درج بالا آیات کو جو شخص بھی خالی الذہن ہوکرپڑھے گا ،اس کے لئے ان کا مفہوم سمجھنے میں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔ تاہم ان کے بعض الفاظ وفقروں کے مفہوم میں قیل وقال ہوتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ان کے بعض حصوں پر مزید بحث کی جائے۔
پہلاسوال یہ ہے کہ درج بالاآیات میں جو ہدایات دی گئی ہیں کیا وہ صرف ازواج نبی کے لئے ہیں یا سب مسلمان خواتین کے لئے ہیں؟ 
قرآن مجید کے الفاظ اتنے واضح ہیں کہ اس سے زیا دہ واضح الفاظ کیا ہونگے۔یعنی یٰنساءَ النبیِ لستُنَّ کاَحدٍِمِنَ النساءِ (اے ازواج نبی تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو) ۔تاہم ایک نقطہ نظریہ ہے کہ ان آیا ت کی مخاطب تمام مسلمان خواتین ہیں۔ اس کی پہلی دلیل یہ ہے کہ دراصل یہ ایک خاص اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ بالکل ایساہی جیسے ایک شریف آدمی اپنے بچے سے کہتاہے کہ " تم بازاری بچوں کی طرح نہیں ہو ،تمہیں گالی نہ بکنی چاہیئے" دوسری دلیل یہ ہے کہ آگے کی آیات میں بعض ہدایا ت ایسی ہیں جو تمام مسلمان خواتین کے لئے ہیں مثلاً نماز وزکواۃ کی پابندی۔ جب ایسا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ باقی ہدایا ت بھی تمام مسلمان خواتین کیلئے ہیں ۔ ہمارے نزدیک یہ دونوں دلائل صحیح نہیں ہیں۔ 
جہاں تک پہلی دلیل کا تعلق ہے تو یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ پروردگار سے زیا دہ عربی زبان پرکوئی ہستی قادر نہیں ہوسکتی۔ پروردگار کے لئے ناممکن ہے کہ وہ کہنا تو کوئی اور بات چاہتاہو مگر کوئی ایسا اسلوب اختیار کر بیٹھے جس سے لوگ مستقلاً شکوک و شبہات میں مبتلا ہوجائیں۔ پروردگار کو ہمارے ایمان سے دشمنی نہیں کہ وہ اتنی اہم ہدایت میں ذومعنی قسم کے فقرے استعمال کرے۔ پروردگار کے لئے یہ کہنا کیا مشکل تھا کہ" اے نبی اپنی بیوں اور اہل ایمان عورتوں سے کہہ دو ۔۔۔۔" اگر دوسرااسلوب اختیار کرنا تھا تو یہ کہنا کیامشکل تھاکہ "ازواج نبی تم بری عورتوں کی طرح نہیں ہو۔۔۔۔۔۔۔ " اس سے خود بخود یہ معلوم ہوجا تاکہ اچھی عورتوں کو کیا کرنا چاہیے۔
دوسری بات یہ ہے کہ یہ پوری سورت خود پکارپکار کر کہہ رہی ہے کہ اس میں نازل شدہ بہت سی ہدایات رسول ؐ اور ازواج نبی کے لیے خاص ہیں۔یہ سورت کہہ رہی ہے کہ "ازواج نبی کی حیثیت مومنین کی ماؤں کی ہے۔ " (آیت6-) ۔آگے نبی ؐہی کی بیویوں سے خطاب کرکے کہا جارہاہے ۔"نبی کی بیویو تم میں سے جو کسی صریح فحش حرکت کاارتکاب کرے گی اسے دوہراعذاب دیا جائے گا۔ اللہ کے لئے یہ بہت آسان کام ہے اور تم میں جو اللہ اور اس کے رسول ؐ کی اطاعت کرے گی اور نیک عمل کرے گی اس کو ہم دہرا اجر دیں گے۔(آیت . 31-)۔اس کے بعد آگے حضرت زید،ؓ اس کی سابقہ زوجہ اور پھر زوجہ نبی ؐ بننے والی حضرت زینبؓ کے واقعہ کا تجزیہ کیا گیا ہے ۔ اس کے بعد آگے آیت نمبر51-50 اور52میں حضورؐ اور آپ کی ازواج کے لئے خصوصی قوانین پر روشنی ڈالی گئی۔ یہ قوانین باقی مسلمانوں کیلئے بنائے گئے قوانین سے بالکل مختلف ہیں۔صر ف یہی نہیں بلکہ اس سورت میں جہاں جہاں عام مسلمان مردوں یا خواتین کو خطاب ضروری تھا وہا ں واضح طورپر ان کو اس طرح خطاب کیاگیا ہے کہ کسی شک وشبہ کی گنجائش نہ رہے۔ مثلاً کہاگیا ہے کہ " بالیقین جو مرد اور عورتیں مسلم ومومن ہیں ۔۔۔۔((آیت35-) آگے کہا گیا ہے۔"کسی مومن مرد اورکسی مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ ۔۔۔(آیت36-)۔ آگے کہاگیاہے"ے اہل ایمان ۔۔۔۔(آیات44-41)۔۔۔۔آگے پھر عام مسلمانوں کو ہدایت اس طرح دی جارہی ہے ۔"اے اہل ایمان۔۔۔۔۔۔)آیت نمبر49-)۔ اس کے بعد آگے پروردگار ایک ایسی ہدایت دے رہا ہے جو تمام مسلمان خواتین کے لئے ہے اور جس میں کو ئی استثناء نہیں ہے۔ چنانچہ دیکھئے کہ قرآن مجید کیاالفاظ استعمال کررہا ہے۔’’اے انبی ،اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ ۔۔۔۔۔۔۔(آیت 59- )
درج بالا حوالوں سے یہ بات روزروشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن مجید نے جہاں جہاں ازواج نبی ؐ کو براہ راست مخاطب کیاہے۔ ان ہدایا ت کو تمام مسلمان خواتین کے لئے عمومی ہدایات نہیں بنایا جاسکتا۔
جہاں تک دوسری دلیل کا تعلق ہے یعنی یہ کہ ان ہدایا ت میں نماز و زکواۃ کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے۔ چونکہ یہ ہدایات تمام مسلمانوں کیلئے عام ہیں ۔ اس لئے باقی ہدایات بھی عام ہیں۔ یہ دلیل بھی صحیح نہیں ہے اصل بات یہ ہے کہ پروردگار کے نزدیک نماز اور زکواۃ کی اہمیت اتنی زیا دہ ہے کہ ہر موقعہ پرپروردگار ہر کسی کو یہ نصیحت ضرورکرتاہے ۔حتیٰ کہ رسول ؐ کو بھی بار بار اس کی طرف متوجہ کرتاہے۔ مثلاً عنکبوت آیت 45-

