باب دوم

خواتین کے حوالے سے یہ اسلام کاوہ پہلو ہے جو سب سے زیادہ افراط وتفریط ،غلط فہمیوں اور پیچیدگیوں کا شکار ہے۔ بسااوقات اسلام کے احکام کوکسی خاص معاشرے کے رسم ورواج کے ساتھ خلط ملط کردیاجاتا ہے۔ چنانچہ یہ ضروری ہے کہ اس ضمن میں قرآن وحدیث کے احکام کو اپنی خالص شکل میں سامنے لایا جائے۔ تاکہ جو اسے دلیل کے ساتھ مانناچاہے ، وہ صدق دل کے ساتھ مانے اور جو اسے رد کرنا چاہے ،اسے یہ معلوم ہو کہ وہ کیا چیزرد کررہاہے۔
اس باب میں پہلے ہم اپنا موقف بیان کریں گے اور اس کے بعد موجودہ زمانے کی دو بہت بڑی علمی ہستیوں کے نقطہ نظر کاجائزہ لیا جائے گا؛ تاکہ یہ موضوع مثبت اور منفی دونوں صورتوں میں واضح طور پرسامنے آسکے۔ 
اسلام کا تصور معاشرت کے ضمن میں سب سے اہم معاملہ یہ ہے کہ سوسائٹی کی بنیاد خاندان ہے۔ یہ خاندان شوہر اور بیوی کے پاکیزہ اور محبت سے بھرپور رشتے سے وجود میں آتاہے۔ اس رشتہ کی حفاظت کے لئے یہ ضروری ہے کہ شادی سے پہلے بھی مرد و عورت ناجائز تعلق سے پرہیذکریں اور شادی کے بعد بھی جنسی تعلق صرف میاں بیوی کے درمیان ہو ۔ اس طرح یہ رشتہ شکست و ریخت سے عام طور پرمحفوظ رہے گا اور پوری سوسائٹی مضبوط بنیادوں پرقائم ہوگی۔ ان تمام امور پرتفصیلی بحث اگلے باب " اسلام کا تصور خاندان" میں آئے گی۔
میاں بیوی کی رشتے کی حفاظت کے لیے اسلام نے ناجائزتعلق کے قریب پھٹکنے سے بھی اہل ایمان کو منع کردیاہے۔ اسلام کے ابتدائی دور میں یہ ہدایت مسلمانوں کو دی گئی: 

وَلَاتَقْرَبُوْ الِزّنیٰٓ اِنَّہ کَانَ فَاحِشَۃً وَسَآءَ سَبِیْلًا۔ (بنی اسرائیل 17- ،آیت 32- )
" خبردار ! زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کیو ں کہ وہ بڑی بے حیائی ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے۔"

چنانچہ اس اصول کے تحت پروردگار نے سوسائٹی میں مردوں اور عورتوں کے آپس میں تعلق کے ضمن میں ایسے آداب مقرر کردئے جس سے ایک طرف جنسی طور پر آزادانہ اور اخلاق باختہ معاشرہ بھی نہبننے پائے اور دوسری طرف معاشرے کی ضروریات اور سوشل زندگی کی دلچسپیوں کا خیال رکھا جائے اور خواتین پر بے جا پابندیاں بھی نہ لگائی جائیں۔ چنانچہ مردوں اور عورتوں کے آپس میں میل جول کے لئے اسلام نے کچھ آداب مقرر کئے ہیں انہی آداب کو اسلام کا تصور حجاب کہاجاتاہے۔
کسی بھی خاتون کے اعتبار سے تمام مردوں کو تین حلقوں میں تقسیم کیا جاسکتاہے۔ پہلاحلقہ قریب ترین رشتہ داروں کا ہے جن سے کسی خاتون کا ہر وقت بے تکلفانہ میل جول ہو تا ہے۔ مثلاًشوہر، بیٹے ،بیٹیا ں ،بھائی ،باپ ،خسر،دادا،نانا،چچا،بھتیجا،بھانجا وغیرہ وغیرہ
دوسرا حلقہ ان رشتہ دارخاندانوں اوردوستانہ تعلق رکھنے والے خاندان کاہے جن سے غمی شادی اور سوشل تعلقات میں میل ملاقات کی ضرورت اکثروبیشتر پڑتی ہے۔ گویا اس میں دورونزدیک کے وہ سب رشتہ دار اور دوست گھرانے آجاتے ہیں جن سے کوئی گھرانہ اپناخاندانی تعلق رکھناچاہتا ہو۔ ایک خاتون کے لئے اس میں وہ مرد بھی شامل ہیں جن سے اس کا دینوی معاملات وکاروبار میں تعلق ہو۔مثلاً کسی دفتر یاادارے میں اکٹھے کام کرنے والے ملازمین ،استاد شاگرد ، کلاس فیلو ،بعض قریبی ہمسائے،ڈاکٹر،ایک ہی گاڑی یاجہاز میں سفرکرنے والے ،گھریلو ملازم وغیرہ ۔تیسرا حلقہ ان مردوں کا ہے جن سے کسی خاتون کا عام حالات میں کوئی تعلق نہ بنتاہو۔
جگہوں کے حوالے سے بھی ایک خاتون کیلئے تین حلقے بن جاتے ہیں ۔ سب سے مرکزی حلقہ اس کا اپنا گھر اور اس کے بیٹوں ،بیٹیوں ،باپ ،دادا ،خسر،چچا،بھتیجے اور بھانجے وغیرہ کا گھر ہے۔ دوسرے حلقے میں اس کے باقی رشتہ دار خاندانوں اور خاندانی دوستوں کے گھر اور اور وہ جگہیں بھی شامل ہیں جہاں کسی خاتون کو کام کرنا پڑتاہو،مثلاًتعلیمی ادارہ ،کاروباری ادارہ ، ہسپتال ،ہوٹل ،ریسٹورانٹ،گاڑی، جہاز،وغیرہ۔ تیسرا حلقہ ان جگہوں کا ہے جو کسی خاتون کے لیے نئی ،انجانی اور غیرمحفوظ ہوں۔
ان تمام کیٹیگریزاور حلقوں کے لئے اسلام نے ایسے معقول آداب سکھائے ہیں جن سے ایک طرف کسی خاتون کی زندگی میں کوئی رکاوٹ پیدانہ ہو اور دوسری طرف معاشرہ بدکاری سے محفوظ رہے۔ چنانچہ پہلے ہم مردوں کے حلقوں کے حوالے سے قرآن مجید کی ہدایت بیان کریں گے۔ وہ ہدایت یہ ہے کہ ایک خاتون کے لیے اپنے قریب ترین حلقے یعنی شوہر ،باپ،بیٹے وغیرہ کے ضمن میں کوئی پابندی نہیں ہیں۔ وہ ان کے سامنے معروف کے مطابق عام بے تکلفانہ لباس میں آسکتی ہے۔ وہ ان کے سامنے پورے میک اپ میں آسکتی ہے۔اس میں اگر کوئی آداب ہو سکتے ہیں تو عقل عام اور فطری حیا کی بنیاد پرہیں۔قرآن مجید میں سورۃ نور آیت نمبر31 کا ایک ٹکڑادرج زیل ہے۔(اس آیت کے بقیہ حصے کو ہم بعد میں نقل کریں گے)

وَلَایُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّالِبُعُوُلَتِھِنَّ اَوْاَبْآ ءآھنَّ اَوْاَبَآءِ بُعُوُلَتِھِنَّ اَوَ اَبْنَآءِھِنَّ اَوْاَبْنآءِ بُعُوُلَتِھِنَّ اَوْاِخْوَانِھِنَّ اَوْبَنِیْ اِخْوَانِھِنَّ اوبَنِی اَخْوٰتِھِنَّ اونِسَآءِھنَّ اَوْمَامَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ اَوْتّٰبِعِیْنَ غَیْرِاُولِی الْاِرْبَۃِ مِنَ الّرِجَالِ اَوِالِطّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْھَرُواعَلیٰ عَوْرٰتِ النِسآءِ (نور24- ،آیت31-)
" خواتین ان لوگوں کے سامنے اپنابناؤسنگھار ظاہر کرسکتی ہیں۔شوہر،باپ(اورددھیال اور ننہیال کے دوسرے بزرگ) ،شوہروں کے باپ (اور شوہرکی ددھیال اور ننہیال کے دوسرے بزرگ)، اپنے بیٹے ،شوہروں کے بیٹے (اورپوتے ونواسے)،بھائی اور بھائیوں کے بیٹے (اورپوتے و نواسے) بہنوں کے بیٹے (اورپوتے ونواسے) ،اپنے میل جول کی عورتیں ،اپنے مملوک ،وہ زیردست مرد جوکسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہو۔اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوں۔"

درج بالاآیت میں غلاموں کا ذکربھی آیاہے۔اسی کتاب میں ہم آگے چل کر بتائیں گے کہ کنیزوں اور غلاموں کے متعلق اسلام کااصل نقطہ نظرکیاہے۔ اس کے علاوہ اس میں " وہ زیردست مرد جوکسی اورقسم کی غرض نہ رکھتے ہوں" بھی آیاہے۔ اس کامطلب وہ گھریلو ملازمین ہیں جوکسی گھرانے یاخاتون کے اتنے زیادہ تابع ہوں کہ اس سے کسی جنسی تعلق کاخیال دل میں لا ہی نہ سکتے ہوں۔
جیسا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں یہ گھریلوملازمین والی کیٹیگری نسبتاً غیرواضح ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید ایسے مقامات پردانستہ طورپر ایسے الفاظ استعمال کرتاہے جن کے معنی میں وسعت ہو تاکہ مختلف حالات میں ان پرعمل کرنے میں کسی کو پریشانی نہ ہو۔
جن اوقات میں میاں بیوی تخلیئے میں ہوں۔ان میں باقی سب لوگوں کو چاہیئے کہ ان کے کمرے میں آتے وقت اجازت لیں۔ ارشاد ہے۔

یٰاآیھاالذین اٰمنوالیستاذنکمالذین ملکت ایمانکم والذین لم یبلغواالحلم منکم ثلٰثَ مرتٍ من قبل صلٰوہ الفجروحین تضعون ثیابکم من الظھیرہ ومن بعدصلوٰۃ العشاء ثلٰث بکم عورٰت لکم لیس علیکم ولاعلیھم جناح بعد ھن طوّٰفون علیکم بعضکم علیٰ بعضٍ کذٰلک یبین اللہ لکم الاٰیٰت واللہ علیم حیکیم۔ واذا بلغ الاطفال منکم الحلم فلیستاذنواکمااستاذن الذین من قبلھم کذٰلک یبین اللہ لکم اٰیٰتہ واللہ علیم حکیم۔(سورہ نور24, ،آیات58-57)
’’ اے لوگوں جوایمان لائے ہو،لازم ہے کہ تمہارے زیردست اورتمہارے وہ بچے جوابھی عقل کی حد کونہیں پہنچے ہیں ، تین اوقات میں اجازت لے کرتمہارے پاس آیاکریں۔ صبح کی نماز سے پہلے اوردوپہر کوجب کہ تم کپڑے اتارکررکھ دیتے ہو اورعشاء کی نماز کے بعد۔ یہ تین وقت تمہارے لئے پردے کے وقت ہیں۔ ان کے بعدوہ بلااجازت آئیں تونہ تم پرکوئی گناہ ہے نہ ان پر۔ تمہیں ایک دوسرے کے پاس باربارآناہی ہوتاہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اپنے ارشادات کی توضیح کرتاہے اوروہ علیم حکیم ہے۔ اورجب تمہاے بچے عقل کی حدتک پہنچ جائیں توچاہیئے کہ اسی طرح اجازت لے کرآیاکریں جس طرح ان کے بڑے اجازت لیتے ہیں۔ اس طرح اللہ تمہارے سامنے اپنی آیات کی وضاحت کرتاہے اوروہ علیم وحکیم ہے۔

