تاہم اگر معاشرتی صورت حال کچھ ایسی ہو جائے مثلاً جنگ کے نتیجے میں بے شمار بیوائیں اور یتیم بچے معاشرے میں بے سہار اہو جائیں یا کسی مرد کے ہاں اس کے بیوی سے اولاد ہی نہ ہو تو ایسے حالات میں مرد ، پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کرسکتا ہے۔ لیکن ان حالات میں قرآن مجید نے دو شرائط لگائیں۔ ایک یہ کہ مرد اپنی بیویوں کے درمیان انصاف کرسکے اور دوسری یہ کہ چار کی تعداد سے زیادہ شادیاں نہیں کی جاسکتیں۔
قرآن مجید میں جس مقام پر یہ اجازت آئی ہے۔ اس کی تفصیل یوں ہے کہ ریاست مدینہ پر قریش کے مشرکین کی طرف سے دوسرے حملے جسے جنگ احد کہاجاتا ہے کے نتیجے میں بہت سے مسلمان شہید ہوئے۔ جس کے نتیجہ میں بہت سی عورتیں بیوہ ہوگئیں۔ اور بہت سے بچے بچیاں یتیم ہوگئیں۔ چنانچہ مسئلہ پیش آگیا کہ یہ یتیم بچے بعیر باپ کے پرورش پاتے رہیں۔ تو ان کی حق تلفی اور محرومی کا اندیشہ ہے کیونکہ ایک نوجوان عام طور پر بچوں والی بیوی سے شادی کرنا پسند نہیں کرتا۔ اس لیے قرآن مجید نے لوگوں کو یہ مسئلہ اس طریقہ سے حل کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کی:

وَاِنْ خِفْتُم اَلَّاتُقْسِطُوا فِی الْیتٰمٰی فَانْکِحُوامَاطَابَ لَکُم مِنَ النِسآءِ مَثْنیٰ وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ فَاِنْ خِفُتُم اَلَّاتَعْدِلُوا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَامَلَکَتْ اَیْمَانُکُم ذَلِکَ اَدْنیٰ اَلَّاتَعُولُوا۔ (نساء۔ 4 آیت:3)
’’(اے مسلمانو!) اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم (جنگ احد میں شہید ہونے والوں) کے معاملے میں انصاف نہ کرسکوگے تو (ان بیوہ) عورتوں میں سے جو تمہارے لیے جائز ہوں ان میں سے دو ، تین ، یا چار تک نکاح کرلو۔ اور اگر ڈر ہو کہ ان کے درمیان انصاف نہ کرسکوگے تو ایک ہی پر بس کرو‘‘

آگے ارشاد ہے:

وَلَنْ تَسْتَطِیعُوا اَنْ تَعْدِلُوابَینَ النِسآءِ وَلَوْحَرَصْتُم فَلَاتَمِیلُواکَلَّ الْمَیلِ فَتَذَرُوھَاکَالْمُعَلَّقَۃِ وَاِن تُصْلِحُوا وَتَتَّقُوافَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُورًارَحِیْمًا۔(نسا4-، آیت 129)
’’ بیویوں کے درمیان پوراپورا عدل کرنا تمہارے بس میں نہیں ہے۔ تم چاہو بھی تواس پر قادر نہیں ہوسکتے۔ لہٰذا ایک بیوی کی طرف اس طرح نہ جھک جاؤ کہ دوسری کو ادھر لٹکتاچھوڑدو۔ اگرتم اپنا طرزعمل درست رکھو اورا للہ سے ڈرتے رہوتواللہ چشم پوشی کرنے والا اور رحم فرمانے والاہے‘‘

گویا ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت تو ہے مگر یہ کوئی کھلا لائسنس نہیں کہ جب چاہا ایک بیوی گھر میں لاکر بسا دی۔ بلکہ اس ضمن میں دو شرائط بالکل واضح ہیں۔ ایک یہ کہ ایسا صرف ناگزیر معاشرتی حالات میں کیا جاسکتا ہے۔ اور دوسری یہ کہ سب بیویوں کے درمیان حتی الامکان عدل اورانصاف لازم ہے۔
یہاں آج کے حالات کے لحاظ سے ایک اہم سوال پیداہوتاہے وہ یہ کہ موجودہ مسلمان معاشروں میں اس اجازت سے اس کی روح کے خلاف غلط فائدہ اٹھایا جارہاہے۔ لوگ بغیر کسی مناسب وجہ کے ایک سے زیادہ شادیاں کرلیتے ہیں اور ایساکرنے کے بعد دونوں بیویوں کے درمیان عدل سے کام بھی نہیں لیتے بلکہ عموماً حق تلفی سے کام لیتے ہیں ۔ چنانچہ ایسے حالات میں کیا ایک مسلمان ریاست کو یہ اخیتار ہے کہ وہ معاشرے کوظلم وستم سے بچانے اور عورتوں کے حقوق کی خاطر مناسب قانون سازی کرے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ ایک مسلمان ریاست کو ہروہ قانون سازی کرنے کا اختیارہے جس کے ذریعے وہ ظلم وبے انصافی کو روک سکتی ہو۔ معاشرے میں عدل کا قیام اور بے انصافی کاخاتمہ ایک مسلمان حکومت کے لئے فرض اولین ہے۔ یہ بات قرآن مجید میں کئی مقامات پر بہت واضح الفاظ میں آئی ہے۔ (مثلاً سورہ نساء آیت 54- اور سورہ حج آیت 41-) ۔ چنانچہ آج کے حالات میں یہ ضروری ہے کہ ایسی قانون سازی کی جائے جس کے مطابق جب ایک مردجب دوسری ، تیسری یا چوتھی شادی کرنا چاہے توعدالت سے اس کی پیشگی اجازت لے۔ تاکہ وہ عدالت میں یہ ثابت کرے کہ اس کی ناگزیرمعاشرتی حالات کے پیش نظر اس کے لئے ایساکرناضروری ہے۔ دوسرایہ کہ اس موقعہ پر عدالت ایک باقاعدہ آرڈر کے ذریعے اسے اس بات کا پابند کرے کہ وہ عملی طورپر کس طرح سب بیویوں کے درمیان تمام حقوق کے ضمن میں انصاف سے کام لے گا۔ اوراگروہ اس کی خلاف ورزی کرے گا تو اسے سزادی جائے گی اور اسے یہ حقوق دینے پر مجبورکیاجائیگا۔
اس کے ساتھ ساتھ خواتین میں یہ شعور بیدار کرناضروری ہے کہ وہ معاہدہ نکاح میں اس شرط کو شامل کرسکتی ہیں کہ خاوند مزید شادیاں نہیں کرے گا یا پھر مزید شادیوں کی صورت میں اس پر کچھ خاص پابندیاں عائد ہونگی۔
یہاں ایک سوال یہ بھی ذہن میں اٹھ سکتاہے کہ کہ اگرمرد کومخصوص حالات میں چارتک شادیاں کرنے کی اجازت ہے توعورت کو کیوں یہ اجازت نہیں؟ 
اس کا جواب یہ ہے کہ مردوعورت کے اس رشتے میں ایک چھوٹی سی مملکت کا سربراہ مردہے۔ جس طرح کسی ریاست کے ایک سے زیادہ سربراہ نہیں ہوسکتے۔ اسی طرح ایک گھرمیں دوخاوند نہیں ہوسکتے۔ جہاں تک بعض مخصوص صورتوں کا تعلق ہے مثلاً یہ کہ خاوند azoospermicہے۔ وہاں بیوی چاہے تواس سے علیحدگی اختیار کرسکتی ہے اور ایسے مردکے لئے بھی یہ بہت مناسب ہے کہ وہ کسی بچوں والی بیوہ سے شادی کرلے۔ تاہم یہ حقیقت ذہن میں رکھنی چاہئیے کہ عورت کے دل میں قدرت نے وفاداری ، ہمدردی اور قربانی کا ایسا عظیم جذبہ رکھا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ وہ عموماً ایسے مرد کو کبھی چھوڑ تی نہیں بلکہ اس کی خدمت میں اسے اطمینان قلب اورخوشی ملتی ہے۔ 
اسلام کے مطابق میاں بیوی کارشتہ مقدس اوربہت اہمیت کاحامل رشتہ ہے۔ اوروہ چاہتاہے کہ یہ رشتہ ہرممکن حد تک برقراررہے۔ تاہم بعض اوقات ایسی صورت حال جنم لیتی ہے جہاں شوہر اور بیوی کا نباہ ممکن نہیں رہتا۔مثلا ً کوشش کے باوجود طبیعتیں آپس میں نہیں ملتیں اوراس بنا پر اختلافات پیداہوجاتے ہیں ۔ دونوں طرف ایک دوسرے کی حق تلفی کرتے ہیں ۔ غرض یہ کہ اس طرح کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں ، جن میں علیحدگی ناگزیرہوجاتی ہے۔ چنانچہ ایسی صورت میں اسلام یہ اجازت دیتاہے کہ ایک اصول اورضابطے کے مطابق میاں بیوی اس بندھن سے آزادہوجائیں ۔ تاہم یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ ہمارے دین میں طلاق ، حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیزہے۔ 
اس کے بعد اگلاسوال یہ پیداہوتاہے کہ اسلام میں طلاق کا عملی طریقہ کیاہے؟
قرآن مجید میں طلاق کے احکام بہت تفصیل سے بیان ہوئے ہیں ۔ چنانچہ ہم پہلے ان کا ایک خلاصہ بیان کریں گے اور اس کے بعد چند متعلقہ آیا ت قرآنی اور چند روایات کے ذریعہ وضاحت کریں گے۔ 
اگرایک مرد اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہے تواسے چاہیے کہ وہ حیض کے اندر طلاق نہ دے، بلکہ ان ایام کے گزرنے کے بعد ، جبکہ ابھی اس نے اپنی بیوی سے خلوت نہ کی ہو، اپنی بیوی کو ایک طلاق دے۔ اس طلاق کے بعد عورت ، مزید تین دفعہ حیض آنے تک ، اپنے شوہرکے گھرہی میں ٹھہری رہے گی۔ اس دوران میں مرد ، عورت کی تمام ضروریا ت کا مکمل خیال رکھے گا۔ اس دوران میں (جواندازً تین مہنے بنتی ہے) مرد اگراپنی اس طلاق سے رجوع کرنا(لوٹنا ) چاہے تورجوع کرسکتاہے۔ چنانچہ وہ اپنی بیوی سے اپنا منقطع تعلق بحال کرلے اوریہ دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے دوبارہ زندگی گزارنے لگ جائیں۔
