اگلاسوال یہ ہے کہ آج کل جس چیز کو ’’حلالہ‘‘ بولتے ہیں ، اس کا کیا مطلب ہے؟
اس کاجواب یہ ہے کہ ’’حلالہ‘‘ کے لفظ کااصل دینی مفہوم تووہی ہے جواوپر بیان کیاگیا۔ لیکن آج کل حلالہ سے جومطلب لیاجاتاہے وہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص عام طورپر غصے کے عالم میں یاکسی بھی وجہ سے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دے دیتاہے اور پھرپشیمان ہوجاتاہے توایک سازش تیار کی جاتی ہے ۔ وہ یہ کہ عورت کا نکاح جعلی طورپر کسی دوسرے فرد کے ساتھ کردیاجاتاہے ۔ پھروہ اس مرد کے ساتھچندراتیں گزارتی ہے۔ اس کے بعد وہ مرداسے طلاق دیتاہے اورعدت کی مدت گزرنے کے بعد سابقہ خاوند اس عورت سے دوبارہ شادی کرلیتاہے۔
ظاہر ہے کہ یہ نکاح نہیں بلکہ ایک سازش ا ورفراڈ ہے۔ کیونکہ نکاح کی اصطلاح صرف اس ازواجی معاہدے کوکہتے ہیں جس میں مرداورعورت ، میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بھراکٹھے رہنے کا ارادہ رکھیں۔ جس رشتے میں یہ ارادہ نہ ہووہ نکاح نہیں ہے بلکہ محض بدکاری ہے۔اسی لئے ابن ماجہ کی ایک حدیث کے مطابق حضورؐ نے ایسے شخص کو ’’کرائے کے سانڈ‘‘ سے تشبیہ دی ہے ۔ نیز ترمذی اورنسائی کی ایک روایت میں حضورؐ نے فرمایا : ’’تحلیل کرنے والے اورتحلیل کرانے والے دونوں پر اللہ نے لعنت کی ہے‘‘ 
ایساحلالہ شرف انسانیت کے خلاف ایک سازش ہے ۔ اس لئے آج کے حالات میں یہ لازم ہے کہ قانون کے ذریعے اس سازش کا سدباب کیاجائے۔
اگلاسوال یہ ہے کہ طلاق کی صورت میں بچوں کا کیاکیاجائے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اس معاملے میں اگرمردوعورت خودکسی نتیجہ پر پہنچ جائیں توبہت بہتر ہے ورنہ عدالت حالات کے لحاظ سے بچوں کے ضمن میں کوئی بھی فیصلہ کرسکتی ہے۔ تاہم اس ضمن میں یہ بات ذہن میں رکھنی جاہیے کہ شیرخوار اورچھوٹے بچوں کی کفالت اورپرورش میں ماں ہی کوترجیح حاصل ہوگی۔ ابوداؤد کی ایک روایت کے الفاظ ہیں:
ایک عورت نے رسول اللہؐ سے عرض کیا: یارسول اللہ ؐ یہ میرابیٹا ہے ۔ وہ میرے ہی پیٹ میں رہا ۔ میرے ہی چھاتیوں سے اس نے غذا حاصل کی ۔ میری گودہی اس کا گھرتھا۔ اب اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے۔ اور وہ چاہتاہے کہ اس بچے کو مجھ سے لے لے۔ نبیؐ نے فرمایا : تم ہی اس کو رکھنے کی زیادہ حق دار ہو جب تک تم نکاح نہ کرلو ۔( یعنی اس صورت میں عدالت کے سامنے ماں اورباپ دونوں کا معاملہ یکساں طریقے سے زیرغورہوگا)
اگربچہ سمجھ دار ہو تو اس کی خواہش کوترجیح حاصل ہوگی۔ حضورؐ نے بعض مقدمات میں بچے کی خواہش پرفیصلہ دیاہے۔