اُتلُ مَآ اُحِیَ اِلَیکَ مِنَ الکِتٰبِ وَاَقِم الصَّلٰوۃ
"جوکتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اس کی تلاوت کیجئے اور نماز قائم کیجئے۔"

قرآن مجید کا ہر طالب علم جانتاہے کہ قرآن مجید میں بے شمار احکام وہدایات حضورؐ کے لئے خاص ہیں ۔ آپ ؐکاخاص مرتبہ ہے۔ مثلاً قرآن نے بے شمار دفعہ یہ دعویٰ کیا کہ آپؐ کی دعوت قبول نہ کرنے والوں پر خداکا عذاب نازل ہوگا۔ سب جانتے ہیں کہ آپؐ کے علاوہ باقی کسی مسلمان کی یہ حیثیت نہیں کہ اس کی بات نہ ماننے کے نتیجے میں کسی پرعذاب آجائے۔ لیکن اگر سورۃ عنکبوت کی درج بالا آیت کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا جائے کہ چونکہ نماز پڑھنا صرف رسولؐ کے لئے نہیں بلکہ سب مسلمانوں کیلئے لازم ہے ۔ اس لئے رسولؐ کے لئے جو کچھ خصوصی طورپرنازل ہو ا اس میں بھی سب مسلمان شریک ہیں۔ توظاہر ہے کہ یہ ایک بے بنیاد دعویٰ ہوگا۔بالکل اس طرح اس دعوے کی بھی کوئی حیثیت نہیں کہ چونکہ اس میں نماز وزکواۃ کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے۔ اس لئے باقی احکام میں بھی سب مسلمان خواتین شریک ہیں۔ ایسا ہر گزنہیں ہے ۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ نماز وزکواۃ کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اللہ نے ہر رسول کو ذاتی طورپر مخاطب کرکے بھی اس کی پابندی کی طرف توجہ دلائی ہے اور ہر اہم گروہ کو بھی اس کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اس سے دوسرے خاص حکم عام نہیں ہو جاتے۔اس کے بعد آگے یہ فقرہ جو آیا ہے کہ فلاتخضعن بالقول فیطمع الذی فی قلبہ مرض وقلن قولا معروفا "یعنی تم لہجہ میں نرمی اختیار نہ کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہے (یعنی منافقین ) وہ (اپنی سازش میں کامیابی کی)کسی طمع خام میں مبتلاہوجائے۔ " کاکیا مطلب ہے؟ 
جیساکہ ہم پہلے واضح کرچکے ہیں کہ اس سورت کے پورے سیاق وسباق سے اور روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ مدینہ کے اندر جو منافقین بستے تھے ان کی ہر وقت یہ کو شش ہوتی تھی کہ حضورؐ اور ازواج نبیؐ کے متعلق سکینڈل بنائیں اور نت نئی افواہیں پھیلائیں ۔ اس کے لئے اُن منافقین کا طریقہ یہ تھا کہ وہ مختلف حیلوں بہانوں سے ازواج نبیؐ کے پاس آتے ،اُن سے بے تکلف ہو نے کی کوشش کرتے ۔ تاکہ ان کے منہ سے ایسی کوئی بات نکال سکیں جس کی بنیاد پر وہ پروپیگنڈے کریں۔ چنانچہ اس کا سدباب پروردگار نے یوں کیا کہ ازواج نبیؐ پر یہ پابندی عائد کی گئی کہ وہ کسی بھی دوسرے فرد سے بے تکلف نہیں ہو سکتیں۔ حتیٰ کہ لہجے میں کوئی نرمی بھی اختیار نہیں کر سکتیں ۔ یہ ہدایت بھی ازواج نبی ؐ کے لئے خاص تھی۔ اس لئے کہ اسلام کی عام اخلاقی ہدایات تویہ ہیں کہ سب لوگ ایک دوسرے سے خیرخواہی ،ہمدردی اور نرم لہجے میں بات کریں۔ مثلاً  
وقُولُو لنَّاسِ حسنا ۔(بقرہ2- ،آیت83-) ’’لوگوں سے اچھی بات کیاکرو ‘‘
 
وقل لعبادی یقولوالتی ھی احسن (بنی اسرائیل17-،آیت35-) "اور میرے بندوں سے کہہ دیجئے کہ وہ بہت ہی اچھی بات منہ سے نکالاکریں"۔

’حسن ‘ کے مفہوم میں اچھے الفاظ ،اچھاپیرایہ اور اچھا لہجہ سب آجاتے ہیں۔
آگے یہ ہدایت آئی ہے  
وقرن فی بیوتکن "اور اپنے گھروں میں ٹک کر رہو"

اس کا مطلب یہ ہے کہ ازواج نبیؐ کے منصب کا تقاضہ یہ تھا کہ وہ بلاضرورت گھومنے پھرنے اور عام عورتوں کی طرح تقریبات میں جانے سے پرہیز کریں۔ اس کی اصل وجہ قرآن مجید نے خود بیان کی کہ ازواج نبی کا اصل کام یہ ہے کہ ان کے گھروں میں قرآن مجید کی جو تعلیم قانون وحکمت سمیت ،نبی ؐ سے براہ راست ان کو ملتی ہے۔ اسے عام کریں۔ ان کے پاس جب خواتین انفرادی یا اجتماعی شکل میں آئیں تو ازواج نبی اپنے اپنے گھروں میں دستیاب ہونی چاہیئیں۔ تاکہ کسی خاتون کوتعلیم وتربیت ملنے میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔ قرآن مجید نے اس بات کو یو ں بیا ن کیا : واذکرن مایتلیٰ فی بیوتکن من آیٰت اللہ ولحکمۃ" اور تمہارے گھروں میں اللہ کی آیات اور حکمت کی جو تعلیم ہو تی ہے اس کا چرچاکرو"
ظاہر ہے کہ یہ حکم بھی ازواج نبی ؐ کے لئے خاص ہے۔ کیونکہ عام خواتین کے لئے سیروتفریح کرنے ،بازارجانے اور تقریبات میں جانے پرکوئی پابندی نہیں ہے۔ 
آگے یہ ہدایت آئی ہے۔: ولاتبرّجن تبّرج الجاھلیت الاولیٰ:’’اور سابقہ جاہلیت کی سج دھج نہ دکھاتی پھرو‘‘