اس کے بعد دوسرے حلقے کی بات آ جاتی ہے جوقریب ترین حلقے سے تو باہر ہوتاہے لیکن جس سے رشتہ داری،خاندانی دوستی یاکاروباری تعلق کی بنا ء پر میل جول ہوتی رہتی ہے۔ ظاہرہے کہ ایسے لوگوں کے درمیان ملاقات عام طورپر یاگھرمیں ہوگی یاکسی پبلک جگہ پر ۔ جب اس حلقے کاکوئی مرد یاعورت کسی دوسرے مرد یا عورت سے ملاقات کے لئے اس کے گھر جائے تو پہلے دروازے پر کھڑے ہو کر اپناتعارف کروائے۔ اندر آنے کی اجازت طلب کرے ۔جب اسے اندر آنے کی اجازت دی جائے تب وہ اندر آجائے۔ ایسے موقعہ پرتمام مردوں کو چاہیئے کہ وہ باحیا مہذب لباس پہنے ہوئے ہوں اور ان کی آنکھوں اور چال ڈھال میں حیا ہو۔ ایسے ہی موقعہ پر خواتین کوبھی چاہیئے کہ وہ بھی باحیا مہذب لباس پہنے ہوئے ہوں ۔ ان کی آنکھوں اور چال ڈھال میں حیاہو۔ اگر اس وقت انہوں نے بناؤ سنگھار کے لئے کچھ زیور وغیرہ پہن رکھا ہو ،تو اس کی نمائش نہ کریں بلکہ اسے چھپا ئیں ۔ البتہ جس زیوریامیک اپ چھپانے میں مشکل ہو وہ ظاہر ہوجائیں تو کوئی مضائقہ نہیں ۔ایسے موقع پر خواتین کو چاہیئے کہ اپنے گریبانو ں کو دوپٹے سے چھپائے۔بوڑھی خواتین کے لئے دوپٹہ اوڑھنے کی ضرورت نہیں اوراگر انہوں نے کوئی بجنے والا زیور مثلاً پازیب پہناہواہو تو پھر وہ چلنے میں بھی احتیاط سے کام لیں ۔زورزور سے زمین پرپاؤں مارتی ہوئی نہ چلیں کہ لوگ ان کی طرف متوجہ ہوں۔
گویا ان ہدایات کا اصل مقصد یہ ہے کہ اس دوسرے حلقے کے رشتہ دارو خواتین ، مرد جب آپس میں اکٹھے ہوں، ملاقات اور گفتگوکریں تومہذب دائرے میں رہیں۔ ایک دوسرے کو جنسی طورپرکھینچنے کی کوشش نہ کریں۔ 
کوئی بھی گھرانہ کسی بھی معذورفرد مثلاًکسی لنگڑے یا مریض کو اپنے گھر کا فرد بنا کر اس سے بالکل گھروالا برتاؤ کرسکتاہے۔
درج بالامہذب دائرے میں رہ کر یہ سب خواتین و مرد چاہیں تواکٹھے کھانابھی کھاسکتے ہیں ۔ گویا ضروری آداب کے سا تھ وہ تمام سوشل اورتفریحی سرگرمیوں سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ ان پر ایسی کوئی بے جا پابندیاں نہیں ہیں جو ان کی مثبت تفریح کے راستے میں رکاوٹ بنیں۔پبلک مقامات پرداخلے کے لئے تعارف و اجازت کی چنداں ضرورت نہیں۔(اگر اس ادارے کے لئے خصوصی آداب ہوں تو یہ الگ بات ہے )۔ ان جگہوں میں بھی جب مرد و خواتین آپس میں ملیں توان آداب کا خیال رکھیں جن کا ذکر اوپر کیاگیاہے۔ 
اب آئیے اس دوسرے حلقے کے بارے میں قرآن مجید کے ارشادات پر غوروفکر کریں۔ ارشاد ہے۔ 

یٰاایھُّاالذِیْنَ اٰمَنُوْلَاتَدْخُلُوابُیُوتاً غَیْربُیُوتِکُمُ حَتیّٰ تَسْتاْنَسُواوَتُسَلِّمُوا عَلَیٰٓ اَھْلَھَا، ذَلِکُمْ خَیْروُ‘ لَّکُم لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ ۔ فَاِنَّ لَمْ تَجِدُوافِیھَآ اَحَدًا فَلَاتَدْخُلُوھَا حتٰی یوُء ذَنََ لَکُمْ وَاِنْ قِیْلَ لَکُمْ ارْجِعُوْفَارْجِعُوْا ھُوَاَزْکیٰ لَکُمْ وَاللّٰہ بِمَاتَعْمَلُوْنَ عَلِیمْ۔ لیَسَ علَیکُمُ جنَاحٌ اَنْ تَدْ خُلُوا بُیُوتاًغَیْرَمَسْکُونَۃٍ فیھَامَتَاعُ لَکُمُ وَاللّٰہ یَعْلمُ مَاتُبْدُون وَمَا تَکْتُمُون۔ قُلْ لِلْمُؤمِنِینَ یَغُضُّوا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَیَحْفَظُوْا فُروُجَھُمْ ذَالِکَ اَزْکیٰ لَھُمْ اِنَّ اللّٰہ خَبَِیرٌُ بِمَا یَصْنَعُونْ۔ وَقُلْ لِلْمُؤمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَاَرِھِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَھُنَّ وَلَایُبْدِیْنَ زِیْنَتُھُنَّ اِلاّمَاظَھْرَمِنْھَاوَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھْنَ عَلَیٰ جُیُوبِھنَّ وَلَایُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّالِبُعُوُلَتِھِنَّ اَوْاَبْآ ءآھنَّ اَوْاَبَآءِ بُعُوُلَتِھِنَّ اَوَ اَبْنَآءِھِنَّ اَوْاَبْنآءِ بُعُوُلَتِھِنَّ اَوْاِخْوَانِھِنَّ اَوْبَنِیْ اِخْوَانِھِنَّ اوبَنِی اَخْوٰتِھِنَّ اونِسَآءِھنَّ اَوْمَامَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ اَوْتّٰبِعِیْنَ غَیْرِاُولِی الْاِرْبَۃِ مِنَ الّرِجَالِ اَوِالِطّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْھَرُواعَلیٰ عَوْرٰتِ النِسآءِ (نور 24- ،آیات 31-27)
" اے ایمان والو (مرد اور عورتو) اپنے گھروں کے سوا دوسروں گھروں میں ا س وقت تک داخل نہ ہو جب تک کہ تعارف نہ پیداکر لو، گھروالوں کی رضانہ لے لو اور گھر والوں کو سلام نہ کرلو۔ یہ طریقہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ توقع ہے کہ تم اس کا خیال رکھو گے ۔ پھر اگر تم ان گھروں میں کسی کو نہ پاؤ تو ان میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک تمہیں اجازت نہ ملے۔ اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس چلے جاؤ تو واپس ہوجاؤ۔ یہی طریقہ تمہارے لئے زیادہ پاکیزہ ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ اسے خوب جانتاہے۔ اور غیررہائشی مکانوں (پبلک اداروں )میں داخل ہونے میں تمہارے لئے کوئی ہرج نہیں جن میں تمہار ے لئے کوئی منفعت ہے۔ اللہ جانتاہے جوکچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو۔" 
" اے نبیؐ (ایسے موقع پر)مومن مردوں سے کہہ دو کہ ان کی آنکھوں میں حیا ہو اور اپنی شرمگاہوں کی پردہ پوشی کریں ۔یہ طریقہ ان کیلئے پاکیزہ ہے ۔جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبررہتاہے۔" 
" اے نبیؐ (ایسے موقع )مومن عورتوں سے کہہ دو کہ ان کی آنکھوں میں حیاہو اور اپنی شرمگاہوں کی پردہ پوشی کریں اور اپنا بناؤ سنگھار ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو خودظاہر ہوجائے اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔اور عورتیں اپنے پاؤں زمین پر مار کر نہ چلیں کہ ان کی مخفی زینت ظاہر نہ ہو۔اے ایمان والو سب مل کراللہ کی طرف رجوع کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔"

