قرآن مجید کی ہدایات سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ ایک مرد کا نکاح پیغام براہ راست ایک عورت کے سامنے بھی کر سکتا ہے۔ سورہ بقرہ آیات235-234 میں یہ بات بڑی وضاحت کے ساتھ کہی گئی ہے۔ کہ جو خواتین بیوہ ہوجائیں ۔ وہ چار مہینے دس دن تک اگلی شادی نہ کریں ۔ اس کے بعد وہ اپنی مرضی سے نئی شادی کرسکتی ہیں۔ اس میں مردوں سے خطاب کر کے کہاگیا ہے کہ ان چارمہینے دس دنوں میں وہ چاہیں تو ان خواتین کے سامنے اشارے کنائے میں نکاح کا اظہارکرسکتے ہیں تاہم نکاح اس مدت کے بعد ہی جائز ہے۔
اس ہدایت پربھی عمل صرف اس صورت میں ممکن ہے جب ان مرد وخواتین کے آپس میں مل بیٹھنے کا موقعہ موجود ہو ،جن کے درمیان نکاح جائزہے۔ ارشاد ہے۔

والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجاً یتربصن بانفسھن اربعۃ اشھروَّ عشرًا فاذا بلغن اجلھن فلاجناح عیلکم فیما فعلن فی انفسھن بالمعروف واللہ بماتعملون خبیر۔ولاجناح علیکم فیماعرضھم بہ من خبطۃِ النَّساءِ اواکنتمفی انفسکم علِمَ اللہ انکم ستذکرونھن ولٰکن لاّ تواعدوھن سراً الاّ ان تفعلوا قولاً معروفا ولاتعزمواعقدۃانکاح حتٰی یبلغ الکتٰب اجلہ واعلموآ ان اللہ یعلم مافی انفسکم فاحذروہ،وعلموان اللہ غفورُ‘حلیم۔ (بقرۃ:آیات 234-235)
" تم میں سے جولوگ فوت ہو جائیں اور اپنے پیچھے بیویاں چھوڑ جائیں وہ عورتیں اپنے آپ کو چارمہینے اور دس دن نکاح سے روکیں۔ پھر جب یہ مدت ختم ہوجائیں تواچھائی کے مطابق جوکچھ بھی وہ اپنے لئے مناسب سمجھیں اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔اللہ تمہارے ہر عمل سے خبردار ہے ۔ اے مردو تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اشارۃً کنایۃً ان عورتوں سے نکاح کی بات کرو یااپنے دل میں پوشیدہ ارادہ کر لو ۔ اللہ جانتاہے کہ ان کا خیال تمہارے دل میں آئے گاہی۔ مگر دیکھوخفیہ وعدے مت کرو ۔ اگر کوئی بات کرنی ہے تو معروف طریقہ سے کرو"

ابوداؤد ،کتاب الصلوۃ کی ایک روایت کے مطابق حضورؐ ایک خاتون ام ورقہ سے ملاقات کے لئے ان کے گھر تشریف لے جایا کرتے تھے۔ حضورؐ نے ان کیلئے ایک موذن کا بندوبست بھی کیا تھا اور ام ورقہکواجازت دی تھی کہ وہ نماز میں اپنے گھروالوں کی امامت کرسکتی ہیں۔
صحیح بخاری کی ایک روایت کے مطابق حضرت سہیل بن ساعد بیان کرتے ہیں کہ ایک خاتون کے کھیت اور باغات تھے وہ نہر کے کنارے ایک خاص سبزی ( چقندر کی ایک قسم )اگایا کرتی تھی۔ جمعہ کے دن سہل بن سعد اور چند دوسرے صحابی اس کے گھر جاتے اور وہ انہیں وہ سبزی اور جو کھانے کے لئے پیش کرتیں۔
صحیح مسلم اور صحیح بخاری کی روایت کے مطابق ایک صحابی ابو اسید ساعدی نے شادی کی تقریب میں نبیؐ اور آپ کے صحابہ کو بلایا ۔ اس موقع پر کھانا تیارکرنے اور اس کو پیش کرنے کی خدمت ان کی بیوی اُم اُسیدؓ نے انجام دی۔ انہوں نے پتھر کے ایک برتن میں چھوہارے بھگونے کے لئے رات سے چھوڑدئے ۔ جب نبیؐ کھا نے سے فارغ ہو گئے تو ان کو اپنے ہاتھ سے گھول کر آپؐ کی خدمت میں پینے کے لئے پیش کیا۔
درج بالادونوں روایات سے یہ بات واضح ہو تی ہے کہ رشتہ داروں کے علاوہ خاندانی اوردوستانہ تعلق رکھنے والے مرد وخواتین آپس میں مل بیٹھ سکتے ہیں۔ اکٹھے کھانا کھاسکتے ہیں اور ایک دوسرے کی خدمت کرسکتے ہیں۔
صحیح مسلم کی ایک روایت کے مطابق ایک خاتون فاطمہ بنت قیس کوان کے شوہر نے طلاق دی توسوال پیداہوا کہ وہ عدت (چارمہینے دس دن) کہاں گزاریں۔ پہلے حضور ؐ نے فرمایا اُم شریک انصاریہ کے ہاں رہو۔پھر فرمایا " ان کے ہاں میرے صحابہ بہت جاتے رہتے ہیں ( اس لئے تم وہاں اطمینان سے نہ رہ سکوں گی۔ ام شریک بڑی مال دار اور فیاض خاتون تھیں۔ بکثرت لوگ ان کے ہاں مہمان رہتے اور وہ ان کی ضیافت کرتی تھیں) اس لئے تم ابن مکتوم کے ہاں رہو۔ وہ اندھے آدمی ہیں تم ان کے ہاں بے تکلف رہ سکوگی۔"
صحیح بخاری کتاب النکاح اور صحیح مسلم کے مطابق عقبہ بن عامر کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا : خبردار عورتوں کے پاس تنہائی میں مت جاؤ ۔انصار میں ایک شخص نے پوچھا:یارسول اللہ دیور اور جیٹھ کے متعلق کیا ارشاد ہے؟ آپؐ نے فرمایا : وہ تو موت ہے "
صحیح مسلم کتاب السلام کی ایک روایت کے مطابق حضورؐنے فرمایا : آج کے بعد سے کوئی شخص کسی عورت کے پاس اس کے شوہر کی غیرموجودگی میں نہ جائے جب تک اس کے ساتھ ایک دو آدمی اور نہ ہوں۔