تبرج کے معنی نمایاں ہو نے ،ابھرتے اورکھل کرسامنے آنے کے ہیں۔ ہرزمانے میں خواتین اول اور بادشاہ کی بیگمات بہت نمایاں ہوتی ہیں۔ وہ اپنے زیورات ،چال ڈھال ،نوکروں کی فوج ظفرموج،لباس کی شان غرض یہ کہہرچیز میں سب سے نمایا ں ہوتی ہیں۔ ان کی سواری ، محفلوں میں ان کی شان وشوکت اور ان کے رہنے سہنے کے انداز سب میں وہ سب سے الگ اور نمایاں ہوتی ہیں۔ اسلام سے پہلے کے دورجاہلیت میں یہ چیز بالخصوص بہت زیا دہ تھی ۔ چنانچہ قرآن مجید نے ازواج نبیؐ سے کہا کہ بیشک تمہارا خاوند اب حاکم ہے۔ اور تم خواتین اول ہو ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ رسول ؐ بھی ہے اور تم ایک رسولؐ کی ازواج ہو۔ اس لئے تم پرلازم ہے کہ سابقہ دور جاہلیت کے سے انداز اختیارنہ کرو ۔ تمہارے ہاں کو ئی شان وشوکت ، زینت اور زیورات کی فراوانی ،عالیشان لباس اور ملازمین کی فوج ظفر موج نہیں ہونی چاہیءں ۔ تمہارا اصل کام تو دوسری خواتین کو اسلام کی تعلیمات سے روشناس کراناہے۔
یہ حکم بھی ازواج نبی کے لئے خاص ہے۔ اس لئے کہ عام خواتین کے لئے زینت کے احکام مختلف ہیں۔ انہیں زیب وزینت کی عام اجازت ہے ۔ (ملاحظہ ہو سورہ اعراف 7- ،آیت32-)
ظاہر ہے کہ جب وہ زینت کریں گی تو ایک دوسرے کے ساتھ موازنے کا جذبہ بھی ان کے اندر آئے گا اور وہ خواتین کی محفل میں اپنے آپ کونمایاں کرنے کی خاطرزیب وزینت کی طرف خصوصی توجہ بھی دیں گی۔ یہ سب کچھ عورتوں کی فطرت میں شامل ہے اور قرآن مجید نے دوسرے مقامات پر بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔
اس کے بعد آگے ایک اور ہدایت یہ آئی ہے کہ:  
واذا سالتموھن متاعاً فسئلوھن من وّرآءٍ حجابٍ " اور جب تم کو ازواج نبیؐ سے کوئی چیز مانگنی ہو تو (دروازے پر لگے ہوئے) پردے کے پیچھے سے مانگا کرو"

اس ہدایت نے نبی ؐ ازواج کے گھروں کو ایک خصوصی رتبہ(status) دے دیا۔ جن میں ازواج نبی ؐ کے قریب ترین رشتہ داروں کے علاوہ غیرمحرم رشتہ داروں اور باقی سب مسلمان مردوں کا داخلہ ممنوع کردیا۔
جیسا کہ پہلے وضاحت کی جا چکی ہے کہ حضورؐ کی ہر بیوی کا گھر مسجد سے متصل تھا۔ مسجد کے کمرے اورگھر کو صرف ایک پردہ ایک دوسرے سے جداکرتاتھا۔ منافقین کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ وہ افواہیں بنانے اور پروپیگنڈے کرنے کی خاطر ازواج نبی ؐ کو بے خبری کیعالم دیکھ لیں۔ چنانچہ وہ حضورؐ کی محفل میں پانی پینے یا کسی اور بہانے سے اٹھ کر اچانک ان کے گھر کے دروازے کا پردہ اٹھاکر اندر داخل ہو جاتے۔ان کی دیکھا دیکھی بعض سادہ لوح مسلمان بھی یہ حرکت کرنے لگے ۔ چنانچہ آئندہ کے لئے ان کو بتایاگیا کہ اس حرکت پر مکمل پابندی ہے۔ کسی مسلمان کو بھی یہ اجازت نہیں کہ وہ ازواج نبی ؐ کے گھروں میں داخل ہو ۔ اس سے صرف چند ہی لوگ مستثنیٰ تھے جن کا ذکر آیت پچپن میں آیا ۔ 

لاجناح علیہن فیٓ اٰبآءِھن ولاابنآءھن ولااخوانھن ولاابناءِ اخوانھن ولآ ابنآءِ اخوٰتھن ولانسآءِھن ولاماملکت ایمانُھنَّ۔
"ازواج نبیؐ کے لئے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہئے کہ اُن کے باپ،اُن کے بیٹے ، اُن کے بھتیجے ،اُن کے بھانجے ،ان کے میل جول کی عورتیں اور ان کے مملوک گھروں میں آئیں۔"

واضح رہے کہ ازواج نبیؐ کے لئے تو تمام مسلمان محرم تھے ۔ اس لئے کہ حضورؐ کے علاوہ کسی بھی دوسرے مسلمان سے ان کا نکاح حرام تھا۔ لیکن یہاں صاف الفاظ میں بتایا گیا ہے کہ اس محدود دائرے کے علاوہ کوئی بھی فرد ازواج نبی ؐ کے گھروں میں داخل نہیں ہو سکتا۔ نہ اجازت کے ساتھ اور نہ اجازت کے بغیر۔
یہ حکم ازواج نبیؐ کیلئے خاص تھا۔ اس لئے کہ جہاں تک عام مسلمانوں کا تعلق ہے وہ ایک دوسرے کے گھروں میں تعارف و اجازت لے کر جاسکتے ہیں۔ اور وہاں ان کو وہ آداب ملحوظ رکھنے چاہیءں جن کا ذکر سورۃ نور میں آیاہے۔ ازواج نبی کے لئے اس حکم کا ایک مقصد تو وہی تھا جس کا ذکراوپر ہو چکاہے۔ اس کے علاوہ یہ مقصدبھی تھا کہ ازواج نبی کااصل کا م یعنی دوسری مسلمان خواتین کی تعلیم وتربیت کے لئے انہیں زیا دہ سے زیادہ وقت مل سکے۔ 
اس فقرے میں ’’حجاب‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ ہمارے ہاں یہاں اردودان طبقے میں جب بھی یہ لفظ استعمال ہوتاہے ۔ اس سے فوراً چہرے کا نقاب مراد لیا جاتاہے۔ جبکہ یہ صحیح استعمال نہیں ہے۔ ’’حجاب‘‘کے معنی اس پردے کے ہیں جودروازے پرلٹکایا جاتاہے۔ تاکہ ایک طرف کے لوگوں اوردوسری طرف کے لوگوں کے درمیان ایک آڑہو۔ قرآن مجید کے باقی مقامات کی طرح اس مقام پر بھی مترجمین ومفسرین نے بالاتفاق اس کے یہی معنی بیان کئے ہیں۔ یہ نکتہ اس اعتبار سے نہایت اہم ہے کہ آاگے ا س ضمن میں احادیث کے صحیح مفہوم کو متعن کرنے میں اس کو مدنظر رکھا جائے۔ 