یہ آیات بہت واضح ہیں ۔تاہم ان کے چند الفاظ ومحاورات پر مزید غوروفکر مناسب ہے۔ اس میں "تشأنسو" کے لفظ کامطلب ہے متعارف اور مانوس ہوجانا۔ یعنی پہلے دروازے پر کھڑے ہوکر اپنا تعارف کروائیے۔سلام بھیجئے اورآنے کی اجازت مانگئے۔
"بیوت" کامطلب وہ رہائشی مکانات ہیں جن میں کسی کے بیوی بچے رہتے ہوں۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ نزول قرآن کے وقت گھروں کو ساتھ مردانہ بیٹھکیں (Drawing Rooms) نہیں ہواکرتی تھیں۔گویا جب کسی کو گھر کے اندرآنے کی اجازت دے دی گئی۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مہمان مرد وزن میزبان مردوزن کو دیکھ لیں گے۔ 
"بیوت غیرمسکونہ " کامطلب غیررہائشی جگہیں مثلاً دکان ،سرائے ،ہوٹل ہسپتال ،تعلیمی ادارہ ،دفتراور خالصتاًمردانہ ڈرائنگ روم وغیرہ ہیں۔
آگے ایک اورمحاورہ آیا ہے ۔ " یحفظو فروجھم" اس کے معنی ہیں اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنا محاورے کے اعتبار سے اس کا مطلب یہ ہے کہ لباس مہذب ،باقرینہ اور ستر کی صحیح حفاظت کرنے والاہو۔
یہ دومحاورے مردوں اورعورتوں دونوں کے لئے آئے ہیں۔
آگے خواتین کے حوالے سے "زینت" کالفظ آیاہے۔ زینت اس چیز کو کہتے ہیں جوبدن کے اوپر آرایش وزیبایش کے لئے پہنی جاتی ہے۔ مثلاً زیوریاکپڑوں کے اوپر کیا جانے والا کام۔ یہاں یہ ہدایت آئی ہے کہ جب کسی جگہ مرد وخواتین اکھٹے ہوں توعورتیں اپنی زینتیں نہ دکھائیں۔یعنی ان کی نمائش نہ کرتی پھریں ۔مگر اس میں آگے ایک استثناء بیان کیا گیاہے "الاماظہرمنھا" کے الفاظ سے۔ اس کے لفظی معنی ہیں "مگر جوکھلی چیز ہے اس میں سے" اس کو مزید بامحاورہ بنائیے تو معنی بنیں گے۔"مگر جوکچھ اس آرایش وزیبایش میں سے ظاہر ہو" تھوڑے سے غوروفکر کے بعد یہ معلوم ہو تاہے کہ اس فقرے میں ایک اجمال ہے ۔ قرآن مجید پروردگار کا براہ راست کلام ہے۔ پروردگار نے اس قرآن میں جہاں جو لفظ بھی استعمال کیا ہے انسانوں کی ہدایت کے لئے اس سے بہتر لفظ ومحاورہ استعمال کرنا ممکن نہیں تھا۔اگرقرآن مجید کسی جگہ کوئی مجمل لفظ یا فقرہ استعمال کرتاہے تووہ جان بوجھ کر ایسا کرتاہے۔ تاکہ اس حکم میں ایک رعایت ،نرمی ،ڈھیل اور تحفیف رہے۔ اور مختلف حالات میں مختلف ذوق ،رجحان اور افتاد طبع رکھنے والے لوگ اس پرعمل کرسکیں اور کسی پر کوئی تنگی نہ رہے۔ اس معاملے میں ہر خاتون کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کے جس مفہوم پر چاہے عمل کرے۔مثلاً حضرت ابن عباسؓ اور بڑی تعداد میں فقہا اس ضمن میں اس حد تک رخصت کے قائل ہیں کہ ان کے خیال میں کوئی خاتون چہرے اور ہاتھوں کو پورے میک اپ اورزیورات کے ساتھ کھلارکھ سکتی ہے۔ دوسری طرف حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اس حد تک سختی کے قائل ہیں کہ ان کے خیال میں ،الاماظھر منھا ، سے مراد صرف وہ چادر ہے جو خواتین کو اپنے باقی لباس پرپہنناچاہیئے۔ درمیان کی ایک رائے یہ بھی ہوسکتی ہے کہ خواتین عام طور پر دوسرے مردوں کے سامنے گہرے میک اور زیورات وغیرہ کے ساتھ نہیں آنا چاہیئے ۔ تاہم ایسے مواقع بھی ہوسکتے ہیں جب گہرا میک اپ کرنا اور زیور پہننا کسی خاتون کے لئے ضروری ہوجائیں۔مثلاً اسے شادی بیاہ میں یا کسی فنکشن میں جانا ہے اور راستے میں اسے کسی کے ہاں ٹھہرنا بھی ہے یا کسی دفتر میں کو ئی کام ہے ۔یہ رخصت شاید ایسے ہی حالات کے لئے آئی ہے۔
آگے ایک اور فقرہ ایاہے۔ " وَلیَضربن بِخمرھنَّ عَلیٰ جیوبھنَّ " اس کا لفظی ترجمہ یہ ہو گا۔ " اور ڈال لیں اپنی اوڑھنی اپنے سینوں پر " گویا خمر وہ اضافی کپڑا ہے یا دوپٹہ ہے جسے خواتین کپڑوں کے اوپر پہنتی ہیں تاکہ جسم کے مختلف ابھار اور خطوط نمایا ں نہ ہوں۔یہاں قرآن مجید کی ہدایت یہ ہے کہ اس خمر سے سینہ چھپایا جائے ۔یہاں یہ سوال پیداہو تا ہے کہ کیا اس خمر سے سر چھپانا بھی لازم ہے یا نہیں ۔حضورؐ کے زمانے میں عربوں کے ہاں جو عام تہذیب تھی اس کے مطابق شریف گھرانوں کے خواتین اس اوڑھنی سے سرڈھانپتی تھیں۔چنانچہ عام رائے یہی ہے کہ مسلم خواتین کو سربھی ڈھانپناچاہئیے۔احتیاط کا تقاضا بھی یہ ہے اور یہ مسلم تہذیب کی ایک علامت بھی بن چکی ہے۔
تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن مجید میں صراحت کے ساتھ سرڈھانپنے کا ذکر نہیں ہوا اگر قرآن مجید سر ڈھانپنے کوبھی شریعت کالازمی حصہ قرار دینا چاہتا توشایداس مفہوم کی کوئی آیت نازل ہوتی کہ " خواتین اپناخمر اپنے سر اور سینے دونو ں پر ڈالے رکھیں" گویاسرکاڈھانپنا پسندیدہ ہے۔ معروف میں سے ہے تاہم شریعت کی طرف سے لازم نہیں۔ (ان تمام مسائل کے ضمن میں جتنی روایات بیان کی جاتی ہیں ان پر بحث آگے آئے گی۔)
اس کے بعد ان آیات میں آگے ایک اور فقرہ آتاہے۔ " ولایضربن بارجلھن لیعلم مایخضین من زینتھن" " اور عورتیں اپنے پاؤں زمین پر مارکرنہ چلیں کہ ان کی مخفی زینت ظاہر ہو" اس کا مطلب یہ ہے کہ محفی زینت کی نمائش بھی نہیں ہونی چاہیئے۔ ایک خاتون کو مردوں کے سامنے ایسی باوقار چال سے چلنا چاہیئے جس میں کوئی بے باکی وبے حیائی نہ ہو ۔ اپنی چال ڈھال ایسی نہیں رکھنی چا ہیئے جس سے یہ تاثر ملے کہ وہ اپنے زینت اور بدن کے خطوط کی نمائش پر تلی بیٹھی ہے۔
سورہ نور کی یہ ہدایات (آیات 31-27) جب نازل ہوئیں تو معاشرے میں دو اہم سوالات اٹھے ۔ایک یہ کہ سوسائٹی کے اندر کچھ مستقل بے سہارا اورمعذور لوگ بھی ہوتے ہیں۔ جنہیں بعض لوگ رحم دل لوگ اپنے گھر میں لاکر بسادیتے ہیں اور ان کو دوستوں کے حلقہ میں بھی شمار نہیں کیاجاسکتا ۔ان بے سہارا لوگوں کے بارے میں اسلام کی کیا ہدایت ہے۔ دوسرا یہ کہ جب مردو خواتین آپس میں اکٹھے ہوں توکیاسب اکھٹے کھاناکھاسکتے ہیں۔کیونکہ ایسی جگہیں بھی ہوسکتی ہیں جہاں مرد و اور خواتین کو علیحدہعلیحدہکھانا دینا ممکن نہ ہو۔ چنانچہ قرآن مجید نے آگے ان سوالات کا جواب دیا۔قرآن مجیدکا اسلوب یہ ہے جب وہ اس طرح کے سوالات کا جواب دیتا ہے تویہ بیان کردیتاہے کہ یہ توضیحی آیات ہیں ۔ چنانچہ یہاں بھی قرآن مجید نے بتادیا کہ یہ آیات پچھلے حکم کے نزول کے بعد اٹھنے والے سوالات کی وضاحت کے ضمن میں نازل ہورہی ہیں۔
ان آیات میں یہ وضاحت بیان ہوئی کہ بے سہارا معذور لوگوں کو گھر میں لایاجاسکتاہے۔ وہ گھر کے محرم افرادکی طرح رہ سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ ان کے ساتھ اکٹھے کھانا بھی کھایاجاسکتاہے۔ اس طرح محرم و غیرمحرم رشتہ دار اور دوست خاندان ایک دوسرے کے ہاں بے تکلفی کے ماحول میں سلام کرکے آجاسکتے ہیں اور یہ سب مرداورعورتیں بقیہ ہدایات کومدنظر رکھتے ہوئے اکٹھے کھانابھی کھاسکتے ہیں۔ ارشاد ہے۔ 

