درج بالابحث کی رو شنی میں راقم الحروف کی رائے یہ ہے کہ شدید اورفوری غصے میں ، جس کے بعد انسان کوپشیمانی ہو ، طلاق کالفظ جتنی مرتبہ بھی استعمال کیا جائے اس سے ایک ہی طلاق واقع ہوتی ہے۔ 
اگلاسوال یہ ہے کہ اگر سوچ سمجھ کر ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دی جائیں تو انہیں ایک طلاق شمار کیا جائے یا اس کے بارے میں یہ سمجھ لیا جائے کہ اس فردنے تینوں طلاقوں کا حق ، جو اسے ساری زندگی کے لئے ایک عورت کے بارے میں ملاتھا، ایک ہی دفعہ اکٹھے استعمال کرکے اپنی بیوی کو اپنے آپ سے ہمیشہ کے لئے علیحدہ کرلیاہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بہت پیچیدہ مسئلہ ہے ۔تاہم ہم اسے اپنی بساط بھرآسان بناکراس کے بارے میں اپنا نقطہ نظر واضح کریں گے۔
درج بالا صفحات میں ہم نے دیکھا کہ پروردگار نے ہمیں طلاق دینے کا ایک خاص طریقہ کا رسمجھایا ۔ اب اگر کوئی انسان اس کی خلاف ورزی کرتاہے تو وہ ایک بڑ اگناہ اور اللہ کے احکام سے روگردانی کامرتکب ہوتاہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جب ایک آدمی ایساکرگزرے توپھر کیا کیاجائے؟ اس صورت کوپروردگارنے ریاست اور سوسائٹی پر چھوڑدیاہے کہ وہ اپنے حالات کے اعتبار سے اس کا حل نکالے ۔ وہ چاہے تواس کو ایک ہی طلاق قراردے۔ چاہے تو اس کے مرتکب کو سزابھی دے او رچاہے تو اس کو تینعلیحدہ علیحدہ اوقات میں طلاق دینے کاقائم مقام سمجھ کر ان کو نافذ کردے اور بیوی کوشوہر سے مستقل طورپرجداکردے۔
ظاہر ہے کہ اس ضمن میں کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت خاندان اور معاشرے کے مفادات کو مدنظر رکھناہوگا اور خصوصاً خواتین کی حالت زارکوسامنے رکھناہوگا۔ کہ ان کی حق تلفی نہ ہونے پائے اور ان کو بے جاتنگ نہ کیاجائے۔ چونکہ پروردگار نے اس مسئلے میں امت کے اجتماعی نظم کوآزاد چھوڑ دیاہے اس لیے اس ضمن میں خود حضوؐر اور خلفائے راشدین کے زمانے میں حالات کی تبدیلی کے ساتھ انتظامی حکم بدلتارہاہے۔ابوداؤد اور صحیح بخاری کی ایک روایت کے مطابق ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دے کرعلیحدگی اختیار کرلی تو نبیؐ نے اسے بلایا اور فرمایا : اپنی بیوی کو لوٹاؤ۔ اس پر اس نے عرض کیا: یارسول اللہؐ میں اسے تین طلاقیں دے چکاہوں۔ آپؐ نے فرمایا : میں جانتاہوں۔ تم اسے لوٹاؤ۔ اس کے بعد آپؐ نے سورۃ طلاق کی آیت پڑھی۔
گویا آپؐ نے اسے بتایا کہ طلاق دینے کا یہ طریقہ صحیح نہیں ہے ۔ اس طرح جب ایک مرتبہ حضوؐر کوبتایاگیا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دے دی ہیں توآپؐ شدیدغصے کے عالم میں کھڑے ہوگئے اورفرمایا: میری موجودگی ہی میں اللہ کی کتاب کے ساتھ کھیلاجارہاہے۔ حضورؐ کایہ غصہ دیکھ کر ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ اگر آ پ حکم دیں تومیں اس قتل کردوں‘‘
خودحضورؐ کی حیات میں ہی آپؐ نے اس سے مختلف طریقہ بھی اپنایا۔ مسنداحمد ، ترمذ ی اور ابوداؤد میں ایک صحابی رکانہ بنعبدیزید کا جوواقعہ بیان ہوا ہے ۔ اس سے یہ معلوم ہو تاہے کہ اگرچہ تین طلاق کالفظ استعمال کیا تھا لیکن حضور ؐ سے انہوں نے حلفیہ کہا کہ ان کا ارادہ صرف ایک ہی طلاق دینے کا تھا۔چنانچہ حضورؐ سے ان پر ایک ہی طلاق نافذ کردی۔ 
اس کے بعدحضرت عمرؓ نے اپنے حالات کے اعتبار سے مختلف قانون سازی کی۔ انہوں نے دیکھا کہ کہ لوگ خواتین کی حق تلفی کررہے ہیں ۔ وہ یوں کہ پہلے تین طلاقیں دے کر عورت کو یہ تاثردے دیتے کہ مکمل علیحدگی میں آگئی ہے۔ پھرجب خاتون کسی اور سے شادی کا پروگرام بنالیتی (واضح رہے کہ یہ امر کتب احادیث میں اور تاریخ سے پوری طرح ثابت ہے کہ اس زمانے میں عورتوں کے لئے طلاق کے بعد یا شوہر کی موت کے بعد دوسری شادی کرنا نہایت آسان تھا۔ اور عام طریقہ یہی تھا کہ تقریباً سبھی عورتیں عدت کے فوراًبعد دوسری شادی کرلیتی تھیں)۔ توپہلاخاوند عدالت میں پہنچ کر کہہ دیتا کہ اس کی نیت توایک ہی طلاق دینے کی تھی۔ اس طرح ایک نئیعدالتی کاروائی شروع ہوجاتی تھی۔ جوعورت کے لئے نقصان ثابت ہوتی تھی۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے عورتوں کو اس مصیبت سے بچانے کی خاطر یہ قانون بنایاکہ اگرکسی نے ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دیں تویہ تینوں طلاقیں فوری طور پرنافذ کردی جا ئیں گی۔ اورخواتین کوعدت کے فوراًبعد نیاگھربسانے میں کوئی رکاؤٹ نہیں ہوگی۔ صحیح مسلم کی روایت ہے:

’’ ابن عباسؓ نے کہا کہ طلاق کے متعلق حضوؐر کے زمانے میں ،ا س کے بعد حضرت ابوبکرؓ کے پورے عہد خلافت میں اور پھر حضرت عمرؓ کے دور خلافت کے پہلے دوبرس میں یہ قاعدہ تحا کہ جب کوئی ایک ہی بارتین طلاقیں دیتاتھا تو وہ ایک ہی شمار کی جاتی تھی۔ پھرحضرت عمرؓ نے کہا کہ لوگ ایک ایسے معاملے میں جلدی مچارہے ہیں جس میں انہیں احتیاط اور تحمل سے کا م لینا چاہیئے۔ توکیوں نہ ہم ان پر یہی (تین طلاقیں) نافذکردیں۔ چنانچہ انہوں نے (تین طلاقیں) نافذکردیں‘‘

صحیح مسلم کا یہ بیان اس معاملے کے بارے میں معتبر ترین ہے ۔ اس روایت سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ چونکہ اس معاملہ میں شریعت نے خود کوئی قانون سازی نہیں کی ۔ اس لئے حضرت عمرؓ آزاد تھے کہ اس معاملے میں دورنبیؐ اور عہد صدیقیؓ سے مختلف حکم جاری کریں۔
چنانچہ اب ہمیں یہ سوچناچاہیئے کہ آج کے حالات میں معاشرے، خاندان اور خصوصاًخواتین کے حق میں کونسی قانون سازی مفیدرہے گی۔ آج صورت حال یہ ہے کہ لوگ عموماً طلاق کے طریق کار سے ناواقف ہیں ۔ اسی لئے طلاق کے بارے میں ایک غلط فہمی یہ بھی پائی جاتی ہے کہ تین دفعہ طلاق کا لفظ منہ سے نکالے بغیر طلاق ہی نہیں ہوتی۔ دوسری بات یہ ہے کہ معاشرے میں عمومی اضطراب ، بے چینی اور پاسیت اتنی بڑھ گئی ہے کہ لوگ معمولی رنجش کی بنا پر طلاق کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔ اور اس سے بڑھ کر یہ معاملہ ہے کہ مسلمان معاشروں میں مطلقہ خواتین کی دوسری شادی تقریباً ناممکن بن گئی ہے اور طلاق کا لفظ خواتین کے لئے ایک بڑی گالی بن گیا ہے۔اس لئے آج کے حالات میں ہمارے لئے یہ لازم ہے کہ ہم ایک دفعہ پھر اس حکم کو جاری کریں جو دورنبیؐ میں تھا ۔ یعنی یہ کہ ایک ہی وقت میں خواہ جتنی مرتبہ طلاق دی جائے ۔ اُسے ایک ہی طلاق مانااور سمجھاجائے۔ چنانچہ یہ لازم ہے کہ ریاستی سطح پر یہ قانون نافذکردیاجائے اور تمام عدالتی فیصلے اس کے مطابق کئے جائیں۔
اگلاسوال یہ پیداہوتاہے کہ بعض لوگ طلاق دیتے وقت ہزار دوہزار تک کا لفظ بھی استعمال کرلیتے ہیں۔ اس بارے میں کیاکیا جائے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ ایسے الفاظ استعمال کرنا گناہ اورپروردگار کے حکم سے روگردانی ہے۔ ایسے لغوالفاظ منہ سے نکالنے پر سزا دینی چاہیئے ۔ تاہم قانونی اعتبارسے اسے ایک طلاق سمجھاجائے۔ 
اگلاسوال یہ ہے کہ خلع سے کیامراد ہے؟