اس آیت کو عام طور پر آیت حجاب کہاجاتاہے۔ کیونکہ اس کے ذریعہ سے ازواج مطہرات اور باقی مسلمانوں کے درمیان پردہ حائل کیا گیا ۔ صحیح بخاری اورصحیح مسلم کی روایا ت میں بھی اس کے یہی معنی مذکور ہیں جن کے متعلق بحث آگے آئے گی۔
غیر محفوظ مقامات کے بارے میں خصوصی ہدایات
حضورؐ کے زمانے میں خواتین کو ایک اہم مسئلہ درپیش ہو گیا تھا۔ وہ یہ کہ مدینہ اورُ ا س کے آس پاس میں ایک بڑی تعداد میں یہودی اور منافقین بھی بستے تھے۔جب مسلمان خواتین ان محلوں سے گزرتیں جہاں یہودیوں یا منافقین کی اکثریت ہوتی تو وہا ں کے اوباش اور آوارہ عناصر ان پرآوازیں کستے۔ غلط قسم کی فقرہ بازیاں کر تے۔ اور ہنسی مذاق کرنے کی کوشش کرتے۔ اور اگر بعد میں ان سے بازپرس کی جاتی تو یہ بہانہ بناتے کہ ان کے خیا ل میں یہ ان کی اپنی عورتیں تھیں جن سے وہ بے تکلفی کررہے تھے۔ سورہ احزاب میں ان یہودیوں اور منافقین کی ریشہ دوانیوں کے بارے میں ایک تفصیلی تجزیہ نازل ہواہے۔ اسی سیاق وسباق میں مسلمان خواتین کو یہ ہدایت کی گئی کہ جب وہ اس طرح کے غیرمحفوظ علاقوں میں جائیں جہاں انہیں تنگ کئے جا نے اور ستائے جانے کا ندیشہ ہو تو وہ ایک بڑی چادر لے لیاکریں۔ اس طرح اوباش لو گوں کو انہیں تنگ کرنے کا بہانہ نہیں مل سکے گا۔ بہانہ نہ مل سکنے کی وجہ یہ ہے کہ اس زمانے میں عربوں کی عام معاشرت کی روسے جب شریف خواتین گھروں سے باہر نکلتیں تو اپنے کپڑوں کے اوپر ایک چادر لے لیتیں اور اس سے سر بھی چھپالیتیں ۔ اس طرح کی ملبوس خواتین کو کو ئی بھی تنگ نہ کرتا اس لئے کہ یہ اس زمانے کا شریفانہ اور باوقار باہر نکلنے کا انداز تھا۔ سب جان جاتے کہ یہ شریف خواتین ہیں۔ گویا قرآن مجید نے سلمان خواتین کو یہ احتیاطی تدبیر سکھادی کیونکہ اس طرح آوارہ عناصر کی بد معاشیوں سے محفوظ رہنا زیادہ ممکن تھا۔
چنانچہ دیکھئے قرآن مجید نے کس طرح اس فقرے سے پہلے اور بعد کے فقرے میں ان تمام حالات کو بیان کردیا ہے۔ ارشاد ہے۔

والذین یؤذون المومنین والمؤمنٰت بغیر ما اکتسبوا فقد احتملوُ بھتانا وَّ اثمامبینا۔ یٰآایھانبیُّ قل لازواجک وبنٰتک ونسآءٍ المؤمنین یدنین علیھن من جلابیھن ذلک ادنیٰ ان یعرفن فلایؤذین ،وکان اللہ غفوراًرحیما۔لءِنْ لم ینتہ المنٰمقون والذین فی قلوبہم مرضُ‘ والمرجفون فی المدینۃ لنغرینک بہم ثمَّ لایجاورُنک فیھا الّا قلیلاً۔( 60-58)
"اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بے قصور اذیت دیتے ہیں انہوں نے ایک بڑے بہتان اور صریح گناہ کا وبال اپنے سر لے لیا ہے۔ اے نبیؐ اپنی بیویوں بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادر وں کے پلو لٹکالیا کریں ۔یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں ۔ اللہ تعالیٰ غفورورحیم ہے۔ اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے اور جو مدینہ میں ہیجان انگیز افواہیں پھیلانے والے ہیں ۔اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کے خلاف کاروائی کرنے کے لئے تمہیں اٹھاکھڑاکریں گے ،پھر وہ اس شہر میں مشکل ہی سے تمہارے ساتھ رہ سکیں گے۔ (احزاب 33- ،آیات60-58)

’’بے قصور اذیت دینے‘‘ کا مطلب شریف خواتین کو تنگ کرنا ، ان پر آوازیں کسنااور ان سے بے ہودہ ہنسی مذاق کرنا ہے۔ جس سے وہ بھی اذیت میں مبتلا ہوجاتی ہیں اور ان کے مردوں کو بھی تکلیف پہنچتی ہے۔ آگے الفاظ آئے ہیں ’’ یدنین علیھن من جلا بیبھن ‘‘ ان الفاظ کا لفظی ترجمہ ہوگا۔’’نیچی لٹکالیں تھوڑی سی اپنی چادریں‘‘ ۔ ’جلباب‘ بڑی چادر کو کہتے ہیں۔ ’’نیچے لٹکا لیں تھوڑی سی ‘‘ کے الفاظ میں وسعت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چادر کو اپنے گرد لپیٹ کر اس سے سراورچہرہ دونوں چھپالئے جائیں۔ اس سے یہ مفہوم بھی مراد ہے ہوسکتاہے کہ سر کے اوپر چادر ڈال کر اس کے دونوں پلوؤں کو لٹکتا چھوڑدیا جائے اور چہرہ یا تو چھپایا ہی نہ جائے یا اس کا کچھ حصہ چھپایا جائے۔ قرآن مجید نے اس مقام پر جان بوجھ کر ایسے الفاظ استعمال کئے ہیں جن میں وسعت و رخصت کا پہلو موجود ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر جگہ خطرے کی نوعیت یکساں نہیں ہوتی۔ کسی جگہ آوارہ لوگوں کے جمگھٹے لگے رہتے ہیں۔ اور کو ئی جگہ نسبتاً محفوظ ہوتی ہے۔پھرجانی اور انجانی جگہوں میں فرق ہوتاہے ۔جانی پہچانی گلیوں اورمحلوں میں کسی کو جرات نہیں ہو تی کہ خواتین کو تنگ کرے۔ اسی طرح ہر خاتون کے حالات میں بھی فرق ہوتاہے۔ اگر ایک خاتون کے پاس بہت سارا سامان ہے یا اس کے بچے بھی ساتھ ہیں تو اس کے لئے چادر کو اپنے گرد زیادہ لپیٹنا یا چہرہ چھپانا ممکن نہیں ہو گا۔ پھر ہر خاتون کی عمر کے لحاظ سے بھی فرق واقع ہوجاتاہے۔ چنانچہ ان تمام عوامل کی وجہ سے قرآن مجید نے یہ نہیں کہا کہ مسلمان خواتین باہر جاتے وقت اپنے گرد چادر لپیٹ لیں اور چہرہ چھپاکر صرف ایک آنکھ کھلی رکھیں۔ اگر پروردگار یہ کہنا چاہتا تو اس کے پاس الفاظ کی کوئی کمی نہیں تھی۔ 
