اب ہم پانچویں موضوع یعنی ’’ غیرمحفوظ مقامات میں خصوصی احتیاطی تدابیر ‘‘ کے ضمن میں چند روایات کا جاجئزہ لیں گے۔ جیسا کہ پہلے واضح کیا گیا سورہ احزاب آیات 60-58 میں پروردگار نے مسلمان خواتین کو ہدایت کی ہے کہ جب کسی ایسے مقام پر جائیں جہاں انہیں ستائے جانے اور تکلیف پہنچنے کا ڈرہو تو وہ ایک بڑی چادر اوڑھ لیں۔اس زمانے کی عرب معاشرت میں یہ معروف طریقہ پہلے سے چلاآرہاتھا کہ شریف اور باوقار خواتین باہرنکلتے ہوئے ایک بڑی چادر اوڑھاکرتی تھیں۔ قرآن مجید نے عام حالات میں اس کی ہدایت نہیں دی ۔ البتہ خطرے کے مقام پر جاتے وقت اس کا خیال رکھنے کو کہا۔تاکہ ان کو تنگ نہ کیا جائے۔ قرآن مجید کی اس ہدایت میں بھی چہرہ چھپانے کا براہ راست کوئی تذکرہ نہیں ۔البتہ اس سے بالواسطہ طورپر یہ بات نکلتی ہے کہ اگرخطرے کی نوعیت شدید ہو تو چہرہ بھی ایک حدتک چھپالیاجائے ۔ اس زمانے کی عرب خواتین چہرہ چھپانے کے لئے بڑی چادر یعنی جلباب استعمال نہیں کرتی تھیں۔ بلکہ جوخواتین چہرہ چھپانا چاہتیں وہ ’’نقاب‘‘ اوڑھتی تھیں اور ایسی خواتیں کو ’منقبہ ‘کہاجاتاتھا۔ قرآن مجید میں یا کسی حدیث میں بھی خوتین کو نقاب اوڑھنے کا حکم نہیں دیاگیا ۔ البتہ بعض واقعات کے ضمن میں ’منقبہ‘ خواتین کا ذکر آتاہے جن پر کچھ دیربعد ہم بحث کریں گے۔
یہ بات بھی واضح رہے کہ بعض خواتین میں ایک بڑی چادر اوڑھنے یا چہرہ چھپانے یعنی نقاب ڈالنے کا طریقہ بہت پہلے سے چلاآرہاہے۔ ایسا نہیں ہے کہ چودہ سو سال پہلے یہ حکم دیاگیا ہو۔ اس سے پہلے بے شمار تہذیبوں میں اس طرح کے رواج موجود تھے۔ مثلاً بارہ سوقبل مسیح کے آشوری دورمیں خواتین کے پردے کے لئے تفصیلی قوانین مرتب کئے گئے تھے۔ (اس ضمن میں تفصیلی بحث بہت دلچسپ بھی ہے اور معلومات افزا بھی۔ تاہم وہ اس کتاب کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ ہر اچھی انسائیکلو پیڈیا میں یہ تمام تفصیلات مل سکتی ہیں)صرف یہی نہیں بلکہ بہت سے معاشروں میں تو اہم مرد مثلاً بادشاہ وغیرہ بھی اپنے آپ کو رعایا کی نظروں سے دوررکھنے کی خاطر نقاب اوڑھا کرتے تھے۔ آج بھی کئی غیر مسلم معاشروں میں پردے کا رواج موجود ہے۔ ہندوؤں کے بعض طبقوں کے ہاں پردے کی انتہائی سخت پابندی کی جاتی تھی ۔آج بھی راجھستان جیسے کئی علاقوں میں غیر مسلم خواتین اپنے ہزاروں سال پرانے رواج کے مطابق چہرہ مکمل طور پر چھپاتی ہیں۔
اسی طرح اسلام سے پہلے عرب معاشرہ میں بھی بہت سی خواتین نقاب بھی اوڑھتی تھیں اور معززگھرانوں کی خواتین باہر نکلتے ہوئے جلباب بھی استعمال کرتی تھیں۔ اس کے بیشمار حوالے اسلام سے پہلے کے عربی شاعری میں ملتے ہیں ۔ مثلاً اپنی کتاب میں ایک شاعر سیرہ بن عمروقفسی کا یہ نقل کرتے ہیں 

ونسوتکم فی الروع بادوجوھہا 
بخان اماء ولا ماء لحرائر
  "میدان جنگ سے خوف اور گھبراہٹ کی شدت سے تمہاری خواتین کے منہ کھلے ہوئے تھے ۔ گویا وہ کنیزیں ہوں ۔ حالانکہ وہ کنیزیں نہیں بلکہ بیبیاں تھیں"

اسی طرح ربیع بن زیاد ، مالک کے مرثیہ میں کہتاہے۔

"قدکنایخبان الوجوہ تسترا"

مالک کے قتل سے پہلے ہماری عورتیں پردہ کی وجہ سے اپنے چہرہ چھپائے رکھتی تھیں۔ لیکن اس کے مرنے کے بعد ان کے منہ کھل گئے اور انہیں بے پردہ ہونا پڑا ۔
مولانا امین احسن اصلاحی تدبر قرآن جلد 6- صفحہ269-میں قبیلہ ہذیل کی ایک شاعرہ کا ایک شعر نقل کرتے ہیں۔

تمشی النسور الیہ وھی لا ھیۃ
مشی لغداری علیھن الجلابیت
 
  ترجمہ
