مولانا مودودیؒ کا اگلانکتہ یہ ہے کہ محرم رشتہ داروں (یعنی جن سے نکاح حرام ہے) اور اجنبیوں کے درمیان جورشتہ دار ہیں مثلاً چجاذاد ،ماموں زاد وغیرہ۔ ان سے پردے کی نوعیت کو ’’شریعت میں متعین نہیں کیا گیا۔ کیونکہ اس کا تعین ہونہیں سکتا‘‘ (تفہیم القرآن جلدسوم صفحہ388-)اس کے بعد وہ اس کے متعلق آپس میں متضاد ومخالف روایات پیش کرکے قاری کو ایک مکمل کنفیوژن میں مبتلاکر کے چھوڑ دیتے ہیں کہ ان سے پردہ ہوبھی سکتاہے اور نہیں بھی ہوسکتا۔
افسوس کہ اس نکتے میں مولانامودودیؒ سے بہت بڑی چوک ہوگئی ہے۔ کاش وہ سورہ نور کی آیات 31-27کا تدبر کی نگاہ سے جائزہ لیتے تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ قرآن مجید نے تو اس معاملے میں انتہائی وضاحت سے حکم نازل کئے ہیں۔ وہ یہ کہ دورونزدیک کے ان رشتہ داروں سے غض بصر ،حفظ فروج اور اخفائے زینت کے اہتمام کے ساتھ مل بیٹھنے ،گفتگو کرنے اور کھانا کھانے میں کوئی ہرج نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا قرآن مجید ایک ایسے معاملے کے بارے میں کوئی حکم نازل نہ کرتا جس ایک مردو عورت کوروازنہ سابقہ پیش آتا ہے اور یہی سب سے نازک اور پیچیدہ معاملہ ہے۔ یہ کیسے ہوسکتاہے۔
جہاں تک روایات کاتعلق ہے ۔ ان میں درحقیت کوئی تضاد نہیں۔ بدقسمتی سے مولانامودودیؒ نے روایات کی سندکاخیال رکھے بغیر ضعیف روایات کو بلاتکلف نقل کردیا ہے۔ ورنہ صحیح روایات یا توسورۃ احزاب کے تحت خالصتاً امہات المومنین سے متعلق ہیں یا پھر سورہ نور کے تحت عام مرد وخواتین سے متعلق ہیں اور اگر تمام صحیح روایات کو قرآن مجید کی مد(heading)لایاجائے توان میں کوئی تضاد نہیں رہتا۔ 
مولانامودودی کا اگلہ نکتہ یہ ہے کہ سورۃنور میں جتنی ہدایات نازل ہوئی ہیں ۔ یہ اصل میں مستثنیاتمیں سے متعلق ہیں ورنہ اصل حکم تو وہی ہے جو سورۃ احزاب میں نازل ہوا ہے اور جومولانا مودودی کے نزدیک چہرے کے پردے کا حکم ہے۔ غض بصر کی تشریح میں مولانامودودی لکھتے ہیں۔ 

" اس سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ عورتوں کو کھلے منہ پھرنے کی اجازت تھی۔ تبھی تو غض بصر کا حکم دیاگیا۔ ورنہ اگرچہرے کا پردہ رائج کیاجاچکا ہوتا تو پھر نظر بچانے یا نہ بچانے کا کیا سوال۔ یہ استدلال عقلی لحاظ بھی غلط ہے اور واقعہ کے اعتبار سے بھی ۔ عقلی لحاظ سے اس لئے غلط ہے کہ چہرے کا پردہ عام طورپر رائج ہوجانے کے باوجود ایسے مواقع پیش آسکتے ہیں جبکہ اچانک کسی عورت اور مرد کا آمناسامنا ہوجائے" (تفہیم القرآن ۔ جلد سوم صفحہ381)

