باب سوم


سوسائٹی کی بنیاد خاندان ہے اس لئے قرآن مجید نے خاندانی معاملات کوبہت زیادہ اہمیت دی ہے اور اس سے متعلق تمام معاملات کے ضمن میں واضح ہدایات دی ہیں۔
خاندان شوہر اور بیوی کے پاکیزہ اور محبت سے بھر پوررشتہ سے وجود میں آتاہے۔انسانیت کی ابتداء ہی آدم وحوا کے جوڑے سے ہوئی تھی۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق ایک مرد اور ایک عورت اپنی آزادنہ رضامندی سے جب ساری زندگی اکٹھا رہنے کا عہد کرتے ہیں تویہ دونوں رشتہ نکاح میں بند ھ جاتے ہیں۔ یہ لازم ہے کہ ہرنکاح کا گواہوں کی موجودگی میں عام اعلان کیا جائے تاکہ سب لوگ یہ جان جائیں کہ ایک نیا جوڑا وجود میں آگیا ہے۔ اس رشتے کی سب سے بڑ ی غرض وغایت یہ ہے کہ اس کے ذریعہ دونوں میا ں بیوی ایک دوسرے سے سکون واطمینان اورمحبت کی دولت حاصل کرتے ہیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے لئے لباس کی مانند ہیں۔ ان دونوں کے حقوق وفرائض آپس میں ہم پلہ وہم مرتبہ ہیں۔ البتہ مرد کا ایک حق زیادہ ہے وہ یہ کہ وہ خاندان کا سربراہ ہے۔ اس کے مقابلے میں اس کی ایک ذمہ داری بھی زیادہ ہے وہ یہ کہ بیوی بچوں کے تمام اخراجات کا ذمہ دار بھی وہ ہے۔
خاندان کے ضمن میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے بہت سے سوالات پیداہوتے ہیں ۔ ہم ایک ایک کرکے ان ان سوالات پر بحث کریں گے ۔
پہلا سوال یہ ہے کہ نکاح کا اصل مطلب کیا ہے؟ 
اس کا جواب یہ ہے کہ اس کے ذریعہ ایک مرد اور ایک عورت کا آپس میں جنسی تعلق جائز ہوجاتاہے۔ اس رشتے سے باہر جنسی تعلق رکھنااسلامی تعلیمات کی رو سے منع ہے۔ ارشادہے:

وَلاَتقرْبوُالزِنیٰ اِنّہ کاَنَ فاَحِشۃًوَسآءَ سَبِیلًا۔ (بنی اسرائیل 17 ۔آیت 32- )
خبردار زناکے قریب بھی نہ پھٹکنا کیوں کہ وہ بڑی بے حیائی ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے۔

قرآن مجید میں خاندان سے متعلق احکام زیادہ ترسورۃ نساء میں بیان ہوئے ہیں ۔ چنانچہ اس سورت کی ابتداء ہی اس طریقہ سے ہوتی ہے:

یٰٓاَیھاالناسُ اتَّقواربّکمُ الذِی خَلقَکُم مِن نفسٍ وّاحدۃٍ وَّخَلقَ مِنھازوجَھا وبثَّ منھمارجالاًکثیراًونسآء واتقواللہَ الذِی تسآءَ لُوْن بہٖ وَالْارْحَامَ اِنَّ اللہَ کاَنَ علَیَکُمْ رَقییاً۔
’’ اے لوگو! اپنے اس رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک ہی جان سے پیداکیا اور اسی کی جنس سے اس کاجوڑا پیداکیا اور ان دونوں سے بہت سارے مرد اورعورتیں پھیلادیں اور ڈرواس اللہ سے جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے مدد مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بچو۔ بے شک اللہ تمہاری نگرانی کررہاہے۔‘‘

اس کے بعد آگے قرآن مجید بیان کرتاہے کہ نکاح میں دونوں طرف سے ایجاب و قبول ہوگا۔ یعنی ایک اپنی آزادانہ مرضی سے دوسرے کو پیش کش کر ے گا اور دوسرا اسے قبول کرے گا۔ شوہر اس موقعہ پر معاہدے کے مطابق کچھ مال اپنی بیوی کو دے گا۔ تیسرایہ کہ اس رشتہ میں پایئداری اورمستقل جاری رہنے کا عزم وارادہ ہو گا اور چوتھی بات یہ کہ چوری چھپے ناجائز جنسی تعلق نہیں ہوگا۔ بلکہ اعلان عام ہوگا۔ ارشاد ہے۔

