درج بالااحکام و ہدایات وہ ہیں جن کے بارے میں قرآن مجید میں بہت واضح الفاظ میں ہدایات نازل ہوئی ہیں۔ اب ہم ان چند مسائل کولیں گے جوآج کے زمانے کے اعتبار سے بہت اہمیت اختیا ر کرچکے ہیں:
اس ضمن میں پہلا سوال یہ ہے کہ کہ آج کے معاشرتی حالات میں عورتیں عام طورپراحساس عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ چنانچہ کیا معاہدہ نکاح میں ایسی شرائط شامل کی جاسکتی ہیں جن سے ایک بیوی کو تحفظ کا احساس ہو؟ مثلاً یہ کہ شوہر اپنی بیوی کوماہانہ ایک متعین رقم برائے ذاتی اخراجات دے گا یا اگربیوی ملازمت کررہی ہے توشوہر اسے ملازمت چھوڑنے پر مجبورنہیں کرے گا۔ بیوی کو علیحدہ رہنے کے لئے گھر دیاجائے گا۔ اگر شوہر بیوی کوطلاق دے گا تواسے اس کے ساتھ ایک متعین رقم دینی پڑے گی۔شوہر دوسری شادی نہیں کرے گاوغیرہ وغیرہ۔
اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید کے مطابق نکاح ایک آزادانہ معاہدہ ہے جوایک مرد اورایک عورت کے درمیان ہوتاہے ۔ اس لئے اس میں ایسی تمام شرائط شامل کی جاسکتی ہیں ۔ بلکہ آج کے حالات میں یہ ضروری ہے کہ اس طرح کی شرائط باقاعدہ نکاح میں شامل کی جائیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ کہ حکومت کی طرف سے سرکاری طورپرطبع شدہ نکاح فارم میں ان تمام شرائط کے لیے باقاعدہ کالم بنائے جائیں۔ مناسب معلوم ہوتاہے کہ یہاں بطورمثال ایک ایساہی معاہدہ درج کیا جائے۔
ایک نوجوان غیرشادی شدہ ڈاکٹرکی طرف سے ایک ایسی بچی کا رشتہ اس کے خاندان سے مانگاگیا جو اس وقت میڈیکل کالج میں پڑھ رہی ہے ۔ لڑکی کے سامنے تمام صورتحال آزادانہ ماحول میں رکھی گئی۔ اس نے نوجوان کو دیکھا اور نوجوان نے اسے دیکھا۔ بچی کی طرف سے منظوری کے بعد درج ذیل معاہدہ طے پایا گیاجسے نکاح کے موقعہ پرنکاح نامے میں بھی درج کیا گیااورسٹامپ پیپر بھی گواہوں کی موجودگی میں لکھاگیا۔ 
’’ ہم اس پروردگار کے اعتماد پر ، جس نے انسانوں اورخصوصاً میاں بیوی کے درمیان رحمت ومحبت ڈالی۔ ،۔۔۔۔۔۔‘‘ (بچی)کی طرف اور اس کے خاندان کی طرف سے ۔۔۔۔(نوجوان ) کا رشتہ قبول کرتے ہیں اوردرج ذیل شرائط طے کرتے ہیں :
۱: حق مہر بیس تولے سونے کے زیورات کی شکل میں فوری طوپر اداہوگا۔ اس کے علاوہ دس مرلے کا (فلاں)پلاٹ بھی بچی کے نام منتقل کیاجائے گا۔
۲: رخصتی انشاء اللہ بچی کی ہاؤس جاب کے بعدہوگی۔
۳: اگربچی ملازمت کرناچاہے یا پرائیوٹ پریکٹس کرنا چاہے توشوہر اور اس کے خاندان کی طرف سے مکمل تعاون کیاجائے گا۔
۴: بیوی جب بھی چاہے گی اسے شوہر کی طرف سے اس کے ساتھ باقی خاندان سے الگ رہنے کے لئے مناسب مکان خوش اسلوبی سے مہیاکیاجائے گا۔
۵: بیوی ہرجائز معاملہ میں اپنے شوہر کی اطاعت کرے گی اور اس کے والدین کا عزت واحترام کرے گی ۔ شوہر بھی اپنی بیوی سے اچھاسلوک کرے گا۔ اس کی ہرجائز بات مانے گا۔اس پرکوئی بے جا پابندی نہیں لگائے گااور شوہرکے والدین ، اس کے بیوی سے ہمیشہ شفقت ومحبت کا سلوک کریں گے۔ 
۶: بیوی کوہرمہنے تین ہزاررروپیہ ذاتی اخراجاات کے لئے دئے جائے گے۔ 
۷: بیوی کے خاندان والے اپنے حالات کے مطابق جوجہیز بھی مناسب سمجھیں گے ، دیں گے۔ تاہم اس ضمن میں شوہر کے خاندان کی طرف سے کوئی مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔
۸: پروردگاراس جوڑی کو ہمیشہ سلا مت رکھے ۔ تاہم خدانخواستہ شوہر کی طرف سے طلاق کی صورت میں وہ بیوی کو فوری طورپر دوسوتولے سونے کے برابررقم اداکرے گا۔ 
۹: بیوی کی طرف سے خدانحواستہ خلع مانگنے کی صورت میں کوئی شرائط نہیں ہونگی۔ یعنی بیوی پرکوئی بات ثابت کرنے کی ذمہ داری نہیں ہوگی ۔ شوہر کی طرف اسے کو ئی اضافی رقم نہیں دی جائے گی۔ البتہ بیوی کی طرف سے مہر بھی واپس نہیں کیا جائیگا۔
۱۰: شوہر کو دوسری شادی کی اجازت کسی ناگزیز معاشرتی ضرورت سے مشروط ہوگی اور اس کے لئے پہلی بیوی کی آزادانہ تحریری اجازت بھی ضروری ہوگی۔
درج بالا معاہدہ محض بطورمثال درج کیاگیا۔ سب خاندان اپنے اپنے حالات کے مطابق ایسے معاہدوں کو ترتیب دے سکتے ہیں۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ کہ کیا ایک خاتون اپنی شادی کے سلسلہ میں فیصلہ کن اختیار کی مالک ہے۔ اور کب وہ اپنی مرضی سے شادی کرسکتی ہے یا پھر اس کی شادی اس کا دلی (قریب ترین ذمہ داربزرگ مرد)کرے گا؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام کے نزدیک شادی کے ضمن میں سب سے اچھی صورتحال یہ ہے کہ یہ رشتہ ہونے سے پہلے مرد وعورت کے خاندانوں اور خود مرد وعورت میں مکمل ہم آہنگی ہو۔ اور وہ سب اس رشتہ سے راضی ومطمئن ہو ں۔ تاہم اگرایسی صورتحال نہ ہو توقانونی طورپر عورت کی مرضی کے بغیر کوئی بھی مرد اس کا نکاح نہیں کرسکتا اور تنازعہ کی صورت میں وہ بھی اس معاملہ میں خود مختارہے کہ جہاں چاہے اپنا نکاح کرے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید کے مطابق نکاح ایک آزادانہ پختہ معاہدہ ہے جو بنیادی طورپر دوذی عقل اور معاملہ فہم مرد وعورت کے درمیان وجود میںآتاہے۔ وہی دونوں اکٹھے زندگی گزارتے ہیں اور وہی تمام ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ چنانچہ یہ لازم ہے کہ اس پختہ معاہدے کی انجام دہی میں دونوں کو آزاد تسلیم کیاجائے۔
قرآن مجید نے بہت وضاحت کے ساتھ یہ بات بیان کی ہے کہ عورتیں اپنی مرضی کے مطابق نکاح کرنے میں خودمختارہیں اور ان کے اس اختیارمیں کسی کو رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیئے ۔ ایک عام خاتون کے لئے تویہ حق ہے ہی۔قرآن مجید نے ایک ایسے معاملے میں خصوصی طورپر اس کا ذکر کیا ہے جہاں یہ اندیشہ ہو سکتاہے کہ کچھ لوگ خواتین کو نیا رشتہ استوارکرنے سے روکنے کی کوشش کریں گے۔ اور اسے اپنی عزت کامسئلہ بنالیں گے۔ مثلاً ایک خاتون جسے طلاق دی جاچکی ہے یا جس کا خاوند مرچکاہے اورخاوند کے خاندان سے سابقہ تعلق کی بناء پر اس بات کا اندیشہ ہے کہ وہ لوگ اسے نیا رشتہ استوار کرنے سے باز رکھنے کی کوشش کریں گے۔ ارشاد ہے