اگرتین حیض کی اس مدت کے دوران میں شوہر نے بیوی سے رجوع نہ کیا تواس مدت کے گزرنے کے بعد دونوں ایک دوسرے سے علیحدہ ہوجائیں گے۔ اس علیحدگی کا معاملہ یہ ہے کہ اس کے بعد ، کسی وقت بھی ، اگریہ دونوں میاں بیوی بنناچاہیں تواپنی آزادنہ مرضی سے دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔ 
اگردوسری دفعہ پھر کبھی زندگی میں شوہر اپنی بیوی کوطلاق دینے کا ارادہ کرلے تووہ اسی طرح طلاق دے گا اوراسی طرح اسے جداکرے گا۔ 
لیکن اگروہ تیسری مرتبہ پھراپنی بیوی کوطلاق دے دے تو اس کے بعد یہ دونوں آپس میں نکاح نہیں کرسکتے۔ لیکن اس تیسری طلاق کے بعد اگرعورت کہیں اورنکاح کرلے اور اس کاوہ شوہراتفاق سے مرجائے یا اسے طلاق دے دے تووہ ایک دفعہ پھرپہلے والے خاوند سے نکاح کرسکتی ہے ۔ اس مسئلے کا تفصیلی ذکر آگے آئے گا۔ 
مرد کے برعکس ، اگربیوی اپنے شوہرسے علیحدہ ہوناچاہے تووہ اپنے خاوند سے ایک طلاق کا مطالبہ کرے گی ۔ا گرخاوند اس کا یہ مطالبہ نہ مانے توعورت عدالت کے ذریعے سے خاوندسے طلاق کا مطالبہ کرے گی۔ عدالت کاکام صرف یہ ہوگاکہ وہ یہ دیکھے کہ عورت ، واقعتا اپنی آزادانہ مرضی سے طلاق حاصل کرناچاہتی ہے۔ عدالت اس کھوج میں نہیں پڑے گی کہ عورت کیوں طلاق حاصل کرناچاہتی ہے۔ اس صورت میں عدالت شوہر کو یہ حکم دے گی کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دیدے۔ اس طرح میاں بیوی علیحدہ ہوجائیں گے۔ 
بعد میں اگریہ دونوں چاہیں توآپس میں اپنی آزادنہ مرضی سے دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں ۔ اگر دوسری دفعہ بھی علحدگی ہوگئی توپھریہ نکاح کرسکتے ہیں لیکن اگرتیسری دفعہ بھی علیحدگی ہوگئی تو اس کے بعد یہ دونوں آپس میں نکاح نہیں کرسکتے۔ اب صرف ایک ہی صورت ہے جس کاذکر ہم بعد میں کریں گے۔ گویاشوہر طلاق دیتاہے اورعورت طلاق لیتی ہے۔ قرآن مجید کا یہ قانون ، قانون طلاق سورۃ بقرہ آیت 141,237,236,231,229,228 سورۃ احزاب آیت 49- ،سورۃ طلاق آیت 14,6اورسورہ نساء آیت 21,19میں بیان ہوا ہے۔

وَالْمُطلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوٓءٍ وَلَایَحِلُّ لَھُنَّ اَنْ یَّکْتُمْنَ مَاخَلقَ اللِہ فِی اَرحَامِھِنَّ اِنْ کُنَّ یَؤمِنَّ باِللّٰہِ وَالیَومِ الْاخِرِوَبُعُولَتُھَُنَّ اَحَقَّ بِرَدِّھِنَّ فِی ذَلِکَ اِنْ اَرَادُوآاِصْلاحاً وَلَھُنَّ مِثْلُ الذِّی عَلَیِھنَّ بِالْمَعرُوف وَلِلرِّجَالِ عَلِیھِنَّ دَرَجَۃُ وَاللّٰہُ عَزِیزٌُ حَکِیم۔ الطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ فَاِمْسَاکٌ بِمعروفٍ اَوْتَسْریْحٌ بِاحسانٍ وَلاَیَحِلُّ لَکُم اَنْ تَاْخُذُوا مِمَّااٰتَیتُموھُنَّ شیءًا اِلآّ اَنْ یَّخَافآ اَلاَّ یُقِیمَا حُدُودَ اللِہ فَاِن خِفْتُم اَلَّایُقِیمَا حُدُودُاللِہ فَلَاجُنَاحَ عَلَیِھمَافِیمَا افْتَدتْ بہٖ تِلْکَ حُدُُودُاللہِ فَلَاتَعتدُوھَا وَمَنْ یَّتعَدَّو حُدُودَاللہِ فَاُولٰٓءِک ھُمُ الظّٰلِمُونَ۔ فَاِنْ طَلَّقَھَافَلَاتَحِلُّ لَہ‘ مِنْ بَعْدُحَتیّٰ تَنکِحَ زَوجاً غَیْرَہ‘ فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَاجُنَاحَ عَلَیھِمَآ اَنْ یَّتَرَاجَعَاًاِنْ ظَنَّااَنْ یُقِیْمَاحُدُوَداللِہ وَتِلکَ حُدُودَاللہِ یُبَینِّھُمَالِقَومٍ یَعْلَمُون۔وَاِذَاطَلَّقْتُمُ الِنسآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَاَمْسِکُوھُنَّ بِمَعْرُوفٍ اَوْسَرِّحُوھُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَلَاتَمْسِکَوھُنَّ ضِرَاراً لِتَعْتَدُوا وَمَنْ یَّفْعَل ذَلِکَ فَقَدْظَلَمَ نَفْسَہ، (بقرہ 2- ،آیت 231-228)