وَالْمُحْصنٰت مِن النِّسآءِ اِلاّمَامَلکَتْ اِیْمَانُکُم کِتٰب اللہِ عَلیَکُم وَاُحِلَّ لکُم مَاوَرآءَ ذٰلکُم اَنْ تَبْتَغُواباَمْوالِکُم مُحْصِنِینَ غَیرمُسافِیحین فمَااسْتَمْتعتم بہٖ منھن فاتوہن اُجوُرَھُنّ فَرِیضۃً وَلَاجُنَاحَ عَلَیکُم فِیْمَاتَرٰضیتُم بہٖ مِن بَعدِ الفَرِیضۃً اِنَّ اللہَ کَانَ عَلِیْماً حکیماً۔(سورۃ نساء4 ۔آیت 24)
’’ (جوعورتیں تم پرحرام کی گئی ہیں)ان کے سوا باقی سب عورتیں تم پر حلال کردی گئی ہیں۔ اس طرح کہ تم اپنے مال کے ذریعے ان کے طالب بنو۔ ان کو قید نکاح میں لے کر، نہ کہ بدکا ری کے طورپر ۔ پس ان میں سے جن سے تم نے تمتع کیا ہو تو ان کو ان کیمہردو ، فرض کی حیثیت سےْ ۔ مہر کے ٹھہرانے کے بعد جوتم نے آپس میں راضی نامہ کیا ہوتو اس میں کوئی گناہ نہیں۔ بے شک اللہ علم والا، حکمت والا ہے۔‘‘

آگے ارشاد ہے:

ُ محْصنٰتٍ غَیرمسٰفحٰتٍ وَلَامتَّحذات اخدانٍ (سورۃ نساء آیت 25)
’’اُن کو قید نکاح میں لاکر نہ کہ بدکاری کرنیوالی والیاں اور چوری چھپے آشنائی گانٹھے والیاں‘‘

اس سورۃ کی آیت نمبر اکیس میں نکاح کو ’’میثاق غلیظا‘‘یعنی ایک پختہ معاہدہ کہاگیاہے۔
اس مفہوم کی آیات قران مجید میں اور مقامات پربھی آئی ہیں۔ 
اس کے بعد اگلاسوال یہ ہے کہ اسلام کی روسے میاں بیوی کا مثالی رشتہ کیساہوناچاہیئے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید کے مطابق مثالی میاں بیوی وہ ہوتے ہیں جو آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔یہ دونوں ایک دوسرے کے لئے لباس کی مانند ہیں ۔ یعنی وہ ایک دوسرے کے لئے لازم وملزوم ہیں۔ ایک دوسرے کو تکلیف سے بچاتے ہیں۔ ایک دوسرے کیلئے خوشی ومسرت کا باعث بنتے ہیں اور ایک دوسرے کے عیبوں کو چھپاتے ہیں ۔ ارشاد ہے۔

ھُنَّ لباسُ لَّکم وَاَنتُم لِباس لھُنَّ (بقرہ 2 ۔آیت 187)
’’وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو‘‘۔

آگے ارشادہے:

ُھوَالذِّی خَلقکُم من نَّفسٍ وَّاحِدۃٍ وَجَعَلَ مِنْہَا زَوجَھا لِیَسْکُنَّ الیھا فَلََّما تَغَشّٰھَاحَمَلتْ حَمَلاًحَفِیفاً فَمَرَّتْ بِہٖ فَلَمَّااَثْقَلَتْ دَّعَوَاللہَ رَبَّہُمَا لَءِن اَتَیتَنَاصَالِحاًلَنَکُونَنَّ مِنَ الشّٰکِرِینَ۔ (اعراف 7 ،آیت 189)
’’ وہ اللہ ہی ہے جس نے تم (مردوعورت) کو ایک جان سے پیداکیا اور اسی جان سے تمہاراجوڑا بنایا تاکہ تم (مردوعورت) میں سے ایک دوسرے کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب شوہر نے بیوی سے قربت کی تو اس کو ہلکا ساحمل رہ گیا۔ سووہ اس کو لئے ہو ئے چلتی پھرتی رہی۔ پھرجب وہ بوجھل ہوگئی تودونوں میاں بیوی پروردگار سے دعاکرنے لگے کہ اگر تونے ہم کو صحیح وسالم اور نیک اولاد دے دی توہم تیرے شکرگزار ہونگے۔‘‘

مزید ارشادہے:

وَمِن آیٰتِہٖ اَنْ خَلقَ لَکُمْ مِنْ اَنفُسِکُمْ اَزواجاً لِتَسْکُنُوآ اِلَیْھَا وَجَعَلَ بَینکُم مَّوَدَّۃً وَّرَحْمَۃً اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُون۔(روم 30 ،آیت 21)
’’ اس پروردگار کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں۔ تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرواور تم میاں بیوی کے درمیان محبت اور ہمدردی پیداکردی۔ یقیناًاس میں ان لوگوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں جوغوروفکر کرتے ہیں‘‘