وَاِذَاطَلَّقْتُمُ النِسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَلَاتَغْضُلُوھُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَھُنَّ اِذَاتَراضَوْابَیْنَھُم بِالْمَعُروفِ ذَلِکَ یُوْعَظُ بِہٖ مَنْ کَانَ مِنکُم یُؤمِنْ بِااللّٰہ وَالْیَومِ الْاخِرِ ذَلِکُم اِزْکیٰ لَکُم وَاطْھَر وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَاتَعْلَمُون۔ (بقرہ2- ،آیت 232)
" جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو اوروہ اپنی عدت (three menstrual cycle)پوری کرلیں توپھراس بات میں رکاوٹ نہ بنوکہ وہ اپنے زیرتجویزشوہروں سے نکاح کرلیں جب کہ وہ دونوں معروف طریقے پر باہم نکا ح کرنے پر راضی ہوں ۔ تمہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ ایسی حرکت ہرگزنہ کرنا۔ اگرتم اللہ اور روز آخرپر ایمان لانیوالے ہو۔ تمہارے لئے شائشتہ اورپاکیزہ طریقہ یہی ہے کہ اس سے بازرہو۔ اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے"

آگے ارشادہے:

وَالَّذِینَ یُتَوَفُّوْنَ مِنْکُم وَیَذَرُونَ اَزْواجاً یَّتَربَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ اَرْبَعۃَ اشْھُرٍوَّعَشْراً فَاِذَا بَلغْنَ اَجَلَھُنَّ فَلَاجُنَاحَ عَلَیکُمْ فِیْمَافَعَلْنَ فِیْ اَنْفُسِھِنَّ بِالْمَعْمرُوفِ وَاللّٰہ بِمَاتَعْمَلوُن خَبِیرُ۔ (بقرہ2- ،آیت 234)
"تم میں سے جولوگ مرجائیں ۔ ان کے پیچھے اگران کی بیویاں زندہ ہوں تووہ اپنے آپ کو چارمہینے اوردس دن روکے رکھیں۔ پھرجب یہ مدت پوری ہوجائے توانہیں اپنی ذات کے معاملے میں اختیار ہے کہ معروف طریقے سے جوچاہیں کریںْ تم پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں"

درج بالا آیات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ نکاح کے معاملے میں عورت کی مرضی ہی فیصلہ کن ہے۔ اگر اس معاملے میں کسی اور کی رائے فیصلہ کن ہوتی تو اتنی اہم بات کا ذکر لازماً قرآن مجید کرتا۔ صرف یہی نہیں بلکہ طلاق کے ایک خاص معاملہ میں بھی قرآن مجید نکاح کرنے کا حق واضح طورپرعورت ہی کو دیتاہے۔ اس خاص معاملے کی تفصیل آگے آئے گی۔ ارشادہے۔

فَاِنْ طَلَّقَھَافَلَاتَحِلُّ لَہ‘ مِنْ بَعْدُحَتیّٰ تَنکِحَ زَوجاً غَیْرَہ‘ فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَاجُنَاحَ عَلَیھِمَآ اَنْ یَّتَرَاجَعَاًاِنْ ظَنَّااَنْ یُقِیْمَاحُدُوَداللِہ وَتِلکَ حُدُودَاللہِ یُبَینِّھُمَالِقَومٍ یَعْلَمُون۔(بقرۃ 2- ،آیت 230-)
’’ پھراگروہ مرد(ان دوطلاقوں کے بعد) اس عورت کوطلاق دے تواس کے بعدوہ عورت اس کیلئے جائز نہیں ہے۔ آنکہ وہ عورت اس کے علاوہ کسی دوسرے شوہرسے نکاح کرے پھراگروہ (دوسراشوہر)اسے طلاق دے دے توپھران دونوں (یعنی پہلے شوہراوراس مطلقہ خاتون)پرکوئی گناہ نہیں کہ وہ رجوع کرلیں۔ (یعنی آپس میں ایک دفعہ پھرنکاح کرلیں)۔ بشرطیکہ وہ توقع رکھتے ہوں کہ اللہ کے حدودپر قائم وہ سکتے ہیں۔‘‘