درج بالا دونوں روایاات سے یہ معلوم ہوتاہے کہ عمومی طوپرمردوں اور عورتوں کے اختلاط پرسورۃ نور کی تعلیم کردہ ہدایات کے علاوہ کوئی پابندی نہیں ۔تاہم چونکہ قرآن مجید کا یہ بھی حکم ہے کہ "زناکے قریب بھی نہ پھٹکو" اس لئے کسی غیرمحرم مرد عورت کو ایک ایسے ماحول میں تنہا نہیں ٹھہرناچاہیئے جہاں خدانخواستہ ان کے بہکنے کا اندیشہ ہو۔ مثلاً جہاں تک دیور یا جیٹھ کے ساتھ کسی خاتون کا تعلق ہے یہ سب لوگ ایک ہی گھر میں رہ سکتے ہیں ۔ اکٹھے کھانا کھاسکتے ہیں ۔ گفتگوکرسکتے ہیں ۔ دیورکے ساتھ پبلک ٹراسپورٹ میں یاایک دواافراد کی موجودگی میں دن کے اجالے میں8 سفرکیا جاسکتاہے۔ تاہم ان کے درمیان ایسی بے تکلفی بھی نہیں ہو نی چاہیئے کہ کوئی خاتون اپنے دیور کے ساتھ اپنے بیڈروم یا اس کے بیڈروم میں تنہا وقت گزارے۔ اس سے کئی خرابیاں پیداہونے کا اندیشہ ہے۔ اس حدیث کی بنیاد پربعض لوگوں کویہ غلط فہمی ہو جاتی ہے کہ ایک خاتون کی اپنے دیور سے بھی منہ چھپاناچاہیئے۔ حالانکہ اس حدیث میں اس کی طرف کوئی اشارہ تک نہیں۔ حدیث جس چیز سے منع کرتی ہے وہ کسی خاتون کے ساتھ تنہائی میں وقت گزارناہے۔
اسی طرح اگرکسی آدمی کو کسی ایسے گھر میں کام ہو جب صاحب خانہ موجود نہ ہو ،تووہ گھرکی خاتون سے اجازت مانگ کر اندر جاسکتاہے۔ لیکن اسے چاہیئے کہ اپنے ساتھ اعتماد کے ایک دواور اافراد بھی لے جائے تاکہ شکوک وشبہات جنم نہ لیں۔
اسلامی تعلیمات کی روسے خواتین لازمی مسلح فوجی خدمت سے مستثنٰی ہیں۔ تاہم جہاں تک جنگ کے موقع پر دوسری خدمات کا تعلق ہے مثلاً زخمیوں کی مرخم پٹی کرنا ،کھانا پکانا ،کیمپ کی حفاظت کرنا وغیرہ ۔ ان سب میں اسلام خواتین کی شرکت کی حوصلہ افزائی کرتاہے۔ ظاہر ہے کہ ان سب خدمات کے لئے تربیت لینی پڑتی ہے۔مردوں اور عورتوں کا آپس میں اختلاط بھی ہوتاہے۔مشورہ اور گفتگوبھی ہوتی ہے ۔ان سب خدمات کی انجام دہی میں سورہ نور کی ہدایا ت پرعمل کیا جاتاہے البتہ چہرہ چھپانے کا تصور بھی نہیں ہوسکتا۔
سینکڑوں احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ جنگ میں ازواج مطہرات اور دوسری خواتین لشکرکے ساتھ جاتیں اور مجاہدین کو پانی پلانے اور زخمیوں کی مرخم پٹی کرنے کی خدمت انجام دیتی تھیں۔ یہی طریقہ سورۃ احزاب اور سورہ نور نازل ہونے سے پہلے بھی رہا اور ان کے نزول کے بعد بھی یہی طریقہ جاری رہا۔ مثلاً صحیح بخاری کتاب الجہاد کی روایت کے مطابق حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضورؐ جب سفر پر جانے کا ارادہ کرتے تواپنی بیویوں کے درمیان قرعہ ڈالتے۔ جس کے نام قرعہ نکل آتا اسی کو اپنے ساتھ لے جاتے۔ اسی دستور کے مطابق ایک جہاد میں جانے کے بارے میں ہماری درمیان قرعہ اندازی ہوئی تو اس میں میرانام نکل آیا ۔ اس لئے میں رسول اللہؐ کے ساتھ گئی ۔ یہ واقعہ آیات حجاب (امہات المومنین کے لئے خصوصی ہدایات) کے نزول کے بعد کاہے۔
صحیح مسلم کتاب الجہاد میں حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ حضورؐ جہاد کے موقع پر ایک خاتون اُم سلیم اور انصار کی چند دوسری خواتین کو ساتھ رکھتے تھے۔ جب جنگ جاری ہوتی تووہ عورتیں مجاہدین کو پانی پلاتیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کاانتظام کرتیں
صحیح بخاری کتاب الجہاد میں اور صحیح مسلم کتاب المارہ میں حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ حضورؐ نے ایک خاتون بنت ملحان کے ہاں تشریف لے گئے اور وہاں تکیہ لگاکر سوگئے ۔ پھرجب بیداہوئے تومسکرائے۔ بنت ملحان نے پوچھا اے رسول خدا! آپ ہنس کیوں رہے ہیں ۔ آپ ؐ نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ میری امت کے کچھ لوگ راہ خدامیں جہاد کے لئے دریا میں سوار ہونگے۔ ان کی حالت تخت نشین بادشاہوں کی ہوگی ۔ بنت ملحان نے عرض کیا یا رسول اللہؐ دعافرمایئے کہ میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوں ۔ آپؐ نے دعافرمائی اور پھر کہا اے بنت ملحان تم پہلے لوگوں میں ہو ، پچھلے لوگوں میں سے نہیں ۔راوی کا بیان ہے کہ بنت ملحان بعد میں ایسے غزوے میں شریک ہوئیں اور واپسی کے سفر میں وفات پائی