اس کاجواب یہ ہے کہ قرآن مجید نے سورہ بقرہ میں عورتوں کوطلاق لینے کاحق دیاہے۔اس ضمن میں آیات نمبر228-تا231کاحوالہ پہلے ہی دیا جاچکاہے۔ اس حق کو بعض روایات میں خلع بھی کہا گیاہے۔ اگرعورت اس نتیجے تک پہنچ جائے کہ مرد کے ساتھ اس کا نباہ ممکن نہیں ہے تو وہ اپنے خاوند سے مطالبہ کرے کہ وہ اُسے طلاق دے دے۔ایسی صورت میں خاوند کے لئے یہ لازم ہے کہ وہ اپنی بیوی کوایک طلاق دے گا۔ تاہم وہ یہ مطالبہ کرسکتاہے کہ اس نے اپنی بیوی کوجوکچھ دیاتھا اُس میں سے کچھ حصہ اسے واپس دیاجائے۔ خلع کا فیصلہ گھر کے اندر طے ہو نا سب سے پسندیدہ ہے۔ اور اگر عورت سارے مہر سے دستبرداری کافیصلہ کرلے تب تواس معاملے میں کوئی دوسراتنازعہ رہ ہی نہیں جاتا۔ تاہم کسی بھی تنازعے کی صورت میں عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ عدالت میں چلی جائے ۔ اس موقعہ پر عدالت کے کرنے کے کام دو ہیں۔ ایک یہ کہ فریقین کو اتنا وقت دے جس میں صلح کی کوشش کی جاسکے اور دوسرایہ کہ شوہرنے بیوی کو جوکچھ دے رکھاتھا ۔ اس کے متعلق تمام حالات اور مرد وعورت کے مستقبل کوسامنے رکھ کرانصاف کے ساتھ یہ فیصلہ کرے کہ مرد کوواپس کیا کچھ ملنا چاہیئے۔
خلع کے ضمن میں مزید دو اہم سوالات پیداہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ کیاعورت کے لئے یہ لازم ہے کہ خلع لیتے وقت وہ کوئی وجہ بتائے؟ مثلاً یہ کہ شوہر پر ظلم ، بے انصافی ، نامردی یا بدکاری کا الزام لگائے اور جب وہ اس الزام کوثابت کرے تب اس کوخلع مل سکے گی؟ 
اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام کی روسے اس کی کوئی ضرورت نہیں ۔ احادیث کی کتابوں میں ایسے کئی واقعات آئے ہیں جن سے معلوم ہوتاہے کہ جب حضوؐر کے پاس خلع کا کوئی مقدمہ آیا۔ آپؐ نے معمول کی چھان بین کی ، صلح صفائی کی کوشش کی اور جب یہ امرثابت ہوگیاکہ عورت مرد کی بیوی بن کرنہیں رہناچاہتی تودونوں کے درمیان تفریق کرادی۔وہ لوگ جن کا خیال ہے کہ عورت کیلئے مرد پرکوئی براالزام ثابت کرناضروری ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ قرآن کے مطابق جب میاں بیوی اللہ کی حدود پرقائم نہ رہ سکیں تب ان کے درمیان تفریق کرادی جائے۔ گویاپہلے یہ ثابت کردیاجائے کہ شوہر نے اللہ کی حدود کو توڑا ہے ۔ یہ درحقیقت ایک غلط فہمی ہے ۔ قرآن مجید نے قطعاً ایسا نہیں کہا۔ اس کے برعکس قرآن مجید کا فرمان یہ ہے کہ اگرمیاں بیوی کے تعلقات کی نوعیت یہ ہوچکی ہے کہ یہ اندیشہ ہے کہ مستقبل میں یہ دونوں ایک دوسرے کے معاملے میں پروردگار کے حکم کا خیال نہیں کرسکیں گی یعنی مردبیوی پرظلم کرے گا اور بیوی مرد کے خلاف سرکشی کا رویہ اختیار کرے گی۔ تودونوں کے درمیان علیحدگیکسی بھی فریق کی طرف سے ہوسکتی ہے ۔گویا قرآن مجید ماضی کی نہیں بلکہ مستقبل کی بات کررہاہے ۔مناسب ہوگا کہ سورۃ بقرہ آیت 29-کاترجمہ ایک دفعہ پھرپڑھ لیاجائے ۔ ارشاد ہے:

الطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ فَاِمْسَاکٌ بِمعروفٍ اَوْتَسْریْحٌ بِاحسانٍ وَلاَیَحِلُّ لَکُم اَنْ تَاْخُذُوا مِمَّااٰتَیتُموھُنَّ شیءًا اِلآّ اَنْ یَّخَافآ اَلاَّیُقِیمَاحُدُودَاللِہ فَاِن خِفْتُم اَلَّایُقِیمَا حُدُودُاللِہ فَلَاجُنَاحَ عَلَیِھمَافِیمَا افْتَدتْ بہٖ تِلْکَ حُدُُودُاللہِ فَلَاتَعتدُوھَا وَمَنْ یَّتعَدَّو حُدُودَاللہِ فَاُولٰٓءِک ھُمُ الظّٰلِمُونَ۔ (بقرہ 2- آیت 229)
’’ (اے مردو!)تمہارے لئے یہ حلال نہیں کہ جوکچھ تم بیویوں کو دے چکے ہو۔ اس کی میں سے کچھ بھی واپس نہ لو۔ سوائے اس کے کہ میاں بیوی کو یہ خوف ہو کہ اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے۔ توایسی صورت میں جب کہ تم کو خوف ہو کہ میاں بیوی اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے۔(یعنی ایک دوسرے کے حقوق ادانہیں کرسکیں گے) کوئی ہرج نہیں اگر عورت کچھ معاوضہ دے کر نکاح سے آزاد ہو جائے‘‘

دوسرا سوال یہ ہے کہ جب بیوی کی طرف سے یا عدالت کی طرف سے مرد کو کہا جائے کہ وہ طلاق دے توکیاوہ طلاق دینے سے انکارکرسکتاہے؟
اس کاجواب یہ ہے کہ اگروہ طلاق دینے سے انکار کردے اور عدالتی حکم ماننے سے انکارکردے تونہ صرف یہ کہ عدالت تفریق کی ڈگری جاری کردے گی بلکہ وہ عدالتی حکم کونہ ماننے کی پاداش میں مردکو سزابھی دے سکتی ہے۔ اگردرج بالا آیت کو ایک دفعہ پھر پڑھ لیا جائے تومعلوم ہو گا کہ کچھ واپس دے کرنکاح سے آزادی حاصل کرنا عورت کا ناقابل تنسیخ حق ہے۔
آج اس بات کی ضرورت ہے کہ ریاست کی سطح پر قانون سازی کے ذریعہ اس بات کو واضح کیاجائے کہ خلع حاصل کرنے کے لئے کوئی الزام ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بات بھی واضح ہونی چاہیئے کہ عدالت دو تین مہینے کے اندر اندر خلع کرائے گی۔ تاکہ عورت اپنی نئی زندگی جلدازجلدشروع کرسکے۔
ایک اور سوال یہ کہ کیا نکاح کے معاہدے میں عورت کوحق طلاق تفویض کیا جاسکتاہے؟
حق طلاق تفویض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ خاتون کوبھی یہ حق مل جائے کہ وہ بھی جب چاہے اپنے خاوند کوطلاق دے سکے۔ اس ضمن میں عام رائے یہ ہے کہ ایساہوسکتاہے ۔ اس کے برعکس ہماری رائے یہ ہے کہ یہ بات قرآن مجید کے تصور نکاح کے منافی ہے۔ اس سوال کے ضمن میں یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ اس ایک معاملے کے سواتمام اہم مسائل پر ہمارانقطہء نظر خواتین کے حقوق کے حق میں ہے۔ لیکن اس مسئلے میں جہاں عام رائے بظاہرخواتین کے حقوق کے حق میں ہے ، ہماری رائے اس سے مختلف ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہمارے سامنے اصل رہنماکتاب قرآن مجید ہے۔ چونکہ باقی تمام معاملات میں ہم پوری صداقت کے ساتھ یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید نے وہ تمام حقوق عورتوں کو دئے ہیں ، جن سے آج مسلم معاشروں میں انکار کیاجارہاہے۔اس لئے ہم نے وہی رائے ظاہر کی ہے جوقرآن کے مطالعے سے ہم پر واضح ہوئی ہے۔ لیکن اس خاص معاملے میں قرآن مجید کی ہدایت اس سے بہت مختلف ہے۔ جوعام طورپر سمجھی جاتی ہے۔ اس لئے ہم یہ معاملہ واضح کررہے ہیں۔
قرآن مجید کے مطابق نکاح کی گرہ مرد کے ہاتھ میں ہے۔گویا وہی نکاح کرتاہے اور وہی طلاق دے سکتاہے جبکہ عورت نکاح میں آتی ہے اور اگر چاہے توطلاق لے سکتی ہے۔ ایک خاص معاملے میں مہرکا قانون بیان کرتے ہوئے قرآن مجیدیہ واضح کرتاہے کہ عقدۃ نکاح یعنی نکاح کی گرہ مرد کے ہاتھ میں ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ اگرنکاح ہوگیاہے ، مہر مقررہوگیاہے ، ابھی رخصتی نہیں ہوئی اور طلاق ہوگئی ہے تومرد کو نصف مہر دینا ہوگا۔ ارشاد ہے:

وَاِنْ طَلَّقْتُمُوھُنَّ مِن قَبلِ اَنْ تَمَسُّوھُنَّ وَقَدفَرَضْتُم لَھُنَّ فَرِیْضہً فَنِصفُ مَافَرَضْتُم اِلَّااَنْ یَّعفُونَ اَوْیَعْفُوَا الَّذِی بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِکَاحْ وَاَنْ تَعْفُواَقْرَبُ لِتََّقویٰ وَلاَتَنسَوُ االْفَضْلَ بَینکُم اِنَّ اللّٰہ بِمَاتَعْمَلُونَ بَصِیْرَُ۔ (بقرۃ 2- ،آیت 237-)
’’ اور تم نے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دی لیکن مہر مقرر کیاجاچکاہو، تواس صورت میں نصف مہر دینا ہوگا۔ البتہ عورت چاہے تونرمی برت سکتی ہے یا وہ مرد ، جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے ، چاہے تونرمی برت سکتاہے ۔اور اگرتم (مرد)نرمی سے کام لو (اورپورامہر دے دو) تویہ تقویٰ سے زیادہ مناسبت رکھتاہے۔ آپس کے معاملات میں فیاضی کونہ بھولو، تمہارے اعمال کواللہ دیکھ رہاہے۔‘‘

درج بالاہدایت کے پیش نظر ہمارا موقف یہ ہے کہ معاہدہ نکاح میں عورت کو حق طلاق تفویض نہیں کیاجاسکتا۔
ہمارے درج بالا موقف کے برعکس عام رائے کی دلیل یہ ہے کہ کہ سورۃ احزاب 33- ، کی آیت 28- کے ذریعہ پروردگار نے حضورؐ کوہدایت کی کہ اگر آپؐ کی بیویاں دنیااور اس کی زینت کی طالب ہوں توانہیں کچھ دے دلاکر کربھلے طریقے سے رحصت کردیں چنانچہ حضورؐ نے اپنی سب بیویوں کو اجازت دی کہ وہ چاہیں توآپؐ سے علیحدہ ہوجائیں ۔ چنانچہ اسی طرح ہرمسلمان چاہے تواپنی بیوی کو علیٰحیدگی کاحق تفویض کرسکتاہے۔ یہ دلیل صحیح نہیں ہے ۔ اس لئے کہ سورۃ احزاب میں حضوؐر اور آپؐ کی ازواج سے متعلق خصوصی قوانین بیان ہوئے ہیں جو بحیثیت رسولؐ صرف آپؐ ہی کے ساتھ خاص تھے اور جن کا کوئی تعلق عام مسلمانوں سے نہیں ہے۔ یہاں بھی اگر آپؐ کی ازواج کو علیحدگی کاحق دیاگیاہو تو اس کی وجہ ، خود قرآن مجید کے مطابق ، یہ نہیں تھی کہ یہ عام حق ہے جوسب کو دیاجانا مقصودہے۔بلکہ اس وجہ کی تصریح قرآن مجید نے خود ہی یہ کہہ کر کردی کہ کاررسالتؐ بہت پُرمشقت ہے اور اگرحضوؐر کی ازواج میں سے کوئی اس سخت کام کاساتھ نہیں د ے سکتی۔ تومناسب یہ ہے کہ وہ حضوؐر سے علٰیحدگی اختیار کرلے۔ چنانچہ ارشاد ہے:

یٰٓاَاَیُّھَاالنَّبیُّ قُلْ لِاَّزْوَاجِکَ اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنیا وَزِینَتھَافَتَعَالَینَ اُمَتِّعْکُنَّ وَاُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیلاً۔ (سورۃ احزاب 33- ،آیت 28-)
’’اے نبیؐ اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگرتم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہوتو آؤ میں تمہیں کچھ دے دلاکر بھلے طریقے سے رخصت کردوں‘‘

ظاہرہے کہ دنیا او ر اس کی زینت خودقرآن ہی کی واضح تصریح کے مطابق ، سب لوگوں کے لئے جائز ہے۔ صرف حضورؐاور آپؐ کی ازواج کو اس کی اجازت نہیں تھی۔ اسی لئے آگے بتادیاگیا کہ نبیؐ کی بیویوں کی خصوصی حیثیت ہے۔ یٰانساءَ النبی لستن کاحدٍ من النساء : نبی ؐ کی بیویوں تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو‘‘ آگے انہی ازواج مطہرات ؐ ہی کے سلسلے میں حضوؐر سے ارشاد فرمایا گیاہے:  
خالصتاً لَّک مِن دون المومینین. ’’ یہ رعایت خالصتاً تمہارے لئے ہے، دوسرے مومنوں کے لئے نہیں ہے۔‘‘