گویا نزول قرآن سے پہلے ایسی خواتین بھی موجود تھیں جونقاب اوڑھ کر چہرہ چھپاتی تھیں اور عام حالات میں بھی جلباب اوڑھتی تھیں۔ اور ایسی بھی خواتین تھیں جونقاب بھی نہیں اوڑھتی تھیں اور جلباب بھی استعمال نہیں کرتی تھیں۔ اسلام نے ان میں سے کسی چیز سے منع نہیں کیا نہ کسی چیز کا حکم دیا ۔ اس لئے کہ اسلام کا اصول یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے کے جاری رسم ورواج میں کم سے کم مداخلت کی جائے۔ چنانچہ اسلام نے صرف اتنی اصلاح کی کہ غیرمحفوظ مقامات پر جلباب کے استعمال کی ہدایت کردی اور اس کے علاوہ ہر ایک کواپنے اپنے طریقے پر عمل کرنے دیا۔
چنا نچہ اب اس ضمن میں چند روایات کا تجزیہ کیا جائے گا۔ 
ابوداؤد کتاب الجہاد کی روایت کے مطابق ایک جنگ میں ایک خاتون ام خلادؓ کا بیٹا شہید ہوگیا۔ وہ اس کے متعلق نبیؐ سے دریافت کرنے کے لئے آئیں اور ان کے منہ پر نقاب پڑی ہوئی تھی ۔ بعض صحابہ نے اس سے پوچھا۔ تم اپنے بیٹے کے بارے میں پوچھ رہی ہو اور اس وقت بھی تمہارے چہرے پر نقاب ہے ؟ اس خاتون نے جواب دیا ’’میں نے بیٹا کھودیامگر اپنی حیا نہیں کھوئی‘‘
اس روایت کے ضمن میں پہلی بات یہ ہے کہ یہ ایک ضعیف روایت ہے۔ اس روایت کا ایک درمیانی راوی فرج بن فضالہ محدثین کے نزدیک ضعیف ۔ ناقابل استدلال اور ایک ایسا شخص تھا جو منکر روایتیں روایت کرتاتھا(الجرح والتعدیل جلدسات صفحہ 86اور تاریخ الکبیر جلد چھ صفحہ 137-)
تاہم اگر یہ واقعہ صحیح بھی ہو تو اس سے صرف یہ ثابت ہو تاہے کہ ام خلادؓ ان خواتین میں شامل تھی جونقاب اوڑھتی تھیں۔(وھئی منقبتہ) یہ واقعہ جنگ احد کا ہے جبکہ ابھی سورہ نور اور سورہ احزا ب میں سے کوئی بھی نازل نہیں ہوئی تھی۔ پھر پردے کا احکام کی پابندی کا کیاسوال؟صحیح ترین روایات کی روسے ہم یہ جانتے ہیں کہ بے شمار خواتین بغیر نقاب کے حضورؐ کے سامنے آئی ہیں۔ 
اگلی روایت بھی ابوداؤد کتاب اللہ الترجیل کی ہے۔ اس روایت کے مطابق ایک عورت نے پردے کے پیچھے ہاتھ بڑھا کر رسول اللہ ؐ کودرخواست دی۔ حضورؐ نے پوچھا یہ عورت کا ہا تھ ہے یا مردکا ؟ اس نے عرض کیا عورت ہی کا ہے۔ فرمایا عورت کا ہاتھ ہے تو کم ازکم مہندی سے رنگ لئے ہوتے۔
یہ بھی ایک ضعیف روایت ہے ۔ اس کی درمیانی راوی صفیہ بنت عصمتہ کے متعلق ماہرین حدیث کاکہنا ہے کہ اس خاتون کے متعلق کچھ معلوم نہیں ۔(تقریب التہذیب صفحہ 480-)اس کے ایک اور درمیانی راوی مطیع بن میمون کو ماہرین حدیث ’’لین حدیث‘‘ کہتے ہیں (تقریب التہذیب صفحہ 339)
اس حدیث کی اندرونی شہادت سے بھی اس واقعہ کے متعلق بڑا شک وشبہ پیداہوتاہے۔ جب پردے کے پیچھے سے ایک انسان نے ہاتھ بڑھایا توکیا حضورؐ یہ نہیں جانتے تھے کہ پردے کے پیچھے سے توصرف ایک خاتون ہی ہاتھ بڑھا تی ہے؟اس روایت سے یہ بھی تاثرملتاہے گویا مہندی لگانا ہر عورت کیلئے لازم ہے۔ حالانکہ دین کی روسے یہ کوئی ضروری امر نہیں۔ 
فرض کیجئے یہ واقعہ بالکل صحیح ہے تب بھی اس سے صرف یہ معلوم ہو تا ہے کہ یہ خاتون پردے کے پیچھے تھی اور یہ ا س کا ایک انفرادی فعل تھا کیونکہ صحیح ترین روایا ت کی روسے ہم سب جانتے ہیں کہ سینکڑوں خواتین نے جضورؐ کے سامنے آکر گفتگو کی ہے۔
اگلی روایت موطاامام مالک کتاب الحج کی ہے اس روایت کے مطابق ایک تابعی خاتون فاطمہ بنت منذر بیان کرتی ہیں کہ ہم حالت احرام میں اپنا دوپٹہ اپنے چہرے پر ڈال دیتی تھیں۔ ہمارے ساتھ حضرت ابوبکر کی صاحبزادی حضرت اسماء تھیں۔