اسلام کے تصورخاندان کے اہم پہلوؤں کی وضاحت کے بعد مناسب ہے کہ ایک اور سوال پربھی بحث کی جائے۔ وہ یہ ہے کہ حضورؐ نے اپنی زندگی کے آخری نوسالوں میں یعنی چون برس سے لے کر چونسٹھ برس تک کی عمر کے دوران میں کئی شادیاں کیں ۔ جب کہ اس سے پہلے پورے پچیس برس میں تک ان کی صرف ایک ہی بیوی تھی جوکہ ان سے عمر میں پندرہ سال بڑی تھی ۔ پہلی بیوی حضرت خدیجہؓ کی وفات کے وقت آپؐ کی عمر پچاس برس تھی ۔ اس وقت آپؐ نے ایک اور ادھیڑ عمر خاتون سے شادی کرلی اور اگلے تین برس تک وہی آپؐ کی اکیلی بیوی رہیں۔ لیکن جب آپؐ مدینہ تشریف لے آئے تو اس کے کچھ عرصہ بعد آپؐنے زندگی کے آخری نوسالوں میں بہت سی شادیاں کیں ۔ اس بظاہرمتضاد طرزعمل کی کیا توجیہہ ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح زندگی کے بہت سے دوسرے میدانوں میں پیغمبر ؐکے لیے خدا کی طرف سے مقرر کردہ قانون ، عام لوگوں کے قانون سے مختلف تھا۔ اسی طرح نکاح و طلاق کے ضمن میں بھی حضورؐ کے لیے قانون بہت مختلف تھا۔ اس کی بنیادی وجہَ یہ تھی کہ حضور ؐ کو اپنی زندگی میں ہی ایک مسلم امت کی تشکیل کرنی تھی۔ جس کے لیے یہ سب کچھ ناگزیر تھا۔ ان تمام قوانین کو قرآن مجید کی سورہ احزاب میں بڑی وضاحت کے ساتھ آیت نمبرچھ، اٹھائیس ، چالیس، اور پچاس تا باون میں بیان کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق حضورؐ کی شادیوں کا سارا معاملہ پروردگار نے خود کنٹرول کیا۔ ایک خاص دائرے سے باہر آپؐ کی شادی پر پابندی لگا دی گئی۔ آپ ؐپر یہ پابندی بھی لگا دی گئی کہ آپ اپنی بیویوں کو طلاق نہیں دے سکتے۔ آپؐ کی بیویوں پر بھی یہ پابندی لگا دی گئی کہ آپؐ کی وفات کے بعد وہ دوسری شادی نہیں کرسکتیں۔ انہیں مومنوں کی مائیں قرار دیا گیا۔ اور ان پر بھی عام مسلمان خواتین کی نسبت اضافی پابندیاں عائد کی گئیں۔
آپؐ کی پہلی بیوی حضرت خدیجہؓ تھیں۔ شادی کے وقت آپ کی عمر پچیس برس کی تھی اور خدیجہؓ کی چایس برس ۔ اس شادی سے پہلے خدیجہؓ تین دفعہ بیوہ ہوئی تھیں۔ ان کے پہلے تینوں خاوند یکے بعد دیگرے وفات پاچکے تھے۔ اگلے پچیس برس تک وہ حضورؐ کی واحد بیوی تھیں۔ جب ان کی وفات ہوئی تو اس وقت حضورؐ کی عمر پچاس برس اور خدیجہؓ کی عمر پینسٹھ برس تھی۔ گویا حضورؐ نے اپنی پوری جوانی ایک ادھیڑ عمر بیوہ خاتون کے ساتھ گزاری۔ آپؐ انہی کے ساتھ سب سے زیادہ محبت کرتے تھے اور آپؐ نے ہمیشہ اس کا اظہار کیا۔
جب خدیجہؓ کی وفات ہوئی تو کچھ مہینے بعد آپؐ نے سودہؓ سے نکاح کر لیا۔ وہ بھی پچاس سال کی ایک پختہ عمر بیوہ خاتون تھیں۔ اس وقت آپ ابھی مکہ میں ہی تھے۔