قرآن مجید کے اس واضح بیان کے بعد جب ہم ذخیرہ روایات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو ہمیں دونوں طرح کی روایات ملتی ہیں۔ وہ روایات بھی جن میں حضورؐ نے واضح طور پر عورت کو اختیاردیا کہ وہ اپنی شادی کے سلسلہ میں خود مختار ہے اور ایسی روایات بھی ملتی ہیں جن سے کچھ مختلف معنی نکلتے ہیں۔ پہلی حدیث صحیح بخاری کی ہے۔ اس کے مطابق 

''حضرت ابو ھریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : بیوہ عورت کا نکاح اس سے مشورہ لئے بغیر نہ کیا جائے اور کنواری لڑکی کا نکاح بھی اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ اس سے اجازت کے کیا معنی؟ (یعنی اگر کنواری نوجوان لڑکی شرم و حیا کی وجہ سے زبان سے ہاں کا لفظ نہ نکال سکے تو؟)آپؐ نے فرمایا:اس کا خاموش رہنا (ہاں کہنے کے مترادت ہے)۔(صحیح بخاری کتاب النکاح)

درج بالا حدیث سورۃ بقرہ آیات 232اور234کی بالکل واضح تشریح کر رہی ہے۔ اور واضح طور پر بتا رہی ہے کہ بیوہ عورت اور کنواری دونوں کی اجازت ان کے نکاح کے معاملے میں فیصلہ کن ہے۔ 
دوسری حدیث صحیح مسلم کی ہے۔ یہ روایت یوں ہے۔

''شوہر دیدہ عورت اپنے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے کہ خود فیصلہ کرے اور کنواری سے بھی اجازت لینی ضروری ہے(ایک اور راویت کے الفاظ ہیں: کنواری سے اس کا والد اجازت لے اور اس کی اجازت اس کا خاموش رہنا ہے:) (صحیح مسلم کتاب النکاح)

گویا ایک نوجوان کنواری بچی کی اپنی کوئی ترجیح نہ ہو۔ بالفاظ دیگر وہ شرم و حیا کا پیکر ہو۔تب بھی یہ لازم ہے کہ اس سے اجازت لی جائے اور اسی کی بات فیصلہ کن ہو گی۔
تیسری روایت نسائی اور مند احمد کی ہے اس روایت کے مطابق

''حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ ایک لڑکی نبیؐ کی خدمت میں حاضرہوئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول ؐ میرے باپ نے اپنے بھتیجے کے ساتھ میرابیاہ صرف اس لئے کردیاہے کہ میرے ذریعے سے اس سے دولت نکالے۔ آپؐ نے نکاح ( کوبرقراررکھنے یا منسوخ کرنے) کاحق لڑکی کو دیا۔لڑکی نے کہا : میرے والد نے جو کچھ کیا میں اُسے جائز قرار دیتی ہوں ۔ میری خواہش صرف یہ تھی کہ عورتیں جان لیں کہ اس معاملے میں باپوں کواختیار حاصل نہیں ہے۔ (نسائی ، ابن ماجہ ، مسند احمد : کتاب النکاح) 

یہ حدیث اس بارے میں بہت واضح ہے کہ فیصلہ کن اختیار باپ کا نہیں بلکہ خود لڑکی کا ہے۔

’’ ایک لڑکی حضورؐ خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا : میرے باپ نے ’’میرانکاح ایک مرد سے کردیا ہے اورمیں اُسے ناپسند کرتی ہوں ۔آپ ؐ نے باپ سے فرمایا کہ تمہیں نکاح کا اختیار نہیں ہے پھر لڑکی سے فرمایا : جاؤ جس سے تمہارا جی چاہے نکاح کرلو‘‘۔ (نصب الرایۃ ۔ کتاب النکاح)

اس موضوع پر مزیدروایات بھی موجود ہیں ۔مگرطوالت اور تکرارکی وجہ سے ان تعرض نہیں کیا جارہا۔ 
اب ہم ان روایات کولیتے ہیں جن سے قرآن مجید وحدیث کے درجہ بالاحوالوں سے مختلف بلکہ متضاد معنی نکلتے ہیں۔
پہلی روایت ابوداؤد اور ابن ماجہ کی ہے اس روایت کے مطابق:

’’ رسول اللہ ؐ نے فرمایا : ولی کے بغیر نکاح نہیں۔‘‘ (ابوداؤد ۔ ابن ماجہ ۔ کتاب النکاح)

اگر اس روایت کو اپنے ظاہر ی اورلفظی معنوں میں لیا جائے تو یہ قرآن کی تمام تصریحات اوربکثر ت احادیث کے خلاف ہے۔ کیونکہ اس حدیث کے مطابق عورت تو کیا ایک مرد کے لئے یہ بھی لازم ہے کہ اس کا ولی اس کے نکاح کی منظوری دے ۔ بصورت دیگر نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوتا۔ لہٰذا ان معنوں میں تویہ روایت قطعاً ناقابل قبول ہے۔
البتہ اس روایت کو ترغیب اور حسن معاشرت کے لحاظ سے ایک نصیحت کے طورپر لیاجاسکتاہے ۔ بالکل ایسے ہی جیسے حضورؐ نے فرمایا :’’ عہد کی پاسداری کے بغیر کوئی اسلام نہیں‘‘۔ اس روایت سے یہ معنی نہیں نکلتے کہ عہد ی خلاف ورزی کرنے والا خارج ازاسلام ہے۔ بلکہ اس طرزبیان سے اصل مقصود یہ تنبیہ ہے کہ عہد کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیئے ۔ درج بالاروایت بھی اسی نوعیت کی نصیحت ہے۔کہ اصل نکاح کی اصل روح تو اسی نکاح میں ہے جس میں شوہر اور بیوی اور دونوں خاندانوں کے بزرگوں کی رضامندی شا مل ہو۔
دوسری روایت ابوداؤد ترمذی کی ہے۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں۔ 

’’ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبیؐ نے فرمایا: جوعورت بھی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے۔ اس کا باطل ہے ۔ پس اگر جھگڑا ہوتو جس عورت کا ولی نہ ہو تو سلطان اس کاولی ہے۔‘‘ (ابوداؤ ،ترمذ ی ،کتاب النکاح ) 