قرآن مجید یہ بات بھی واضح کرتاہے کہ عام حالات میں میاں بیوی کے حقو ق وفرائض ہم پلہ وہم مرتبہ ہیں۔

وَلَھُنَّ مِثْلُ الذِّی عَلیھِنَّ بِالمعروف (بقرہ 2، آیت228)
عورتوں کے لئے بھی معروف طریقہ پر ویسے ہی حقو ق ہیں جیسے مردوں کے ان پر ہیں‘‘

اس کے بعد اگلاسوال یہ ہے کہ اسلام کی روسے مرد کے خصوصی فرائض کیاہیں؟
اس کا جواب یہ ہے کہ دین کاحکم یہ ہے کہ مرد اپنی بیوی کی تمام جائز ضروریات کاخیال رکھے گا۔ اسے کبھی تنگ نہیں کرے گا۔ اس پرظلم نہیں کرے گا بلکہ اگر اسے بیوی کی کچھ عادتیں پسند نہ ہوں تب بھی اس کے ساتھ گزاراکرے۔ اس لئے کہ خامیوں سے پاک کوئی بھی نہیں ہوسکتا۔ 
ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍارشادہے:

یٰٓاٰ اَیھُّاالذِیْنَ اٰمَنُولَایَحِلُّ لَکُم اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ کَرْھاًً وَلَاتَعْضُلُوھُنَّ لِتَذْھَبُوبِبَعضِ مآاٰتیتُموھُنَّ اِلاَّ اَنْ یاْتین بفاحشۃٍ مُبیِّنتۃٍ وَعَاشِرُوھُنَّ بِالْمَعروفِ فَاِنْ کَرِھْتمُوھُنَّ فَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُواشیءًاوَّیَجْعَلَ اللُہ فَیِہ خَیْراً کثیراً۔ (نساء4 ، آیت19)
’’ اے لوگوجوایمان لائے ہو تمہارے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ عورتوں کامال کمانے کے لئے زبردستی ان کے وارث بن بیٹھو۔تمہارے لئے یہ بھی حلال نہیں ہے کہ عورتوں کو تنگ کرکے اس مال کا کچھ حصہ اڑالینے کی کوشش کرو جو تم انہیں دے چکے ہو۔ سوائے اس کے کہ وہ کسی صریح بدچلنی( زنا) کی مرتکب ہوں۔ عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی بسرکرو۔ اگروہ تمہیں ناپسند ہو ں توہوسکتاہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔‘‘

قرآن مجید کی یہ بھی ہدایت ہے کہ مردوں کو عورتوں کے ساتھ احسان کا رویہ رکھناچاہیئے اوران کے مقابلے میں اپنا حق چھوڑناچاہئے ۔ سورۃ بقرہ میں ایک لمبی بحث کے بعد جس میں طلاق کے قوانین زیربحث ہیں قرآن مجید کا ارشاد ہے۔

وَاَنْ تَعْفُوآ اَقْرَبُ لِتَقْوٰی وَلَاتَنْسَوُالْفَضْلَ بَینکُمِ انَّ اللَہ بِمَاتعَمْلُون بَصِیُر،۔ (بقرہ 2 ،آیت 237)
’’ اور اگر تم مرد(عورتوں کے مقابلے میں) اپنا حق چھوڑدو تویہ تقویٰ سے قریب ترہے۔ آپس کے معاملات میں فیاضی کونہ بھولو۔بے شک اللہ تمہارے سب اعمال کو دیکھ رہاہے۔‘‘

اگلا سوال یہ ہے کہ اسلام کی روسے بیوی کے خصوصی فرائض کیا ہیں؟
اس کا جواب یہ ہے کہ وہ اپنے شوہر کی وفادار ،اطاعت گزارا ور فرمانبردار رہے گی۔ وہ اپنے شوہر اور گھر کے رازوں کی حفاظت کرے گی۔ ارشاد ہے:

فالصٰلحٰتُ قٰنتٰتُحٰفِظٰتٌُ لِلْغَیْبِ بِماَ حفظاَا للہُ (نساء 4 ،آیت 34)
’’پس جونیک بیویاں ہیں وہ اپنے شوہروں کی فرماں بردار اوران کے رازوں کی حفاظت کرنے والی ہو تی ہیں۔ اس لئے کہ خدانے بھی رازوں کی حفاظت فرمائی ہے۔‘‘