’’ مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں گی اور اگروہ اللہ اور روزآخرت پر ایمان رکھتی ہیں توان کے لئے جائز نہیں ہے کہ اللہ نے ان کے رحموں میں جوکچھ پیداکیا ہے اسے چھپائیں۔ ان کا شوہر تعلقات درست کرلینے پرآمادہ ہو تووہ اس عدت کے دوران میں انہیں پھرزوجیت میں واپس لے لینے کے حقدارہیں۔ عورتوں کے لئے بھی معروف طریقے پرویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں ۔ البتہ (شوہر کی حیثیت سے) مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے اور سب پر اللہ غالب اقتدار رکھنے والااورحکیم ودانا موجود ہے۔ یہ طلاق (جس کے بعد عدت کے دوران میں مرد کو رجوع کا حق حاصل ہے) دومرتبہ ہے۔ پھریاتودستورکے مطابق عورت کو روک لیاجائے یا احسان کے ساتھ رخصت کردیاجائے۔ اوررخصت کرتے ہوئے ایساکرناتمہارے لئے جائزنہیں ہے کہ جوکچھ تم انہیں دے چکے ہو اس میں سے کچھ واپس لے لو۔ البتہ یہ صورت مستثنیٰ ہے کہ زوجین کواللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا اندیشہ ہو ۔ ایسی صورت میں اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں حدود الہٰی پرقائم نہ رہیں گے توان دونوں کے درمیان یہ معاملہ ہو جانے میں مضائقہ نہیں کہ عورت اپنے شوہر کو کچھ معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کرلے۔ یہ اللہ کے مقررکردہ حدود ہیں ۔ ان سے تجاوز نہ کرو اور جولوگ حدود الہٰی سے تجاوزکریں وہی ظالم ہیں۔ پھر اگر (دوبارہ طلاق دینے کے بعد شوہر نے عورت کو تیسری بار) طلاق دے دی تووہ عورت پھر اس کے لئے حلال نہ ہوگی۔ الاّ یہ کہ اس کانکاح کسی دوسرے شخص سے ہو اور وہ اسے طلاق دے دے۔ تب اگر پہلا شوہر اور یہ عورت خیال کریں کہ حدود الٰہی پرقائم رہیں گے، توان کے لئے ایک دوسرے کی طرف رجوع کرلینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ یہ اللہ کی مقررکردہ حدود ہیں جنہیں وہ ان لوگوں کی ہدایت کے لئے واضح کررہاہے جو (اس کی حدود کو توڑنے کاانجام جانتے ہیں) اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اوران کی عدت پوری ہونے کو آجائے تویا بھلے طریقے سے ان کوروک دو یابھلے طریقے سے انہیں رخصت کردو۔ محض ستانے کی خاطر انہیں نہ روکے رکھنا ۔ اسلئے کہ یہ زیادتی ہے۔ اور جوایساکرے گا وہ درحقیقت آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرے گا۔‘‘

مزید ارشاد ہے:

یٰٓاَیااَیُّھَاالنَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُم الِنّسآءَ فَطَلِقُّوھُنَّ لَعِدَّتِھِنَّ وَاَحْصُواالْعِدَّۃَ وَاتَّقُوااللّٰہَ رَبَّکُم لَاتُخْرِجُوھُنَّ مِن بُیُوتِھِنَّ وَلَایُخْرُجْنَ اِلَّااَنْ یَّاْتِینَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبیِّنۃوَتِلکَ حُدُودُاللہِ وَمَنْ یَتَعَدَّحُدُودَاللِہ فَقَدظَلَمَ نفَسہ‘ لَاتَدْرِی لَعَلَّ اللہَ یُحْدِثُ بَعدَذٰلِکَ اَمْرَاً۔ (طلاق65- ،آیت 1)
’’ جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے حساب سے طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو اور اپنے پروردگار سے ڈرتے رہو۔ انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالواور نہ وہ خود ہی نکلیں الاّ یہ کہ وہ کسی کھلی بدکاری (یعنی زنا ) کی مرتکب ہوں ۔ یہ اللہ کے مقررکئے ہوئے حدود ہیں اور جواللہ کے حدود سے تجاوزکریں گے توانہوں نے اپنی ہی جانوں پرظلم ڈھایا ۔ تم نہیں جانتے شاید اللہ اس کے بعد کوئی اور صورت پیداکردے‘‘

قانون طلاق کی درج بالا تصریح کے بعد اب ہم اس ضمن میں پیداہونے والے چندسوالات کا جائزہ لیں گے۔