اس کی تشریح یہ ہے کہ حضورؐ نے حج کے موقع پر خواتین کو بہت واضح طورپر نقاب اوڑھنے اور دستانے پہننے سے منع فرمایا تھا(المحرمۃ لاتنقب ولاتلبس القفازین) اس واقعے کے ذریعے یہ تابعی خاتون بتانا چاہ رہی ہیں کہ اگر ضرورت (مثلاً دھوپ کی شدت یامردوں کے ہجوم)کے وقت دوپٹہ چہرے پرڈال لیا جائے تو شاید اس میں حرج کی بات نہیں ہوگی ۔ اس لئے کہ ہم تو یوں کرتی تھیں اور حضرت اسماء نے ہمیں اس سے منع نہیں کیا(حدیث میں لفظ نُخمِّرْآیاہے) اس روایت کے ضمن میں یہ بات بھی ذہن میں رہبی چاہیئے کہ اس کے درمیانی راوی ھشام بن مروہ تھے بعض اوقات تدلیس کرتے تھے یعنی ایک فرد کی بات دوسرے فردکے نام سے بیان کرتے تھے۔ (تقریب التہذیب صفحہ 364-)
اگلی روایت فتح الباری کتاب الحج میں حضرت عائشہؓ کی زبانی یوں بیان ہوئی ہے۔’’عورت حالت احرام میں اپنی چادر اپنے سر پر سے چہرے پر لٹکا لیاکرے۔‘‘ 
یہ روایت ضعیف ہے ۔ اس کا درمیا نی رواعی ھشیم اور ایک اور راوی اعمش تدیس کرتے تھے ۔ (تقریب التہذیب صفحہ 365,136) اس لئے یہ ناقابل استدلال ہے۔
صحیح بخاری کتاب البیوع کی روایت کے مطابق حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضورؐ نے ’’نقاب پہننے والی عورت‘‘ (امراۃ منقبۃ) کی گواہی جائز قراردی ہے۔ 
اس روایت کی تشریح یہ ہے کہ اگر عدالت میں کوئی ایسی خاتون حاضر ہوجائے جس نے چہرے پر نقاب پہنی ہوئی ہو۔ تو اسے اپنی شناخت واضح کرنے کے لئے نقاب اتارنے کو نہ کہا جائے۔ یہ ایک غیر مناسب بات ہے ۔ اس کے بجائے قاضی یا توعلیحدگی میں اس کی شناخت کی تصدیق کرلے یا اس کی شناخت کو کوئی اور طریقہ استعمال کرلے۔ اس رویت سے ضمنی طورپر یہ معلوم ہوتاہے کہ حضورؐ کے زمانے میں چہرے پر نقاب پہننے والی خواتین بہت کم تعداد میں تھیں۔اسی لئے حضورؐ کو ان کے بارے میں خصوصی طورپر یہ بات کہنی پڑی۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم کتاب الفضائل میں حضرت ابوسعید حذری حضورؐ کے متعلق اپنا تاثر بیان کرتے ہیں کہ ان میں ایسی شرم و حیا تھی جیسی ایک ایسی کنواری لڑکی میں ہوتی ہے جو پر دے میں رہتی ہو(من العذاراء فی حذرھا)۔آپ جب کسی چیز کو برا جانتے تھے۔ ہم اس کی نشانی آپ کے چہر ے سے پہچان لیتے۔
اس روایت کی تشریح یہ ہے کہ بعض کنواری لڑکیاں بہت زیادہ محتاط ہوتی ہیں۔ ایسی لڑکیاں عام طورپر گھر سے باہر نہیں نکلتیں اور اگرنکلتی ہیں تو بہت احتیاط کے ساتھ نکلتی ہیں۔ ایسی لڑکیاں بہت شرمگیں ہوتی ہیں اورکسی بھی بری بات سے ان کے چہرے پر شرم وحیاکی سرخی دوڑ جاتی ہے۔ حضورؐ بھی ایسے ہی حیادار انسان تھے۔ یہ روایت ایک امر واقعہ بیان کررہی ہے۔ اس سے کوئی دینی حکم نہیں ثابت ہوتا۔
صحیح بخاری کتاب المغازی کی ایک روایت میں حضرت انسںؓ غزوہ خیبر کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔کہ حضورؐ حضرت صفیہؓ سے شادی کرلی تھی لیکن ابھی عام مسلمانوں کو اس کا پورا علم نہیں تھا۔ چنانچہ کچھ مسلمان آپس میں گفتگو کررہے تھے کہ حضرت صفیہؓ کی حیثیت بیوی کی ہے یا کنیزکی۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ اگر رسول اللہ ؐ ان کو پردے کے پیچھے بٹھائیں گے تووہ امہات المومنین میں سے ہیں اوراگر پردے کے پیچھے نہ رکھیں توپھر وہ کنیز ہیں۔ جب رسول اللہ ؐ نے سفرفرمایا تو صفیہؓ کیلئے اونٹ پر اپنے پیچھے بیٹھنے کی جگہ بنائی۔ اور ان کے گرد پردہ تان دیا۔ 