یہ بات قابل حیرت ہے کہ جس سورت کی ابتداہی میں پروردگار نے کہہ دیاکہ اس سورت کوہم نے فرض کردیاہے اور اس میں ہم نے نہایت واضح اور صاف صاف ہدایات نازل کی ہیں ۔ ان کو مولانامودودیؒ مستثنیات والی آیا ت بتارہے ہیں۔ اور جن آیا ت کے متعلق پروردگار خود کہہ رہاہے کہ یہ مستثنیات والی ہدایات ہیں انہی کے متعلق مولانامودویؒ فرمارہے ہیں کہ اصل حکم تو انہی سے ثابت ہوتاہے چنانچہ دیکھئے سورۃ نور کی پہلی آیت ہی یہ کہہ رہی رہے۔ 

سورۃُ‘ انزلنٰھٰا وفرضْنٰھاَ وانزلنافیھآ اٰیٰت بیّنٰتٍ لعلکم تذکرُّون۔
" یہ ایک سورت ہے جس کو ہم نے نازل کیا اور اسے ہم نے فرض کیا ہے اور اس میں ہم نے صاف صاف ہدایات نازل کی ہیں تاکہ تم سبق لو" (سورہ نور24-، آیت ۱ ،ترجمہ از تفہیم القرآن)

پھر آگے قرآن مجید جوالفاظ استعمال کرتاہے اس میں کوئی مستثنیات نہیں ہیں۔ مثلاً آداب معاشرت والی بات آیت نمبر 27- میں اس طریقہ سے شروع ہوتی ہے۔ 

یاایھالذین اٰمنولاتد خلوبیوتاً غیر بیوتکم حتٰی تستاء نسو
’’ اے لوگو ! جوایمان لائے ہو اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو جب تک کہ گھروالوں کی رضااور اجازت نہ لے لو۔۔۔۔۔۔

پھر جب لوگ ایک دوسرے کے ہاں داخل ہوجائیں اور مرد وخواتین اکٹھے بیٹھ جائیں توقرآن مجید بغیر کسی استثناء کے نہایت واضح الفاظ میں حکم دیتا ہے : قل المومینین یغضومن ابصارھم ’’ اے نبی مومن مردوں سے کہو کہ ان کی آنکھوں میں حیا ہو۔۔۔۔(آیت 30)

اورخواتین سے بغیر کسی اگر مگر کے حکم دیتاہے : وقل للمومنات یغضضن من ابصارھم :’’ اور اے نبی مومن عورتوں سے کہہ دو کہ ان کی آنکھوں میں حیا ہو‘‘ (آیت 31-) 

