مصلح عبدالقادر جیلانیؒ (1077-1166)ء بھی اسی دور سے تعلق رکھتے تھے۔ فارسی کے مشہور شاعر عمر خیام اور مولانا جلال الدین رومیؒ کا تعلق بھی اسی دور سے تھا۔ 
سلطنت غزنی کے آخری دور میں افغانستان کے علاقہ غور کے حکمران ملک عزالدین نے خودمختاری حاصل کرلی۔ اس کے بیٹے علاؤالدین نے غزنی پر حملہ کرکے شہر کو آگ لگادی اور سات دن تک شہر کے لوگوں کا قتلِ عام کیا۔ اسی لیے اس کو ’’جہاں سوز‘‘ کا لقب دیا گیا۔ اس خاندان کا سب سے مشہور حکمران شہاب الدین غوری گزرا ہے کیونکہ اُس نے اپنی حکومت کی سرحدیں ہندوستان اور بنگال تک وسیع کرلیں۔ دوسری طرف شہاب الدین غوری کی لڑائیاں مغربی سرحدوں پر مسلسل دوسری مسلمان حکومتوں مثلاً خوارزم شاہی خاندان سے جاری رہیں۔ 
خواجہ معین الدین چشتیؒ اور امام فخرالدین رازیؒ کا تعلق اسی دور سے ہے۔ 


O نورالدین زنگی اور صلاح الدین ایوبی 

1099ء میں عیسائیوں نے فلسطین پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد ایک سو اٹھاسی سال تک اس علاقے میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان جنگیں ہوتی رہیں۔ ان کو تاریخ میں صلیبی جنگیں کہا جاتا ہے۔ عیسائیوں کے مقابلے میں شام کے حکمران عماد الدین زنگی نے بڑا نام پیدا کیا۔ اس کے بعد اس کے بیٹے نورالدین زنگی (1147-1174)ء نے اس سلسلے کو آگے بڑھایا۔ نورالدین زنگی ایک اچھا حکمران تھا، تاہم اس نے دوسری مسلمان حکومتوں کے خلاف بھی خوب لڑائیاں لڑیں۔چونکہ نورالدین زنگی کی اولاد نالائق تھی، اس لیے اس کا جرنیل صلاح الدین ایوبی، جو نسلاً کرد تھا، سلطنت پر قابض ہوگیا۔ اس نے اکتوبر 1187ء میں یروشلم پر دوبارہ قبضہ کرلیا۔ چھ لاکھ فوجیوں پر مشتمل یورپ کی متحدہ فوج نے جوابی حملہ کیا، مگر تین سال کی لڑائی کے باوجود عیسائی بیت المقدس لینے میں کامیاب نہ ہوئے اور سلطان صلاح الدین ایوبی سے صلح کرکے واپس چلے گئے۔ سلطان صلاح الدین ایک اچھے حکمران تھے۔ انہوں نے محلات میں موجود لونڈیوں کو آزاد کردیا، اکثر محلات کو عام استعمال کے لیے وقف کردیا، بہت کثرت سے تعلیمی ادارے اور ہسپتال قائم کیے۔ وہ بالکل سادہ زندگی بسر کرتے تھے اور محل کے بجائے ایک معمولی سی مکان میں رہتے تھے۔ تاہم صلاح الدین ایوبی کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے اپنی سلطنت اپنے تین بیٹوں میں تقسیم کردی جس کا نتیجہ اس سلطنت کی تباہی کی شکل میں نکلا۔