اسی طرح صحیح بخاری اور صحیح مسلم کتاب الجہاد میں حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ اُحد کے دن حضرت عائشہؓ اور ام سلیم دونوں اپنے دامن سمیٹے ہوئے تھیں ۔ ان کے پاؤں کی پازیبیں مجھے نظر آرہی تھیں۔ پانی سے بھرے مشکیزے اپنی کمروں پر اٹھاکر لاتی تھیں ۔ پیاسے مجاہدوں کے منہ میں پانی ڈالتی تھیں۔پھر واپس جاتی اور مشکیزے بھرکر لاتیں اوریہی سلسلہ جاری رکھتیں۔
اسی طرح صحیح کتاب الجہاد میں ایک خاتون ربیع بنت معوذ بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ؐ کے ہمراہ جہاد میں شرکت کرنی تھیں۔ لوگوں کوپانی پلاتی تھیں۔ ان کی خدمت انجام دیتی تھیں۔زخمی مجاہدوں اور شہیدہونے والوں کو مدینہ واپس لاتی تھیں۔
صحیح مسلم کتاب الجہاد کے مطابق ایک خاتون ام عطیہ انصاریہ روایت کرتی ہے کہ میں سات غزوات میں رسول اللہ ؐ کے ساتھ رہی ہوں ۔ان کی قیام گاہوں میں ان کے پیچھے رہتی تھی۔ ان کے لئے کھانا تیار کرتی ۔ زخمیوں کی دوا کا انتظام کرتی اور مریضوں کی دیکھ بھال کرتی تھی۔
واضح رہے کہ مدنی دورمیں جنگ کوئی استثنائی واقعہ نہیں تھا ۔ بلکہ ایک روٹین تھی۔ اس لئے کہ ہر وقت دشمنوں کی طرف سے حملے اور سازشیں ہوتی رہتی تھیں۔ اس وقت تو یہ بھی ضروری تھا کہ خواتین اپنے لشکر اور دشمن کے لشکر کے لوگوں کو شکل وصورت سے بھی اچھی طرح پہچانیں اس لئے کہ دونوں کے لباس میں بھی کوئی فرق نہیں ہوتا تھااور لڑائی بھی دست بدست ہوتی تھی ۔ اسی طرح آج یہ ڈیوٹی صرف اس طرح انجام دی جاسکتی ہے کہ اس کیلئے باقاعدہ مکمل تربیت حاصل کی جائے۔ اس کے لئے یہ لازم ہے کہ سورہ نور کی ہدایات کا باقاعدہ خیال رکھاجائے ۔لیکن اگر اس سے زیادہ پابندیوں پر اصرارکیاجائے توپھر یہ خدمت ممکن نہیں رہتی۔
درج بالا صفحات میں ہم نے ان تمام روایات کا جائزہ لیاجو مردوں اور عورتوں کے اختلاط کے ضمن میں اہم کتب حدیث خصوصاً صحیح بخاری اورصحیح مسلم میںآئی ہیں ۔ یہ امر دلچسپی کا باعث ہے کہ اس سے اختلاف رکھنے والی کوئی حدیث موجود نہیں ۔ جن احادیث کو غلطی سے ان روایات کی مخالف کہاجاتاہے وہ درحقیقت سب کی سب سورہ احزاب کی تشریح میں خالصتاً امہات المومنین سے متعلق ہیں ۔ ان میں ایک بڑی تعداد ضعیف روایات کی ہے۔ ذرا آگے چل کر ہم انشاء اللہ ان تمام روایات کا صحیح موقعہ ومحل واضح کریں گے۔
اب ہمیں اس سوال کا جائزہ لینا ہے کہ کیا مردوں اور عورتوں کے آپس میں اختلاط کے وقت اسلام میں لباس اور ستر کی کوئی حدودمقرکی ہیں ؟ 
یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ اس ضمن میں اکثر روایات ضعیف ہیں۔صرف ایک روایت ’’حسن‘‘ کے درجے کی ہے اور صحیح روایت کوئی بھی نہیں ہے۔ خواتین کے ستر سے متعلق روایات پرہم پہلے ہی تنقید کرچکے ۔ جہاں تک مردوں کا تعلق ہے پہلی روایت دارقطنی اور بیہقی میں یوں آئی ہے۔ 
" حضرت ابوایوب انصاریؓ حضورؐ سے روایت کرتے ہیں کہ جوکچھ گھٹنے کے اوپر ہے وہ چھپانے کے لائق ہے اور جوکچھ ناف سے نیچے ہے وہ چھپانے کے لائق ہے۔"
یہ بہت کمزور روایت ہے کیونکہ اس کا ایک درمیانی راوی سعید بن راشد امام بخاری کے نزدیک ’’منکرالحدیث‘‘ تھا اور امام نسائی کے مطابق وہ متروک تھا۔اسی طرح اس کا ایک اور درمیانی راوی عبادبن کثیر بھی متروک الحدیث تھا۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ دونوں افراد روایت کے معاملے میں ناقابل اعتبارہیں۔
دوسری روایت ابوداؤد اور اور ابن ماجہ کی ہے جس کے مطابق حضرت علیؓ روایت کرتے ہیں کہ حضورؐ نے فرمایا ’’اپنی ران کبھی نہ کھولو‘‘ ابوداؤد کے مطابق یہ روایت منقطع ہے یعنی اس کی ایک درمیانی کڑی غائب ہے ۔ جبکہ ابن ماجہ نے اس کی جو سند بیان کی ہے اس میں ابن جریح کا نام ہے۔ یہ صاحب تدیس کیا کرتے تھے یعنیایک ضعیف فردسے بات لے کراسے ایک ثقہ راوی کی طرف سے بیان کرتے تھے۔ پس یہ روایت بھی ضعیف ہے۔
تیسری روایت ترمذی کی ہے۔ جس کے مطابق حضورؐنے فرمایا:

" خبردار کبھی ننگے نہ رہو۔ کیونکہ تمہارے ساتھ وہ ہیں جو کبھی تم سے جدانہیں ہو تے(یعنی فرشتے) ۔ سوائے اس وقت کے جب تم رفع حاجت کرتے ہو یا اپنی بیویوں کے پاس جاتے ہو ۔ لہٰذا ان سے شرم کرواور ان کا احترام ملحوظ رکھو‘‘

ترمذی اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ اس کا ایک راوی لیث ابن سُلیم یاداشت کھونے کی بیماری (Dementia) کاشکارہوگیاتھا۔