حقیقت یہ ہے کہ یہ ساری سورت اپنی ہر آیت میں پکارپکارکرکہہ رہی ہے کہ یہ سب مسلمانوں سے متعلق ہے اور یہ ساری سورت نازل ہی اس لئے ہوئی ہے کہ مسلمانوں کو اختلاط مردوزن کے مواقع کے آداب سکھادئے جائیں۔ نہات افسوس ہے کہ مولانامودودیؒ نے اس سورت کی تفسیر میں کئی مقامات پرٹھوکر کھائی ہے۔مثلاً ایک جگہ آیت نمبر61-58 میں سیاق وسباق سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہاں سارے احکام مردوزن کے اختلاط سے متعلق دئے جارہے ہیں اور اسی میںیہ ہدایت بھی موجود ہے کہ اگرمردوزن اکٹھے کھانا کھانا چاہیں تب بھی ٹھیک ہے اور اگر مرد اور عورتیں الگ الگ کھاناچاہیں تب بھی ٹھیک ہے۔ یہ ہدایت اتنے صاف الفاظ میں آئی ہے کہ قرآن مجید کا ہرطالب علم سیاق وسباق میں اس بات کو سمجھ لے گا۔ لیکن مودودی ؒ غلطی سے یہ سمجھے کہ یہ صرف مردوں کے آپس میں اکٹھے کھانے یا علیحدہعلیحدہ کھانے سے متعلق ہے۔ مولانا مودودی ؒ نے اسی طرح کی فروگزاشتوں سے سارا مسئلہ خلط ملط کردیا۔ 
اس کے برعکس سورۃ احزاب ہر جگہ مستثنیات خود ہی ساتھ لگاتی ہے اور پہلی آیت ہی سے یہ واضح کرتی ہے کہ یہ سورت بنیادی طورپر پیغمبرؐ اور اور اس کے ازواج کے معاملات سے بحث کرتی ہے۔ چنانچہ پہلی آیت کی ابتدا ہی یہاں سے ہوتی ہے: یا ایھاالنبی اِتق اللہ ولاتطع الکافرین ولمنافقین ’’ اے نبی اللہ سے ڈرو اور کفار ومنافقین کی اطاعت نہ کرو‘‘ آگے آیت نمبر چھ میں ارشاد ہے۔النبی اولیٰ بالمومنین من انفسہم وازواجہ امھٰتہم : ’’ بلاشبہ نبی تواہل ایمان کے لئے ان کی اپنی ذات پرمقدم ہے اوراپنی بیویاں ان کی مائیں ہیں ۔ آگے آیت نمبراٹھائیس میں ارشادہے: ’’ النبی قل زواجک ۔۔۔۔۔ ’’ اے نبی اپنے بیویوں سے کہو۔۔۔۔ آگے آیت نمبر اکتیس میں نبی کی بیویوں کو کہا جاررہاہے کہ ان کے لئے سزا بھی دگنی اور جزابھی دگنی ۔ پھر آگے آیت نمبر بتیس میں ارشاد اہے یانساء النبی لستن کاحدٍ من النساء ۔۔۔۔ نبی کی بیویوں تم عام عورتوں کی طرح نہ ہو۔۔۔۔۔۔ 
یہ اس سورت کا عام لب ولہجہ ہے ۔ پھر اس سورت میں جہاں جہاں عام مسلمانوں سے خطاب ہے وہاں واضح طورپریہ بتایاگیاہے کہ یہ ہدایت کیوں اور طرح کے مواقع کے لئے دی جارہی ہے ۔ مثلاً جب خواتین کو باہر جلباب پہننے کیہدایت ہے توساتھ بتا دیاگیاہے کہ غیرمحفوظ مقامات پر بچاؤ کی ایک تدبیر ہے۔ ذالک ادنیٰ ان یعرفن فلایوذین ’’ یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اورنہ ستائی جائیں‘‘
درج بالاصفحات میں ہم نے مولانامودودی ؒ کے نقطہ نظر پر ادب کوملحوظ رکھتے ہوئے اختصار کے ساتھ تنقید کی ہے۔ وہ ہمارے نہایت محترم بزرگ ہیں تاہم ہم انہیں معصوم نہیں سمجھتے اور اسی لئے ہم نے ان کے نقطہ نظر کا تجزیہ کیا۔