آگے الفاظ آتے ہیں ’’ذاَلِکَ اَدْنیٰ ان یعرفن ‘‘ یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے۔ تاکہ وہ پہچان لی جائیں یعنی ان پرائی جگہوں میں دوسرے لو گ یہ جان لیں گے کہ چونکہ ان خواتین نے چادر اڑھی ہوئی ہے اس لئے یہ یقیناًشریف گھرانوں کی شریف خواتین ہیں ۔جیساکہ پہلے بتایاجاچکاہے اسلام سے پہلے عرب معاشرے میں شریف خواتین گھر سے باہر جاتے وقت ایک چادر اوڑھاکرتی تھیں جسے جلباب کہتے تھے۔ ہمارے ہاں یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ اسلام سے پہلے کی عرب سوسائٹی مکمل طورپر اخلاق باختہ تھیْ عورتیں حسن وزینت کی نمائش کے لئے بنی ٹھنی بازاروں میں گھوماکرتی تھیں۔ حالانکہ یوں نہیں تھا ۔ نچلے طبقوں کی عورتوں میں کئی کمزوریاں اورنقائص پائے جاتے تھے۔ لیکن اسلام سے پہلے بھی عرب معاشرے کی تمام شریف خواتین حیا اور وقار کے تمام اقدارملحوظ رکھتی تھیں۔ ادب جاہلی میں بے شمارایسے اشعار ہیں جن میں شاعروں نے ان کا ذکر کیا ہے ۔ گویا قرآن مجید کا منشا یہ ہے کہ جس معاشرے میں شریف اور باوقار خواتین باہر جا تے وقت جو لباسپہنتی ہیں ہووہ پہناجائے۔
آگے الفاظ آئیں ’’ فلاَ یؤْذین ‘‘ ’’تاکہ وہ نہ ستائی جائے‘‘ ان الفاظ سے یہ بات بالکل روز روشن کی طرح واضح ہوگئی کہ اصل مقصد غیر محفوظ مقامات پر اوباشوں کی غنڈہ گردی سے خواتین کو بچاناہے۔ گویا یہ غیر محفوظ مقامات پر ایک احتیاطی تدبیر ہے۔ محفوظ مقامات ،جانی پہچانی گلیوں اور جگہوں اور مامون راستوں کے لئے اس احتیاطی ہدایت کی پابندی ضروری نہیں ۔ ایسی محفوظ جگہوں میں یقیناًخواتین کو غض بصر ،حفظ فروج اور اخفائے زینت یعنی سورہ نور کی ہدایت کا پورا خیال رکھنا ضروری ہے۔ ان کے لئے یہ بھی ضروری ہے (جس طرح مردوں کے لئے یہ ضروری ہے) کہ وہ ہر جگہ باوقار اور باحیا لباس پہنے ہوئے ہوں ۔ 
آگے الفاظ آئے ہیں۔:المنقون والذین فی قلوبھم مرضُ والمرجعون فی مدینۃ:یہ منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے اور جو مدینہ میں ہیجان انگیز افواہیں پھیلانے والے ہیں 
گویا اوپر کی احتیاطی تدبیر مسلمان خواتین کو اس لئے سکھائی گئی کہ مسلمانوں کے دشمنوں ،منافقوں اور اضطراب و بے چینی پیداکرنے والے فتنہ جوؤں کے پروپہگنڈے کا سد باب ہوسکے۔
درج بالا تشریح سے یہ بات واضح ہوجا تی ہے کہ سورہ احزاب آیت 59-اصل میں یہ ہدایت دیتی ہے کہ جب مسلمان خواتین کسی انجانی اورغیرمحفوظ جگہ میں جائیں تو وہ اپنے ہاں رائج سب سے زیادہ مہذب اورباوقار لباس پہنیں تاکہ آوارہ لوگوں کو یہ موقع نہ مل سکے کہ وہ ان خواتین کو تنگ کریں ۔ گویا یہ اسلام کے ’’ اختلاط مردوزن کے آداب ‘‘ کے ضمن میں ہدایات کا مستقل جزو نہیں ہے بلکہ ایک ایسی احتیاطی تدبیر ہے جس پر غیر معمولی حالات میں عمل کرناچاہئیے۔
اختلاط مرد وزن کے بارے میں صحیح روایات کی تشریح و تاویل اور دیگر متعلقہ مسائل:
ہم نے دیکھا کہ ایک مسلمان معاشرے میں اختلاط مردوزن کے بارے میں قرآن مجید نے کتنی واضح ہدایات دی ہیں ۔ جب ان ہدایات کی روشنی میں ان تمام روایات کو دیکھا جائے جو اس ضمن میں کتب احادیث میں آئی ہیں ۔ توان سب کا صحیح موقعہ ومحل متعین ہوجاتاہے۔ اور ان کے درمیان بظاہر جوتضاد لگتاہے وہ بھی بالکل رفع ہو جاتا ہے۔ درحقیقت احادیث پر غوروفکر کرنے کا سب سے اہم اصول ہی یہی ہے کہ انہیں قرآن مجید کی واضح ہدایات کی روشنی میں دیکھا جائے۔ مناسب ہے کہ اس ضمن میں جودیگر مسائل سامنے آتے ہیں ان پر بھی غور وفکر کیا جائے۔
جہاں تک پہلے حلقے کا تعلق ہے یعنی مسلمان خاتون کے لئے اس قریب ترین حلقے کا،جس میں اس کیلئے کو ئی پابندیاں نہیں ہیں، جن کے سامنے وہ زیب وزینت کے ساتھ آسکتی ہے۔ وہ قرآن مجید نے سورہ نور کی آیت 31- میں بیان کردئے ہیں ۔ تاہم اس ضمن میں چند مزید سوالات پیداہوتے ہیں ۔
پہلاسوال یہ ہے کہ کیا شوہر اور بیوی کے درمیان کوئی احتیاط ہونی چاہئیے ؟