گویا وہ اپنے شوہر کے جان ومال ،آبرو ، بچوں اور ان کے رازوں اور مزاج کا پورا پورا خیال رکھے گی۔ عام حالات میں اپنے شوہر کی فرمانبردار اور اطاعت گزار رہے گی۔ اس کے ساتھ گستاخی اور بے عزتی کا رویہ نہیں اپنا ئے گی۔ وہ اپنے شوہرکی سچی رازدان اور خیرخواہ ہوگی اور اپنے شوہر کے خلاف بغاوت اور سرکشی نہیں کرے گی۔ 
اگلا سوال یہ ہے کہ اسلام کی روسے خاندان کا سربراہ کون ہے باالفاظ دیگر فیصلہ کن اتھارٹی کس کوحاصل ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام کی روسے ایک خاندان کی چھوٹی سی وحدت بھی دراصل ایک چھوٹی سی ریاست ہے جو ایک سربراہ کی محتاج ہے۔ سربرا ہی صرف ایک حق نہیں بلکہ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔گھرکی تمام ضروریات کو پورا کرنا ، ہرچیزکا خیال رکھنا اور گھرکی حفاظت اور مدافعت کرنا سربراہ کی ذمہ داری ہے۔ چونکہ مرد کو پروردگار نے وہ خصوصیات دی ہیں جو سربراہی کے لئے ضروری ہیں مثلاً سخت جان ہونا،محنت ومشقت کے لئے زیادہ موزوں ہونا،معاشرے میں مقابلے کے لئے جذبات مسابقت کاہونا۔ اس کے علاوہ خاندان پر خرچ کرنا بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔ اس لئے قرآن مجید نے شوہرکو خاندان کا سربراہ قراردیاہے۔ اس کیلئے قرآن مجید نے ’’قوام ‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جس کے معنی محافظ ونگہبان اورضروریات مہیاکرنے والے کے ہیں۔ چنانچہ قوام ہو نا مرد کا حق بھی ہے اور اس کی ذمہ داری بھی ہے۔
یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیئے کہ قرآن مجید کے مطابق پروردگار نے مرد وعورت کومختلف حیثییتوں میں ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے مثلاً اگرمرد حفاظت کے لئے زیادہ موزوں ہے توعورت بچوں کی پرورش اور نگہداشت کیلئے زیادہ صلاحیت رکھتی ہے۔ ارشاد ہے:

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُونَ عَلَی الِنسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّہُ بَعْضُھُمْْ عَلٰی بَعْضٍ وَبِمَآ اَنْفَقُو مِنْ اَمْوَالَہُمْ، (نساء آیت34)
’’مرد (شوہر کی حیثیت سے)عورتوں کے محافظ ونگہبان اور ان کی ضروریات مہیا کرنے پر ذمہ دار ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے بعض کو بعض پر (یعنی کبھی مرد کو اور کبھی عورت کو) فضیلت بخشی ہے (چنانچہ یہاں) وجہ یہ ہے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کئے‘‘

وَلَھُنَّ مِثْلُ الذِّی عَلَیْھِنَّ بِاالمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْھِنِّ دَرَجَۃٌُ
’’عورتوں کے لئے دستور کے مطابق اسی طرح حقوق ہیں جس طرح دستور کے مطابق ان پر ذمہ داریاں ہیں ۔ ہاں مرد کے لئے ان پر (قوام کی حیثیت سے) ایک درجہ زیادہ ہے۔‘‘

درج بالادونوں آیات میں مزید دونکات ہیں جن کی طرف توجہ کر نا ضروری ہے۔ پہلا نکتہ یہ ہے کہ کیا ہر مرد قوام ہے۔ مثلاً ایک شخص کے مرجانے سے اس کا بیٹا بھی اپنی والدہ کا قوام بن جاتاہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ قرآن مجید کے ان دونوں مقامات کے سیاق وسباق سے ظاہر ہے کہ یہاں صرف میاں بیوی ہی مراد ہیں۔ اس لئے کہ ان دونوں مقامات پر ساری بحث میاں بیوی کے تعلق کے حوالے سے ہو رہی ہے۔ جہاں تک باقی رشتوں کا تعلق ہے ان کے متعلق قرآن مجید نے دوسرے مقامات پر بحث کی ہے۔
دوسرانکتہ یہ ہے کہ کیاپروردگار نے مرد کو عورت پر مطلقاً کوئی فضیلت بخشی ہے ۔ کونکہ سورۃ نساہ کی آیت 34- کے ٹکڑے ’’بمافضل اللہ بعضم علی بعض ‘‘ سے بظاہر ایسا ہی لگ رہاہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ مرد کی عورت پرکوئی مطلق فضیلت نہیں ہے اس لئے کہ قرآن مجید یہ بات واضح کرچکاہے کہ سوائے سربراہی کے مرد وعورت کے حقوق آپس میں ہم پلہ وہم مرتبہ ہیں۔ درج بالا آیت کے اس ٹکڑے کاترجمہ ہے ’’اللہ نے بعض کوبعض پر فضلیت بخشی ہے‘‘ یعنی کسی خصوصیت کے لحاظ سے کسی کا درجہ زیادہ ہے اور کسی اور خصوصیت کی وجہ سے کسی اور کا درجہ زیادہ ہے۔ اگرقرآن مجید کو یہ بات کہنی ہوتی کہ مردوں کا درجہ مطلقاً زیادہ ہے تو وہ واضح طورپر کہتاکہ ’’اللہ نے مرد پر مطلق فضیلت بخشی ہے‘‘ یہ بات ذہن میں رہنی چاہئیے کہ قرآن مجید ہر اہم اور بنیادی بات بالکل واضح طورپر کہتاہے اور وہ اجمالی بات وہیں کہتاہے جہاں اجمالی بات کہناہی موزون ہو ۔ اس آیت سے پہلی آیت میں قرآن مجید نے فضیلت والی بات کو بہت واضح طریقہ سے یوں بیان کیاہے۔ 