واضح رہے کہ یہ روایت خود ابوداؤد اور ترمذی کے مطابق ایک کمزور روایت ہے۔ یہ حدیث زہر ی سے روایت ہوئی ہے اور جب خود زہری سے ا س کی بابت سوال کیاگیا تو انہوں نے اس حدیث سے لاعلمی کا اظہارکیا۔ (کتاب الفقہ علیٰ مذاھب الاربعہ جلد چہارم صفحہ 89-)یہ حدیث اپنے ظاہری معنی میں قرآن مجید کی واضح ہدایت کے بھی خلاف ہے۔ اس لئے اس سے کو ئی دلیل نہیں لائی جاسکتی۔
تیسری روایت بیھقی کی ہے ۔ اس کے لئے الفاظ یہ ہیں۔

’’ ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا : ایک عورت دوسری عورت کی نکاح نہ کرے ۔ اور نہ کوئی عورت خود اپنا نکاح کرے۔‘‘ (السنن الکبریٰ للبیھقی)
اس روایت کا پہلا حصہ عقل اور دوسرا خلاف قرآن ہے۔ پہلا حصہ اس لحاظ سے خلاف عقل ہے کہ اگر ایک بیوہ عورت کی صرف لڑکیاں ہوں اور اس کے نزدیکی رشتہ دارنہ ہوں تو بھلاوہ اپنی بچیوں کی شادی کیسے کرے گی ؟رہادوسراحصہ تو اس بارے میں قرآن مجید کی صاف ہدایت ہے کہ ’’ اس بات میں رکاؤٹ نہ بنو کہ وہ عورتیں اپنے زیر تجویز شو ہروں سے نکاح کرلیں جب کہ وہ دونوں معروف طریقہ پر باہم نکاح کرنے راضی ہوں۔ تمہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ ایسی حرکت ہرگزنہ کرنا‘‘ (بقرہ آیت : 232)

تیسراسوال یہ ہے کہ کیا باپ دادا اپنی نابالغ لڑکی کانکاح کرسکتے ہیں؟
اس کا جواب یہ ہے کہ ایساکرنا اسلام کے احکام کے منافی ہے۔ اس لیے کہ قرآن مجید کی صریح ہدایت کے مطابق بلوغ کے بعد ہی نکاح کی عمر شروع ہوتی ہے۔ سورۃ نساء میں یتیموں کے متعلق ہدایا ت دیتے ہوئے ارشاد ہے۔

وَابْتَلُواالْیَتٰمٰی حَتّٰی اِذَا بَلَغُوالنِّکاحَ فَاِنْ اٰنَسْتُم مِنْہُم رُشْدًا فَادْفَعُوٓا اِلیھُم اَموَالَھُم وَلَاتَاْکُلُوھَااِسْرَافًاوّبِدَارًااَنْ یُّکبْرُوا وَمَنْ کَانَ غَنِیًّافَلْیَسْتَعْفِفْ وَمَنْ کَانَ فَقِیرًافَلْیَاْکُلُ بِالْمَعْروف فَاِذَا دَفَعْتُم اِلَیھِم اَمْوالَھُم فَاَشْھِدُو اعَلَیھِم وَکَفٰی بِاللَٰہ حَسِیْبًا۔(نساء 4- ،آیت 6-)
’’اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کے قابل عمر کو پہنچ جائیں۔ پھر اگر تم ان کے اندر اہلیت پاؤ تو ان کے مال ان کے حوالے کردو۔ ایسا کبھی نہ کرنا کہ حد انصاف سے تجاوزکرکے اس خوف سے ان کے مال جلدی جلدی کھاجاؤ۔ کہ وہ بڑے ہوکر اپنے حق کامطالبہ کریں گے۔‘‘

تاہم اس ضمن میں ایک اہم بات یہ ہے کہ بعض صحیح روایات کے مطابق نکاح کے وقت حضرت عائشہؓ کی عمر چھ سال اور رخصتی کے وقت نوسال تھی ۔ اگرایساہے تو کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نابالغ لڑکی کانکاح بھی اس کے والدین کرسکتے ہیں۔ 
اس کا جوا ب یہ ہے کہ درحقیقت نکاح کے وقت حضرت عائشہؓ کی عمر سولہ سترہ سال اور رخصتی کے وقت انیس برس کی تھی ۔ اس موضوع پر سرگودھا کے ایک جید عالم دین جناب حکیم نیاز احمد نے تحقیق کے بعد اپنی معرکۃ الآراء کتاب ’’ تحقیق عمرعائشہ صدیقہؓ ‘‘ شائع کی ہے جو ’’مشکوراکیڈمی F-89 بلاک نمبر2- پی ای سی ایچ ایس کراچی 29- کی طرف سے شائع ہوئی ہے۔ اس عظیم تحقیقی کاوش کا خلاصہ جناب خالدمسعود نے ’’تدبر‘‘ جولائی 1984 ؁ میں پیش کیا ہے۔ اگرچہ یہ بہت مشکل اور ٹیکنکل اور ثقیل بحث ہے ۔ تاہم چونکہ یہ آج کے حوالے سے بہت اہم ہے اس لئے اسے ان صفحات میں پیش کیا جارہاہے۔
فاضل مصنف نے کتاب کے پہلے حصہ میں ان تمام روایات پر جرح کی ہے جوام المومنین کو کم عمربتاتی ہیں۔ ان میں سب سے اہم روایت جوبخاری ، مسلم ، ابوداؤد ، نسائی اورابن ماجہ ، سب نے بیان کی ہے۔ وہ تزوج عائشہ کی یہ روایت ہے کہ:

نکح النبی عائشۃ وھی بنت سنین وبنیٰ لھاوھی بنت تسع سنین ومات عنھا وھی بنت ثانی عشر
’’ آنحضرت ؐ نے عائشہؓ سے اس وقت نکاح کیا جب وہ چھ برس کی تھیں ۔ ان کی رخصتی کرائی جب وہ نوبرس کی تھیں اوروہ اٹھارہ برس کی تھیں جب حضورؐ کااتنقال ہوگیا۔‘‘
  یہ ایک ایسی روایت ہے جس کے واحد راوی تمام معتبرکتب حدیث میں ہشام بن عروہ ؒ ہیں ۔ جو اپنے والد عروہ بن الزبیرؓ سے اسے روایت کرتے ہیں۔ نہایت فاضلانہ بحث کے بعد مصنف نے یہ ثابت کیاہے کہ اس نادر روایت کا ۱۴۵ھ سے پہلے کوئی راوی نہ تھا۔ اسی لئے وہ تمام کتب حدیث جواس سے قبل مرتب ہوئیں اس روایت سے خالی ہیں۔ ہشام بن عمرؒ کی ساری عمر مدینہ میں گزری لیکن وہاں کے حفاظ حدیث نے ان سے یہ روایت بیان نہیں کی اس کے برعکس گیارہ حفاظ حدیث جوتمام تر عراقی ہیں ، ہشام سے اس روایت کے ذمہ دارہیں اور انہی کی روایت کتب حدیث میں نقل ہوئی ہے۔ ہشام نے عراق کا ایک سفر ۱۴۵ھ میں ۸۴برس کی عمر میں کیا تھا۔ معلوم ہوتاہے اس وقت وہ یہ روایت زبان پر لائے جسے عراقیوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اس وقت اس روایت کی غلطی پر گرفت کرنے والے یامتبادل معلومات فراہم کرنے والے دنیامیں موجودنہ تھے۔ اس لیے عمرعائشہؓ کے بارے میں ہشام کے بیان کو حرف آخرتسلیم کرلیاگیااور جب اس روایت نے صحاح میں راہ پالی توگویا اس کو قبول عام حاصل ہوگیا۔ اس سے الگ ہو کر تحقیق کی کسی نے زحمت گوارانہ کی۔ اس طرح کی روایتیں بظاہرہشام کی روایت کی شاہد معلوم ہو تی ہیں لیکن جرح وتعدیل سے کام لیا جائے توثابت ہوجاتاہے۔ کہ یہ تمام اسنادتدلیس کا شاہکار ہیں۔ فاضل مصنف نے تما م کتب حدیث کی ایک ایک سند پربحث کرکے دکھایاہے کہ ان میں انقطاع اورتدلیس پائی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ بعض راوی بالکل غیرثقہ، کذاب اوروضاع ہیں۔
فاضل مصنف نے ان تمام روایات کو بھی پرکھاہے جن سے حضرت عائشہؓ کی کم عمری کا تاثر ملتاہے۔مثلاً صحاح میں حضرت عائشہؓ کا یہ بیان کہ میرے ساتھ گڑیاں کھیلنے کے لئے اڑوس کی پڑوس چھوکریاں آجاتی تھیں۔مصنف کی تحقیق میں یہ روایت بھی ہشام ہی سے مروی ہے۔ ایک مستقل روایت ہے جس میں حضرت عائشہؓ کی مکی زندگی کے اس دور کا بیان تھا۔ جب وہ فی الواقع کم عمر کی تھیں۔ لیکن اس تزوج والی حدیث کے ساتھ مربوط کردیاگیاتاکہ اس کا بیان حقیقی نظر آئے۔ اگریہ مدینہ منورہ کاواقعہ ہوتاتو حضرت عائشہؓ کی یہ سہیلیاں غیرمعروف نہ ہوتیں بلکہ تاریخ کا ایک حصہ بنتیں۔
عید کے موقع پر دولونڈیوں کے جنگ بعاث کے گانے گانے اورحضرت عائشہؓ کے حبشیوں کے جنگی کرتب دیکھنے کی روایات کے بارے میں مصنف کی رائے یہ ہے کہ ان سے ام المومنین کا بچپن کا کھلنڈراپن ثابت ہی نہیں ہوتا۔ نیز راویوں نے ان میں تلفیق کی ہے۔ یعنی مختلف موقعوں کی باتوں کوایک جگہ جمع کردیاہے۔ جس سے ان واقعات پر ایک ایسا رنگ چڑھ گیا ہے جو ان کی اصل ماہیت کو واضح نہیں ہونے دیتا۔ مصنف نے اس بات کے بکثرت شواہد پیش کیے ہیں کہ بعض راویوں نے اپنی طرف سے اصل روایات پر اضافے کرکے ان کا حلیہ بگاڑ دیاْ اس ضمن میں انہوں نے ایک راوی عبدالرزاق کو خاص طورپر ذمہ دارگردانا ہے۔ انہی عبدالرزاق کو فاضل مصنف نے واقعہ افک کی روایت میں ان جملوں کے اضافے کا ذمہ دارقراردیاہے۔ جوحضرت عائشہؓ کوکم عمر ، کم عقل ، غافل اورنہ جانے کیا کیا ثابت کرتے ہیں۔
تزوج عائشہؓ کی روایت میں ضعف کے پہلو بیان کرنے کے باوجود فاضل مصنف نے حسن ظن سے کام لیتے ہوئے یہ رائے قائم کی ہے کہ ہشام کی روایت میں نکاح اور رخصتی کی عمرمیں چھ اورنو کے عدد کے ساتھ عشرہ یاعشرین یعنی دہائی کے ہندسے بھی رہے ہوں گے۔ یعنی عمربوقت نکاح ۱۶ یا ۲۶ اوربوقت رخصتی ۱۹ یا ۲۹ برس بیان کی گئی ہوگی ۔ لیکن نقل کرتے وقت دہائی کے یہ ہندسے لکھنے سے رہ گئے ۔ بعد میں اس غلطی پر اور ردے چڑھادئے گئے ۔ حتٰی کہ حضرت عائشہؓ اوران کی کم عمری لازم وملزوم بن گئی ۔
کتاب کے دوسرے حصے میں فاضل مصنف نے وہ قرآئن جمع کئے ہیں جن سے یہ ثابت ہوتاہے کہ رخصتی کے وقت ام المومنین کی عمر ۲۹سال یاکم ازکم ۱۹ سال تھی۔ اگرچہ خود مصنف یہ رائے رکھتے ہیں کہ عمر کا تعین ہمیں نہیں کرنا چاہیئے ۔ یہ ثا بت کرنا کافی ہے کہ رخصتی کے وقت حضرت عائشہؓ سنِ رشد کوپہنچی ہوئی تھیں۔ اس کے قرائن وشواہد درج زیل ہیں:
۱: سیرت ابن ہشام میں محمد ابن اسحاق ، جوہشام بن عروہ کے ہم عصرہیں کی روایت سے قبول اسلام میں سبقت کرنے والوں کی فہرست دی گئی ہے۔ اس کے مطابق حضرت عائشہؓ نبوت کیپہلے سال میں اپنی بہن اسماءؓ کے ساتھ ایمان لائیں ۔ قسطلانی کی مواہب لدنیہ ، زرقانی کی شرح مواہیب اورحیات سید العرب میں بھی ان کوسابق الایمان افردمیں شمار کیاگیاہے۔ ظاہر ہے کہ 1 ؁ء نبوی میں یہ اسلام لانا سن شعورمیں ہوناچاہیئے ۔ اگردودھ پیتی بچی تھیں توایمان لانے کی مکلف نہ تھیں۔
ب: سورۃ قمر کی آیت بل الساعۃ موعدھم کے بارے میں ان کی روایت موجود ہے کہ اس کانزول مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ سورۃ قمرکا زمانہ نزول ۴ ؁ نبوی ہے گویا اس وقت وہ عمر کے اس دور میں تھیں جس میں آدمی چیزوں میں امتیاز کرنے کے قابل ہوتاہے اور ان کو یاد بھی رکھ سکتاہے۔
ج: صحیح بخاری میں ہجرت حبشہ کی روایت حضرت عائشہؓ سے ہے۔ اس روایت میں وہ اسلام کے تیرہ سالہ دورپر جامع تبصرہ کرتی اورچشم دید واقعات بیان کرتی ہیں۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ کی جس ہجرت حبشہ کا ذکر اس روایت میں ہے وہ سنہ ۵ نبوی میں پیش آئی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک عاقل وبالغ آدمی ہی اپنے مشاہدات اس تفصیل سے بیان کرسکتاہے ۔ لہٰذا سنہ۵ نبوی میں ام المومنین کی عمرایسی ہونی چاہیئے جس میں آدمی معاملات سمجھتااورگہرے مشاہدہ پر مبنی رائے دینے کے قابل ہوتاہے۔
د: حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد حضورؐ کویہ مسئلہ درپیش تھا کہ آپ کوگھرسنبھالنے کے لئے کوئی خاتون موجود ہوں ۔ اس مسئلہ کے حل کے لئے حضرت خولہؓ بنت حکیم نے آپ کے لئے دورشتے تجویز کئے ۔ ایک حضرت سودہ کااوردوسرا حضرت عائشہؓ کا۔ اس وقت اگرحضرت عائشہؓ چند برس کی بچی ہوتیں توخولہ کی یہ تجویزانتہائی غیر موزوں ہوتی۔ کیونکہ آنحضرت ؐ کوخانگی ذمہ داریاں اٹھانے والی بیوی کی ضرورت تھی نہ کہ گڑیوں سے کھیلنے والی ایک بچی کی۔ خولہؓ کی تجویز جب حضرت ابوبکرؓ کے سامنے پیش کی گئی تو اس کے جواب میں انہوں نے یہ عذر پیش کیا کہ عائشہؓ حضورؐ کے بھتیجی کے حکم میں ہیں۔ یہ نکاح کے لئے کیسے موزوں ہو سکتی ہیں۔ اگرحضرت عائشہؓ اس قدر بچی ہوتیں توحضرت ابوبکرؓ کا معقول عذریہ ہوتاکہ آنحضرتؐکے گھر کی ذمہ داریاں یہ بچی کیسے سنبھال سکتی ہے۔ 
ھ: مسند احمد میں حضرعائشہؓ کے نکاح کی تجویز کا مفصل بیان ہے۔ اس سے معلوم ہو تاہے کہ حضرت خدیجہؓ کی وفات سے پہلے حضرت عائشہؓ کانکاح جبیربن مطعم بن عدی سے ہوچکا تھا۔ جبیر اسلام کا سخت دشمن تھا۔خلاف عقیدہ کی بنا پرمطعم بن عدی لڑکی کی رخصتی کروانے سے گریزکررہے تھے جب خولہؓ نے آنحضرتؐ کے لئے حضرت عائشہ کا رشتہ تجویز کیا ۔ توحضرت ابوبکرؓ ،مطعم کے پاس گئے اوررخصتی کے بارے میں دوٹوک فیصلہ کرنے کوکہا اس خاندان کواسلام سے جوکدتھی اس کی بنا پر انہوں نے معذوری ظاہر کی چنانچہ حضرت ابوبکرؓ نے حسن تد بیر سے جبیرسے طلاق دلوائی۔ اس طرح حضرت عائشہؓ ، آنحضرت ؐ کے نکاح کے لئے آزاد ہوگئیں، اس زمانے میں جبیر جوان آدمی تھا اور اسلام کے خلاف سازشوں میں حصہ لیتا تھا۔ نیز وہ رئیس مکہ کا بیٹاتھا جس کے لئے جوان رشتوں کی کمی نہیں تھی۔ ایسا کوئی سبب موجود نہیں کہ وہ ایک چند سالہ بچی کے ساتھ نکاح کے لئے آمادہ ہوگیاہو۔ جس کی بلوغت کے انتظارمیں اسے مزید دس گیارہ برس تجرد کی زندگی گزارنی پڑی۔ لہٰذا جبیرکانکاح بھی حضرت عائشہؓ سے بلوغت کے بعد ہی ہواہوگا جوعرب کا معروف طریقہ تھا۔ 
و: طبقات ابن سعد میں ہجر ت مدینہ کا واقعہ خود حضرت عائشہؓ کی ر وایت سے بیان ہواہے۔ اس سے معلوم ہو تاہے کہ مدینہ آنے کے بعد جب کچھ عرصے تک آنحضرتؐ نے رخصتی نہیں لی تو حضرت ابوبکرؓ نے خود پوچھا کہ رخصتی لینے میں کیا امر مانع ہے۔ آنحضرتؐ نے جواب میں نے یہ نہیں کہا کہ میں بچی کی بلوغت کا انتظار کررہاہوں بلکہ یہ فرمایا کہ میرے پاس مہرمیں دینے کے لئے رقم نہیں ہے۔ گویا حضرت عائشہؓ کے بچپنے کا کوئی مسئلہ اس وقت نہ تھا۔ 
ز: کتب حدیث میں یہ روایت بیان ہوئی ہے کہ سنہ ۱ میں جب بہت مہاجرین بیمارپڑگئے تو حضرت عائشہؓ ان میں سے بعض کی عیادت کو گئیں ۔ واپس آکر انہوں نے آنحضرتؐ کے سامنے ان کی حالت کی صحیح تصویر کشی کی اور ان کی زبانوں سے جوحسب حال اشعار سنے تھے وہ بھی سنائے ۔ ظاہر ہے کہ ایساکرنا کسی نوسالہ بچی کے بس میں نہیں ہوتا۔
ح: بخاری ومسلم کی روایت کے مطابق حضرت عائشہؓ غزوہ بدر واحد میں موقع جنگ پر موجود تھیں۔ اورسخت ترین حالات میں انہوں نے زخمیوں کوپانی پلانے کی خدمت سرانجام دی۔ ان غزوات میں نابالغ لڑکوں کوتوشرکت سے روک دیاگیاتھا۔ آخرکیاسبب تھا کہ حضرت عائشہؓ کی کم سنی اس مین رکاوٹ نہ بنی۔ اورانہوں نے کام بھی وہ کئے جوبڑوں کے کرنے کے تھے۔ لہٰذا کم سنی کا قصہ ہی خلافِ حقیقت ہے۔
