اگلاسوال یہ ہے کہ قرآن مجید کے مطابق طلاقوں کے بعد عدت کے دوران (عام عورتوں کے لئے تین دفعہ ایام ماہواری آنے تک اور حاملہ عورتوں کی صورت میں وضع حمل تک ہے)شوہر نان ونفقہ کا ذمہ دارہے ۔ لیکن کیاتیسری دفعہ طلاق (جس کے بعد رجوع کی اجازت نہیں)کے بعد بھی اس مدت تک خاتون اپنے سابقہ شوہر کے گھر میں رہ سکتی ہے اور وہ خاتون کے نان ونفقہ کا ذمہ دارہے؟ 
اس ضمن میں دوموقف ہیں ۔ ایک یہ کہ تیسری طلاق کے بعد مردپر عورت کے ضمن میں نان نفقہ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید کے الفاظ ’’پس جب وہ اپنی مدت کو پہنچ جائیں تو ان کو یا تو دستور کے مطابق نکاح میں رکھو یا دستورکے مطابق جداکردو‘‘ سے معلوم ہو تاہے کہ نان ونفقہ آخری طلاق کے بعد نہیں ہے۔ اسلئے کہ اس کے بعد نکاح میں رکھنے کا کوئی سوال نہیں ہے۔ اس کی دوسری دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید جب نان ونفقہ کی بات کرتاہے توساتھ ہی یہ بھی کہتاہے کہ ’’تم نہیں جانتے ۔ شاید اللہ اس کے بعد کوئی اور صورت پیداکردے۔‘‘ اس سے یہ اشارہ نکلتاہے کہ شوہر اور بیوی کو ایک ہی گھرمیں یکجارہنے کا حکم اس وجہ سے دیا گیا ہے کہ اصلاح احوال کی کوئی صورت پیداہوجائے۔ اورظاہر ہے کہ تیسری طلاق کے بعد ایسی کوئی صورت باقی نہیں رہتی ۔ تیسری دلیل یہ ہے کہ فاطمہ بنت قیس کی ایک مشہور روایت ، جواحادیث کی کئی مستند کتابوں میں آئی ہے کے مطابق جب ان کے خاوند نے انہیں تیسری طلاق دے دی تو وہ حضورؐ کے پاس سکونت ونفقہ کے بارے میں حاضر ہوئیں۔ مگر حضوؐر نے انہیں سکونت و نفقے کا حق دار نہیں ٹھہرایااور انہیں ایک اور صحابی کے ہاں جاکر اپنی عدت پوری کرنے کا حکم دیا۔ 
ہمارے نزدیک یہ تینوں دلائل بہت مضبوط نہیں ہیں ۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ سورۃطلاق میں آیت نمبرایک اور دو کے بعد خاتمہ کلام سے پہلے آیت نمبر چھ میں ایک دفعہ سکونت ونفقہ کی بات دہرائی گئی ہے۔ اس تکرارکامقصد ہی یہی ہے کہ عورت کا یہ حق پوری طرح واضح ہوجائے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید کی یہ بات کہ ’’ تم نہیں جانتے اللہ اس کے بعد کوئی اور صورت پیداکردے‘‘ یہ ایک بڑی وسیع بات ہے ۔ تیسری طلاق مرد اور عورت دونوں کے لئے نئے راستے کھول دے گا۔ اس میں یہ اشارہ بھی مضمر ہے کہ اس عبوری اور ہنگامی مدت میں عورت کے لئے سکونت ونفقہ کی ضرورت بہرحال لاحق ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ اگر پروردگار کو یہ کہنا ہو تا کہ تیسری طلاق کے بعد کوئی سکونت ونفقہ نہیں ہے۔ تویہ بات قرآن مجید میں واضح طورپر نازل ہوجاتی۔ جہاں تک فاطمہ بنت قیس کاتعلق ہے ۔اگرچہ یہ روایت سند کے لحاظ سے بالکل صحیح ہے تاہم اس روایت کو حضرت عمرؓ اور حضرت عائشہؓ جیسے اکابر نے بھی ماننے انکار کردیا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا : ہم کتاب اللہ کی ایک آیت اور رسول اللہؐ کی سنت کو تو ایک عورت کے قول کی وجہ سے نہیں چھوڑسکتے جس نے معلوم نہیں کیا یادرکھا اور کیا بھول گئی ۔ میں نے خود رسول اللہ ؐ سے سناہے کہ تیسری دفعہ طلاق والی عورت کے لئے سکونت کا حق بھی ہے اور نفقہ کابھی‘‘۔
حضرت عمرؓ کی یہ روایت احادیث کی دوسری کتابوں کے ساتھ ساتھ صحیح مسلم میں بھی درج ہے۔ حضرت عائشہؓ کے خیال میں بھی فاطمہ بنت قیس نے موقعہ ومحل سے ہٹ کر بات کو سمجھاتھا۔ اسی لئے حضرت عائشہ کہتی تھیں ’’فاطمہ کی حدیث کا ذکر نہ کرو تواچھا ہے۔ اس حدیث کے بیان کرنے میں اس کے لئے کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ فاطمہؓ کو کیا ہوگیاہے ۔ کیا وہ خداسے نہیں ڈرتی‘‘ ( صحیح بخاری) 