لیس عَلی الاعْمٰی حَرِجٌولاعَلَی الْاعرِجِ حرج ولا علی مریض حرجٌولاعلیٰٓ انفسکم اَن تأ کلو من بیُوتکم او بُیُوتِ اٰبآئکم او بُیُوت اُمَّھٰتکم او بیُوُتِ اِخْوانکُم اوبُیوت اخْوٰتِکُم او بُیُوتِ اَعمَامِکُم اوْبُیُوتِ عمّٰتکم اوبیوتِ اخوالکم او بُیُوتِ خٰلٰتِکم او ماملکتم مَفاتحہ‘ او صدیقکم ، لیس علیکم جناحٌ ان تأکلوجمیعاً او اَشْتاتاً ، فاذادخلتم بیوتاً فسلموا علیٰٓ انفسکم تحیۃً من عنداللہِ مبٰرَکۃً طیِّبۃً ، کذلکَ یبیّنُ اللہُ لکم الآیٰتِ لعلکم تعقلقون (سورہ نور 24- ،آیت 61)
" نہ نابینا پر کوئی تنگی ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی تنگی ہے اور نہ مریض پر کوئی تنگی ہے اور نہ خود تمہارے اوپر کوئی تنگی ہے۔ اس بات میں کہ تم اپنے گھروں سے اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یاچچاؤں کے گھروں سے یا اپنی یااپنی پھوپھیوں کی گھروں سے یا اپنے مامؤوں کے گھروں سے یا اپنے خالاؤں کے گھروں سے یااپنے زیر تولیت کے گھروں سے یا اپنے دوستوں کے گھروں سے کھاؤ پیو،خواہ اکٹھے ہو کریا الگ الگ رہ کر۔ بس یہ بات ہے کہ جب گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں کوسلام کرو ۔یہ اللہ کی طرف سے ایک بابرکت اور پاکیزہ دعا ہے۔ اس طرح اللہ تمہارے لئے اپنی آیات کی وضاحت کرتا ہے تاکہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو۔"

اس آیت سے یہ واضح ہوا کہ اسلام سوشل آزادیوں اور معاشرتی روابط کو محدود اور منقطع نہیں کرناچاہتا۔ بلکہ اس کے برعکس وہ چاہتاہے کہ یہ روابط مضبوط ہوں ۔ لوگ ایک دوسرے کے ہاں آئیں جائیں، ملیں جلیں ،کھائیں پئیں ۔انفرادی طورپر بھی اور تقریبات میں اجتماعی طورپربھی۔ پھر اس آیت میں مرد و خواتین اور دوست خاندانوں رشتہ داروں اور دوست خاندانوں کاذکر اکٹھا کردیاگیا۔ تاکہ اس بات کی وضاحت ہو جائے کہ یہ مرد و خواتین اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھا سکتے ہیں۔ظاہر ہے کہ مل بیٹھنے اور کھانا کھانے کے دوران میں حیا کے دائرے کے اندر رہ کر گپ شپ اور مثبت تفریحی گفتگو بھی کی جاسکتی ہے۔
یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتاہے۔ وہ یہ کہ نکاح کی عمر سے گزرجانے والی اور بوڑھی خواتین کو تو عموماًً بدکاری کاخطرہ درپیش نہیں ہوتا۔توکیا ان پر بھی ایسی ہی پابندیاں ہیں جیسی عام خواتین پر ہیں یا ان میں کچھ تحفیف ہے؟ اس کی وضاحت میں یہ ہدایت نازل ہوئی کہ زینت کی نمائش تووہ بھی نہ کریں۔ البتہ اگروہ اوڑھنی یا دوپٹے کا اہتمام نہ کریں تو کوئی ہرج نہیں۔اگرچہ پسندیدہ بات یہی ہے۔ کہ وہ بھی اس احتیاط کو ملحوظ رکھیں جو عام خواتین کے لئے بیان ہوئی۔
ارشاد ہے۔