اگلی روایت ابوداؤد اور ترمذی کی ہے جس کے مطابق حضرت جرھد اسلمی ،جواصحاب صفہ میں شامل تھے،کہتے ہیں کہ رسول اللہؐ ہمارے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور میری ران کھلی ہوئی تھی۔حضورؐ نے فرمایا : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ران چھپانے کے قابل چیز ہے؟ المعجم الکبیر اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتاہے کہ یہ حدیث ’’حسن‘‘ کے درجے کی ہے۔اس کامطلب یہ ہے کہ روایت اعلیٰ ترین درجے یعنی ’’صحیح‘‘ درجے کی نہیں ہے بلکہ اس سے ایک درجہ کم ہے۔ اس لئیکہ اس راویوں میں سے بعض میں کچھ ضعف ہوتاہے اور وہ ثقاہت میں صحیح درجے کے راویوں کے برابرنہیں ہوتے۔
تاہم اگر یہ حدیث بالکل صحیح ہو تب بھی اس سے صرف یہی ثابت ہوتاہے کہ ایک باوقار اور علمی محفل میں کسی کو اپنی ران کھلی نہیں رکھنی چاہیئے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں اصحاب صفہ علم کے حصول کے لئے مسجد میں رہائش پذیر ہوتے تھے۔ حضورؐ ان سے وہیں ملاقات کرتے تھے۔ اس لئے غالب امکان یہی ہے کہ یہ محفل مسجد نبویؐ میں تھی۔ حضورؐ تعلیم فرمارہے تھے اور اس محفل کے دوران میں حضرت جرھدؓ کی ران کھلی ہوئی تھی۔ جس کی طرف سے حضورؐ نے توجہ دلائی ۔ اس سے یہ مطلب نہیں نکلتا کہ کسی بھی حالت میں کبھی بھی ران نہیں کھولی جاسکتی۔
ذخیرہ روایات کے اس تجزئے کے بعد اب ہم قرآن مجید کی طرف متوجہ ہوتے ہیں کہ وہاں لباس وسترکے متعلق کیا کچھ کہاگیاہے۔ لباس وستر کے متعلق قرآن مجید میں ساتویں سورت یعنی اعراف کی آیات نمبر بیس سے لے کر تینتیس (33-20)تک کلام کیاگیاہے اور یہ کلام ایسا ہے کہ اسے بغورپڑھنے سے انسان کو قرآن مجید کے معیار مطلوب کا پوری طرح اندازہ ہوجاتاہے۔ 
قرآن حکیم کے مطابق شیطان نے انسان کو سب سے پہلے برہنگی کے ذریعہ بہکایا اور جب آدم وحوا دونوں ایک دوسرے کے سامنے بے پردہ ہوگئے تب ان کو احساس ہوا کہ ان سے تو غلطی سرزد ہوگئی ہے۔ اس کے بعد قرآن مجید عام انسانوں کومتوجہ کرکے ہدایت کرتاہے کہ لباس بنیادی طورپر تمہاری شرمگاہوں کی چھپانے کیلئے ہے اوریہ تمہارے لئے زیب وزینت کا باعث ہے۔ اور وہ لباس سب سے اچھاہے جس میں تقویٰ ہو۔ تم لوگوں کو برہنگی سے بچناچاہئے ۔ یہ فحاشی ہے ۔ مسجد میں حاضری کو وقت پورالباس پہن لیا کرو ۔زیب وزینت بھی بالکل جائز ہے البتہ فحش امور سے اجتناب کرو ۔ متعلقہ حصے درج ذیل ہیں:

فوَسْوسَ لَھُمَا الشَّیطٰنُ لِیُبدِیَ لَھُمَا مَاوَریَ عَنْھُمامِن سَوْ اٰ تِھُمَا وَقاَلَ مَا نَھٰکُمَارَبَّکُمَا عَنْ ھَٰذِہٖ شَجَرَۃِاآآاَنْ تَکُونَا مَلَکَینِ اَوْ تَکُونَا مِنَ الْخٰلدین ۔ وَقَا سَمَھُمَآاِنِّی لَکُمَالَمِنَ انّٰصِحِین۔ فَدَلّٰھُمَابِغُرُورٍ فلَمَّاذَاقَاالشَّجَرَۃَ بَدَتْ لَھُمَا سَوْاٰتھُمَاوَطَفِقَایَخْصِفٰنِ عَلَیھِمَا مِن وَّرَقِ الْجَنَّۃوَنَادٰھُمَارَبَّھُمَااَلَمْ اَنھَکُمَا عَنْ تِلکُماالشَّجرۃِ وَاَقُل لَّکُما اِنَّ الشیطٰن لَکََُمَاعَدوُّمُبین۔ قَالَارَبنا ظَلمنا اَنفسَنا وَاِنْ لَّم تَغفِرلَنَا وَتَرحَمْنَا لَنَکُونَنَّامِنَ الْخٰسرِیْن۔ قالااھبطو بعضکم عدوولکم فی الارض مستقرو متاعُ الیٰ حینٍ۔ قالافیھاتحیون وفیھاتمون ومنھاتموتون ومنھا تخرجون۔ یٰبنی ادم ود انزلناعلیکم لباساً یواری سو اٰتکم وریشاً ولباسُ التقویٰ ذلک خیر ذلک من اٰ یٰت اللہ لعلھم یذکرون۔ یٰبنی اٰدم لا یفتیننکم ا شیطٰن کما اخرج ابوکم من الجنۃ ینزع عنھما لباس لیریھماسواتہما انہ یرٰکم ھو اقبیلۃ من حیث لاترونہم ان جعلنا اشیٰطین اولیآ ءَ للذین لایؤمنون۔ واذا فعلوافاحشۃً قالواوجدناعلییھآ اٰبآءَ نا واللہ امرنا بھا قل امن اللہ لایاْ مربالفحشاءِ اتقولون علی اللہ مالاتعلمون۔ قل امرربی بالقسط واقیمواوجوھکم عندکل مسجدوادعوۃ مخلصین لہ الدین کما بداکم تعودون۔ فریقاً ھدٰی وفریقاً حق علیھم اٰضللۃ انہم اتحذو الشیٰطین اولیآ من دون اللہ من دون اللہ ویحسبون انہم مہتدون۔یٰبنی اٰدم خذوازینتکم عندکل مسجد وکلو واشربوا ول اتسرفوا انہ لایحب المسرفین ۔ قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہٖ والطیب من الرزق قل ھی للذین اٰمنوفی الحیٰوٰ الدنیا خالصۃً یوم القیٰمۃ کذلک نفصل الایت لقوم یعلمون۔ قل انماحرم رنی الفواحش ماظھر منھماومابطن والاثم والبغی بغیرالحق وان تشرکواباللہ مالم ینزل بہٖ سلطٰناو ان تقولواعلی اللہ مالاتعلمون۔ (اعراف7 ۔آیات 33-32-31--- -28-27-26--- -22-21- 20-)۔