مختلف دوسری روایات سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ فاطمہ بنت قیس تیز زبان اور بدزبان تھیں۔ اسی لئے اُن کا معاملہ عام قانون سے ہٹ کرہوا۔
درج بالا بحث سے یہ معلوم ہوتاہے کہ تیسری طلاق کے بعد بھی خاتون کیلئے عدت کے دوران میں سکونت اورنفقہ کا حق موجود ہے۔
اگلاسوال یہ ہے کہ کیا طلاق کے بعد خاتون کے حقوق کے مداوا اور حفاظت کے لئے کوئی قانون سازی کی جاسکتی ہے۔ 
اس کا جواب یہ ہے کہ کہ اس ضمن میں اسلام نے بنیاد ی اصول دے کر تفصیلی قانون سازی کو وقت اور حالا ت پر چھوڑ دیا ہے۔ دراصل ہرزمانے کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔ اسلئے یہ ضروری ہے کہ ہرزمانے میں مختلف قانون بنایا جائے۔ قرآن مجید نے اس ضمن میں یہ اصول دیا ہے کہ جب بھی عورت کوطلاق دی جائے تو ’’ فاِمساک معروف اور تسریح باحسان ‘‘ ’’پھر دستور کے مطابق یا تو روک لیناہے یا احسان کے ساتھ رخصت کردیناہے‘‘ آگے سورۃ طلاق میں ارشاد ہے:


فاذا بلغن احلھن فامسکوھن بعمروف او فارقوھن بمعروفٍ (طلاق آیت2)
’’پس جب عدت کی مدت ختم ہوجائے توان کو یا دستور کے مطابق نکاح میں رکھو یا دستور کے مطابق جداکردو‘‘


درج بالا آیات میں دو الفاظ اہم ہیں ایک احسان اور د وسرا معروف۔ احسان کا مطلب ہے کسی کام کوبہترین طریقے پر کرنا۔ جس سے دوسرا شخص پوری طرح مطمئن اور راضی ہو۔ معروف ایک بہت وسیع لفظ ہے جس کا مطلب ہے کہ ہروہ بھلائی ، نیکی اور صحیح کا م جسے دین نے نیکی کا کام قرار دیاہو یا جوعقل اور انسان کے اجتماعی تجربہ ومشاہدہ کے تحت بھلائی قرار پائے۔ اس کے تحت ہر معقول قانون ، رواج اور آئین کو بھی معروف کہتے ہیں۔ 
گویا قرآن مجید کی ہدایت یہ ہے کہ آخری طلاق کے ضمن میں ہرزمانے میں اپنے حالات کے اعتبار سے ایسامناسب طریقہ اختیار کیا جائے جس میں عورت اور اس کے حقو ق او راس کے مستقبل کی پوری حفاظت ہو۔ اگر سوسائٹی کے اندر خود بخود ایسا رواج قائم ہو جس کے تحت ایسی عورت کو کوئی دشواری نہ ہو تومزید قانون سازی کی کوئی ضرورت نہیں۔ لیکن اگرایسانہ ہوتوپھراس ضمن میں صحیح قانون سازی کرنااور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانا’’معروف ‘‘ کے تحت ریاست کی ذمہ داری ہے۔ 
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضورؐ کے وقت میں معاشرے میں اس مقصد کے لئے کسی نئی قانون سازی کی ضرورت نہیں تھی۔ ہرمطلقہ عورت کو عدت کے فوراً کئی لوگوں کی طرف سے رشتوں کی پیش کش ہوتی۔ اوروہ ان میں سے کسی سے شادی کرلیتی تھی ۔ اس وقت کی سوسائٹی میں مطلقہ خاتون کے لئے فوراً شادی کرنا نہایت مستحسن سمجھاجاتاتھا۔ اور مردبھی کسی مطلقہ خاتون سے شادی کو عار نہیں سمجھتے تھے۔ کتب احادیث میں ایسی بیسیوں صحیح روایات موجود ہیں اور تاریخ کی کتابوں میں ایسے سینکڑوں واقعات موجود ہیں جن سے اس کا ثبوت ملتاہے۔ 