ط: آپؓ انساب کی ماہر تھیں جوحضرت ابوبکرؓ کا خاص فن تھا۔ نیز آپ کواشعاربکثرت یاد تھے۔ جن کو وہ برمحل استعمال کرتی تھیں۔ انساب اوراشعار میں اس مہارت کے لئے یہ ضروری ہے کہ انہیں اپنے والد سے تعلیم وتربیت حاصل کرنے کا بھرپورموقع میسرآیاہو۔ اگروہ گڑیا کھیلتی آنحضرت ؐ کے گھر آگئی تھیں تویہ فنی کمال انہیں کہاں سے حاصل ہو گیا اوراس تربیت کا زمانہ کون ساہے۔
ی: احکام دین کی مصلحتوں ، حکمتوں اوران کے ارتقاسے جس قدر باخبرآپ ہیں اتنا باخبرکوئی نہیں۔ ان کی فقیہا نہ آراسے کتب حدیث بھری ہوئی ہیں۔ کیا یہ فکری گہرائی اورگیرائی ایک کم سن بچی کی ہو سکتی ہے۔ مانناپڑے گا کہ آنحضرتؐ کے ساتھ رفاقت کے دور سے پہلے حضرت عائشہؓ ذہنی وفکری اعتبار سے نہایت پختہ ہوچکی تھیں۔ اور عمر کے اس حصہ میں تھیں جب ان کی فکری صلاحیتیں عروج پر تھیں۔ اس لیے وہ ہر معاملہ کو اس کے صحیح سیاق وسباق میں سمجھنے کے قابل ہوئیں اوراپنی صائب آراء سے اُمت کو فائدہ پہنچایا۔
اس فاضلانہ تصنیف میں علم حدیث سے متعلق بعض اہم مباحث بھی ملتے ہیں اس میں ایک قابل قدر بحث میں روایت حدیث کے اصول بیان ہوئے ہیں ۔ مصنف کے نزدیک تزوج عائشہؓ کے بارے میں ہشام کی روایت ان اصولوں پر پوری نہیں اترتی۔ مصنف نے صدراول میں علم وحدیث کے ارتقاء کے ادوار بھی متعین کئے ہیں ۔ ان کی تحقیق کے مطابق تابعین اورتبع تابعینکے زمانے میں روایات کوپرکھنے کا رجحان توپایا جاتاتھا لیکن نقد حدیث باقاعدہ فن ابھی وجود میں نہیں آیا تھا۔ اس لیے اس دورمیں روایات میں بکثرت تلفیق ہوئی۔ یعنی مختلف روایتیں باہم گڈمڈ ہوگئیں۔ نقد حدیث کا فن نہ ہونے کے باعث حدیث کی ابتدائی کتابوں مثلاً مؤطاامام مالک ؒ اورمسند امام ابی حنیفہ ؒ میں مرسل روایات بکثرت موجود ہیں اور ان ائمہ نے مرسلات ثقہ کی صحت کو تسلیم کرلیا ۔ نقد حدیث کا فن ۱۸۰ ؁ھ کے بعد وجود میں آیا اورصحاح کی تدوین میں اس سے کا م لیا گیا لیکن اس سے پہلے کی روایات میں جوتلفیق ہوچکی تھی وہ ثقہ کی روایت کی حیثیت سے صحاح میں بھی برقراررہی۔
زیر نظرکتاب کی ایک خوبی یہ ہے کہ ایک ذہین قاری اس سے تحقیق حدیث کا طریق کار بھی سیکھ سکتاہے۔ ام المومنین کی عمر کی تحقیق کی خاطرمصنف نے کس طرح ذخیرہ حدیث کوکھنگالا، راویوں کی جرح وتعدیل کے لئے کون سے وسائل اختیار کئے ۔ روایتوں کے اصل مضمون تک کسی طرح رسائی حاصل کی۔ راویوں کے اضافوں کاسراغ کیسے لگایااورکس طرح ان راویوں کاتعین کیا جوان اضافوں کا باعث بنے ، یہ معلومات کتاب کے مطالعہ سے حاصل ہوتی ہیں جس سے تحقیق حدیث کی عملی تربیت ہوتی ہے۔
فاضل مصنف اس گراں قدر تصنیف پر مبارک باد کے مستحق ہیں ۔ انہوں نے ام المومنین کی حیثیت ہی کوواضح نہیں کیا بلکہ دراصل ان خلاف واقعہ باتوں کی بیخ کنی کی ہے جن کو دشمنان اسلام نے رسول اللہ ﷺ پر طعن کاذریعہ بنارکھاتھا۔ اس دورمیں ایسی کتاب کی ضرورت تھی جسے جناب حکیم نیاز احمد صاحب نے پوراکردیاہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیردے۔ 
اسی ضمن میں ایک اور سوال پیداہوسکتاہے کہ بعض اوقات بعض خاندانوں میں بچوں کے متعلق کمسنی میں ہی ایک وقول وقرار طے پا جاتاہے ۔ توکیا بڑے ہو کر ایسے بچوں کویہ اختیار حاصل ہے کہ چونکہ نکاح ایک بالغ مرد اور ایک بالغ عورت کے درمیان آ زادانہ معاہدہ ہے ۔ اس لئے ان کے متعلق کسی اورکا قول قرار ان کو پابند نہیں کرتا۔ وہ خود اس کا احترام کریں اور قبول کریں توالگ بات ہے ۔ تاہم قانونی طورپر وہ اس کے پابند نہیں۔ چونکہ اس غلط رواج کے مفاسد لوگوں نے اپنے تجربات سے دیکھ لئے ہیں اس لئے اب یہ طریقہ آہستہ آہستہ ختم ہورہاہے۔ آج کے حالات میں یہ ضروری ہے کہ بچپن کانکاح اور منگنی دونوں کوریاست کی سطح پر غیرقانونی قرار دیا جائے۔
چوتھاسوال یہ کہ کہ کیامیاں بیوی کے اس رشتے میں بیوی وظیفہ زوجیت ادا کرنے سے انکار کرسکتی ہے یانہیں؟
اس کا جواب یہ ہے کہ عام حالات میں اسے یہ اجازت نہیں۔ یہ اس م عاہدے کی بنیادی روح کے خلاف ہے جومرد وعورت کے درمیان ہوا ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے پاس سکون تبھی حاصل کرسکتے ہیں جب ان کے درمیان مضبوط جنسی تعلق ہو۔ قرآن مجید کے مطابق ایک بیوی ایک بیوی اپنے شوہرکے لئے قانتہ یعنی فرمانبردار ہونی چاہئیے۔ اسی لئے صحیح بخاری کی ایک روایت کے مطابق حضورؐ نے فرمایا:

’’ اگرعورت مرد کی خواہش پوری نہ کرنے کے ارادے سے ایک رات بھی اس سے احتراز کرے توفرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں حتیٰ کہ وہ شوہر کی طرف ملتفت ہوجائے‘‘.

ابن ماجہ کی ایک روایت کے مطابق حضورؐ نے فرمایا:

’’مومن کے لئے خوف خداکے علاوہ ایک اچھی بیوی سے بہترکوئی نعمت نہیں ۔جو اس کی اطاعت کرتی ہے ۔اس کا مسکراکر استقبال کرتی ہے۔ اگروہ کچھ طلب کرے تواس کو انکارمیں جواب نہیں دیتی اور اس کی عدم موجودگی میں اپنی آبرواورشوہر کے مال کی حفاظت کرتی ہے۔‘‘

اگرعورت کی طبیعت ٹھیک نہ ہو ۔ وہ بیمارہو یا اُسے کوئی نفسیاتی مسئلہ درپیش ہوتو وہ بالکل الگ بات ہے ۔ ایسے حالات میں اسلام مرد کو ہدایت کرتاہے کہ وہ اپنی بیوی کی ان تمام کیفیات کا خیال رکھے۔ اس کے ساتھ اچھابرتاؤکرے اور اسے تنگ نہ کرے۔گویا یہ ان دونوں کی زندگی کا ایساپہلو ہے جس میں دونوں کو ایک دوسرے کو خیال رکھناہے اور ان دونوں کے لئے حددرجہ پرائیوٹ ہے۔
پانچواں سوال یہ ہے کہ اول بدل یا وٹے سٹے کی شادی (جس کو عربی میں نکاح شغارکہاجاتاہے) کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظرکیاہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اپنی حقیقت میں ایک دھوکہ ہے۔ جس سے قرآن مجید نے واضح الفاظ میں منع کیا ہے اور اسی لئے رسول اللہؐ نے بڑی وضاحت کے ساتھ اس سے منع فرمایاہے۔ اس کی ہرصورت ناجائز ہے۔ اس سے ہرکسی کواحترازکرناچاہیئے اور ریاستی سطح پر اس کے خلاف قانون سازی ہونی چاہیئے۔ 
اگلاسوال یہ ہے کہ کیا کسی خاتون کی قرآن مجید سے شادی کروائی جاسکتی ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اس طرح کے رسوم ورواج اسلام کے لئے قطعاً اجنبی ہیں۔ بلکہ یہ بدترین جرم ہے۔ نکاح تو قرآن کے مطابق صرف مردوعورت کے درمیان ہی ممکن ہے۔ اس کے علاوہ کسی بھی چیز سے مرد وعورت کا نکاح ممکن نہیں۔
اگلاسوال یہ ہے کہ کیا اسلام میں مرد کو ایک سے زیادہ شادیوں کا حق ہے اور اگر ہے تواس کی حکمت کیا ہے اور اس کی شرائط کیاہیں؟
قرآن مجید کے مطابق ایک مرد کے لیے یہی بہتر طریقہ ہے کہ وہ صرف ایک عورت سے شادی کرے۔ اسی لیے پروردگار نے دنیا میں مردوں اور عورتوں کی تعداد تقریباً برابر رکھی ہے۔ خدا نے آدم کے لیے ایک ہی بیوی پیدا کی۔ یہ بات بھی عین فطرت کے مطابق ہے کہ ایک مرد اور ایک عورت مل کر اپنا گھر بنائیں۔ارشاد ہے:

ھُوَالَّذِی خَلَقَکُم مِنّْ نَفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّجَعَلَ مِنْھَازَوجَہَالِیَسْکُنَّ اِلَیھَا فَلمَّاتَغَشّٰھَاحمَلَتْ حَمَلاً خَفِیفَافَمَرَّت بِہٖ فَلَمَّآاَثْقُلَتْ دَعَوَااللہَ رَبَّہُمالءِن اٰتَیْتَنَاصَالِحًالَّنَکُونَنَّ مِنَ الشّٰکِرِینَ۔ (اعراف7- ،آیت 189-)
’’ وہ اللہ ہی جس نے تم (مرد وعورت) کوایک جان سے پیداکیا اور اسی جان سے ان کا جوڑابنایا۔ تاکہ اس (مردوعورت ) میں سے ہر ایک دوسرے کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھرجب شوہر نے بیوی سے قربت ی تو اس کو ہلکا ساحمل رہ گیا۔ سووہ اس کولئے ہوئے چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں میاں بیوی پروردگار سے دعاکرنے لگے کہ اگر تونے ہم کو صحیح وسالم اور نیک اولاد دے دی توہم تیرے شکرگزارہونگے‘‘