یہ روایت بہت اچھے طریقے سے امہات المومنین اور عام مسلمان عورتوں کے درمیان فرق کی وضاحت کررہی ہے۔ صحابہ کرامؓ یہ بات جانتے تھے کہ حجاب کی سخت پابندیاں صرف امہات المومنین کے لئے ہیں باقی عورتوں کے لئے نہیں ہیں۔ چونکہ وہ جھجھک کے مارے یہ بات براہ راست حضورؐ سے نہیں پوچھ سکتے تھے کہ حضرت صفیہؓ کوامہات المومنین کا درجہ دیا گیا ہے یا نہیں چنانچہ انہوں نے اس کا معیار ہی یہی بنالیاکہ اگر قرآن مجید کے حکم کے تحت سفر میں ان کے گرد پردہ تان دیا گیا تو وہ امہات المومنین سے ہونگی ورنہ نہیں ہونگی۔
جامع ترمذی کی ایک روایت کے مطابق حضورؐ نے فرمایا : عورت جب گھر سے نکلتی ہے توشیطان اس کو تاک لیتاہے 
یہ روایت بھی ضعیف ہے ۔ اس لئے کہ اس کا ایک راوی فتادہ بن عامہ (جو ’’عن‘‘ سے روایت کرتاہے ) مدلس تھا اور روایات میں اپنی طرف سے باتیں بڑھایا کرتاتھا۔( ملاحظہ کیجئے تعریف اہل التقدیس ازابن دجرص صفحہ 102)
اس روایت کے ضمن میں ایک اہم بات یہ ہے کہ اس کو مفتی محمد شفیعؒ نے معارف القرآن جلد ہفتم صفحہ 215پر نقل کرکے کہاہے کہ یہ حدیث ترمذی کے مطابق ’’صحیح حسن غریب ‘‘ ہے۔ یہاں مولانا روم سے نسالح ہواہے ۔ترمذی جن روایات کو حسن کہتاہے وہ عام طور پر ضعیف ہوتی ہیں۔ جیسا کہ اس روایت کا حال ہے۔ 
طبرانی کی ایک روایت کے مطابق حضورؐ نے ارشاد فرما یا : عورتوں کا باہر نکلنے میں کو ئی حصہ نہیں۔ بجزاس کے کہ باہر نکلنے کے لئے کوئی اضطراری ضرورت پیش آجائے۔
یہ روایت بھی شدید ضعیف ہے۔ کیونکہ اس کا درمیانی راوی سوار بن معصب ’’متروک الحدیث‘‘ تھا۔ امام ہیثمی اس روایت کو نقل کرنے کے بعدلکھتے ہیں ’’رواہ الطبرانی فی الکبیر وفیہ سوار بن معصب وھومتروک الحدیث ‘‘ (مجمع الزوائد۔جلد۲ صفحہ ا ۲۰۰)۔ اس لئے یہ ناقابل استدلال اور ناقابل اعتبار ہے۔
حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ میں ایک دن حضورؐ کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپؐنے صحابہ سے سوال کیا : عورت کے لئے کیا چیز بہتر ہے؟ صحابہؓ خاموش رہے ۔ پھر جب میں گھر گیا اوراپنی بیوی فاطمہ سے یہی سوال کیا تو فاطمہ نے جواب دیا : عورتوں کے لئے بہتر یہ ہے کہ نہ وہ مردوں کو دیکھیں، نہ مردان کو دیکھیں۔ جب میں نے فاطمہ کا یہ جواب حضوؐر سے بیان کیا توحضوؐر نے فرمایا : اس نے درست کہاہے۔ بیشک وہ میرا ایک جزوہے۔
یہ روایت مفتی محمدشفیعؒ نے بلاحوالہ ’’معارف القرآن ‘‘ جلد ہفتم صفحہ 216-پرنقل کیاہے یہ بھی ایک شدید ضعیف روایت ہے۔ اس لئے کہ اس کے راویوں کوحدیث کے ماہرین پہچانتے ہی نہیں۔ اس روایت کو امام ہیثمینے مجمع الذوائد (جلدچار صفحہ255-اور جلد9صفحہ 303)میں نقل کرنے کے بعد لکھا ہے: ’’اسے بزاز نے نقل کیاہے اوراس کے کئی راوی ایسے ہیں جنہیں میں نہیں پہچانتا‘‘ واضح رہے کہ جب حدیث کا کوئی ماہر کسی راوی کے متعلق یہ کہہ دے کہ میں اسے نہیں جانتا تو اس کا مطلب یہ ہو تا ہے کہ یہ روایت محض قصہ گوئی اور داستان طرازی ہے جس کی کوئی حقیقی قدروقیمت نہیں۔
صحابہ کرامؓ میں سے حضرت عمربن عباسؓ کے متعلق تفسیر ابن جریرجلد22- میں آیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں:

"اللہ نے عورتوں کو یہ حکم دیاہے کہ جب وہ کسی کام کیلئے گھروں سے نکلیں تواپنی چادروں کے پلواوپرسے ڈال کر اپنامنہ چھپالیں اور صرف آنکھیں کھلی رکھیں " 