" پھر شیطان نے ان دونوں (آد م وحوا) ؑ کے دلوں میں وسوسہ ڈالا تاکہ ان کی شرمگاہیں جو ایک دوسرے سے پوشیدہ تھیں،دونوں کے روبروبے پردہ کردے۔ وہ شیطان ان سے کہنے لگا کہ تمہارے رب نے تو تمہیں اس درخت سے صرف اس وجہ سے روکا کہ تم کہیں فرشتے یا ہمیشہ زندہ رہنے والے نہ بن جاؤ۔ شیطان نے ان سے قسمیں کھائیں کہ میں تمہارے خیرخوا ہوں میں سے ہوں۔اس طرح اس نے فریب سے ان کو شیشے میں انار لیا۔ پس ان دونوں نے جب درخت کا پھل چکھا تو ان کی شرم کی جگہیں ان کے سامنے بے پردہ ہوگئیں۔ اور وہ اپنے آپ کو باغ کے پتوں سے ڈھانکنے لگے۔ ان کے رب نے ان کو آواز دی کہ کیا میں نے اس درخت سے تمہیں روکا نہیں تھا۔ اور یہ نہیں کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے؟ وہ بولے اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہ فرمائے گا اورہم پر رحم نہ کرے گا تو ہم نقصان پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے نبی آدم ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا جو تمہاری شرمگاہوں کو بھی چھپاتا ہے اور موجب زینت بھی ہے۔ مزید برآں تقویٰ کا لباس ہے جواس سے بھی بڑھ کر ہے۔ یہ پروردگار کی نشانیوں میں سے ہے تا کہ لوگ اس سے یاد دہانی حاصل کریں۔ اے اولاد آدم شیطان تمہیں فتنہ میں نہ ڈالنے پائے جیسا اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے باہر کرا دیا۔ ایسی حالت میں ان کا لباس بھی اتروادیا تا کہ وہ ان کو ان کی شرم گاہیں دکھائے۔ وہ اور اس کا جتھہ تم کو ایسے طور پر دیکھتا ہے کہ تم ان کو نہیں دیکھتے ہو۔ ہم نے شیاطین کو انہی لوگوں کا دوست بنا دیا ہے جو ایمان سے محروم ہیں۔ اور جب یہ لوگ کسی بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہیں تو کہتے ہیں،ہم نے تو اسی طریق پر اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور خدا نے ہمیں اسی کا حکم دیا ہے۔ اے نبی کہہ دو اللہ کبھی بے حیائی کا حکم نہیں دیتا۔ کیا اللہ کے ذمہ ایسی بات لگاتے ہو جس کی تم سند نہیں رکھتے-----------۔
اے اولاد آدم ہر مسجد کی حاضری کے وقت اپنے لباس پہنو۔ کھاؤ پیو البتہ اسراف نہ کرو۔ اللہ حد سے نکل جانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اے نبی پوچھو کس نے حرام ٹھہرادیا ہے اللہ کی اس زینت کو جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی اور رزق کی پاکیزہ چیزوں کو؟۔کہہ دو کہ وہ دنیا کی زندگی میں بھی ایمان والوں کے لئے ہیں اور آخرت میں تو خاص انہی کا حصہ ہونگی۔ اس طرح ہم اپنی آیات کی تفصیلی کر رہے ہیں ان لوگوں کے لئے جو جاننا چاہیں۔اے نبی کہہ دو خدا نے تو بس بے حیا ئیوں کو حرام ٹھہرایا ہے خواہ کھلی ہوں خواہ پوشیدہ اور حق تلفی، ناحق زیادتی اور اس بات کو حرام ٹھہرایا ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھہراؤ جس کی اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ اور یہ کہ تم لوگ اللہ کے ذمے ایسی بات لگا دو جس کا تم علم نہیں رکھتے''

درج بالا عظیم کلام میں قرآن مجید نے لباس کے فلسفے،حکمت، تاریخ اور عملی ہدایات کو جس طرح یکجا کیا ہے، ایسا صرف الٰہی کلام میں ہی ہو سکتا ہے۔ فی الحال ہم ان نتائج پر اپنی عملی توجہ مرکوز کریں گے جو اس سے اخذہوتے ہیں۔
پہلی بات یہ کہ انسان کو عام حالات میں ایسا لباس پہننا چاہیئے جو باوقار ہو اور جس سے سارا بدن چھپ جائے۔ سوائے ان جگہوں کے جن کا ظاہر کرنا عملی کام کاج کے لئے ضروری ہو مثلاً چہرہ،سر،ہاتھ، بازؤوں کا کچھ حصہ اور پاؤں۔ لباس ایسا ہونا چاہیئے جو شرم گاہوں کو اچھی طرح چھپائے۔ نماز کے وقت لباس کا حصوصی خیال رکھنا چاہیئے۔
جن حالات میں بدن کا زیادہ حصہ کھولنے کی ضرورت ہو مثلاًکھیل یا تیرنے کے وقت۔ اس وقت بھی ایسا لباس پہننا چاہیئے جو معروف کے مطابق ہو،جس میں جنسی آوارگی نہ ہو اور جوپوشیدہ مقامات کوصحیح طریقہ سے چھپائے ۔ خواتین کو اس وقت بھی ایسا لباس پہننا چاہیئے جو سورہ نورکی ہدایت کے مطابق بدن کے ابھاروں کو چھپائے۔(واضح رہے کہ اب ایسے لباس موجود ہیں جن میں خواتین کا بدن چھپ جاتاہے اور اس میں وہ کھیل بھی سکتی ہیں اور تیر بھی سکتی ہیں)
اب اس کے بعد اس تیسرے حلقے کی بات ہے یعنی ایسے مردوں کی بابت جن سے کسی خاتون کاکوئی تعلق نہیں بنتا اورجن سے کسی اجنبی ناموس جگہ یا راہ چلتے اچانک مڈبھیڑہوجاتی ہے۔ اس ضمن میں متعلقہ روایات پر ہم پہلے ہی روشنی ڈال چکے ہیں۔