وَالْقَوَاعِدُ مِن النساءِ الیٰتی لَایَرْجُونَ نِکَاحًا فلیس علیھن جناحُ‘ ان یَّضَعْنَ ثِیابَھُنَّ غَیرُمتبرِّجٰت بزِیْنۃٍ واَنْ یَّسْتَعَفْفْنَ خَیْرٌلَھُنَّ وَاللّٰہُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ۔(سورۃ نور24- ،آیت 60)
"اور عورتوں میں سے بڑی بوڑھیاں جواب نکاح کی امید نہیں رکھتی ہیں۔اگر اپنے دوپٹے اتاریں تو اس میں کوئی ہرج نہیں۔ بشرط یہ کہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں؛اوریہ بات کہ وہ بھی احتیاط کریں ان کے لئے بہتر ہے ۔ اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔"

اس دوسرے حلقے میں مرد و خواتین کے میل جول کے آداب کو قرآن مجید نے اتنی تفصیل سے اس لئے بیان کیا کہ اپنے قریب ترین حلقے کے بعد اسی حلقے میں مردوں و خواتین کو کام پیش آتے ہیں۔ان میں جہاں دوجمع دو چار کی طرح بات کرنی تھی وہ بھی قرآن مجید نے کردی۔ جہاں وضاحت کرنی تھی وہاں وضاحت کردی ۔جہاں رخصت دینی تھی وہاں رخصت دے دی اور جس بات کو مجمل بیان کرنامناسب تھا اسے مجمل بیان کردیا۔ تاکہ اس کا اتباع کرنے میں امت کے لیے آسانی رہے۔
اس کے بعد تیسرے حلقے کی بات ہے۔یعنی ان مردوں کی بات جن سے کسی خاتون کا کوئیتعلق نہیں بنتا۔ ظاہر ہے کہ ایسے لوگوں سے کسی خاتون کی مڈبھڑگلی بازار یا کسی اجنبی اور نامانوس جگہ میں ہی ہوسکتی ہے۔ اس ضمن میں اسلام نے جو اصول سکھائے ہیں اور قرآن مجید میں کئی مختلف پیرائیوں میں بیان ہوئے ہیں وہ یہ ہیں کہ ہر قسم کی لغوبات سے پرہیز کیاجائے۔ کوئی ایسی حرکت نہ کی جائے جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچے اور کوئی بے حیائی اوربد تہذیبی کاکام نہ کیا جائے۔ہرفرد سے حسن سلوک کیاجائے وغیرہ۔ 
سورۃ مومنون آیت 23میں ارشاد ہے۔

وَالَّذینَ ھُمْ عَنِ الَّغوِ مُعرِضُوْنo
" (اُن مومنوں نے فلاح حاصل کی) جو ہر قسم کے لغو کاموں سے منہ موڑلیتے ہیں۔" 

ایک اور جگہ ارشاد ہے۔

انَّ اللّٰہَ یاْمرُکُم بِالْعَدلِ وَالْاحْسَانْ ف اِیْتاآئ ذِی الْقُربیٰ وَیَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَلَامُنْکَرِوالبَغْیِ یَعِظُکُم لَعَلّکُم تَذَکَرُوُنْ۔(النحل۱۶۔آیت۹۰)
" اللہ تمہیں عدل کا،ہر بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتاہے اور بے حیائی کے کاموں،ناشائستہ حرکتوں اور ظلم وزیادتی سے روکتاہے۔ وہ خود تمہیں نصیحت کررہاہے تاکہ تمیں یاد دہانی ہو۔

یہ ہدایات مردوں اور عورتوں سب کے لیے ہیں۔حضورؐنے بھی وقتاًفوقتاً ان ہدایات کے مختلف عملی پہلوؤں کی طرف مسلمانوں کی توجہ دلائی۔ مثلاً حضورؐ نے مردوں کو ہدایت کی کہ گلی بازار وغیرہ میں کسی اجنبی خاتون پر ان کی نظر پڑجائے تو ندیدوں اور بے حیا لوگوں کی طرح بارباراس کی طرف نہ دیکھیں ۔ بلکہ اپنے کام سے کام رکھیں اور راہ چلتی خواتین کو اذیت نہ دیں۔ ایک روایت میں آتاہے۔
"حضرت جریرؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ؐ سے پوچھا کہ اچانک نظر پڑجائے توکیا کروں ۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ نظر پھیرلو" (صحیح مسلم ۔کتاب الااداب۔باب نظرالفجاۃ) 
یہ روایت واضح طور پر اسی تیسرے حلقے سے متعلق ہے۔ اسی لئے اس میں نظر الفجاۃ یعنی اچانک نظر پڑنے کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ یہ اجنبی اور راہ چلتی خاتون ہی کیلئے ہو سکتے ہیں۔ اس کے برعکس بیوت مسکونہ وبیوت غیرمسکونہ یعنی دوسرے حلقے کی مردوں و خواتین کے لئے ہدایت " بعض نگاہیں بچانے کی یعنی بے حیائی کی نظر نہ ڈالنے " کی ہدایت ہے۔ 
ایک دوسری روایت میں ہے۔

" حضرت بریدہؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے حضرت علیؓ سے فرمایا۔’اے علی! ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ ڈالو۔ پہلی نظرمعاف ہے مگر دوسری نظر کی اجازت نہیں‘ ۔" (صحیح مسلم ۔کتاب الاداب۔ باب نظرالفجاۃ)

حضورؐ کی یہ ہدایت بھی اجنبی اور راہ چلتی خواتین سے متعلق ہے۔ اس لئے کہ دوسرے حلقے یعنی بیوت مسکونہ وغیرمسکونہ میں تو مردوخواتین کو حیا کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کو کئی باردیکھ کربات کرنے کی فطری ضرورت پیش آسکتی ہے۔
اس طرح حضورؐ نے خواتین کو بھی ہدایت کی کہ وہ حیا کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حیادار لباس پہنیں۔گلی بازار میں ناز نخرے نہ دکھاتی پھیریں۔ 
روایت ہے۔