حضرت ابن عباسؓ کی طرف اس تفسیر کی سند بہت کمزور ہے ۔ یہ روایت علی ابن ابی طلعہ نے ابن عباس سے بیان کی ہے۔ حالانکہ علی ابن ابی طلعہ کی ابن عباس سے ملاقات تک نہیں ہوئی(تقریب التہذیب صفحہ646-)۔ اس کے ایک اور درمیانی راوی ابوصالح ہیں ۔ جن کے بارے میں اگرچہ بعض محدثین کی اچھی ہے لیکن بعض محدثین کے نزدیک وہ حدیث کے معاملے میں جھوٹاہے۔ (تاریخ بغداد۔جلد9- ،صفحہ481-)
درج بالابحث میں ہم نے اپنی بساط کی حد تک وہ تمام روایات نقل کردی ہیں جومردوں اورعورتوں کے آپس میں اختلاط کے حوالے سے اہمیت رکھتی ہیں ۔ان پر غوروفکر کے ضمن میں یہ بات بہت اہمیت رکھتی ہے کہ اگر ان تمام روایات کو قرآن مجید سے آزاد ہوکر دیکھاجائے تو یہ تمام روایات آپس میں ایک دوسرے سے بہت بری طرح ٹکراتی ہیں۔لیکن اگر ان روایات کو قرآن مجیدکے نازل کردہ واضح احکامات کے تحت رکھ کر دیکھاجائے توہرروایت کاصحیح موقعہ اورمحل معلوم ہوجاتاہے۔ پھر ہر روایت انگوٹھی میں نگینے کی طرح بالکل فٹ بیٹھ جاتی ہے اورصرف وہی روایات محل نظررہ جاتی ہیں جو ضعیف ہیں ۔ خصوصاً یہ بات اہمیت کے قابل ہے کہ اس پوری بحث میں احادیث کی دوصحیح ترین کتابوں صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ہرروایت اپنے موقعہ ومحل پربالکل صحیح بیٹھ گئی۔


مولانامودودیؒ کاموقف:


موجودہ دور کے تعلیم یافتہ مسلمانوں کو جن اہل علم نے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے ان میں ایک مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ہیں۔ اس کتاب کے دونوں مصنفین مولانامودودیؒ کے ذاتی احسان مند ہیں ۔ اس لئے کہ دینی جذبہ اور قرآن وسنت کی روشنی میں دین پرغوروفکر کی طرف میلان ،ان دونوں نے مولانا مودودی ؒ کی تحریروں سے ہی سیکھاہے۔ تاہم یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ رسول اللہ ؐ کی باتوں کے سوا ہر مسلمان کے ہاں صواب وخطاکی گنجائش موجود ہے۔ چونکہ اس مسئلے میں ،ان دونوں مصنفین کے خیال میں ،مولانامودودی ؒ کا موقف صحیح نہیں ہے اس لئے نہایت ادب واحترام کے ساتھ ان کے موقف کا تجزیہ کیا جائے گا۔ 
مولانا مودودی ؒ نے اس موضوع پر اپنے خیالات ’’پردہ‘‘ ’’خو اتین اور دینی مسائل‘‘ ’’تفہیم القرآن جلدسوم تفسیر سورہ نور‘‘ اور تفہیم القرآن جلدچہارم تفسیر سورہ احزاب ‘‘ میں تحریرکئے ہیں۔ اس کے علاوہ "رسائل ومسائل "میں بھی مختلف مقامات پر اس ضمن میں مواد موجود ہے۔

مولانامودودیؒ کے تصورپردہ کو درج ذیل نکات کی شکل میں بیان کیا جاسکتاہے۔  * پردے کے ضمن میں اصل اہمیت سورہ احزاب کی آیت نمبر33-32 اور آیت نمبر59- کو حاصل ہے ۔ اس کے تحت ایک خاتون گھر سے باہر جاتے وقت اپنا پوراچہرہ چھپائے گی۔ زیادہ سے زیادہ وہ ایک آنکھ کھلی رکھ سکتی ہے۔
* گھر کے اندر بھی وہ خاوند کے سوا تمام محرم لوگوں سے سینہ اور سر چھپائے گی۔
* محرم مردوں کے سوا باقی سب مردوں سے ایک خاتون چہرہ چھپائے گی۔
* رشتہ دار جو نہ تومحرم ہوں اور نہ ہی بالکل اجنبیوں کی فہرست میں شامل ہوں ، ان کے بارے میں شریعت کی پالیسی غیر واضح ہے۔
* سورہ نور کی ہدایات بنیادی طور پر مستثنیات سے متعلق ہیں۔مثلاً جب کسی ہنگامی صورتحال میں آمنا سامنا ہوجائے ۔ عام حالات میں چہر ے کا پردہ کرنا ہی اصل قانون ہے۔ 
اب ہم مولانا مودودی ؒ کے نقطہ نظر کا تجزیہ کریں گے۔