اس کے بعد اب چوتھے حلقے کی بات ہے یعنی حضورؐ کی بیویوں ( امہات المومینین)کے لئے خصوصی احکامات کی بات ۔ جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں اس ضمن میں احکام سورہ احزاب آیات ، 55,53,34-30,6اور60 میں آئے ہیں ۔ ان پر بحث ہو چکی ہے اب اس ضمن میں متعلقہ روایات پر بحث ہوگی۔
اس ضمن میں پہلی روایت صحیح بخاری میں حضرت انسؓ کے ذریعے ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ مسلسل حضورؐسے عرض کرتے رہتے تھے کہ یا رسول اللہؐ آپ کے پاس نیک اور بد ہر طرح کے آدمی آتے جاتے ہیں ۔ اگر آپ ازواج مطہرات کوپردے کے پیچھے رہنے کاحکم دے دیں توبہتر ہوگا۔ چنانچہ اس پر آیت حجاب نازل ہوئی۔
صحیح بخاری اورصحیح مسلم میں حضرت عمرفاروق ؓ کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ میں نے حضورؐ سے عرض کیا کہ آپ کی ازواج مطہرات کے سامنے ہر نیک وبد انسان آتاہے بہتر ہوگا کہ وہ حجاب میں رہیں ،اس پر آیت حجاب نازل ہوئی۔
درج بالادونوں روایتوں سے یہ بات شک وشبہ سے بالکل بالاتر ہو کر واضح ہوجاتی ہے کہ آیت حجاب نازل ہی ازواج مطہرات کے لئے ہوئی ہے اور ان کی خصوصی اہمیت اور صورتحال کے پیش نظرپروردگار نے حکم دیا کہ حضورؐ کی بیویوں کے گھروں پر جومسجد نبوی سے متصل تھے ،مستقل پردے پڑے رہیں اور قریب ترین رشتہ داروں کے سوا اندر کوئی بھی نہ جائے۔
صحیح بخاری کی ایک اور روایت میں حضرت انسؓ ہی کے حولے سے یہ واقعہ بھی بیان ہواہے جب حضرت زینبؓ کا نکاح حضورؐسے ہواتوحضورؐا نے لوگوں کواپنے گھرمیں ولیمہ کی دعوت دی ۔ کھانا کھانے کے بعد لوگ وہیں بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ حضرت زینبؓ بھی اس وقت وہیں موجود تھیں اور (چونکہ وہ دلہن تھیں اس لئے) حیا کی وجہ سے دیوار کی طرف اپنا رخ کئے بیٹھی تھی۔ لوگوں کے اس طرح بیٹھے رہنے سے حضورؐ کوتکلیف ہوئی ۔آپ گھر سے باہر تشریف لائے اور کچھ دیر بعد جب آپؐ پھر واپس آئے تو یہ لوگ اسی طرح بیٹھے ہوئے تھے ۔ اس وقت ان کو احساس ہو تو وہ منتشر ہوگئے۔ تھوڑا سا وقت گزراتھا کہ آپؐ پھر باہر تشریف لائے اور آیت حجاب جواسی وقت نازل ہوئی تھی ،پڑھ کر سنائی کہ ’’ یاایھاالذین آمنو لاتدخلو بیوت النبی۔۔۔۔۔ 
اس روایت سے یہ معلوم ہوتاہے کہ آیت حجاب کا فوری محرک کیا تھا ؟ اس سے بھی یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ آیات حجاب خالصتاً ازواج مطہرات کے لئے نازل ہوئی تھیں۔اس ضمن میں حضرت انسؓ نے یہ بھی فرمایا کہ اس آیت کے نزول کے بعدازواج مطہرات کے گھروں کے دروازں پر پردے لٹکادئے گئے۔
صحیح بخاری میں غزوہ موتہ کے حوالے سے حضرت عائشہؓ سے یہ روایت ہے کہ جب آپؐ کو پے درپے لشکر کے سربراہوں کی شہادت کی خبر ملی تو آپؐ کے چہرہ مبارک پر سخت غم وغصہ کے آثار تھے ،میں گھر کے اندر دروازہ کی ایک شق سے یہ سب ماجرا دیکھ رہی تھی۔
اسی طرح صحیح بخاری کتاب المغازی کی روایت کے مطابق ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ مسجد نبوی میں گفتگو کررہے تھے اس وقت ہم نے حضرت عائشہ کے مسواک کرنے اورحلق صاف کرنے کی آواز گھر کے اندر سے سنی۔
اسی طرح صحیح بخاری غزوہ الطائف کی ایک روایت کے مطابق حضورؐ نے کچھ پانی دوصحابہ کو عطا فرمایا کہ اس کو پی لیں اور اپنے چہرے پر مل لیں ۔ زوجہ مطہرہ حضرت ام سلمہؓ دروازے کے پردے کے پیچھے سے یہ واقعہ دیکھ رہی تھیں ۔ انہوں نے اندر سے آواز دے کر دونوں صحابہ سے کہاکہ اس تبرک میں سے کچھ اپنی ماں یعنی ام سلمہؓ کیلئے بھی چھوڑ دینا۔
صحیح بخاری کتاب الادب میں حضرت انسؓ کی روایت کے مطابق ایک دفعہ وہ اور ابوطلحہ ؓ حضورؐ کے ساتھ کہیں جارہے تھے ۔حضورؐ اونٹ پر سوار تھے۔ آپؐ کے ساتھ ام لمومنین حضرت صفیہؓ بھی سوارتھیں۔ راستہ میں اونٹ کو ٹھوکر لگی توآپ ؐ اور حضرت صفیہؓ دونوں اونٹ سے نیچے گرگئے۔ اس پرابوطلحہؓ آپؐ کے پاس حاضر ہوئے اور پوچھا کہ پروردگار مجھے آپؐ پرقربان کردے۔ آپ ؐ کو کوئی چوٹ تونہیں آئی۔ حضورؐ نے فرمایا نہیں۔ تم عورت کی خبر لو۔ ابوطلحہؓ نے پہلے تواپنا چہرہ کپڑے میں چھپایا پھر حضرت صفیہؓ کے پاس پہنچے۔ ان کے اوپر کپڑا ڈال دیا تو وہ کھڑی ہوگئیں۔ درج بالا تمام روایات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ سورہ احزاب میں امہات المومنین کی خصوصی حیثیت بیان ہونے کے بعد وہ عام طورپر اپنے گھروں میں رہتی تھیں۔ دوسرے مردوں کا ان کے ہاں جانا منع ہوچکا تھا۔ بلکہ صحابہ کرامؓ یہ بھی سمجھتے تھے کہ اگر حضورؐ کی کوئی زوجہ محترمہؓ گھرسے باہر ہو اور کوئی ہنگامی صورت حال پیش آجائے تب بھی ان کا انتہائی احترام کیا جائے اور اان کی طرف نہ دیکھا جائے تاکہ منافقین اس سے کوئی اسکینڈل نہ بناسکیں۔