" رسول اللہ ؐ نے فرمایاکہ جوعورتیں کپڑے پہن کر بھی ننگی ہی رہیں۔دوسروں کو رجھائیں اور خود دوسروں پر ریجھیں اور بختی اونٹ کی طرح ناز سے گردن ٹیڑھی کرکے چلیں ،وہ جنت میں ہر گزداخل نہ ہوں گی اور نہ اس کی بوپائیں گی۔(صحیح مسلم۔کتاب اللباس ولزینتہ)

حجاب کے ضمن میں امہات المومنین کے لئے خصوصی احکام
یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ پروردگار کے رسولوں کے لئے احکام،عام مسلمانوں سے مختلف ہو تے ہیں۔کچھ احکام کے معاملے میں ان پر سختی ہوتی ہے اورکچھ احکام میں انہیں رخصت دی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انہیں کاررسالت کی انجام دہی میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ اسی لئے حضورؐ کے لئے بھی بعض احکام وقوانین باقی لوگوں سے مختلف تھے۔ مثلاً آپؐ کے لئے تہجد کی نماز لازم تھی۔ جبکہ وہ باقی امت کیلئے لازم نہیں۔ اسی طرح حضورؐ کے لئے نکاح وطلاق کے قوانین بھی باقی امت سے مختلف تھے۔
جس طرح حضور ؐ کے لئے نکاح وطلاق کے قوانین باقی لوگوں سے مختلف تھے۔ اسی طرح حضورؐ کی بیویوں کیلئے بھی بعض قوانین باقی لوگوں سے مختلف تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان خاتون کو پروردگار نے یہ ذمہ داری سونپی تھی کہ وہ باقی خواتین کی تعلیم وتربیت کاکام کریں گی۔ اسی ذ مہ د اری کو پوراکرنے کے لیے ان پرکئی ایسی پابندیاں لگائیں گئیں جو باقی خواتین سے مختلف تھیں۔ مثلاً انہیں ہدایت کی گئی کہ وہ عام طورپر اپنے گھروں میں رہیں تاکہ جو خواتین جس وقت بھی کوئی تعلیم وتربیت حاصل کرنا چاہے تو کرسکے۔ ان کے لئے اپنے لباس اور زیور کی شان دوسروں کے سامنے نمایاں کرنے پرپابندی لگائی گئی۔ ان پر یہ پابندی بھی لگائی کہ حضورؐ کی وفات کے بعد وہ دوسری شادی نہیں کرسکتیں اور انہیں عام مسلمانو ں کے لئے مائیں قراردیا گیا۔ 
اس کے علاوہ اس وقت کے حالات کے لحاظ سے بھی ان پر چند اضافی احتیاطی پابندیاں لگائی گئیں مثلاً یہ کہ جب بھی وہ کسی مرد سے گفتگو کریں تو لہجہ میں نرمی اختیار نہ کریں اور صرف کام کی صاف اور سیدھی بات کہیں۔ اس کے علاوہ عام گپ شپ کی گفتگو کسی سے نہ کریں۔ اسی طرح ایک چھوٹے سے دائرے سے باہر لوگوں پر پابندی لگادی گئی کہ وہ حضورؐ کے گھروں میں داخل نہیں ہوسکتے۔ اگر انہیں کوئی چیز مانگنی ہو تو دروازے کے پردے سے باہر کی طرف کھڑے ہو کر مانگا کریں اور اگر کبھی حضورؐ لوگوں کو کھانے پربلائیں تب تو اندر آنے کی اجازت ہے مگر یہ لازم ہے کہ کھانا کھانے کے فوراًبعد چلے جایاکریں ۔ یہ سب احکام سورۃ احزاب میں نازل ہوئے ہیں۔
یہاں یہ سوال پیداہوتاہے کہ حضورؐ کے زمانے میں وہ کون سے حالات تھے جن کی وجہ حضوؐرکی بیویوں پر اور باقی مسلمانوں پریہ اضافی پابندیاں لگائی گئیں ۔ 
جو شخص بھی غور و فکر کے ساتھ سورۃ احزاب کا مطالعہ کرے گا اس کے سامنے وہ حالات بالکل واضح ہو جائیں گے۔ جن کی وجہ سے یہ پابندیاں لگائی گئیں ۔ اس کے بعد صحیح احادیث میں جوکچھ ہم تک پہنچا ہے۔ ان سے اس زمانے کے حالات کی مزید تفصیل سامنے آجاتی ہے۔
وہ حالات یہ تھے کہ ایک زمانے میں مدینہ شہر میں منافقین کی شرارتیں حد سے بڑھ گئی تھیں ۔ حتیٰ کہ وہ ہر وقت حضورؐ کی ذاتی زندگی کے متعلق سکینڈل بنانے کی کوشش کرتے تھے تاکہ آپؐ کی اخلاقی حیثیت مجروح ہو۔ ان اسکینڈلز کا ذکر بھی قرآن مجیدمیں آیاہے۔ اس کوشش میں ان کا ایک طریقہ یہ بھی ہوتاتھا کہ جب حضورؐ گھرتشریف میں فرمانہ ہوتے تھے تویہ منافق کوئی بہانہ کرکے حضورؐ کے گھر آجاتے ۔ امہات المومینین سے بے تکلف ہونے کی کوشش کرتے تاکہ ان کے منہ سے کوئی ایسی بات نکالیں جس سے وہ اسکینڈل بناسکیں اورمسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈال سکیں ۔ چنانچہ اسی کاسدباب قرآن مجید نے کیا۔
حضور ؐکے زمانے میں آپؐ تمام مہمانوں کے ساتھ مسجد میں ملاقات کرتے تھے۔ عام مسلمان بھی وہی حضورؐ سے ملاقات کرتے تھے۔ مسجد سے متصل حضورؐ کی ہر بیوی کا الگ الگ گھرتھا اور مسجد کے کمرے کوصرف ایک پردہ ایک دوسرے سے جداکرتاتھا۔ اس زمانے میں کسی بھی گھر میں مہمانوں کے لئے علیحدہ کمرے یعنی ’ڈرائینگ روم‘ کا رواج نہیں تھا، چنانچہ منافقین نے یہ کا م بھی شروع کیا کہ جب وہ حضور ؐ کے ساتھ محفل میں بیٹھے ہوتے تھے تو وہ پانی پینے کے بہانے سے اٹھتے اوربغیر اجازت کے پردہ اٹھاکر حضورؐ کی بیویوں اور وہاں موجوددوسری خواتین سے پانی یا کھانے کی کوئیچیزمانگتے۔ اس سے اصل مراد ان کی یہ ہوتی تھی کہ اندر کی کچھ باتوں کی سن گن بھی لے لیں اور ازواج مطہرات کو ان کے گھر کے اندر بے تکلفی کے عالم میں دیکھ کر اس کے متعلق اسکینڈلز بناسکیں کیونکہ ظاہر ہے کہ گھر کے اندر خواتین تو ایک بے تکلف لباس میں ہی ملبوس ہوتی ہیں۔ان منافقین کی دیکھادیکھی بعض سادہ لوح مسلمان بھی یہی حرکتیں کرنے لگے۔ چنانچہ پروردگارنے سب لوگوں کو اس بے ہودہ عادت سے روک دیا۔
مناسب ہے اس تمہید کے بعد اب متعلقہ آیات کی تلاوت کی جائے۔