سورہ احزاب کے بغورمطالعے سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوئی ہے کہ حضورؐ کے لئے قانون نکاح وطلاق عام لوگوں سے بہت مختلف تھا۔ اسی لئے اس کاطلاق عمومی معاملات میں نہیں کیاجاسکتا۔ چنانچہ صحیح بات یہی ہے کہ مرد کو طلاق دینے کا حق ہے اور عورت کو طلاق( یا باالفاظ دیگر خلع) لینے کا پوراحق ہے۔ اور جب عورتوں کوطلاق لینے کا پوراحق موجود ہے تواسے حق طلاق تفویض کرنے کے کوئی معنی نہیں رہتے۔
اگلاسوال یہ ہے کہ کیا یہ لازم ہے کہ عورت کی طرف سے طلاق لینے یعنی خلع کی صورت میں وہ لازماً سارامہر واپس کرے گی۔ 
اس کاجواب یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے ۔ قرآن وحدیث سے جوکچھ ثابت ہے وہ یہ ہے کہ اگر شوہر نے بیوی کو بہت کچھ دے رکھاہے۔ اس صورت میں ایک مناسب تصفیہ کے ذریعے اس میں سے کچھ چیزیں شوہرکو واپس کردی جائیں اور کچھ کا حصہ ہو ، تویہ سب سے مناسب صورت ہے۔ لیکن اگرمعاملہ عدالت تک پہنچ جائے تو عدالت تمام حالات کاجائزہ لے کر ہرمعاملے میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گی۔ قرآن مجید کا ارشاد ہے:

الطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ فَاِمْسَاکٌ بِمعروفٍ اَوْتَسْریْحٌ بِاحسانٍ وَلاَیَحِلُّ لَکُم اَنْ تَاْخُذُوا مِمَّااٰتَیتُموھُنَّ شیءًا اِلآّ اَنْ یَّخَافآ اَلاَّیُقِیمَاحُدُودَاللِہ فَاِن خِفْتُم اَلَّایُقِیمَا حُدُودُاللِہ فَلَاجُنَاحَ عَلَیِھمَافِیمَا افْتَدتْ بہٖ تِلْکَ حُدُُودُاللہِ فَلَاتَعتدُوھَا وَمَنْ یَّتعَدَّو حُدُودَاللہِ فَاُولٰٓءِک ھُمُ الظّٰلِمُونَ۔) بقرہ 2- آیت 229) 
’’ (اے مردو!) تمہارے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ تم نے جوکچھ عورتوں کو دیاہے ، اُس میں سے کچھ بھی واپس لو۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ تمہیں اندیشہ ہو کہ دونوں میاں بیوی (ایک دوسرے کے حقوق کے معاملے میں) اللہ کی حدود (یعنی ہدایات) پرقائم نہ رہ سکیں گے۔ اس لئے اگر تمہیں یہ ڈرہو کہ وہ دونوں (میاں بیوی کی حیثیت میں) اللہ کی ہدایات پر قائم نہ رہ سکیں گے۔ توان پر ان دونوں کے درمیان یہ معاملہ ہوجانے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ عورت اپنے شوہر کو (اس کی دی ہوئی چیزوں میں سے) کچھ معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کرلے۔ یہ اللہ کے مقرر کردہ حدود ہیں۔ ان سے تجاوز نہ کرو۔ جو لوگ حدود الٰہی سے تجاوزکریں یقیناً وہ ظالم ہیں ‘‘

اس کی تشریح میں صحیح بخاری کتاب الطلاق کا ایک واقعہ پر روشنی ڈالتاہے۔ اس روایت کے مطابق:

’’ ثاقب بن قیسؓ کی بیوی حضورؐ کے پاس آئی اور کہا۔ یا رسول اللہؐ : میں ثاقب کے اخلاق یا دین پر کوئی اعتراض نہیں کرتی۔ مگر مجھے اپنی طرف سے اسلام میں کفر کاخوف ہے۔ اس پر حضوؐر نے اُس سے دریافت کیا : کیا تم اس باغ کو واپس کردوگی جواُس نے تمہیں دیاتھا؟ اس نے جواب دیا : ہاں ۔ چنانچہ اس نے وہ باغ واپس کر دیا اورحضوؐر نے دونوں کے درمیان علیحدگی کا حکم دے دیا‘‘