قرآن مجید کے مطابق شوہر اور بیوی کے درمیان کوئی رکاوٹ حائل نہیں ۔ اس لئے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے لئے بمنزلہ ء لباس کے ہیں ۔ جس طرح لباس سے بدن کا کوئی حصہ چھپاہوانہیں رہتا ۔ یہی حالت میاں بیوی کی ہے۔ ارشاد ہے۔

ھُنَّ لباسُ لکم وانتم لباس لھن 
"وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کے لباس ہو"

تاہم اس ضمن میں دوروایات ایسی پیش کی جاتی ہیں جن سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ شوہر اور بیوی کوبھی ایک دوسرے کے ستر کا خیال رکھنا چاہیئے۔یہ دونوں روایات بلحاظ سند نہایت کمزورہیں۔ اس لئے ان سے کوئی حکم اخذنہیں کیا جاسکتا ۔پہلی روایت یہ ہے "جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے تو اس کو چاہیئے کہ ستر کا لحاظ رکھے۔ بالکل گدھوں کی طرح دونوں ننگے نہ ہو جائیں۔ یہ روایت ابن ماجہ کتاب النکاح میں آئی ہے ۔اور اسی کتاب کا یہ کہنا ہے کہ یہ ایک ضعیف روایت ہے۔ 
دوسری روایت یہ ہے ۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہؐ کو کبھی برہنہ نہیں دیکھا ۔ یہ بھی؛ ابن ماجہ کتاب النکاح ؛ میں آئی ہے۔ اور یہ حضرت عائشہ کے کسی غلام سے روایت کی گئی ہے ۔ جس کی شخصیت کے متعلق کچھ بھی معلوم نہیں۔ پس یہ بھی ایک ضعیف روایت ہے۔ 
دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک خاتون،اپنے شوہر کے علاوہ اپنے قریب ترین حلقے میں لباس کے ضمن میں کیا احتیاطیں ملحوظ رکھے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جب قرآن مجید یہ کہتا ہے کہ اس قریب ترین حلقے کے سامنے زیب وزینت کا دکھانا جائز ہے ۔ تو اس سے خودبخود یہ مطلب نکلا کہ اس قریب ترین حلقے میں ایک خاتون ایسے لباس کے ساتھ رہ سکتی ہے جس میں وہ کوئی تکلیف اور رکاوٹ محسوس نہ کرے۔ مثلاً اس کے لئے سر کو چھپانے کی ضرورت نہیں۔ وہ پائنچے اور بازو اوپر اٹھا سکتی ہے۔ 
ابو داؤد کی ایک روایت کے مطابق ایک دفعہ حضورؐ اپنے ایک غلام کے ہمراہ اپنی بیٹی حضرت فاطمہؓ کے ہاں تشریف لائے۔اس وقت حضرت فاطمہؓ کے پاس ایک ایسی چادر تھی کہ اگر سر چھپاتی تھیں تو پاؤں نہیں چھپتے تھے اور اگر پاؤں چھپاتیں تو سر ننگا ہو جاتا تھا۔ جب حضورؐ نے حضرت فاطمہ کو اس ذہنی الجھن میں دیکھا تو فرمایا’کوئی حرج نہیں۔ یہاں بس تمہارا باپ اور غلام ہی تو ہے‘۔ ابو داؤد نے اس باب کا نام ہی یہ رکھا ہے کہ’غلام اپنی مالکہ کے بالوں پر نظر ڈالتا ہے‘۔
اسی طرح بخاری اور مسلم کی ایک روایت کے مطابق حضورؐ ایک دفعہ اپنے داماد حضرت علیؓ اور بیٹی حضرت فاطمہؓ کے ہاں رات کو اس وقت تشریف لائے جب وہ دونوں بستر میں جا چکے تھے۔ دونوں نے ایک چھوٹی سی چادر پہنی ہوئی تھی جسے لمبائی کے بل پہنتے تو ان کے پہلو ظاہر ہو جاتے اور جب چوڑائی کے بل پہنتے تو سر اور پاؤں ننگے ہو جاتے۔ حضورؐاسی حالت میں ان کے پاس بیٹھ گئے۔درج بالادونوں روایات سے اس بے تکلفی کے بارے میں بخوبی علم ہو جاتاہے جو اس قریب ترین حلقے میں روا رکھا جاسکتاہے۔تاہم پانچ روایات ایسی ہیں میں جن میں ان کے برعکس مواد موجودہے۔ وہ پانچوں روایات کمزور ہیں ۔ جس کی بنا پر ان سے کوئی حکم اخذنہیں کیا جاسکتا۔ پہلی روایت یہ ہے ’’نبیؐ نے فرمایا کسی عورت کے لئے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو ،جائز نہیں کہ وہ اپنا ہاتھ اس زیادہ کھولے‘‘ ۔ٰیہ کہہ کر آپ نے اپنی کلائی کے کے نصف حصے پرہاتھ رکھا‘‘ یہ روایت بن جریر نے قتادہ نامی تابعی سے نقل کی ہے۔ لیکن یہ معلوم نہیں ہے کہ قتادہ نے یہ کس سے سنی ہے۔ گویا اس حدیث کی روایت میں ایک درمیا نی واسطہ موجود نہیں ہے۔ ایسی حدیث کو مرسل کہتے ہیں جو ضعیف حدیث کی ایک قسم ہے۔ اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس سے کچھ بھی ثابت نہیں ہوتا۔
دوسری روایت یہ ہے " کہ جب عورت بالغ ہو جائے تو اس کے جسم کا کوئی حصہ نظر نہیں آنا چاہیئے،سوائے چہرہ اور کلائی کے جوڑتک کے ہاتھ کے" 
یہ روایت ابو داؤد نے اپنی کتاب مراسیل میں بیان کی ہے خود اس کتاب کے نام سے ظاہر ہے کہ اس میں وہ روایا ت درج ہیں جن کا ایک درمیانی واسطہ چھوٹاہوا ہے۔ پس اس روایت کو بھی بطوردلیل پیش نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ بھی ایک ضعیف روایت ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ پہلی روایت کے مطابق کلائی کے نصف حصے تک کھولنے کی اجازت ہے جب کہ دوسری روایت کے مطابق صرف ہاتھ کے جوڑ تک کھولنے کی اجازت ہے ۔ گویا ان دونوں روایا ت میں تضاد ہے (اس چیز کو محدثین کی اصطلاح میں اختلاف کہتے ہیں)۔اس سے یہ دونوں روایات مزید کمزورہوجاتی ہیں۔