جیسا کہ ہم انتہائی تفصیل کے ساتھ واضح کر چکے ہیں کہ سورہ احزاب آیات۔33-32اوران کے علاوہ بھی بہت سی آیات خالصتاً امہات المومنین سے متعلق ہیں۔ قرآن خود ان کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ یٰنساءَ النبی لستن کاحدٍ من انساء: ’’نبی کی بیویو، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ مولانا مودودیؒ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ ایسا ہی ایک اسلوب ہے جیسا ایک باپ اپنے بچے سے کہے''تم بازاری بچوں کی طرح نہیں ہو''حالانکہ اس مثال اور قرآن مجید کے اسلوب میں بڑا فرق ہے۔ اگر قرآن مجید یہ کہتا کہ''نبی کی بیویو، تم بری یا بازاری عورتوں کی طرح نہیں ہو''تب تو ایک امکان تھا کہ ان کے مفہوم کو عام کر دیا جائے۔ لیکن جب قرآن مجید نے ''عام عورتوں''کا لفظ استعمال کیا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید حقیقتاً نبی کی بیویوں اور عام عورتوں میں فرق کرتا ہے۔ 
اسی ضمن میں مولانا، مودودیؒ کی دوسری دلیل یہ ہے کہ آگے تین ہدایات آئی ہیں۔ اس میں کون سی ایسی بات ہے جو حضورؐ کی ازواج کے لئے خاص ہو اور باقی مسلمان عورتوں کے لئے مطلوب نہ ہو۔ اس کے جواب میں ہم پہلے ہی یہ واضح کر چکے ہیں کہ جہاں تک نماز و زکوا ۃ کا تعلق ہے۔ یہ دونوں چیزیں تو اتنی اہم ہیں کہ پروردگار رسول کو بھی ان کی طرف علیحدگی سے توجہ دلاتا ہے حالانکہ سب جانتے ہیں کہ رسول کے لئے بعض احکام پوری امت سے مختلف ہیں۔ جہا ں تک باقی ہدایات کا تعلق ہے مثلاً : لا تخضعن بالقول، قرن فی بیوتکن، لاتبرجن تبریج الجاھلیت الاولی اور واذکرن مایتلیٰ فی بیوتکن: ان سب کا تعلق ازواج نبی سے ہے۔اس کے برعکس عام مسلمان خواتین کے لئے ہدایات اسی سورت میں بھی آئی ہیں اور خصوصاً سورہ نور میں آئی ہیں 
اس ضمن میں مولانا مودودیؒ نے اس بات پر بھی غورنہیں فرمایا کہ کیا پروردگار کو ہمارے ایمان وعمل سے دشمنی ہے جو اس نے الفاظ توایک طرح کے استعمال کئے اور مفہوم ان کا دوسرا ہے۔ اگر پروردگار تمام مسلمان خواتین کو یہ ہدایت دینا چاہتا تو کتنا ہی اچھاہوتا کہ وہ آیت نمبر59-والے الفاظ یعنی : یاایھاالنبی قل لازواجک وبنٰتک ونساء المومنین۔۔۔ یہاں بھی استعمال کرلیتا۔اگرپروردگارنے آیت نمبر33-32-میں یہ الفاظ استعمال نہیں کئے تو ظاہر ہے اس کی کوئی ٹھوس وجہ ہوگی۔
سورۃ احزاب آیت نمبر59- کے حوالے سے مولانا مودودیؒ کا موقف یہ ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خواتین باہر جاتے وقت چادراس طریقہ سے اوڑھ لیں کہ چہرہ بھی پوری طرح چھپ جائے ۔ زیادہ سے زیادہ اجازت یہ ہے کہ راستہ دیکھنے کے لئے ایک آنکھ یا دونوں آنکھیں کھلی رکھی جائیں۔ یہاں مولانا نے اس فقرے کے سیاق وسباق کی طرف کوئی توجہ نہیں فرمائی کہ آخر ایسا کیوں ہے کہ منافقین پر سخت تنقید اور زجروتوبیخ کے درمیان میں یہ آیت آئی۔ 
دوسرایہ کہ اگر قرآن مجید کو اگر یہی ہدایت دینی تھی کہ خواتین چہرہ چھپالیں تو اس کے لئے قرآن مجید نے معروف لفظ ’’نقاب‘‘ کااستعمال کیوں نہیں کیا۔ جبکہ اس سوسائٹی میں بہت سی عورتیں نقاب سے منہ چھپاتی تھیں۔ تیسرایہ کہ اگرقرآن مجیدجلباب یعنی بڑی چادر ہی کے ذریعے چہرہ چھپانے کاحکم دیناچاہتاتھا تو اس نے صاف کیوں نہیں کہاکہ جلباب سے خواتین اپنا چہرہ چھپائیں۔ اس کے بجائے قرآن مجید نے "یدہن علیھن من جلابیھن کے الفاظ کیوں استعمال کیے جس کے معنی میں بڑی وسعت ہے۔ چوتھا یہ کہ اس کے ساتھ لگے ہوئے ان الفاظ کا کیامطلب ہے کہ : ان یعرفن فلایؤذین۔ سوال یہ ہے کہ جس سوسائٹی میں چادر اوڑھ کرچہرہ نہ چھپانے والی خاتون کوبھی شریف خاتون سمجھاجائے اورنہ ستایا جائے ۔ کیا وہاں بھی ایک خاتوں کے لئے چہرہ چھپانالازم ہے؟