وَلَاتَتَمَنُّوامَافَضْلَ اللَّہُ بِہٖ بَعْضُکُمْ عَلیٰ بَعْضٍ لِلرِجَالِ نَصِیْبٌُ مِمََّا اکْتَسَبْنَ وَسْئلُوااللہ مِنْ فَضْلہٖ اِنَّ اللّہ کَانَ بِکُلِّ شیءٍ عَلِیماً۔ (نساء 4- ،آیت 32)
’’اور جس چیزمیں اللہ نے تمہیں ایک دوسرے پرترجیح دی ہے اس کی تمنا نہ کرو ۔ مردوں کو حصہ ملے گا اس میں سے جو انہوں نے کمایا اور عورتوں کو حصہ ملے گا اس میں سے جو انہوں نے کمایا اوراللہ سے اس کے فضل میں سے حصہ مانگو‘‘

اگلاسوال یہ ہے کہ سربراہ ہونے کی حیثیت سے ایک شوہر اپنی بیوی پر کیا کچھ باالجبر نافذکرسکتاہے اور کیا کچھ نہیں کرسکتا۔ 
اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ گھر کی تنظیم کے سلسلے میں جتنے بھی معاملات ہیں ، ان میں آخری فیصلے کا اختیار شوہر کو حاصل ہے۔تاہم وہ اپنی بیوی کے کسی ذاتی معاملے میں کوئی دخل اندازی نہیں کرسکتا۔ تاہم اس مختصرجواب کی تھوڑی سی تفصیل ضروری ہے۔ 
ہمارادین ہم میں یہ مزاج پیداکرنا چاہتاہے کہ گھرکے اندر مکمل ہم آہنگی ، اتفاق اور خوشی ہو ۔ تمام فیصلے مشورے اور اتفاق رائے سے کئے جائیں۔ مردوعورت ایک دوسرے کی ہروہ ضرورت ، جوپوری کرسکتے ہوں، پوری کریں۔ اورباہر کی طرف نظر بھی نہ اٹھائیں۔ اسلامی معاشرے کے برعکس ، مغربی معاشرے میں ایک مرد اورایک عورت کوخود اپنی جگہ پراکائی قراردیاگیاہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اگرخاندان وجود میں آبھی جائے ، تب بھی وہ نہایت ناپائیدارہوتاہے ۔ ہر معاملے میں میاں بیوی کے درمیان جھگڑے چلتے رہتے ہیں اوربات بات پر علیحدگیتک نوبت جاپہنچتی ہے۔ تاوقتیکہ مردوعورت خود ہی فطرت کی آوازپر لبیک کہتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی اختیارکریں۔دوسری طرف اسلام کی روسے ہرخاندان ایک ننھی منی سی ریاست ہے۔ جس میں ہرکام خوش اسلوبی اورمعاملہ فہمی سے ہونا چاہیے ، تاہم آخری فیصلے کااختیار کسی نہ کسی کے پاس توہونا چاہیئے۔ اس لئے گھرکی تنظیم کے سلسلے میں جتنے بھی معاملات ہیں ، ان میں آخری فیصلے کا اختیار شوہر کوحاصل ہے۔ مثلاً کہاں رہائش اخیتار کی جائے؟ بچوں کو کون سے سکول میں داخلہ دلوایا جائے۔ گھرکے اندر رشتہ داروں اوردوستوں میں سے کون کون آئے اورکون کون نہ آئے، وغیرہ وغیرہ۔ تاہم دین ہمیں یہ نصیحت کرتاہے کہ مرد ان سب چیزوں میں اپنی بیوی کی خوشی ملحوظ رکھے۔حضوراکرم ؐ اس بارے میں اتنے حساس تھے کہ آپؐ نے حجۃ الوداع کے اہم ترین موقع پر، میاں بیوی کے تعلق کے اس پہلو پرروشنی ڈالی۔