درج بالاروایت میں ایک خاتون کی زبانی فقرہ نقل کیا گیا ہے : ’’مگر مجھے اسلام کفرکا خوف ہے‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر نفرت کے باؤجود میں اپنے شوہر کے ساتھ رہی تومجھے اندیشہ ہے کہ میں ان ہدایات کی پابندی نہ کرسکوں گی جوشوہرکی اطاعت اور وفاداری کے ضمن میں پروردگار نے دئے ہیں۔
درج بالاروایت میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ ثاقب نے ایک قیمتی چیز یعنی ایک باغ اپنی بیوی کو بطورتحفہ یا مہردیا تھا۔ ظاہر ہے کہ جب بیوی اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تھی تو اس بات کا کوئی جواز نہیں تھا کہ وہ اتنی قیمتی چیز اپنے پاس رکھے۔چنانچہ حضوؐر نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ یہ باغ واپس کرنے کوتیار ہے؟ اس سے یہ نتیجہ نکلتاہے کہ جب بھی عدالت کے سامنے اس طرح کا کیس آئے تو یہ لازم ہے کہ وہ تمامعوامل کو اپنے سامنے رکھ کر تحفوں یا مہر کے کچھ حصوں کی واپسی کا فیصلہ کرے ۔ ان عوامل میں بیوی کی شوہر کے ساتھ گزری ہوئی مدت ، بچے ، شوہر کا مزاج ، موجود حالات اور دوسری اہم باتیں شامل ہوسکتی ہیں۔
اگلاسوال یہ ہے کہ قرآن مجید میں ایک لفظ استعمال ہواہے۔ ’’ ابلاء‘‘ اس کا کیا مطلب ہے؟ 
اس کا جواب یہ ہے کہ بعض اوقات شوہراور بیوی کے درمیان ناراضگی اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ شوہر بیوی سے جنسی اور دوسرے تعلقات نہ رکھنے کی قسم کھالیتاہے۔ اس صورت میں پروردگار کی ہدایت یہ ہے کہ ایسے شوہر چارمہینے کے اندر اندر یہ فیصلہ کرلیں کہ انہیں صحیح تعلق رکھنا ہے یا طلاق دینی ہے۔ شوہر اور بیوی کے درمیان اس سے زیادہ قطع تعلق کی اجازت نہیں ۔ ارشاد ہے:

لِلَّذِیْنَ یُؤلُونَ مِنَ نِسآءَِھِم تَرَبُّصُ اَرْبَعَۃِ اَشْھُرٍ فَاِنْ فَآءُ و فَاِنَّ للّٰہَ غَفُورٌرَحِیمْ۔وَاِنْ عِزَمُواالطَّلَاق فَاِنَّ اللَّہ سَمِیعٌ عَلِیمُ۔ (سورۃ بقرہ 2- ،آیت 227-226)
’’جولوگ اپنی عورتوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھابیٹھتے ہیں ۔ ان کے لئے چارمہینے کی مہلت ہے۔ اگر انہوں نے رجوع کرلیا تو اللہ معاف کرنے والا اور رحیم ہے۔ اور اگرانہوں نے طلاق ہی کی ٹھان لی ہو توجانے رہیں کہ اللہ سب کو سنتاہے اور جانتاہے ‘‘

اگلاسوال یہ ہے کہ قرآن مجید میں ایک اور لفظ استعمال ہواہے۔ ’’ظہار‘‘ اس کا کیا مطلب ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ حضوؐر کے زمانے کے عرب کلچر میں ایک طریقہ تھاکہ جب شوہر اور بیوی میں ناراضگی ہوتی اور شوہر بیوی سے کہتا کہ : ’’ تومیرے لئے ماں کی طرح ہے‘‘اُس زمانے میں یہ بات طلاق سے بھی زیادہ شدید سمجھی جاتی تھی۔ اس لئے کہ اسلام سے پہلے عرب کلچر میں بھی طلاق کے بعد رجوع کی گنجائش تھی مگر ظہارکے بعد رجوع کا کو ئی امکان باقی نہ رہتا۔
چونکہ یہ سب کچھ عام طورپر انتہائی غصے کے عالم ہوتا اور فریقین اس کے بعد کئے پربہت نادم ہوتے ۔ اس لئے پروردگار نے س کو طلاق تسلیم کرنے سے انکار کردیااور اس کے لئے ہدایات دے دی۔ 
قرآن مجیدسے معلوم ہوتاہے کہ ایک خاتون ظہار کے متعلق اپنا معاملہ حضوؐر کے سامنے لے آئی اور اس کے ساتھ اس نے یہ فریاد بھی کی کہ اگر اس کا شوہر اس سے جداکردیا گیا توپوراخاندان تباہ ہو کر رہ جائے گا۔ مختلف روایات میں اس امر کی تصریح ہے کہ یہ خاتون حضرت خویلہؓ تھیں اور ان کے خاوند اوسؓ نے ان سے ظہار کیا تھا۔ چنانچہ اس بارے میں قرآن مجید کی ہدایت نازل ہوئی ۔ اس ہدایت سے معلوم ہوتاہے کہ اسلام حتی الوسع خاندان کی حفاظت کرتاہے اور اسے ٹوٹنے سے بچاتا ہے۔ سورۃ مجادلہ میں ارشاد ہے:

قدسمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا وتشتکی اللہ واللہ یسمع تحاورکما ا ن للہ سمیع بصیر۔الذین یظٰھرون منکم من النسآءِھم ماھن امھٰتھم ان امھٰتھم الاالیی وولدنہم ونھم لیقولون منکراً من القول وزوراً وان اللہ لعفواغفور۔ والذین یظٰھرون من نسآ ءِھم ثم یعودون لماقالوا فتحریررقبۃ من قبل ان یتمآسا ذٰلکم توعظون بہٖ واللہ بماتعملون خبیر۔ فمن لم یجد فصیام شھرین متتابعین من قبل ان یتمآ سافمن لم یستطع فاطعام ستین مسکینا ذلک لتومنواباللہ ورسولہ وتلک حدوداللہ وللکٰفرین عذاب الیم۔ (سورۃ مجادلہ 58- ،آیت 4-1 )
’’اللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو اپنے شوہر کے معاملے میں تم سے تکرار کررہی ہے اور اللہ سے فریاد کئے جاتی ہے۔ اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہاہے ۔ وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔ تم سے جولوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں ، ان کی بیویاں ، ان کی مائیں نہیں ہیں۔ ان کی مائیں وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے۔ یہ لوگ ایک سخت ناپسندیدہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑامعاف کرنے والااور درگزر فرمانے والاہے۔ جولوگ اپنی بیویوں سے ظہارکریں پھر اپنی اس بات رجوع کریں جوانہوں نے کہی تھی ، تو قبل اس کے دونوں ایک دوسرے کوہاتھ لگائیں ایک غلام آزاد کرناہوگا۔ اس سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے اور جوکچھ تم کرتے ہو،اللہ اس سے باخبر ہے اور جو شخص غلام نہ پائے وہ دومہینے کے پے درپے روزے رکھے۔ قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔ اور جو اس پربھی قادرنہ ہووہ ساٹھ مسکینوں کو کھاناکھلائے۔ یہ حکم اس لئے دیا جارہاہے کہ اللہ اور اس کے رسول پرتمہارا ایمان راسخ ہو۔ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں اور کافروں کے لئے دردناک سزاہے۔‘‘ 

ہماراخیال یہ ہے کہ ظہار کے متعلق درجہ بالا ہدایا ت سے غصے کے عالم میں دی گئی تین طلاقوں کے بارے میں ہمارے موقف کی بالواسطہ تائیدہوتی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ بات دین کی روح کے عین مطابق ہے کہ بیک وقت تین طلا قوں کو قانونی طور پر ایک ہی طلاق تسلیم کرتے ہوئے شوہر پر درج بالاسزا بھی ریاست کی طرف سے نافذکردی جائے۔
اگلاسوال یہ ہے کہ لعان نامی اصطلاح کا کیا مطلب ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ایک مرد اپنی بیوی کے پاس کسی دوسرے مردکو بحالت زنادیکھ لے ۔ اور اس کے پاس اپنے علاوہ کوئی گواہ نہ تو وہ اور اس کی بیوی دونوں عدالت کے سامنے پیش ہونگے ۔ مردشہادت کے طورپر پانچ قسمیں کھائے گا۔ اور اگرعورت اس الزام کوجھٹلانا چاہتی ہے تووہ بھی پانچ قسمیں کھائے گی اور اس کے بعد یہ دونوں ہمیشہ کے لئے ایک دوسرے سے جداہوجائیں گے۔ سورۃ نور میں ارشاد ہے:

وَالذِینَ یرَْمُونَ ازواجَہُم وَلَمْ یَکُنْ لَھُمْ شُھَداءُ اِلاآاَنفُسَھُم فَشَھَادۃُ اَحَدِھِم اَربَعُ شَھٰدٰتٍ بِاللّٰہِ اِنَّہُ لَمِنَ الصّٰدِیقِین۔وَیَدْرَواعَنْھَاالْعَذاَبَ اَنْ تَشْھَدَ اَربَع شھٰدٰتٍ بِاللہِ اِنہ‘ لَمِنَ الْکٰذِبِینْ۔ وَالْخَامِسۃُ اَنْ لَعْنَتَ اللّٰہِ عَلَیہِ اِنْ کَانَ مِنَ الْاکٰذِبِینْ۔ وَالْخَامِسۃُ اَنَّ غَضَبَ اللّٰہِ عَلَیھَااِن کاَنَ مِن الصّٰدِقِین۔ (سورہ نور 24- ،آیت 9-6)
’’جولوگ اپنی بیویوں پرالزام لگائیں اور ان کے پاس خود ان کے اپنے سوادوسرے کوئی گواہ نہ ہوں۔ تو ان کی گواہی کا طریقہ یہ ہے کہ چاربار اللہ کی قسم کھاکر کہیں کہ ان پراللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹے ہوں اور عورت سے سزا اس طرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار بار اللہ کی قسم کھاکرکہے کہ یہ شخص جھوٹاہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ مجھ پر اللہ کا غضب ہو اگر یہ شخص سچا ہو۔‘‘