پہلاسوال یہ ہے کہ اگرکسی طہر (یعنی وہ ایام جن میں عورت ماہواری کے ایام میں نہیں ہوتی) میں جب کہ عورت اورمرد کے درمیان صحبت ہوچکی ہو، کوئی مرد طلاق دے دے تو اس کے بارے میں دین کی ہدایت کیا ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید کی ہدایت کے مطابق عدت کاحساب ضروری ہے ۔ چونکہ ایسی حالت میں عدت کا صحیح حساب رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ کیونکہ معلوم نہیں عورت حاملہ ہوجائے یا نہ ہوجائے۔ اس لئے ایسی طلاق کی کوئی حیثیت نہیں۔ ایسے فرد کو چاہیئے کہ عورت کے ایام ماہواری کا انتظارکرے ۔ جب عورت اس سے پاک ہو جائے ، تب وہ طلاق دے ۔ اسی لئے ایسے موقعہ کے بارے میں حضوؐر نے فرمایا : اس مرد کو چاہیئے کہ اپنی عورت کو ایسی حالت میں طلاق نہ دے کہ اس نے اس کے ساتھ مجامعت کی ہو‘‘ (مسلم کتاب الطلاق) 
دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا عورت کو حالت حیض میں طلاق دی جاسکتی ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام ہرممکن حد تک طلاق روکنا چاہتا ہے اور گھر کوٹوٹنے سے بچانا چاہتاہے۔ اسی لئے پروردگار نے صحیح طریقہ سے طلاق دینے ، عدت کو ٹھیک ٹھیک شمارکرنے اور عدت کے دوران میں شوہر اور بیوی کوایک ساتھ ایک ہی گھرمیں رہنے کا حکم دیا ہے۔ ارشادہے۔ ’’تم نہیں جانتے ۔ شاید اللہ اس کے بعد کوئی اور صورت پیداکردے‘‘ چونکہ ایام حیض میں مرد عورت کے درمیان ایک نوعیت کی دوری پیداہوجاتی ہے اس لئے اس با ت کا امکان ہے کہ یہ دن گزرنے کے بعد آدمی طلاق دینے کا فیصلہ ترک کردے۔ چنانچہ حضوؐر نے قرآن مجید کی ہدایت کی روشنی میں مسلمانوں کو ایام حیض میں طلاق دینے سے روکا۔ جب حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے ایام حیض میں اپنی بیوی کو طلاق دی توآپؐ نے فرمایا: ’’اس سے کہوکہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کریں اور پھر اسے طہر یا حمل کے واضح ہوجانے کے بعد طلاق دے‘‘
درج بالادونوں صورتوں میں یہ سوال پیداہوتاہے کہ کیا اس طلاق کو شمارکیاجائے گایا نہیں؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اگر اس طلاق کوشمار کرنا ہی مقصود ہے توپھر رجوع کا حکم دینے کے کیامعنی؟ رجوع کا حکم توصرف اسی صورت میں کوئی معنی رکھتاہے جب اسے شمارنہ کیا جائے۔ اوپر ہم نے جوروایات نقل کی ہیں ان سے یہی بات ثابت ہوتی ہے ۔ تاہم اس کی مخالفت میں دو دلائل دئے جا سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق یونس کہتے ہیں : ’’ میں نے ابن عمر سے پوچھا : کیا آپ نے یہ طلاق شمار کی ؟ انہوں نے جواب دیا : بھئی اس میں کیا رکاوٹ تھی۔ کیاابن عمر شمارنہیں کرسکتاتھا یا احمق تھا؟ تاہم اس سے یہ معلوم ہو تاہے کہ ایسی بات حضوؐر نے خود نہیں فرمائی۔
دوسری دلیل یہ ہے کہ ’’المغنی ، لابن قدامہ : کتاب الطلاق‘‘ کے مطابق حضوؐر نے ابن عمر کو اپنی بیوی سے رجوع کرنے کا حکم دیا تو ابن عمر نے حضوؐر سے پوچھا : یارسول اللہؐ اگرمیں نے تین طلاقیں دی ہوتیں ، تب آپؐ کیافرماتے؟ نبی ؐ نے فرمایا: اس صورت میں تم نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی ہو تی اور تمہاری بیوی تم پر حرام ہوگئی ہوتی‘‘ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ روایت صحیح مسلم کی ابن عباسؓ والی روایت کے بالکل خلاف ہے۔جس کاذکر آگے آئے گا۔
اگلاسوال یہ ہے کہ بعض لوگ اپنی بیوی سے جھگڑے کے وقت شدیدغصے میں آکر طلاق کا لفظ تین مرتبہ یا اس سے زیادہ مرتبہ منہ سے نکال لیتے ہیں اور پھر فوراً پشیمان ہوجاتے ہیں۔ اس لیے کہ اس میں کوئی پختہ ارادہ شامل نہیں تھا۔ یہ بات سوچ سمجھ کرکہی گئی تھی۔ کیا اس طرح طلاق واقع ہوجاتی ہے؟
آج کے حالات میں یہ مسئلہ بہت اہمیت اختیار کرگیاہے۔ اس لیے کہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں گھرانے اس مسئلہ کی وجہ ایک بڑے اضطراب اور کرب میں مبتلاہیں کیونکہ قرآن وسنت میں اس طرح کی صورت حال کے بارے میں دوٹوک ہدایت نہیں آئی۔ اس لیے اس مسئلے سے ہمیں اجتہاد سے کام لینا ہوگا۔