النبی اولیٰ بالمؤمنین من انفسھم وازواجہ‘ اُمَّھٰتُھم ، واُولوا الاَرحام بعضھم اولیٰ ببعضٍ فی کتٰب اللہ من المؤمنین والمھٰجرین الاّ اَنْ تفعلوُآالیٰٓ اولیٰٓءِکم معروفاکان ذلکَ فی الکتٰب مسطوراً۔(6) 
یٰنسآءَ النبَیِّ مَنْ یّاْتِ مِنْکنَّ بِفَاحِشَۃٍ مُبیِنّۃٍ یضعٰفْ لھاالعذاب ضعفین وکان ذلک علی اللہ یسیرًا۔ امن یقنت منکن للہ ورسولہٖ وتعمل صالحا نؤتھآاجرھا مرتین و اعتدنا لھا رزقاً کریماً۔ یٰنسآءَ البنیِّ لستن کا حدٍ من النساءِ ان التقیتن فلاتخضعن بالقول فیطمع الذی جی قلبہٖ مرضُ وقلن قولاً معروفاً۔ وقرن فی بیوتکن ولاتبرجن تبرج الجاحلیۃ الالیٰ واقمن الصلوٰۃ واتین الزکوٰۃ واطعن اللہ ورسولہ انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھرکم تطھیرا۔ واذکرن ما یتلیٰ فی بیوتکن من ایٰت اللہ والحکمۃ ان اللہ کا ن لطیفاً خبیراً۔ (34-30) 
یٰٓاایھاالذین اٰمنوالاتدخلوابیوت النبی الاّان یوذن لکم الیٰ طعامٍ غیر نٰظرین انٰہُ ولٰکن اذا دعیتم فادخلوا فاذا طعمتم فانتشرواولامستاْنسین لحدیثٍ ان ذلکم کان یُؤذی النبیَّ فیستحیٖ منکم واللہ لایستحیٖ من الحق واذاسالتموھن متاعاً فسئلوھن من وَّرآءِ حجاب، ذلکم اطھرلقلوبکم وقلوبھن ان تؤذواورسول اللہ ولاان تنکحوازواجہ من بعدہٖ ابدًا ان ذٰلکم کان عنداللہ عظیما۔ً (53) 
لءِنْ لم ینتہ المنٰمقون والذین فی قلوبہم مرضُ‘ والمرجفون فی المدینۃ لنغرینک بہم ثمَّ لایجاورُنک فیھا الّا قلیلاً۔( 60)
 
" بلاشبہ نبی تو اہل ایمان کے لئے ان کی اپنی ذات پرمقدم ہے اور بنی کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔اور اللہ کے قانون کی رو سے عام مومنین ومہاجرین کی بہ نسبت رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔البتہ اپنے رفیقوں کیساتھ تم کوئی بھلائی کرسکتے ہو۔ یہ حکم کتاب الٰہی میں لکھا ہوا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ نبی کی بیویو تم میں سے جو کسی کھلی بے حیائی کی مرتکب ہوگی تو اسے دوگناعذاب دیاجائے گا۔ یہ بات اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔ اورجوتم میں سے اللہ اور اس کے رسولؐ کی فرمانبردار بنی رہیں گی اور عمل صالح کریں گی ہم ان کو دہرااجردیں گے۔ اور ہم نے ان کے لئے باعزت رزق تیار کر رکھا ہے۔ نبی کی بیویوتم عام عورتوں کی مانند نہیں ہو ۔ اگر اللہ سے ڈرنے والی ہو تو تم لہجہ میں نرمی اختیار نہ کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہے (یعنی منافق) وہ (اپنی سازش میں کامیابی کی )کسی طمع خام میں مبتلا ہوجائے۔ بلکہ بات کیاکرو صاف اور سیدھی طرحَ ۔اپنے گھروں میں ٹک کر رہو۔ اور سابقہ جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔ نماز کااہتمام رکھو اور زکواۃ دیتی رہواور اللہ اور اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرو۔ اللہ تو بس یہ چاہتاہے کہ تم اہل بیت نبی سے گندگی کو دورکرے اور تمہیں پوری طرح پاک کرے ۔ تمہارے گھروں میں اللہ کی آیات اورحکمت کی جو تعلیم ہو تی ہے اس کا چرچا کرو۔ بے شک اللہ نہایت باریک بین اورخبر رکھنے والا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اے ایمان والو،نبی کے گھروں میں داخل نہ ہو مگر یہ کہ تم کو کسی کھانے پر آنے کی اجازت دی جائے۔ نہ کھانے کا وقت تاکتے رہو۔ہا ں اگر تمہیں کھانے پر بلایا جائے تو ضرور آؤ۔ مگر جب کھانا کھا چکو تو منتشر ہو جاؤ ،باتیں کرنے میں نہ لگے رہو۔ یہ باتیں نبیﷺ کے لئے باعث اذیت تھیں مگر وہ تمہارا لحاظ کرتے تھے اور اللہ حق بات کرنے میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا۔ اور جب تم کو ازواج نبی سے کوئی چیز مانگنی ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو۔ یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لئے زیادہ مناسب طریقہ ہے۔ تمہارے لئے یہ ہر گز جائز نہیں کہ اللہ کے رسول کو تکلیف دو۔ اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح کرو ۔ یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑاگناہ ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔ یہ منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے اور جومدینہ میں ہیجان انگیز افواہیں پھیلانے والے ہیں ،اگر اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے ۔تو ہم تم کو ان پر اُکسادیں گے۔ پھروہ تمہارے ساتھ رہنے کابہت ہی کم موقعہ پائیں گے۔" ( احزاب33، آیات 60,53,34-30,6)