تاہم مرد اپنی بیوی کے کسی ذاتی معاملے میں کوئی دخل اندازی نہیں کرسکتا۔ مثلاً وہ بیوی کے مال پر کوئی حق نہیں رکھتا۔ شوہر اسے کوئی خاص کپڑاپہننے یا کوئی خاص کھاناکھانے پرمجبورنہیں کرسکتا، وہ اسے اپنے قریبی رشتہ داروں سے ملاقات سے نہیں روک سکتا۔ وہ اسے مسجد میں نماز پڑھنے سے نہیں روک سکتا۔ گویاوہ سب امور ، جوعرف عام میں کسی فرد کے ذاتی معاملات کہلاتے ہیں ، ان میں کوئی مرداپنی عورت کو حکم نہیں دے سکتا۔ رسول اکرمؐ نے اس سب امور کو ، مختلف مواقع پروضاحت سے بیان کردیاہے۔ 
تاہم دین کا مزاج یہ ہے کہ ان چیزوں میں بھی ایک بیوی اپنے شوہر کے جذبات واحساسات کا خیال رکھے۔ کیونکہ مردوعورت ایک دوسرے کا لباس ہیں۔ یہ ایک دوسرے کے عیبوں کوچھپاتے ہیں اوران کا وجود ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ہے۔ 
اگلاسوال یہ ہے کہ کہاجاتاہے کہ اسلام نے شوہروں کو یہ اجازت دی ہے کہ وہ اپنی بیویوں کو مارپیٹ سکتے ہیں۔ اس کی کیاحقیقت ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بالکل غلط ہے کہ اسلام نے مرد کو اپنی بیوی پر ہاتھ چلانے کی کھلی اجازت دی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عام حالات میں ایک شوہر کو قطعاً یہ اجازت نہیں کہ وہ اپنی بیوی کو کوئی ایذا پہنچائے۔ بیوی سے کوئی بڑا مالی نقصان بھی ہو جائے یا بچے اس کے بے توجہی کی وجہ سے نقصان کا شکار ہوجائیں تب بھی شوہر اسے مارنے پیٹنے کا کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ البتہ صرف ایک صورت میں شوہر اپنی بیوی کے خلاف تادیبی اقدام کرسکتا ہے۔ وہ صورت یہ ہے کہ جب ایک بیوی کھلی بغاوت پر اتر آئے۔ وہ اپنے شوہر کی بات ماننے سے کھلم کھلا انکار کر دے اور بالکل ہی نافرمان ہوجائے ایسی صورت میں قرآن مجید مردوں کو نصیحت کرتا ہے کہ وہ پہلے اپنی بیویوں کو اچھے طریقہ سے سمجھانے کی کوشش کریں اس سے بھی اصلاح نہ ہو تو پھر شوہر اپنا بستر الگ کرلے۔ اس طرح عورت کو یہ احساس ہو جائے گا کہ اسے بغاوت اور نافرمانی کی روش چھوڑ دینی چاہیے۔ اگر اس سے بھی فائدہ نہ ہو تو مرد کو یہ اجازت ہے کہ وہ احساس دلانے کی خاطر بیوی کو ہلکی ضرب بھی لگا سکتا ہے۔ اس آخری بات کی مزید توضیح حضورؐ نے یوں کی ہے کہ یہ ضرب صرف احساس دلانے کی خاطر ہونی چاہیے اور چہرے یا کسی نازک مقام پرنہیں لگنی چاہیے۔ارشادہے:

والٰتی تخافون نشوزھن فعظوھن واھجروھن فی المضاجع واضربوھن فان اطعنکم فلاتبغواعلیھن سبیلاً (نساء۔4 آیت:34)
’’وہ عورتیں جن سے تم کو نافرمانی یا بغاوت کا اندیشہ ہو ان کو (پہلے) نصیحت کرو۔ اور(اگر نہ مانیں تو ) ان کو بستروں میں تنہا چھوڑ دو۔ اور اگر (پھر بھی وہ نہ مانیں تو) ان کو ہلکی جسمانی سزا دو۔ پھر اگر وہ تمہاری فرماں برداری کرنے لگیں تو ان پر ظلم کرنے کے راستے مت تلاش کرو‘‘