تریپن برس کی عمر میں آپؐ نے مدینہ ہجرت کی ۔ اور اپنی وفات تک یعنی اگلے گیاہ برس تک آپ مدینہ میں رہے۔ یہی وہ دور تھا جب آپؐ کو کئی شادیاں کرنی پڑیں۔ اس وقت خواتین کے نقطہ نظر سے چند اہم ضروریات سامنے آگئیں۔ ایک یہ کہ مسلمانوں کی آبادی بہت تیزی سے بڑھنے لگی۔ ان کی خواتین کی بہترین تربیت کیلیے ایسی خواتین کی ضرورت تھی جو براہ راست حضورؐ سے تربیت یافتہ ہوں۔ دوسری یہ کہ بعض اہم ترین قبیلوں سے مسلمانوں کی بڑی دشمنی تھی۔ ان قبیلوں کو مسلم امت میں ضم کرنے کا واحد طریقہ یہ تھا کہ ان کی رشتہ داری آپؐ سے قائم کر دی جائے۔ یہ بھی ضروری تھا کہ آپؐ کی وفات کے بعد ایسی خواتین موجود ہوں جو اسلامی معاشرت کو پھیلائیں۔ اور خواتین ان کے پاس آکر ان سے فیض حاصل کریں۔ عرب میں معاشرت سے متعلق کچھ ایسے غلط رواج بھی تھے۔ جنہیں توڑنا ضروری تھا۔ ان تمام مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے آپؐ نے زندگی کے آخری دس سالوں میں کئی نکاح کیے۔ ان میں صرف عائشہؓ کنواری تھیں۔ باقی سب کی سب بیوائیں یا مطلقہ تھیں۔ ان میں سے ہر شادی کے ذریعہ سے اشاعت اسلام میں مدد ملی۔
درج بالا بحث کو سامنے رکھ کر ہر دیانت دار انسان یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ آخری عمر میں آپؐ کی شادیوں کے پیچھے ہرگز کوئی جنسی جذبہ کارفرما نہیں تھا۔ بلکہ امت مسلمہ کی تشکیل کے سلسلہ میں یہ سب نکاح پروردگار کے براہ راست حکم کے تحت کیے گئے۔ حضورؐ کی شادیوں کا یہی پس منظر ہے۔ اس لیے قرآن مجید نے بہت واضح طور پر کہا کہ پیغمبر کے لیے نکاح و طلاق کا قانون باقی امت سے مختلف ہے۔
اب ہم اس پورے باب کاخلاصہ نکات کی شکل میں بیان کریں گے۔
۱: نکاح کے رشتے سے باہرجنسی تعلق ممنوع ہے۔
۲۔ نکاح ایک بالغ مرد اور عورت کے درمیان آزادانہ اوراعلانیہ پختہ معاہدہ ہے۔
۳۔ مثالی میاں بیوی ایک دوسرے کے لئے لباس کی مانند ہیں۔ ایک دوسرے کاخیال رکھتے ہیں ۔ عام حالات میں دونوں کے حقوق وفرائض برابرہیں۔
۴۔ مرد اپنی بیوی کی تمام جائز ضرورتیں پوری کرے گا۔ اسے تنگ نہیں کرے گا۔اس پر ظلم نہیں کرے گا۔ اس کے ساتھ احسان کارویہ اختیار کرے گا۔
۵۔ بیوی اپنے شوہرکی فرماں بردار،اطاعت گزاراور اس کے رازوں کی حفاظت کرے گی۔
۶۔ خاندان کا سربراہ یعنی محافظ ونگہبان اورضروریات مہیاکرنے والاشوہر ہے۔
۷۔ عام حالات میں شوہر کوقطعاً یہ اجازت نہیں کہ وہ اپنی بیوی کومارے۔
۸۔ اگربیوی بغاوت پراترآئے توشوہر خاندان کے بچاؤ کی خاطر ہلکی سزا بھی دے سکتاہے۔
۹۔ اگرمیاں بیوی کے درمیاں سخت جھگڑاہوجائے تومرداورعورت اپنااپنا نمائندہ مقررکریں جومعاملے کا تصفیہ کریں۔ 
۱۰۔ مہر بیوی کاحق ہے۔
۱۱۔ بعض قریب ترین رشتہ داروں کا آپس میں نکاح ممنوع ہے۔
۱۲۔ معاہدہ نکاح میں ایسی شرائط شامل کی جاسکتی ہیں جن سے بیوی کوتحفظ کا احساس ہو۔
۱۳۔ مناسب ہے کہ مروعورت کی شادی میں خاندان کی پوری رضامندی شامل ہو۔ تاہم فیصلہ کن اختیار خودمرد وعورت کاہے۔
۱۴۔ نکاح کی عمر بلوغت کے بعد ہی شروع ہوتی ہے۔
۱۵۔ عام حالات میں بیوی وظیفہ زوجیت سے انکارنہیں کرسکتی۔
۱۶۔ وٹے سٹے کی شادی ممنوع ہے۔