بخاری ومسلم کی ایک اور روایت کے مطابق ،جوواقعہ افک کے نام سے مشہور ہے۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ جب ایک غزوے کے سفر میں وہ حضورؐ کے ساتھ تھیں ۔ جب قافلہ نے کوچ کیا تو میں اتفاق سے پیچھے رہ گئیں۔ جب میں نے دیکھا کہ قافلہ چلاگیا ہے تو میں بیٹھ گئی اور نیند کا ایساغلبہ ہوا کہ وہیں پڑکر سوگئی۔ صبح کو جب صفوان بن معطل وہاں سے گزرا اتو مجھے دیکھ چکاتھا۔ مجھے پہچان کر جب اس نے اِناِّاللہِ۔۔۔پڑھا تواس کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی اور میں نے اپنی چادر سے اپنا منہ ڈھانک لیا۔
اس روایت سے بھی یہ بات ضمنی طورپر معلوم ہوتی کہ ازواج مطہرات کیلئے حجاب کا خصوصی قانون نازل ہوجانے کے بعد وہ اس کا غیر معمولی اہتمام کرتی تھیں کہ وہ اپنے قریب ترین رشتہ داروں کے علاوہ دوسرے مردوں سے خلط ملط نہ ہونے پائیں حالانکہ تمام مسلمان ان کے محرم تھے۔
ابوداؤد میں حضرت عائشہ کی راویت ہے کہ حجتہ الوداع کے سفرمیں ہم لوگ بحالت احرام مکہ کی طرف جارہے تھے جب مسافر ہمارے پاس سے گزرتے تو ہم اپنے سر سے چادریں کھینچ کر منہ پر ڈال لیتیں اور جب وہ گزرجاتے توہم منہ کھول لیتی تھیں۔
یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ اس کوسند منہ میں ایک راوی ’’ھشیم‘‘ ہیں جو اس حدیث کو یزید بن ابی زیادہ سے روایت کررہے ہیں۔ حالانکہ ھشیم کی یزید سے ملاقات ہی بہیں ہوئی تھی۔(تہذیب التہذیب جلد11- صفحہ 329-) تاہم اگر یہ روایت صحیح بھی ہو تواس سے صرف یہ معلوم ہوتاہے کہ سورۃ احزاب کے حجاب کے قوانین خصوصی طورپر ازواج مطہرات کے لئے تھے۔ اسی لئے تو وہ حج کے موقعہ پر بھی اختلاط میں احتیاطکا اس درجہ خیال رکھتی تھیں ۔ ورنہ جہاں تک عام قانون کا تعلق ہے وہ تو یہ ہے کہ حج کے موقعہ پر چہرہ چھپانے سے منع کیاگیا ہے۔ صحیح ترین احادیث کے مطابق حضوؐ رنے حالت احرام میں خواتین کو منہ پر نقاب ڈالنے سے منع فرمایا۔
بخاری و مسلم کی ایک روایت کے مطابق جسے نسائی نے تفصیل سے نقل کیا ہے ۔ ام المومنین حضرت سودہ کے باپ کی لونڈی کی بطن سے ایک لڑکا تھا۔ گویا اس رشتے سے وہ حضرت سودہؓ کا بھائیْ ہوا۔اس کے متعلق یہ مقدمہ پیداہوا کہ وہ دراصل کس کا بیٹاہے ۔کیونکہ ایک اور شخص عتبہ نے مرتے وقت یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ اس کا بیٹاہے ۔ جب یہ مقدمہ جضورؐ کے پاس آیا تو آپ نے عتبہ کے خاندان کا دعویٰ توخارج کردیا اور یہ قانونی اصول بیا ن کیا کہ بیٹا اس کا جس کے بستر میں وہ پیداہوا‘‘ ۔ تاہم چونکہ اس لڑکے کی مشابہت عتبہ سے تھی اس لئے آپؐ نے حضرت سودہ سے کہا کہ اس لڑکے سے حجاب میں رہو۔ یعنی یہ لڑکا تمہارے گھرنہ آئے۔
درج بالاروایت کی تشریح یہ ہے کہ سورہ احزاب آیت 55-کے مطابق ازواج مطہرات کے گھروں میں ان کے بھائی آسکتے تھے۔ لیکن چونکہ یہ شک پیداہوگیاتھا کہ یہ لڑکا حضرت سودہ کا بھائی ہے یا نہیں (یقیناًحضوؐر کووحی کے ذریعہ یہ بتادیا گیاہوگا کہ یہ حضرت سودہ کا بھائی نہیں ہے) اس لئے حضوؐر نے حضرت سودہ کو ہدایت کی کہ اس لڑکے سے حجاب میں رہیں۔
ابوداؤد کتاب الخراج کی ایک روایت کے مطابق ،جس میں ایک لمبا واقعہ نقل کیاگیا ہے۔اس کا ایک ٹکڑایہ ہے کہ حضرت زینبؓ ام المومنین کے دو پھوپھی زاد بھائی، حضوؐر کے پاس ملازمت کی درخواست کے لئے آئے۔ وہ باہر حضوؐر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جب کہ حضرت زینبؓ کمرے کے اندر تھیں۔جب حضرت زینبؓ نے ان کو کوئی بات سمجھانی چاہی تو اننہوں نے دروازے کے پردے کے پیچھے سے ان کو سمجھایا۔ اس روایت کی تشریح یہ ہے کہ سورۃ احزاب آیت 55- میں جن افراد کو ازواج مطہرات کے سامنے آنے کی اجازت تھی ان میں چچازاد یا پھوپھی زاد بھائی شامل نہیں تھے۔