یہاں دوسوالات پیداہوتے ہیں ایک یہ کہ اسلام نے شوہر کویہ اجازت کیوں دی؟
اس کا جواب یہ ہے کہ دین کا منشاء یہ ہے کہ گھر کی سلطنت تباہ نہ ہو نے پائے اور گھر کی بات گھر ہی میں رہے۔ اسلام ہرجگہ امن وسلامتی کو پسند کرتاہے جس طرح وہ ہر مسلمان کویہ ہدایت کرتاہے کہ کہ وہ اپنی ریاست کا وفاداررہے گا اور ریاست کا ہر حکم مانے گا سوائے اس حکم کے جس کے ذریعے اسے گناہ کرنے کا حکم دیا جائے (مثلاً اس کو بزور شراب پلا ئی جا ئے) ۔ اس طرح اسلام یہ بھی چاہتاہے کہ گھر کی چھوٹی سی ریا ست امن ومحبت کا نمونہ بنی رہے ۔ یہ ٹوٹنے نہ پائے اور اگر اسے ٹوٹنے سے بچانے کیلئے شوہر کو کچھ تادیبی کاروائی بھی کرنی پڑے توایساکرلے ۔ یہ تادیبی کاروائی گھرٹوٹنے کی نسبت بہت کمتر برائی ہے۔
اسی لئے قرآن مجید ہمیں ہدایت کرتاہے کہ اگر درج بالا تینوں کاموں سے گھر کے حالات نہ سدھر یں اور میاں بیوی کے تعلقات منقطع ہونے کی نوبت آجائے تو پھراس کے خاندان کے دوستوں ،رشتہ داروں ،پوری سوسائٹی اور بدرجہ آخرریاست کو بھی حرکت میں آناجاہیئے اور دونوں کے درمیان وسیع تر سمجھوتے اور پرامن بقائے باہمی کی خاطر دوافراد پرمشتمل ایک جیوری مقرر کرنی چاہیئے۔ جن میں ایک فرد مرد کی طرف سے ہو اور دوسرا عورت کی طرف سے ۔ یہ دونوں مل کرایک قابل عمل سمجھوتے تک پہنچنے کی کوشش کریں گے تاکہ ایک نئے معاہدے کے ذریعے میں میاں بیوی مستقبل میں زندگی بسر کریں ۔ ارشاد ہے۔ 

وَاِنْ خِفْتُم شِقَاقَ بَیْنَھُمَا فَابْعَثُواحَکَمًا مِّنْ اَھْلِہٖ وَحَکَماً مِن اَھْلِہَا اِنْ یُّرِیْدَآاِصْلَاحاً مِنْ یُّوفِّقَ اللہُ بَیْنَھُمَااِنَّ اللَّہ کَانَ عَلِیمًاخَبِیرا۔ً (نساء4 ،آیت 35 )
’’اگرتمہیں میاں بیوی کے درمیان افتراق کااندیشہ ہو توایک نمائندہ مرد کے لوگوں میں سے مقررکرو اورایک نمائندہ عورت کے لوگوں میں سے۔ اگردونوں (میاں بیوی) اصلاح کے طالب ہوئے تواللہ ان کے درمیان سازگاری پیداکردے گا۔بے شک اللہ علم والا اور باخبر ہے۔ ‘‘