۱۷۔ مردکو ایک سے زیادہ شادیوں کاحق صرف معاشرتی صورتحال کی مجبوری کے ضمن میں ہے۔ سب بیویوں کے درمیان عدل وانصاف لازم ہے۔
۱۸۔ ایک مردوعورت کے ضمن میں طلاق کاحق زندگی میں تین مرتبہ ہے۔
۱۹۔ صحبت والی حالت طہراورحالت حیض میں طلاق دینا ممنوع ہے۔ 
۲۰۔ اکٹھی تین طلاقوں کو ایک ہی طلاق شمار کیاجانا چاہیئے ۔اورمردکو سزابھی دینی چاہیئے۔
۲۲۔ طلاق لینا یعنی خلع عورت کاحق ہے۔ اس موقعہ پر یہ ضوری نہیں کہ وہ شوہر کوئی الزام لگاکر خلع حاصل کرے۔ اس موقعہ پرباہم رضامندی کے تحت عورت اپنے مہر کا کچھ حصہ واپس کرسکتی ہے۔ 
۲۳۔ معاہدہ نکاح میں بیوی کو حق طلاق تفویض نہیں کیاجاسکتا۔
۲۴۔ ’’ ایلا‘‘ کی زیادہ سے زیادہ مدت چارمہینے ہے۔
۲۵۔ ’’ ظہار‘‘ کے وقت طلاق واقع نہیں ہوتی ۔ البتہ شوہر لکو دومہینے کے روزے رکھنے ہونگے یا ساٹھ مسکینوں کو کھاناکھلاہوگا۔
۲۶۔ لعان کا فیصلہ قسموں کی بنیاد پر ہوگا۔
۲۷۔ تیسری طلاق کے بعدبھی مرد عدت کے دوران میں بیوی کی سکونت اورنفقہ کاذمہ دارہے۔
۲۸۔ حلالہ کادینی مفہوم الگ ہے اور حلالہ کا موجودہ مفہوم الگ ہے۔ آج کل جس چیز کوحلالہ کہاجاتاہے وہ حقیقت میں ایک فراڈ ہے۔
۲۹۔ طلاق کی صورت میں بچوں کے معاملے میں حالات کے مطابق فیصلہ کیاجائے۔
۳۰۔ حضورؐ کی زندگی کے آخری نوسال کی تمام شادیاں کاررسالت کی انجام دہی کے ضمن میں پروردگار کے حکم سے ہوئیں۔

اس باب میں حکومتی قانون سازی کے ضمن میں بھی کچھ سفارشات کی گئی ہیں ۔ ان کاخلاصہ درج زیل ہے:
۱: گھریلوتشدد کے خلاف ریاستی سطح پرقانون سازی ہونی چاہیئے۔
۲: نیانکاح فارم بنایا جائے جس میں ایسی تمام شرائط واضح طورپردرج ہوں جن سے عورت کواحساس تحفظ ہو۔
۳: کورٹ میرج کی صورت میں یہ لازم ہے کہ اس کافوری اعلان عام عدالت کی طرف سے ہو۔
۴۔ شادی کے ضمن میں عورت کے آزادانہ اختیار کے ضمن میں واضح ریاستی قانون بنایاجائے۔
۵: نابالغ کے نکاح کوممنوع قرار دیاجائے۔
۶: وٹے سٹے کی شادی ، قرآن مجید سے شادی اوراس طرح کی دوسری غیر اسلامی رسموں کے خلاف قانون سازی کی جائے۔
۷: یہ قانون بنایا جائے کہ مرد ایک سے زیادہ شادیاں کرنے سے پہلے عدالت سے پیشگی اجازت لے گا۔ اور عدالت ، بیویوں کے درمیان عدل قائم کرنے کے ضمن میں اس پر مناسب پابندیاں لگائے گی۔
۸: بیک وقت دی گئی تمام طلاقوں کو ایک ہی طلاق شمارکرنے کے لئے قانون سازی کی جائے۔
۹: خلع کے ضمن میں یہ بات قانون میں واضح کردی جائے کہ ایسے کیسوں میں بیوی کو شوہرکے خلاف کوئی الزام لگانے یا ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔
۱۰۔ طلاق کے بعد خاتون کے مستقبل کی حفاظت کے لئے قانون سازی کی جائے۔
۱۱۔ قانون میں صحیح دینی حلالہ کا تصورواضح کیاجائے اور آج کل حلالہ کے نام سے جوفریب کاری کی جاتی ہے اسے ممنوع قراردیاجائے۔