درج بالا سوالات اٹھا نے سے ہمارامقصد یہ ہے کہ قرآن مجید سے کوئی ہدایت اخذکرتے وقت یہ لازم ہے کہ اس حکم کے پورے سیاق وسباق اور اس کے ایک ایک لفظ پر غور کیا جائے۔ تبھی اس حکم کی پوری حکمت اوروسعت سمجھ میں آتی ہے۔
اسی آیت کی تشریح کے حوالے سے مولانامودودی ؒ نے حضرت ابن عباسؓ اور بعض دوسرے مفسرین کی آراء نقل کی ہیں۔ اس میں اصل اہمیت ابن عباسؓ کی تفسیر کی ہے۔ اس کے متعلق یہ بات گزرچکی ہے کہ ابن عباسؓ سے اس تفسیر کی نسبت ہی صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ علی ابن ابی طلعہ کی ابن عباسؓ سے ملاقات ہی نہیں ہوئی۔ 
جہاں تک باقی مفسرین کرامؒ کا تعلق ہے۔ تومولاناتومولانامودودی خودبھی ان سب سے تفہیم القرآن میں بے شمار جگہوں پر اختلاف کرچکے ہیں (بطورمثال صرف سورہ التین کا حوالہ کافی ہوگا)۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھنی ضروری ہے کہ جتنے بھی مفسرین کرام کے حوالے مولانامودودیؒ نے نقل کئے ہیں ان کی آرا کا بغور مطالعہ کرنے سے معلوم ہو تاہے کہ ان میں سے بیشتر غیر محفوظ مقامات ہی کے حوالے سے بات کررہے ہیں۔ تاہم چونکہ یہ محض ایک ضمنی بحث ہے اس لئے اس سے ہم صرف نظرکرتے ہیں۔
مولانامودودی کے تصورحجاب کا دوسرانکتہ یہ ہے کہ ایک خاتون کو گھرکے اندر بھی اپنے خاوند کے سوا تمام محرم رشتہ داروں سے سینہ سرچھپانا چاہیے۔ یعنی گھر کے اندر بھی اس کو ہر وقت اس طریقہ سے دوپٹہ پہنناچاہیئے کہ اس سے سراور سینہ چھپارہے اور چہرے اور ہاتھوں کے سوا سارا جسم مستقل چھپارہے ۔(پردہ ۔صفحہ284-)
اس کی دلیل میں مولانا مودودی نے چھ روایا ت پیش کی ہیں ۔ یہ چھ کی چھ روایا ت ضعیف ہیں۔ موجودہ دورکے عالم اسلام کے سب سے بڑے محدث علامہ ناصرالدین البانی نے اپنی کتاب ’’حجاب المراۃ المسلمہ‘‘ میں ان تمام روایات کے ضعف پر تفصیلی بحث کی ہے۔ یہ روایات اور ان کی کمزوری پر مختصر بحث ہم نے صفحہ نمبر۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کی ہے۔ ان کے مقابلے میں سورۃ نور اور بخاری ومسلم کی صحیح احادیث سے یہ ثابت ہے کہ ایک خاتون اپنے محرم رشتہ داروں کے سامنے بے تکلفی اور پورے زیب وزینت کے ساتھ آسکتی ہے۔ مگر مولانا مودودی کی توجہ اس طرف نہیں گئی۔
مولانا مودودی کا تیسرانکتہ یہ ہے کہ محرم مردوں کے سوا باقی سب مردوں سے ایک خاتون چہرہ چھپائے گی۔ اس ضمن میں مولانانے تفہیم القرآن جلدتین صفحہ382-381- پراپنے دلائل دئے ہیں پہلے انہوں حضرت عائشہؓ کا واقعہ افک نقل کیا ہے ۔ اور دلیل یہ دی ہے کہ جب صبح ایک صحابی کا وہاں سے گزرہوا تووہ مجھے پہچان گئے کیونکہ وہ ’’حجاب کے حکم سے پہلے مجھے دیکھ چکے تھے‘‘ یہ واقعہ ایک زوجہ نبی سے متعلق تھا۔ اور سورۃ احزاب کے احکام حجاب بھی ازواج نبی ہی کے متعلق نازل ہوئے تھے۔ اسے عام عورتوں پر قطعاً قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے بعد مولانا مودودی ام خلاد نامی خاتون کے واقعے سے استدلال کرتے ہیں ۔ حالانکہ یہ ایک ضعیف روایت ہے۔ تیسری دلیل کے طورپر وہ اس روایت سے استدلال کرتے ہیں جس کے مطابق حضورؐ نے پردے کے پیچھے بیٹھی ایک عورت کا ہاتھ دیکھ کرپوچھا کہ یہ مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا؟ اس روایت سے مولانا مودودی ی ثابت کرناچاہتے ہیں کہ چونکہ اس زمانے میں پردے کا حکم آچکا تھا اس لئے وہ خاتون پردے کے پیچھے بیٹھی ہو ئی تھی۔ یہ پوری روایت ہی بالکل ضعیف ہے اور فرض کیجئے یہ واقعہ صحیح بھی ہو تو اس سے صرف یہ معلوم ہو تا ہے کہ اس زمانے میں بعض عورتیں پردہ کرتی تھیں ۔ جیسا کہ پہلے بتایا جاچکا ہے زمانہ جاہلیت میں بھی کئی عورتیں پردہ بھی کرتی تھیں اور چہرے پرنقاب بھی اوڑھتی تھیں۔ اسلام نے نہ اس سے منع کیااور نہ ہی عام حالات میں اس کاحکم دیا۔