ا س ضمن میں راقم الحروف کاموقف یہ ہے کہ شدیدغصے کے عالم میں جولوگ تین یااس سے زیادہ مرتبہ طلاق کا لفظ منہ سے نکالیں اورپھرپشیمان ہوجائیں ، ایسے لوگوں پر ایک ہی طلاق واقع ہوتی ہے اس موقف کے دلائل مختصراً یہ ہیں۔
پہلی بات یہ ہے کہ اہم اصول ہے کہ دین کی بنیاد آسانی پر ہے ، تنگی پر نہیں۔ اس حقیقت کو قرآن مجید میں بار بار بیان کیا گیا ہے۔

یریداللہ بکم الیسرولایریدبکم العسر (بقرہ ۔ 2،آیت185)
اللہ تم پر آسانی چاہتاہے دشواری نہیں۔

وماجعل علیکم فی الدین من حرج (الحج ۔ آیت 78)
اللہ نے تم دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔

اس نوعیت کی کئی آیات قرآن میں آئی ہیں کہ اللہ ہر شخص کو اس کی بساط کے مطابق ہی تکلیف دیتاہے۔ پر وردگار انسان کوتنگی میں نہیں ڈالنا چا ہتا۔ اوریہ کہ اللہ انسان پرسے بوجھ ہلکاکرناچاہتاہے۔ کیونکہ انسان کمزورپیداکیاگیاہے۔ (مثلاسورہ مائدہ آیت 6-، سورہ نساء آیت 28- اورکئی دوسری آیات)
چونکہ طلاق کامعاملہ نہایت سنجیدہ اورنازک معاملہ ہے جس میں مرد عورت ان کے بچوں اورمرد وعورت کے خاندانوں کے لئے گوناگوں پیچیدہ مسائل پیداہوجاتے ہیں۔اس لئے اس بارے میں ہر نئی قانون سازی کے لئے بنیادانسانوں کے لئے آسانی کے اصول پر ہونی چاہیے۔ طلاق کا وہ قانون جوخدا نے ہمیں دیاہے وہ بجائے خود اسی اصول کو ملحوظ رکھ کردیاگیاہے۔ اب اس کی بنیاد پر ہونے والی تفصیلی قانون سازی اورعدالتی فیصلے بھی اسی اصول کوملحوظ رکھ کرکئے جانے چاہئیں۔ایسانہیں ہوناچاہیئے کہ ان کے لئے خواہ مخواہ تنگی پیداہو۔ اسی بات کو رسول اللہ ؐ نے اس طریقہ سے بیان کیا ہے۔ کہ دین آسان ہے ‘‘ اور یہ کہ ’’لوگوں کے لئے آسانی پیداکرو ، لوگوں کو مشکلات میں مت ڈالو‘‘ (صحیح بخاری)
دوسری بات یہ ہے کہ قرآن مجید اور اس کی اتباع میں ’صحیح ترین روایات سے جوکچھ ثابت ہے وہ یہ ہے کہ طلاق ایک نہات سنجیدہ معاملہ ہے اور یہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے والی چیز ہے۔ یہ وقتی اثرات کے تحت فیصلہ کرنے والی چیز نہیں۔
قرآن مجید کے مطابق دنیا میں میاں بیوی کے درمیان نباہ پروردگار کو بہت پسند ہے۔ انہیں ایک دوسرے کے لئے لباس قراردیاگیاہے (بقری آیت ۱۸۷) ۔ شوہر سے کہا گیا ہے کہ اگراس کوبیوی کے اندر کمزوریاں نظرآئیں تب بھی اس کے ساتھ گزارہ کرے سورہ نساء آیت ۱۹)۔ اگرکہیں میاں بیوی کے درمیان تنازعہ بہت زیادہ ہوجائے تودونوں خاندانوں کی طرف سے ایک ایک نمائندہ مقررکرکے صلح صفائی کرائی جائے(نساء آیت ۳۵) ۔اگر نوبت طلاق تک پہنچ جائے تومرد کو ہدایت ہے کہ وہ عدت کاحساب بالکل صحیح رکھے (سورہ طلاق آیت ۱)اورطلاق دینے کے بعد بھی نہ مرد کو چاہیئے کہ وہ عورت کوگھرسے نکال دے اور نہ عورت ہی کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ اپنا گھرچھوڑ کر چلی جائے۔ شوہر اور بیوی کو یکجا ، ایک ہی گھرمیں رہنے کاحکم اس لئے دیاگیا ہے کہ اگرصلح صفائی کی کوئی صور ت ہو تویہ اکٹھارہنا اس میں مددگار ثابت ہوجائے۔ اسی آیت کی مزید تشریح کرتے ہوئے حضورؐ نے فرمایا کہ جائزچیزوں میں سے طلاق اللہ کو سب سے زیادہ ناپسند ہے (ابوداؤد ۔ کتاب الطلاق)
اسی لئے حضورؐ نے ماہواری کے ایام میں طلاق دینے سے روکا ہے۔ ماہواری کے ایام چونکہ مرداورعورت جنسی طورپر ایک دوسرے سے علیحدہ رہتے ہیں اس لئے آپس میں محبت کے وہ جذبات نہیں رہتے اور اس بات کا امکان ہے کہ ماہواری کے دن گزرنے کے بعد آدمی طلاق دینے کا فیصلہ ترک کردے۔(مسلم ۔ کتاب الطلاق)۔ حضورؐ نے ایسے وقت (طہر)میں بھی طلاق دینے سے روکاہے جب میاں بیوی نے آپس میں ملاقات کی ہو کیونکہ ایسی صورت میں عدت کی مدت کا صحیح تعین نہیں کیا جاسکتا۔حضورؐ کے پاس جب ایساکوئی معاملہ آیا توآپؐ نے مرد کو ہدایت کی کہ وہ رجوع کرے(یعنی طلاق کافیصلہ واپس لے لے) اوربعد میں مناسب وقت پر فیصلہ کرے (صحیح مسلم،کتاب الطلاق، ابوداؤد کتاب الطلاق)