مولانامفتی محمد شفیع ؒ کا موقف


اب ہم عالم اسلام کے ایک اور بہت بڑے بزرگ مولانامفتی محمد شفیعؒ کے نقطہ نظر کا تجزیہ کریں گے۔ مفتی محمد شفیع ؒ بھی مسلک حنفی سے تعلق رکھنے والے انتہائی سنجیدہ اور متین عالم تھے۔ ’’مفتی اعظم پاکستان ‘‘ ہونے کی حیثیت سے ان کا ایک خصوصی مرتبہ تھا۔ ان کی تفسیر ’معارف القرآن دور جدید کی عظیم تفاسیر میں سے ایک ہے اور قرآن مجید کا کوئی بھی طالب علم اس سے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔ ہم ان کے پورے ادب واحترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کے نقطہ نظر پر تنقید کریں گے۔ انہوں نے اپنا نقطہ نظر ’’معارف القرآن ‘‘ جلد ہفتم تفسیر سورۃ احزاب میں بیان کیا ہے۔
ان کے موقف کے مطابق حجاب کے تین درجے ہیں۔ پہلااور اصل مطلوب درجہ یہ ہے کہ عورتیں گھروں کے اندر رہیں اور ان کا وجود اور نقل وحرکت مردوں کی نظر سے چھپاہواہو۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ اگر کبھی وہ کسی ضرورت سے باہر جائیں توسرسے پاؤں تک برقع یا لمبی چادر میں پورے بدن کو چھپاکرنکلیں۔ راستہ دیکھنے کے لئے چادر میں سے صرف ایک آنکھ کھولیں یا برقع میں جوجالی آنکھوں کے سامنے استعمال کی جاتی ہے وہ لگالیں۔ تیسرا درجہ یہ ہے کہ باہر نکلتے وقت چہرہ اور ہتھیلیاں کھلی رکھی جائیں ۔ یہ درجہ مفتی محمد شفیعؒ کے خیال میں امام ابوحنیفہ ؒ کے نزدیک جائز ہے۔ مگر اس میں چونکہ فتنے کا خوف ہے اس لئے اب علمائے حنفیہ کے نزدیک بھی یہ جائز نہیں ہے۔ چنانچہ اب یہ تیسرادرجہ ختم ہوچکا ہے۔ اب صرف پہلا اور دوسرادرجہ ہی باقی ہے۔
پہلے درجے کے ضمن میں وہ سورۃ احزاب آیات 33-32 سے دلیل پیش کرتے ہیں ۔ یہ آیات جوخاص ازواج نبی کے بارے میں نازل ہوئیں ۔ ان کے متعلق وہ مزید کسی تفصیل کے بغیر کہتے ہیں کہ ان کا حکم عام ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اس کے حق میں جتنے واقعات نقل کئے ہیں ۔ وہ سب کے سب ازواج نبیؐ سے متعلق ہیں ۔ تین روایات انہوں نے ایسی بھی بیان کردی ہیں جن میں سے دو روایات سے یہ مفہوم نکل سکتا ہے کہ وقرن فی بیوتکن کا تعلق عام خواتین سے بھی ہے۔ مگر یہ تینوں روایات ضعیف ہیں اور آخری دوتو نہایت کمزور ہیں۔
اس کے بعد حجاب کے دوسرے درجے میں وہ بطور دلیل وہ تفسیر پیش کرتے ہیں جو ابن جریرنے حضرت عبداللہ ابن عباسؓ سے نقل کی ہے اورجس پر بحث کرکے ہم واضح کرچکے ہیں کہ حضرت ابن عباسؓ کی طرف اس تفسیر کی سند ضعیف ہے۔
حجاب کے تیسرے درجے میں جو ان کے نزدیک ا ب منسوخ ہوچکا ہے عورتوں کے لئے باہر جاتے وقت چہروں اور ہتھیلیاں حجاب سے مستثنیٰ ہیں ۔ اس کی دلیل وہ عبداللہ ابن عباسؓ ہی کی روایت سے لاتے ہیں۔
اب یہاں ایک بڑی دلچسپ صورت حال پیداہوگئی ہے جس کی طرف توجہ ضروری ہے۔ وہ یہ کہ ایک ہی صحابیؓ سے ایک ہی معاملے میں دو بالکل متضاد موقف منقول ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن عباسؓ سے ایک موقف تووہی منقول ہے جو ہم نے اوپر درج کیا ۔ لیکن اس کے مکمل برعکس یہ موقف بھی ان سے منسوب ہے کہ ان کے نزدیک نہ صرف چہرے ا ور ہاتھوں کا کھلارکھنا جائز ہے بلکہ اگر ان پر کچھ زینت یا زیور ہو تو اس کا اظہار بھی جائز ہے۔ اس بات کو مولانا مودودی ؒ نے اپنے مخصوص دلچسپ پیرائے میں اور ہلکے طنزآمیزلہجے میں یوں بیان کیا ہے۔