اس کے بعد مولانامودودی نے حضرت عائشہؓ کی اس روایت سے استدلال کیا ہے کہ ہم لوگ حج کے لئے بحالت احرام مکہ کی طرف جارہے تھے ۔ جب مسافرہمارے پاس سے گزرنے لگتے توہم عورتیں اپنے سر سے چادر کھینچ کر منہ پر ڈال لیتیں اورجب وہ گزرجاتے توہم منہ کھول لیتی تھیں۔ یہ بھی ایک ضعیف روایت ہے اور ان تمام باقی روایات سے ٹکرا تی ہے جوصحیح سند کے ساتھ احکام میں وارد ہوئی ہیں کہ احرام والی عورت کواپنے چہرے پر نقاب نہیں ڈالنا چاہیئے۔ (بخاری ،نسائی ،ابوداؤو ،مسنداحمد ،بیہقی وغیرہ ۔ میں اس مفہوم کی کئی روایات صحیح سندوں سے منقول ہیں) ۔ تاہم اگر یہ روایت صحیح بھی ہو تو اس کی تاویل یہ ہے کہ حجاب کا یہ قانون خصوصی طورپر ازواج نبی ؐ کے لئے تھا۔ حضورؐ کے ساتھ ان کی ازواج سفرکررہی تھیں نہ کہ عام خواتین۔ کیونکہ حج کے سفرکے موقعہ پر توسب خواتین اپنے اپنے محرموں کے ساتھ ہی ہوتی ہیں۔ 
گویااس موضوع پر مولانا مودودی نے جتنی روایات سے استدلال کیا ہے۔ ا ن میں سوائے واقعہ افک کے، باقی سب ضعیف ہیں۔ اور واقعہ افک خصوصی طور پر ایک زوجہ نبی سے متعلق ہے۔ 
چونکہ مولانا مودودیؒ اعلیٰ پائے کے ادیب اور ایک بہترین انشاء پرداز بھی ہیں اس لئے وہ بعض اوقات ایسے دلائل بھی پیش فرما دیتے ہیں جو ایک لمحے کے لئے انسان کو بہت مضبوط لگتی ہیں۔ مگر اس کا وقیع تر تجزیہ کچھ اور نتائج بیان کرتا ہے۔ مثلاً مولانا مودودی نے ایک جگہ (تفہیم القرآن جلد سوم صفحہ 381) پر اپنی تائید میں صحیح بخاری اور ترمذی سے یہ روایت نقل کی ہے کہ حجۃالوداع کے موقعہ پر ایک عورت حضورؐ سے کچھ پوچھنے لگیں تو حضورؐ کے چچا زاد بھائی فضل بن عباس نے اس پر نگاہیں گاڑ دیں۔ چونکہ اس روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس خاتون کا چہرہ کھلا ہوا تھا۔ اس لئے مولانا نے آگے اس کی یہ تاویل کی ہے کہ چونکہ وہ خاتون حالت احرام میں تھیں اور احرام کے لباس میں نقاب کا استعمال ممنوع ہے۔ اس لئے اس خاتون نے نقاب نہیں اوڑھا ہوا تھا۔ یہ پوری تاویل بالکل غلط ہے۔ اس لئے کہ ترمذی کی روایت میں خود اسی حدیث میں یہ آیا ہے کہ یہ واقعہ قربانی کے بعد کا ہے اور ظاہر ہے کہ قربانی کے بعد احرام کھول دیا جاتا ہے۔ 
اسی طرح مولانا مودودی اس بات کی تاویل کرتے ہوئے کہ''حالت احرام میں عورتوں کے لئے چہرے پر نقاب ڈالنے اور دستانے پہننے کی ممانعت ہے۔ کہتے ہیں کہ گویا اس معاملے میں پہلے چہرہ چھپانے کا کوئی حکم آ چکا تھا(پردہ صفحہ 319-318 )۔ اسی لئے اس سے احرام کی حالت کو مستشنیٰ کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ بات مسلم ہے کہ قرآن مجید میں اور احادیث کے پورے ذخیرے میں کسی ضعیف ترین حدیث میں بھی نقاب اور دستانے کاکوئی حکم نہیں آیا۔ اصل بات یہ تھی کہ ان دونوں چیزوں کا رواج نزول اسلام سے بہت پہلے سے یعنی زمانہء جاھلیت کے دور سے ہی چلا آرہا ہے۔ اسلام نے ان کے متعلق عام حالات میں کوئی مثبت یا منفی حکم نازل نہیں کیا۔ البتہ حالت احرام میں اس سے واضح طور پر روک دیا اس لئے کہ یہ حج کے فقیرانہ وضع قطع کے خلاف ہے۔