صرف یہی نہیں بلکہ قرآن مجید کی ہدایت ہے کہ مطلقہ عورت کوانتہائی حسن وخوبی سے کچھ دے دلاکر رخصت کیا جائے(بقرہ آیت 241)اور یہ کہ جب خاوند عدت کے آخر میں اپنی بیوی سے رجوع کرنے یا اسے رخصت کردینے کا فیصلہ کرلے تواسے اس فیصلے پر دوذمہ دار افراد کو گواہ بنا لینا چاہیئے۔
صرف یہی نہیں جب ایک دفعہ طلاق ہوجائے اور عدت کے درمیان میں بھی رجوع نہ ہو توقرآن مجید دوسری دفعہ اسی مرداور خاتون کودوبارہ میاں بیوی بننے کی اجازت دیتاہے۔ تاکہ کسی طرح یہ خاندان پھراکٹھا ہوجائے اور پھراسی پر بس نہیں بلکہ اگردوسری دفعہ بھی طلاق ہوجائے اور عدت میں پھر رجوع نہ ہوتوقرآن مجید تیسری دفعہ پھر ان کے نکاح کا دروازہ کھلارکھتاہے۔ البتہ اگرتیسری مرتبہ طلاق ہوجائے تب براہ راست ایک دفعہ پھرنکاح کرنے پر پابندی لگ جاتی ہے۔
درج بالا احکام وہدایات اورقوانین پڑھنے بلکہ باربار غورکرنے کے لائق ہیں اور اس کی روشنی میں فیصلہ کیجئے کہ اس معاملہ میں ہمارے دین کی روح کیاہے۔
کیاہمارے دین کی روح یہ ہے کہ وہ اس بات پر تلابیٹھاہے کہ کس طریقہ سے کسی مرد کے منہ سے تین طلاقوں کی بات نکلے اوروہ فوری طورپر خاندان کاتیاپانچاکردے اور یا پھر اس کے برعکس وہ ان کو زیادہ سے زیادہ رعایت دے کر باربار ملنے کا موقع دیتاہے؟ایسے موقع پر ہرراست فکرانسان کا ضمیر یہ پکار اٹھے گاکہ یقینادین کی روح یہی ہے کہ ایسی غلطی کی اتنی بڑی سزانہ دی جائے اور انہیں اصلاح احوال کاموقع دیاجائے۔ 
ایک تیسرا عامل بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ وہ یہ کہ طلاق کے لئے ایک ضروری شرط یہ ہے کہ انسان اپنے پورے شعور کے ساتھ اپنے اس ارادے کااظہار کرے۔ اگرشعورمیں ذرابرابربھی کمی ہوگی اور انسان جذبات میں اپنے آپے سے باہر ہوگیاہو تو اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوتی ۔ اسی اصول کی وجہ سے نبی ؐ نے فرمایاکہ نابالغ پاگل اوردیوانے کی طلاق واقع نہیں ہوتی ۔ اورنہ ایسے لوگوں کی طلاق واقع ہوتی ہے جنہوں نے نشے کی حالت میں طلاق دی ہو۔ یا جنہیں طلاق دینے پرمجبور کیاگیاہو۔بالکل اسی اصول پر اگرشدیداورفوری غصے کاتجزیہ کیا جائے تویہ معلوم ہو تاہے کہ اس وقت وہ اپنے شعورمیں نہیں ہوتااور اسے اپنے اوپر پورااختیارنہیں رہتاوہ وہ ہذیان بکنے لگتاہے اوراس عالم میں اس کے منہ سے ایسے الفاظ نکل جاتے ہیں جنہیں عام وہ عام حالات میں کبھی نہیں کہتا۔ چنانچہ ایسے ہی شدید اورفوری غصے میں اگرانسان کے منہ سے طلاق کے الفاظ زیادہ مرتبہ نکل جائیں تو اسے رعایت دینی جاہیئے ۔ ویسے بھی آج کل خاندانوں میں نفسیاتی مسائل اتنے زیادہ بڑھ گئے ہیں کہ ایک مستقل اضطراب وبے چینی کی کیفیت رہتی ہے اس لیے اب تواس رعایت کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
درج بالا تینوں دلائل کی بنیاد پر راقم الحروف کا نقطہ نظر یہ ہے کہ شدید اور فوری غصے میں دی گئی طلاقوں کو ایک ہی طلاق شمار کیا جائے گا گویا ایسافرد ایک موقع کھودے گا۔ تاہم اس کے پاس رجوع کا ایک موقع ابھی باقی رہے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے فرد کو چاہیے کہ وہ بطو راظہار ندامت فقراء ومساکین کو صدقہ دے اور آیندہ کے لئے یہ عہدکرے کہ اپنے آپ کو اس طرح کی کیفیت سے بچائے گا (ہمارا تجربہ یہ ہے کہ ایسے افراد میں سے ننانوے فیصد آیندہ کے لئے مکمل طورپر محتاط ہوجاتے ہیں اور پھرایسے الفاظ کبھی زبان پر نہیں لاتے)