’’ان کے نزدیک یہ جائز ہے کہ عورت اپنے منہ کو مسی اور سرمے اور سرخی پاوڈر سے اور اپنے ہاتھوں کوانگوٹھی ،چھلے اور چوڑیوں اور کنگن وغیرہ سے آراستہ رکھ کر لوگوں کے سامنے کھولے پھرے۔ یہ مطلب ابن عباسؓ اور ان کے شاگردوں سے مروی ہے اور فقہاء حنفیہ کے ایک اچھے خاص گروہ نے اسے قبول کیاہے۔‘‘ (تفہیم القرآن جلدسوم صفحہ 386-)

واضح رہے کہ حضرت عائشہؓ کانقطہ نظر بھی یہی ہے کہ خواتین کے لئے باہر جاتے وقت چہرہ اور ہاتھ بمعہ ان کے زینت کے چھپانا ضروری نہیں۔ دورجدید کے ممتاز ترین محدث علامہ ناصرالدین البانی اس موضوع پر لکھتے ہیں:

’’ ان (متضاد) اقوال کو ابن جریر ؒ نے اپنی تفسیر جلد اٹھارہ صفحہ 84-،میں نقل کیا ہے۔ پھرابن جریرؒ نے اسی قول کو اختیارکیا ہے کہ اس استثناء سے مراد چہرہ اور ہاتھوں دونوں ہیں۔ چنانچہ انہوں نے کہا ہے کہ اس بارے میں صحت سے قریب تر انہی حضرات کا قول ہے جنہوں نے اس سے چہرے اور دونوں ہاتھوں کو لیاہے۔ جس میں سرمہ ،انگوٹھی ،کنگن اور حضاب سب شامل ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابن عباسؓ ،حضرت عائشہؓ اور دیگر صحابہ کا درج بالا قول ہی صحیح ہے۔ ‘‘ (حجاب المراء ۃ المسلمہ فی کتاب والسنہ)

حجاب کے اسی تیسرے درجے کی بحث میں مفتی محمد شفیع کہتے ہیں کہ چونکہ فتنے کا خوف ہے ۔ اس لئے اب اس درجے کو ختم ہی سمجھناچاہئیے۔اب کسی خاتون کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ محرم رشتہ داروں کے سوا کسی کے سامنے بھی چہرہ اور ہتھیلیوں کو کھولے۔
چنانچہ اب ہمیں یہ دیکھنا چاہیئے کہ فتنے کا خوف کیاچیز ہے اور ایسے مواقع پر دین کا مجموعی مزاج کیا ہے۔ اسلام کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ اس کی بنیاد آسانی پر ہے، تنگی پر نہیں۔
ارشاد ہے:

یرُیدُاللہَ ؓ بکمُ الْیُسْر وَلَایُریْدُ بِکُم الْعُسْرَ (بقرۃ آیت 2 ،آیت 185)
’’اللہ تم پر آسانی چاہتاہے ۔دشواری نہیں‘‘۔

ایک اور جگہ ارشاد ہے:

وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الّدِیْن مِنْ حرَجَ (حج22 ۔آیت 78)
’’اللہ نے دین میں تم پر کوئی مشکل یا تنگی نہیں رکھی‘‘ ۔

مزید ارشاد ہے:

یُریدُاللہ انَّ یُخَفِّفَ عَنکُم وَخُلِقَ الْانْسَانَ ضَعِیفَا (نساء4- ،آیت 28-)
’’اللہ چاہتاہے کہ تم سے تخفیف کردے کیونکہ انسان کمزور پیداکیا گیا ہے ‘‘

سورۃ مائدہ میں ارشاد ہے: 

مَایُریداللُہ یَجْعَلَ عَلَیْکُمْ مِنْ حَرَجَ  (مائدہ 5- ،آیت 6)
’’اللہ تم پر کسی قسم کی تنگی نہیں ڈالنا چاہتا‘‘۔