تیسری روایت کے مطابق حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں اپنے بھتیجے عبداللہ بن طفیل کے سامنے زینت کے ساتھ آئی تو نبیؐ نے اس کو ناپسند کیا۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ وہ تو میرا بھتیجا ہے۔ حضورؐنے فرمایا ؛ جب عورت بالغ ہو جائے تو اس کے لئے جائز نہیں کہ اپنے جسم میں سے کچھ ظاہر کرے۔ سوائے چہرے کے اور سوائے اس کے۔ یہ کہہ کر آپؐ نے اپنی کلائی پر اس طرح ہاتھ رکھا کہ آپ کی گرفت کے مقام اور ہتھیلی کے درمیان صرف ایک مٹھی بھر جگہ باقی تھی؛۔ یہ روایت ابن جریرنے نقل کی ہے۔ اور اس کے مطابق ابن جریح نامی ایک صاحب کہتے ہیں کہ حضرت عائشہؓنے یوں کہا۔ حالانکہ ابن جریح اور حضرت عائشہؓکے درمیان وقت کا بہت بڑا فاصلہ ہے۔ گویا اس کی سند میں کم از کم دو کڑیاں درمیان میں موجود نہیں(محدثیں کی اصطلاح میں اسے معضل کہتے ہیں)۔ گویا یہ بھی ایک ضعیف حدیث ہے۔ 
چوتھی روایت کے مطابق حضرت اسماء،جو حضرت عائشہ کی بہن تھیں۔ ایک مرتبہ آپؐ کے سامنے باریک لباس میں حاضر ہوئیں۔ تو حضورؐ نے اپنا منہ دوسری طرف پھیرلیا اور فرمایا؛ ’’اے اسماء جب عورت بالغ ہو جائے تو جائز نہیں کہ اس کے جسم میں سے کچھ دیکھا جائے۔ سوائے اس کے اور اس کے‘‘۔ یہ کہہ کر آپ نے اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کی طرف اشارہ فرمایا۔ یہ روایت ابو داؤد نے نقل کی ہے۔ اور خود ابو داؤد کے مطابق یہ ایک منقطع روایت ہے۔ کیونکہ اس کی سند کے مطابق یہ روایت خالد بن دریک نامی ایک صاحب نے حضرت عائشہ سے سنی ہے حالانکہ محدثین کے مطابق خالد بن ریک کی کبھی حضرت عائشہ سے ملاقات ہی نہیں ہوئی۔ دوسرا یہ کہ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے۔ محدثین کے مطابق وہ ایک ضعیف راوی ہے۔ پس یہ روایت انتہائی ضعیف ہے۔ 
پانچویں روایت کے مطابق ایک دفعہ ایک خاتون حضرت حفصہ،حضرت عائشہؓ کے پاس ایسی حالت میں آئیں کہ ایک باریک دوپٹہ اوڑھے ہوئے تھیں۔ حضرت عائشہ نے اسے پھاڑ دیا اور ایک موٹی اوڑھنی ان پرڈالی۔یہ روایت موطا امام مالک میں نقل ہوئی ہے۔ اور یہ ایک خاتون ام علقمہ نے بیان کی ہے۔ امام ذہبی کے مطابق یہ ایک غیرمعروف خاتون تھی جن کے بارے میں مزید کچھ معلوم نہیں ۔ پس یہ ایک ضعیف روایت ہے۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ درج بالاروایت میں حضورؐ کا کوئی واقعہ نہیں بتایا گیا بلکہ یہ ایک صحابیہ ؓ کا واقعہ ہے۔ جوان کے ذاتی ذوق اور رجحان کا اظہار بھی ہو سکتاہے ۔(محدثین کی اصطلاح میں ایسی روایت کو موقوف کہتے ہیں)
بعض اوقات ایک چھٹی روایت بھی پیش کی جاتی ہے جس کے مطابق حضورؐ نے فرمایا "اللہ کی لعنت ہے ان عورتوں پر جو لباس پہن کر بھی ننگی کی ننگی ہی رہیں " ایسی کسی روایت کا وجود کتب حدیث میں نہیں۔ 
درج بالابحث میں جو دوصحیح احادیث پیش کی گئی ہیں اورا س کے بعد پانچ کمزورروایات پر جو تنقید کی گئی ہے اس کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ ایک خاتون اپنے قریب ترین حلقے (جن کا ذکر سورہ نو رآیت 31-میں آیا ہے) کے سامنے بے تکلفی کے ساتھ آسکتی ہے اور اس ضمن میں اس کے اوپر معروف یعنی عقل عام اور رسم ورواج کے علاوہ کوئی قدغن نہیں ۔ 
اس کے بعد اب ہم دوسرے حلقے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں یعنی وہ حلقہ جس میں دورونزدیک کے رشتہ دار ،دوست گھرانے اور وہ لوگ جن سے معاملات وکاروبار میں تعلق ہو ۔ اس ضمن میں قرآن مجید کے احکام جو سورہ نور آیات ستائیس تا اکتیس (31-27) میں آئے ہیں،ہم بیان کرچکے۔ اب ہم روایات کے حوالے سے مزید بحث کریں گے۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ایک روایت کے مطابق ایک خاتون حضورؐ سے کوئی مسئلہ پوچھنے آئی ۔ وہ خاتون بہت حسین تھی ۔ اس وقت ایک خوبصورت نوجوان فضل ابن عباس بھی حضورؐ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو باربار دیکھنے لگے ۔ اس پر حضورؐ نے فضل کی ٹھوڑی کو پکڑکر دوسری طرف موڑدیا۔
اس روایت سے ایک طرف یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ اس خاتون نے چہرہ نہیں چھپایا ہواتھا۔ دوسری طرف یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ ایک نوجوان سے غض بصر کے معاملے میں کوتاہی ہورہی تھی۔ اس لئے حضورؐ نے ایک بزرگ کی طرح اس کو آداب سکھادئے۔