درج بالاساری بحث کی مخالفت میں دوباتیں کہی جاسکتی ہیں ایک یہ کہ طلاق توغصے میں ہی دی جاتی ہے، ٹھنڈ ے پیٹوں توکوئی بھی طلاق نہیں دیتا۔ یہ بات صحیح نہیں ہے۔ درج بالابحث میں دوسری دلیل کو ایک دفعہ پھرذہن میں تازہ کرلیجئے ۔ جس سے یہ معلوم ہوتاہے کہ اسلام کے اعتبار سے طلاق اسی صورت میں دی جانی چاہیے جب مرد بالکل ٹھنڈے سوچ بچار کے ساتھ اس نتیجہ پر پہنچ جائے کہ اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان ہم آہنگی پیدانہیں ہوسکی۔ اس صورت میں بھی قرآن مجید اسے صلح صفائی کے مزید مواقع دیتاہے۔ گویا اس بات کی کوئی دینی بنیاد نہیں ہے۔ 
دوسری بات یہ کہی جاتی ہے کہ حضرت عمرؓ نے اعلان کیا تھا کہ اگر آیندہ کسی فرد نے اکٹھی تین طلاقیں دین تووہ اسے سزابھی دیں گے اور اس پر تینوں طلاقیں نافذکردیں گے۔
اس ضمن میں چند امور اچھی طرح سمجھ لینے چاہییں۔ پہلی بات یہ کہ حضرت عمرؓ ایک حکمران تھے ۔ حکمران کو وقتی مسائل سے نپٹنے کی خاطرکئی قوانین بنانے پڑتے ہیں۔ مگر ان قوانین کی حیثیت محض وقتی ہی ہوتی ہے، وہ ہمیشہ کے لئے ایک غیر متبدل حکم نہیں بن جاتے ۔ ہمیشہ زندہ رہنے والی چیز توصرف قرآن وسنت ہے۔ چنانچہ ہمیں یہ دیکھناچاہیئے کہ اس وقت وہ کیا حالات تھے جن میں حضرت عمرؓ نے یہ فیصلہ دیاتھا ۔ معاملہ یہ تھا کہ حضورؐ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے دور کے کافی عرصے میں جب ایک فرد اپنی بیوی کوتین طلاقیں دے دیتا اورپھرجب یہ بیان دیتاکہ اس کی نیت صرف ایک طلاق دینے کی تھی تواس پرایک طلاق نافذکرکے اسے رجوع کا حق دے دیاجاتا۔ لیکن پے درپے کئی واقعات کے بعد حضرت عمرؓ نے محسوس کیا کہ لوگ اس رعایت کا ناجائز فائدہ اٹھاکر اس کے ذریعے سے خواتین کی حق تلفی کررہے ہیں۔وہ یہ کہ وہ تین طلاقیں دے کر عورت کو گھرسے باہر نکال دیتے اسے ایک صدمے سے دوچار کردیتے اورجب وہ نئی زندگی اپنانے کے بارے میں سوچنے لگتیں ہیں توجھٹ سے عدالت میں پہنچ کر کہہ دیتے کہ ان کی نیت ایک ہی طلاق دینے کی تھی ۔اس طرح وہ عورت کومعلق رکھ کر دوہر ے عذاب میں مبتلاکردیتے ۔ چنانچہ عورتوں کو اس مصیبت سے بچانے کی خاطرحضرت عمرؓ نے اپنے وقت کے لحاظ سے ایک انتظامی فیصلہ کردیا۔ ایسے انتظامی فیصلے کرنے کا اختیار ہرمسلمان حکومت کو حاصل ہے۔ مثلاً ولیمہ کرنا سنت ہے لیکن اگرکسی ولیمہ کو نمود ونمایش اورغریبوں کے لئے زحمت بنایا جارہاہوتوریاست اس کی بعض صورتوں پر پابندی لگاسکتی ہے۔ تاہم وہ ریاست کا ایک وقتی فیصلہ ہوگا۔ حالات بدل جانے پر وہ جب چاہے اسے تبدیل کرسکتی ہے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ حضرت عمرؓ کے درج بالا فیصلے کا کوئی تعلق غصے والی بات سے نہیں ہے۔ یہ واقعہ جہاں جہاں بھی نقل ہواہے وہاں غصے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ بلکہ جیسا کہ ہم نے شروع میں عرض کیا کہ قرآن مجید، صحیح روایات اورپورے دورصحابہ میں غصے والی طلاق کے بارے میں کوئی ہدایت یاکوئی واقعہ نہیں ملتا۔ اس لیے فوری غصے والی طلاق پریہ فیصلہ لاگوہی نہیں ہوتا۔
تیسری اہم بات یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے خواتین کو ظلم سے بچانے کے لئے یہ قانون سازی کی تھی ۔ جب کہ آج خواتین کو مصیبت سے بچانے کے لئے اس کے برعکس قانون سازی کی ضرورت ہے۔ اس وقت لوگ طلاق کا قانون جانتے تھے اور بعض لوگ قانون کے الفاظ سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے تھے۔ جب کہ آج لوگ دین کا قانون طلاق جانتے ہی نہیں۔ نتیجتاً وہ اپنے آپ کو اوراپنے پورے خاندان کو ایک بڑی تکلیف میں مبتلاکر لیتے ہیں ۔ چنانچہ آج کے حالات میں حضرت عمرؓ کا یہ فیصلہ ہمارے لئے نظیر نہیں بن سکتا۔