حضوؐر کی بعثت کاایک مقصدقرآن مجید بھی بتاتا ہے کہ یہودیوں نے اپنے مذہب کوسخت بنایاہواتھا۔ ان کے علماء وفقہا نے اپنے ماننے والوں پربے شمارپابندیاں لگارکھی تھیں(وہاں بھی نقطہ نظریہی تھا کہ فتنے کاخوف ہے) ۔ چنانچہ پروردگار نے اپنے آخری نبی کو بھیجا کہ ان پابندیوں کو ختم کیا جائے۔ سورۃ اعراف آیت 157- کا ایک ٹکڑا درج زیل ہے۔

وَیَضَعَ عَنھُم اِِصْرَھُمْ وَالَاغْلَٰلُ ألتی کَانَتْ عَلَیُھْم
’’یہ نبیؐ ان بوجھوں اور طوقوں کو دور کرتاہے جوان یہودیوں پر تھے۔‘‘

اسی لئے حضوؐر نے ارشاد فرمایا ’’دین آسان ہے‘‘ اور یہ اصولی ہدایت فرمائی کہ ’’لوگوں کے لئے آسانی پیداکرو ۔ لوگوں کومشکلات میں مت ڈالو‘‘ (صحیح بخاری)
اسی حوالے سے حضوؐر کے اسوہ کو بیان کرتے ہوئے حضرت عائشہ صدیقہؓ نے کہا کہ دوجائز باتوں میں حضوؐر اس بات کو اختیارکرتے جوآسان ترین ہوتی۔ 
اسلام کی درج بالا ہدایت سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اصول یہ نہیں ہونا چاہیئے کہ جہاں ہمیں کسی حکم کی خلاف ورزی کا اندیشہ ہو وہاں ہم جھٹ سے مزید پابندیاں لگادیں۔ بلکہ اس کے برعکس اصول یہ ہونا چاہئیے کہ عام لوگوں کے لئے زیادہ سے زیادہ آسانیاں پیداکی جائیں اور جہاں قرآن وحدیث کے الفاظ میں دومعنی لینے کے برابر کا احتمال ہو ، وہاں اس معنی ومفہوم کو اختیار کیا جائے جس میں عام لوگوں کے لئے آسانی ہو۔اگر ہرجگہ سختی سے کام لیا جائے توخدشہ ہے کہ لوگ دین کے واضح احکام پربھی عمل چھوڑدیں گے بلکہ دین سے باغی ہوجائیں گے۔ اس موضوع پر فقہ حنفی کے مشہور عالم دین مفتی غلام سرور قا دری مہتمم جامعہ رضویہ لکھتے ہیں

سید نا ابن عباس و سیدناقتاوہ و سید نا مجاھد ایسے جلیل قدر صحابہ وتابعین آیت حجاب میں لفظ ’’یدنین علیھن من جلابیھن ‘‘ میں چہرے کے پردے کومستثنیٰ قراردے چکے ہیں اور یہی امت کے لئے آسان ہے ۔ حضوؐر کا فرمان ہے کہ جہاں تک ہوسکے اُمت کے لئے آسانیاں پیداکرو، ان کومشکلات کے راستے پرمت چلاؤ۔ ۔۔۔۔ مطلب یہ کہ جواحکام آسان ونرم ہوں لوگوں کو وہی بتاؤ جس پر لوگ آسانی کے ساتھ عمل کرسکیں۔ اگر مشکل پہلوبتاؤگے تولوگ اسلام کو مشکل سمجھنے لگیں گے اور غیرمسلم بھی مسلمان ہونے سے پہلے سوچیں گے کہ اگر وہ مسلمان ہو گئے تو ان کے لئے ان سخت احکام پر عمل کرنا کہیں مشکل تونہ ہوگا۔ اگر یہ سوچ کر ان کے قدم اسلام کی طرف نہ بڑھے تو اس کی ذمہ داری ان لوگوں میں ہوگی جواسلام کو مشکل کرکے لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں‘‘ 