مسنداحمد کی ایک ر وایت کے مطابق ایک دفعہ حضرت عائشہؓ کے رضاعی چچاافلح ان کے پاس آئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ حضرت عائشہؓ کو اجازت دینے میں تامل ہوا۔ اتنی دیر میں حضورؐ تشریف لائے ۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ افلح تمہارے پاس آسکتے ہیں۔ اس واقعہ کی تشریح یہ ہے کہ حضرت عائشہؓ کوتامل اس لئے ہو ا کہ کیا یہ رشتہ سورہ احزاب کی آیت پچپن کے لفظ ’’ آباء ھنَّ ‘‘ میں آتاہے یا نہیں۔ توحضورؐ نے وضاحت کی کہ سگاچچا اور رضاعی چچابمنزلہ والد ہی کے ہوتے ہیں ۔
صحیح بخاری کی ایک روایت کے مطابق جب حضورؐ کے ساتھ حضرت زینبؓ کا نکاح ہوا اور آپؐ اپنے کمرے کو جانے لگے تو حضرت انسؓ بھی آپؐ کے ساتھ ہولئے۔ چونکہ اس وقت سورہ احزاب کی متعلقہ آیات نازل ہوگئیں (اور ان میں آیت پچپن کی رو سے حضرت انسؓ اندر جانے کے مجاز نہیں تھے) ۔ اس لئے آپؐ نے ان کو دروازے پرلگے ہوئے پردے کے اندر آنے کی اجازت نہیں دی۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات کے مطابق ایک دفعہ حضرت سودہؓ ام المومنین کسی کام سے باہر نکلیں ۔ راستے میں حضرت عمرؓ نے ان کو ٹوکا۔ حضرت سودہؓ نے حضورؐ سے شکایت کی تو حضورؐ نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ نے تم کو اپنی ضروریات کے لئے باہر نکلنے کی اجازت دی ہے ‘‘ اس روایت کی تشریح یہ ہے کہ حضرت عمرؓ کا خیال یہ تھا کہ جب ازواج مطہرات کو ’وقرن فی بیوتکن‘ کاحکم دے دیا گیا ہے۔ تو اب ان کیلئے کسی حال میں بھی اپنے گھروں سے نکلنا مناسب نہیں ہے۔ حضورؐ نے اس غلط فہمی کی تردید فرمائی اور واضح کیا کہ عام حالات کے لئے یہی قانون ہے تاہم کسی ضرورت کے تحت ازواج مطہرات گھر سے باہر جاسکتی ہیں۔
صحیح مسلم کتاب الفضائل اور صحیح بخاری کی ایک روایت کے مطاابق ایک دفعہ حضورؐ اپنے گھر کے اندر تشریف فرماتھے ۔ اس وقت آپؐ کے پاس قریش کی عورتیں بیٹھی ہوئی بہت بلند آواز وں سے گفتگوکررہی تھیں۔ اتنے میں حضرت عمرؓ آئے اوراندر آنے کی اجازت مانگی ۔ جب حضورؐ نے انہیں اندر آنے کی اجازت دے دی تو عورتیں چھپنے کے لئے دروازے پر لگے پردے کے پیچھے بھاگ گئیں۔ اس پر حضورؐ مسکرانے لگے۔ حضرت عمرؓ نے حضورؐ سے ہوچھا کہ اللہ آپؐ کو ہمیشہ ہنستارکھے ۔ آپؐ کیوں مسکرارہے ہیں؟ آپؐ نے فرمایامجھے تعجب ہوا ان عورتوں پر جو میرے پاس بیٹھی تھیں ۔تمہاری آواز سنتے ہی پردے کے پیچھے چھپ گیءں۔حضرت عمرؓ نے کہا کہ ان کوتو آپؐ سے زیادہ ڈرنا چاہیئے تھا ۔ پھر حضرت عمرؓ ان عورتوں سے کہا: اپنی جان کی دشمنو تم مجھ سے زیادہ ڈرتی ہو اور اللہ کے رسول سے نہیں ڈرتیں؟ ۔ اُن عورتوں نے کہا: ’تم سخت اور غصیلے ہو جبکہ رسول اللہ ایسے نہیں ہیں‘‘
درج بالا دلچسپ واقعے سے یہ بخوبی معلوم ہوجاتاہے کہ دینی اصول اور ذاتی مزاج میں کیافرق ہوتاہے۔ یہ سب خواتین حضورؐ کے گھرمیں ان کے سامنے بیٹی ہوئی تھیں اور ان سے خوب بلند آواز سے گفتگوکررہی تھیں۔ اس لئے کہ دین میں اس سے زیادہ کوئی پابندی نہیں ہے۔ جب حضرت عمرؓ تشریف لائے تو سب ڈرکے مارے بھاگ کر پردے کے پیچھے چھپ گئیں۔ اس لئے کہ حضرت عمرؓ کا مزاج خصوصاً خواتین کے معاملے میں کافی سخت تھا۔
درج بالاتمام روایات سے مختلف مفہوم رکھنے والی بھی ایک روایت موجودہے۔ وہ ترمذی اور ابوداؤد میں ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ وہ اور حضرت میمونہؓ (یا حضرت عائشہؓ) حضورؐ کے پاس بیٹھی تھیں۔ اتنے میں ابن مکتوم آئے جو صحابی تھے حضورؐ نے ان دونوں خواتین سے فرمایا کہ ان سے پردے کے پیچھے چلی جاؤ۔ حضرت ام سلمہؓ نے عرض کیا کیا یہ نابینا نہیں ہیں ۔ نہ وہ ہم کو دیکھیں گے نہ وہ ہم کو پہچانیں گے؟ حضورؐ نے جواب دیا : کیا تم دونوں بھی نابینا ہو۔ کیاتم انہیں نہیں دیکھتیں؟
یہ درحقیقت ایک ضعیف روایت ہے ۔ کیونکہ اس کا درمیانی راوی بنہان جو سیدہ ام سلمہؓ کا آزاد کردہ غلام تھا۔ ناقابل احتجاج ہے۔ اس راوی کو سوائے ایک ماہر فن (ابن حبان) کے، باقی سب نے ناقابل قبول اور مجہول قراردیاہے(ملاحظہ ہوں الجامع الاحکام القرآن باب 12- صفحہ228-)۔اسی طرح اگرچہ ترمذی نے اس حدیث کو ’’حسن‘‘ قراردیاہے ۔ یعنی ان کے نزدیک یہ بھی’’صحیح ‘‘کے درجے کی نہیں ہے۔ تاہم حافظ ذہبی کہتے ہیں ’’ اہل علم ترمذی کی تصحیح پر اعتماد نہیں کرتے ۔ امام ترمذی کی ’تحسین‘ پر دھوکہ نہیں کھانا چاہیئے۔ کیونکہ تحقیق کے بعد ان کی اکثر ’حسن‘ حدیثیں ضعیف ثابت ہوئی ہیں( ملاحظہ ہو میزان الاعتدال باب4- صفحہ416-)