لیکن آج کی برصغیر کی مسلم سوسائٹی کی صورتحال بالکل مختلف ہے ۔ یہاں مطلقہ ہونا ایک بڑا عیب سمجھاجاتاہے ۔عموماً اسے کوئی مرد قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ اور عام طورپر اسے طلاق بھی ایسے وقت میں دی جاتی ہے جب اس کے ماں باپ بہت بوڑھے یا مرچکے ہوتے ہیں او راس کے سب بہن بھائیوں نے اپنے گھربسائے ہوئے ہوتے ہیں ۔ یوں وہ اس بھری دنیا میں تنہااور بے یارو ومددگار ہوکر حسرت ویاس کی ایک تصویر بن جاتی ہے۔ چنانچہ یہ لازم ہے کہ اس کے مستقبل کے لئے مناسب قانون سازی کی جائے ۔ایسی قانون سازی کی دوشکلیں ہوسکتی ہیں ۔ ایک یہ کہ جب تک عورت اگلی شادی نہ کرے تب تک پہلے خاوند پر ماہانہ کچھ رقم مقرردی جائے اور دوسراطریقہ یہ ہوسکتاہے کہ مرد طلاق کے وقت ایک معقول رقم عورت کے حوالے کردےْ پہلاطریقہ اسلام کی روح سے زیادہ مطابقت نہیں رکھتا۔ اس لئے کہ اس میں عورت کویہ ترغیب ملتی ہے کہ وہ دوسری شادی نہ کرے۔ جب کہ اسلامی معاشرے کی روح یہ ہے کہ ہر بالغ مردوعورت کو شادی کر لینی چاہئیے۔ مزید یہ کہ اس میں عورت مستقل طور پر پہلے خاوند پر dependentرہتی ہے۔ پرانی یادیں اس کا پیچھا نہیں چھوڑتیں اور وہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق زندگی میں آگے بڑھنے کے لئے مناسب منصوبہ بندی نہیں کر سکتی۔ چنانچہ دوسرا طریقہ ہی زیادہ مناسب ہے۔ یعنی یہ کہ یہ قانون بنایا جائے کہ تیسری طلاق کے وقت قانون کی رو سے مرد پر ایک کم از کم رقم تو فوری طور پر دینا لازم قرار دیا جائے۔ اور اس کے بعد عدالت تمام حالات کا جائزہ لینے کے بعد اس رقم میں کمی بیشی کا فیصلہ کرے۔ عدالت کو اس موقعہ پر کئی اموراپنے سامنے رکھنے ہونگے۔ مثلاً یہ کہ بنیادی قصور کس کا تھا۔ اس جوڑے کا اکٹھا عرصہ کتنا گزرا۔ کیونکہ جتنا عرصہ اکٹھا گزرا ہوگا اس تمام عرصے میں بیوی نے بلا معاوضہ شوہر کی خدمت کی ہوگی اور اب عورت کو نیا شوہر ملنے میں اتنی ہی زیادہ مشکل پیش آئے گی اور یہ کہ میاں بیوی کے ذاتی مالی حالات کیسے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
اس طریقہ میں ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مرد کے لئے بھی ہمیشہ کا کوئی درد سر باقی نہیں رہتا اور عورت بھی پوری طورپر اپنی نئی زندگی شروع کرسکتی ہے چنانچہ یہ ضروری ہے کہ ہرمسلمان ریاست اس بارے میں فوری قانون سازی کرے ۔ اس طرح ظلم کا راستہ بند ہوجائے گا اور معروف واحسان کاراستہ کھل جائے گا۔ تاہم جب تک حکومت ایسا نہیں کرتی تب تک سب لوگوں کو چاہیئے کہ وہ معاہدہ نکاح میں اس کو بطورشرط درج کریں۔
اگلاسوال یہ ہے کہ اگر ایک مرد اپنی بیوی کو تیسری مرتبہ بھی طلاق دے دے توکیا پھر بھی کوئی ایساراستہ موجود ہے جس سے یہ دونوں ایک دفعہ پھرمیاں بیوی بن سکیں؟
اس کاجواب یہ ہے کہ ایک صورت میں ایساممکن ہے ۔ وہ یہ ہے کہ اگرعورت کسی اورمرد سے شادی کرلے ۔ پھراتفاقاًوہ دوسرامرد بھی اس کو طلاق دے دے یا وہ فوت ہوجائے تویہی عورت اپنے پچھلے شوہر سے ایک دفعہ پھر بھی شادی کرسکتی ہے۔سورۃ بقرہ میں ارشاد ہے۔

 
فَاِنْ طَلَّقَھَافَلَاتَحِلُّ لَہ‘ مِنْ بَعْدُحَتیّٰ تَنکِحَ زَوجاً غَیْرَہ‘ فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَاجُنَاحَ عَلَیھِمَآ اَنْ یَّتَرَاجَعَاًاِنْ ظَنَّااَنْ یُقِیْمَاحُدُوَداللِہ وَتِلکَ حُدُودَاللہِ یُبَینِّھُمَالِقَومٍ یَعْلَمُون۔(بقرہ 2-،آیت 230)
’’پھراگروہ مرد اس عورت کوآخری طلاق دے تو اس کے بعد و عورت اس مرد کے لئے جائز نہیں ہے۔ حتٰی کی اس کا نکاح کسی دوسرے شخص سے ہو اور وہ بھی اس عورت کو طلاق دے دے۔ تب اگر پہلا شوہر اوریہ عورت خیال کریں کہ وہ حدوداللہ پر قائم رہیں گے توان کے لئے ایک دوسرے کی طرف رجوع کرلینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔‘‘


اس سے یہ معلوم ہوتاہے کہ ہمارا دین خاندان کو اکٹھارکھنے اور انہیں باربار اکٹھا ہونے کا موقعہ دینے میں اتناحساس ہے کہ وہ باربار علیحدگی کے باوجود ایک راستہ کھلاچھوڑدیتاہےْ