ایک اور روایت کے مطابق جوصحیح مسلم کے علاوہ دوسری کتب حدیث میں بھی آئی ہے حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ میں حضورؐ کے پاس عید کے دن صلواۃ عید میں حاضر تھا مردوں کونصیحت کرنے کے بعد آپؐ خواتین کی طرف گئے اور ان کو بھی نصیحت کی ۔اس نصیحت سے متاثرہوکر ایک خاتون کارنگ پھیکا اور سیاہ پڑگیا اور اس نے اس نصیحت کے متعلق سوال پوچھا۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت وہاں بیٹھی خواتین نے چہرہ نہیں چھپایا ہواتھا۔ اسی لئے حضرت جابرؓ نے ایک خاتون رخساروں کے رنگ کی تبدیلی نوٹ کرلی اور اسے بیان کردیا۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ایک اور وایت کے مطابق ایک عورت حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کرنے لگی کہ آپؐ مجھے اپنی زوجیت میں لے لیں۔ تو رسول اللہ ؐ نے اس کی طرف دیکھا اور نظر اٹھا کر دیر تک اسے دیکھتے رہے ۔ پھر اپنا سر جھکالیا ۔ یہ روایت سہل ابن سعدؓ نے بیان کی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خاتون جب حضورؐ کے پاس آئی تو اس نے چہرہ نہیں چھپایا ہواتھا۔
ابوداؤد کتاب الصوم کی روایت کے مطابق ام ہانیؓ جوحضورؐ کی چچا زاد بہن تھیں بیان کرتی ہیں کہ فتح مکہ کے دن میں حضورؐ کے دائیں طرف بیٹھ گئی اور حضرت فاطمہؓ بائیں طرف اتنے میں ایک خادمہ کوئی مشروب لے آئی۔ میں نے وہ مشروب حضورؐ کی خدمت میں پیش کردیا۔ آپ ؐ نے اس میں سے کچھ پیا اور مجھے پینے کے لئے دیا۔ پھر ہم نے گفتگو شروع کردی ۔ اس روایت سے معلوم ہو تا ہے کہ چچازاد بہن بھائی ،سورۃنور کے آداب کے مطابق ایک محفل میں بغیرچہرہ چھپائے بیٹھ سکتے ہیں باتیں کرسکتے ہیں اورکھاپی بھی سکتے ہیں۔
ابوداؤد ۔کتاب اللباس کی روایت کے مطابق حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ جب سورہ نور نازل ہوئی تو سب عورتوں نے فوراًاپنے لئے دوپٹے (خمار)بنالئے اور اگلی صبح جتنی عورتیں فجر کی نماز کے لئے مسجد میں حاضر ہوئیں ،سب دوپٹے اوڑھے ہوئے تھیں۔ اس روایت میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ ان خواتین نے جلباب یعنی کپڑوں کے اوپر لمبی چادر نہیں لی تھی بلکہ انہوں نے سینوں پر دوپٹے ڈالے ہوئے تھے۔ اس لئے کہ وہ ایک محفوظ مقام (بیت غیرمسکونہ)میں تھیں۔
صحیح بخاری کتاب الصلوۃ ،صحیح مسلم اور دوسری کتب حدیث کی ایک روایت کے مطابق حبش کا ایک وفد مدینہ آیا تھا ۔ اس وفدکی آمد سات ہجری میں ہو ئی تھی۔ عید کے دن اس میں شامل حبشیوں نے تماشہ دکھایا تھا ۔ حضورؐ وہ کھیل حضرت عائشہ کو بھی دکھایا۔ 
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ سور ہ نور کی آداب کے تحت خواتین مردکھلاڑیوں کو دیکھ سکتی ہیں اور ان کے کھیل سے لطف اندوز ہوسکتی ہیں۔ 
ترمذی اورکئی دوسری کتب حدیث کی ایک روایت کے مطابق حضرت مغیرہ بن شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت کونکاح کاپیغام دیا ۔نبی ؐ نے مجھ سے فرمایا "اس کو دیکھ لو کیونکہ یہ تم دونوں کے درمیان محبت واتفاق پیداکرنے کے لئے مناسب ہوگا۔" 
اسی طرح صحیح مسلم ،نسائی اور کئی دوسری کتب حدیث کی ایک روایت کے مطابق حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں حضورؐ کے پاس بیٹھاہواتھا ۔ ایک شحص نے حاضر ہو کر کہا کہ میں نے ایک انصاری عورت سے نکاح کا ارادہ کیا ہے۔ حضورؐ نے پوچھا:کیا تو نے اسے دیکھا ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا؛جا اور اس کو دیکھ لے کیونکہ انصارکی آنکھوں میں عموماًکچھ عیب ہوتا ہے ''
ابو داؤد کتاب النکاح کی روایت کے مطابق حضرت جابربن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول ا للہؐ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو نکاح کا پیغام دے تو حتی الامکان اسے دیکھ لینا چاہیئے کہ آیا اس میں کوئی ایسی چیز ہے جو اس آدمی کو اس عورت کے ساتھ نکاح کی رغبت دلانے والی ہو " ۔
درج بالا روایات پر عمل صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ایک ایسی سوسائٹی موجود ہو جس میں مرد عورت کے اختلاط کے بارے میں سورہ نور کی ہدایت پر عمل کیا جا رہا ہو۔ اور اس کے ساتھ ساتھ دور ونزدیک کے رشتہ دار اور خاندانی دوستوں کے مرد وخواتین ایک دوسرے سے چہرہ نہ چھپاتے ہوں۔ نیز پبلک مقامات پر بھی چہرے چھپانے کا رواج نہ ہو۔ ورنہ جس معاشرے میں خاتون کا چہرہ چھپانا ہی اصل معیار ٹھہرے وہاں یہ ناممکن ہے کہ کوئی مرد کسی دوسرے مرد کے پاس جا کر کہے کہ میںآپ کی بیٹی یا بہن سے شادی کا خواہش مند ہوں۔ اس لئے براہ کرم اس سے میری ملاقات کا بندوبست کیجئے تا کہ میں دیکھ سکوں کہ وہ میرے معیار کے مطابق ہے یا نہیں۔ واضح رہے کہ دوسرا مرد یہ بھی جانتا ہو کہ ممکن ہے اس کی بہن یا بیٹی کو اچھی طرح دیکھ لینے کے بعد شادی کا کوئی پیغام بھجوایا ہی نہ جائے۔