آگے مفتی غلام سرورقادری واقعہ افک کے حوالے سے مولانامودودیؒ کی بات کا جواب دیتے ہیں اور یہجواب مفتی محمد شفیع ؒ کی بات کابھی ہے ۔ اس لئے کہ اس موضوع پر ان دونوں بزرگوں کا نقطہ نظر ایک ہے۔ 

’’رہا جناب مودودی صاحب کا حضرت عائشہؓ کے واقعے سے استدلال کرنا کہ حضرت صفوان سے اپنا چہرہ چھپالیا تو یہ بات ہم ابوداؤد صاحب ؒ سنن کے حوالے سے اور امام قاضی ؒ کے حوالے سے جسے ہم نے امام نودی کی شرح مسلم کی عبارت کے ذریعے نقل کیا ، عرض کرچکے ہیں کہ منہ کا پردہ ازواج مطہرات کی خصوصیات میں سے ہے ۔اس پردوسروں کوقیاس نہ کیاجائے‘‘ (پردہ کی شرعی نوعیت: ماہنامہ البر ۔جولائی 1993)

درج بالابحث وتجزیہ سے یہ نتیجہ نکلا کہ مولانا مفتی محمد شفیعؒ نے حجاب شرعی کے جو تین درجے گنوائے ہیں اس طرح کی کوئی تقسیم قرآن سنت سے ثابت نہیں۔


ایک عقلی مغالطے کاجواب:


یہ کتاب عمومی طورپر اسلام کے نقطہ نظر کو واضح کرنے کے لئے لکھی گئی ہے۔ اس لئے اس میں فلسفہ ، تاریخ اور منطق کی بحثوں سے گریزکیاگیاہے۔ تاہم ایک خصوصی معاملے یعنی خواتین کے لئے چہرہ چھپانے سے متعلق ایک عقلی دلیل اتنے تواتر سے استعمال کی جاتی ہے کہ اس کا نوٹس لینا ضروری ہے۔ وہ دلیل یہ ہے کہ عورت کی اصل جنسی کشش تو اس کے چہرے میں ہوتی ہے اس لئے مردوں کو فتنے سے بچانے کی خاطر عورت کے چہر ے کا چھپاناضروری ہے۔ یہ دلیل صحیح نہیں ہے ۔ عورت کاچہرہ ذوق جمال کا آئینہ دار ضرورہے مگر کشش جنس کا نہیں ۔اس سے مرد کے esthetic sense کویقیناًایک خوشی مل سکتی ہے مگر اس سے سفلی جذبات صرف اس انسان میں نمودار ہوتے ہیں جس کے حیوانی جذبے بے مہار ہوں ۔ ایسے مردوں کی تنبیہ ہونی چاہیئے نہ کہ اس کی وجہ سے عورتوں پر پابندی لگائی جائیں۔ درحقیقت عورت کا اصل جنسی کشش اس کے بقیہ بدن کے ابھاروں کے برہنہ ہونے ،چست لباس کے اندر نمایاں ہونے اوع ہیجان خیز میک اپ میں ہے۔
اس بات کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ کشش تو بہت سے مردوں کے چہروں میں بھی ہوتی ہے کیا ایسے مردوں کو یا ایک خاص عمر کے سب مردوں کے بارے میں بھی اسلام کا کوئی ایسا حکم موجود ہے کہ ان کے چہرے بھی چھپائے جائیں؟ ظاہر ہے کہ اگر اسلام مردوں کے مبتلائے فتنہ ہونے کی وجہ سے عورتوں کوچہرہ چھپانے کاحکم دیتاہوتوعورتوں توعورتوں کے مبتلائے فتنہ ہونے کی وجہ سے مردوں کے لئے بھی چہرہ چھپانے کاحکم ہونا چاہیئے ۔ اسی بات کا تیسراپہلویہ ہے کہ اگر ’’مبتلائے فتنہ کا خوف‘‘ ہی معیار ٹھہرتوہم جنسی کو روکنے کے لئے سب مردوں اور سب عورتوں کو آپس میں ایک دوسرے سے بھی نقاب میں رہناچاہیئے۔
حقیقت یہ ہے کہ چہرہ کسی انسان کی شناخت کا اظہار کا نام ہے ۔ چہرہ چھپانے سے شخصیت Identity lessاور non entityہوجاتی ہے۔ عورتوں اور مردوں دونوں کے معاملے میں یہ چیز دین کو مطلوب نہیں ہے۔ اس کو صرف اس وقت استعمال ہوناچاہیئے جب واقعۃً اپنی شناخت چھپانی مقصود ہو۔
اس باب کا خلاصہ درج ذیل نکات کی شکل میں بیان کیا جاسکتاہے۔ 
۱: ایک خاتون کے لئے اپنے قریب ترین حلقے کے معاملے میں کوئی میں کوئی پاپندیاں نہیں(سورہ نور آیت اکتیس)
۲: جن اوقات میں میاں بیوی تخلیے میں ہوں ان اوقات میں ہرایک کوچاہیئے کہ ان کے کمرے میں بغیر اجازت کے نہ جائے۔(سورہ نور آیت 59-58)
۳: جن لوگوں سے دوستی ،رشتہ داری ، کاروباری یا کوئی اور تعلق ہو وہ سب مرد و عورت ایک دوسرے کے ہاں پہلے تعارف کروائیں ، اجازت لیں ۔ اجازت ملے تواندر جائیں۔ پبلک مقامات میں اجازت ضروری نہیں (سورہ نور : آیات 31-27-)
۴: ایسے موقع پر مردوں کو چاہیئے کہ وہ باحیا مہذب کپڑے پہنے ہوئے ہوں اور ان کی آنکھوں اور چال ڈھال میں حیاہو (سورہ نور ۔ آیات 31-27)
۵: ایسے موقعہ پر عورتوں کو بھی چاہیئے کہ وہ باحیا مہذب کپڑے پہنے ہوئے ہوں ۔ اگر انہوں نے زینت کی ہو ئی ہو تو اس زینت کو ظاہر نہ کریں ۔ سوائے اس زینت کے جس کا چھپانا مشکل کا باعث ہو۔مثلاً چہرے یا ہاتھ کی زینت ۔ وہ اپنے گریبانوں پر دوپٹے ڈالیں اور بجنے والے زیور کا بھی خیال رکھیں ۔ان کی آنکھوں اورچال ڈھال میں حیاہونی چاہیئے۔ (سورہ نور ۔ آیات 31-27)
۶: معاشرہ کے معذور افراد کو بالکل گھر کے فرد کی طرح رکھاجاسکتاہے۔(سورہ نور ۔ آیات61- )
۷: مردوخواتین میل ملاقات کے وقت اکٹھے بھی کھانا کھاسکتے ہیں اور علیحدہ علیحدہ بھی۔(سورہ نور آیت 61)
۸: اجنبی مرد وخواتین کی اگرایک دوسرے سے گلی بازار یا کسی بھی جگہ مڈبھیڑ ہو تو کوئی بے حیائی اور بد تہذیبی کی حرکت نہ کی جائے۔(سورہ نحل 16- آیت 90 ۔سورہ مومنون23 ،آیت 3)
۹: کسی غیر محفوظ مقام پر جاتے وقت خواتین کو چاہیئے کہ وہ ایسا باوقار مہذب لباس پہنیں جس سے اوباش لوگ یہ جان جائیں کہ یہ شریف عورتیں ہیں مثلاً وہ اپنے کپڑے اور سر پر ایک بڑی چادر لے لیں۔(سورہ احزاب ۔آیات 60-58)
۱۰: حجاب کے ضمن میں ازواج نبی ؐ کے لئے خصوصی احکام تھے۔ جو سورۃ احزاب آیا ت 6،34-30،53 اور 60 میں بیان ہوئے ہیں۔