گویا اسلام کا منشاء یہ ہے کہ ہر ممکن طریقہ سے اس اکائی کو بچایا جائے تاکہ معاشرت کی سب سے اہم بنیاد ٹوٹنے نہ پائے،
دوسراسوال یہ ہے کہ بیوی کی طرف سے بغاوت وسرکشی کی صورت میں ایک شوہر کے لئے اپنی بیوی کو ضرب لگانے کی آخری حد کیا ہے؟
یہ بات توواضح کی جاچکی ہے کہ اس ایک معاملے کے سوا شوہر کو بیوی پر ہاتھ اٹھانے کی قطعاً اجازت نہیں ۔اس معاملے میں بھی ضرب لگانے کی آخری حد یہ ہے کہ یہ محض علامتی ہونی چاہیئے ۔ یہ ہلکی ہونی چاہیئے اور یہ چہرے یا کسی نازک مقام پر نہیں لگنی چاہیئے۔ مستند روایات میں حضوؐر سے یہ ہدایت نقل ہوئی ہے ۔مثلاً مشکواۃ کی روایت ہے:
’’ میں نے رسول اللہؐ سے عرض کیا کہ ہماری بیویوں کا ہم پرکیا حق ہے ؟ آپؐ نے فرمایا جوتم کھاؤ ، وہی انہیں بھی کھلاؤ ۔ جوتم پہنو وہی انہیں بھی پہناؤ (سرکشی کی صورت میں) چہرے پرمت مارو اور اگر اس سے بطورتادیب علیحدگی چاہو توصرف اتنی کہ بسترالگ کردو ۔ مکان الگ نہ کرو۔
اسی کے متعلق حضورؐ نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ یہ اجازت تو موجود ہے مگر انبیاؑ نے کبھی ایسانہیں کیا اور اچھے مردوں کو ایسانہیں کرناچاہیئے۔ حضوؐر کے الفاظ ہیں ’’ ولن یضرب خیارکم ‘‘ یعنی اچھے مرد اپنی عورتوں کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں کریں گے۔
حضوؐر کے اس ہدایت کی قرآنی بنیاد یہ ہے کہ قرآن مجید کے مطابق ضرب اور دوسری ایذائیں ایک جرم اور قابل دست اندازئی ریاست ہے۔ اس معاملے میں میاں بیوی سمیت کوئی استثناء نہیں ہے (ملاحظہ کیجئے سورۃ مائدہ 5،آیت نمبر 45)
اسی سلسلہ میں ایک ضمنی سوال یہ بھی پیداہوتا ہے کہ کیا گھریلو تشددکے خلاف ریاستی سطح پر قانون سازی ہونی چاہیئے۔؟
اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ کئیمعاشروں میں خواتین پرتشدد ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ مرد بات بے بات عورتوں پرہاتھ اُٹھاتے ہیں ۔ حتیٰ کہ ان کو زخمی کرتے ہیں۔ اس لئے اس معاملے میں ریاستی سطح پر قانون سازی ضروری ہے۔ اس سے معاشر ے میںیہ شعور بڑھے گا کہ شوہر کوصرف نشوزیعنی کھلی بغاوت ہی کے سلسلے میں تادیبی اختیارات حاصل ہیں اور محض علامتی ہیں ۔ بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ خواتین کی ہرحادثاتی موت (مثلاً چولھے پھٹنے کی وجہ سے موت) کی باقاعدہ عدالتی تحقیقات کے لئے بھی قانون سازی کی جائے۔
نکاح کے ضمن میں اگلاسوال جسے قرآن مجید نے براہ راست لیاہے وہ مہرسے متعلق ہے۔ 
مہر دراصل اس رقم کا نام ہے،جوکہ زندگی بھرکی کفالت کی ذمہ داری اٹھانے والے مرد کی طرف سے ، اس موقع پر جب کہ ایک عورت جو کہ اس کے عقد نکاح میں آرہی ہے اور اس کا مقام تسلیم کرکے ، اپنا آپ اس کے حوالے کررہی ہے ، اداکی جاتی ہے۔ دین نے ٹوکن کے طورپر یہ رقم لازم کی ہے ، تاکہ وہ اسے غیرمعمولی حالات میں اپنی مرضی اورآسانی کے ساتھ استعمال کرسکے اور اس کے استعمال میں اس پرکوئی قدغن نہ ہو۔ قرآن مجید نے اس کو بڑی اہمیت دی ہے اوردس مقامات پر اس کاذکرآیاہے۔ مہر کی رقم کا تعین نکاح کے موقع پر لازم ہے۔
مہر کی رقم کے سلسلے میں قرآن مجید کی ہدایت ہے کہ اس رقم کا تعین معاشرتی اورمالی حالات کے لحاظ سے کیا جائے۔ یہ رقم اتنی ہونی چاہیئے کہ اس سے عورت کواحساس تحفظ ہو۔
باہم رضامندی سے یہ فیصلہ کیا جاسکتاہے کہ یہ رقم نکاح کے ساتھ ، فوراً ہی (مہرمعجل) شوہر اپنی بیوی کواداکرے گا، یا وہ اس کا حصہ بعد میں (مہرموجل) اپنی بیوی کے مطالبے پر اداکرے گا۔ بعدمیں اگربیوی چاہے تواس مہر کا کچھ حصہ معاف بھی کرسکتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں مہر کے متعلق یہ عام غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ اس کی کوئی شرعی مقدارہے ، جوبتیس روپے دس آنے بتائی جاتی ہے۔ درحقیقت ایسی کوئی مقدار دین میں نہیں ہے۔ یہ مقدار اورنگ زیب عالمگیرکے زمانے میں علماء نے لوگوں کی آسانی کے لئے بطورتجویز بیان کردی تھی۔ اس وقت کی وہ رقم آج کے لاکھوں روپے کے برابر ہے۔ اس لئے کہ اس زمانے میں ایک روپے کا چارتولے سونا آتا تھا۔
دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ اگربیوی اپنے شوہر سے علیحدگی چاہے تواسے مہرواپس کرنا ہوگا۔اصل معاملہ یوں ہے کہ بعض اوقات مہرکی رقم بڑی غیر حقیقت پسندانہ لکھ دی جاتی ہے۔ مثلاً شوہر کا آبائی گھر، اس کی ساری یا نصف جائیداد وغیرہ۔ پھرجب میاں یابیوی ایک دوسرے سے علیحدگی چاہتے ہیں تو اس غیرحقیقت پسندانہ مہر کی وجہ سے شوہر اپنی بیوی کومعلق رکھتاہے۔ کیونکہ علیحدگی کی صورت میں اسے اپنی ایک بڑی ملکیت سے ہاتھ دھونا پڑتاہے۔ ایسی صورت میں معاملہ کو حل کرنے کیلئے قرآن مجید ہمیں ہدایت کرتاہے کہ ’’کچھ لواورکچھ دو‘‘ پر سمجھوتہ کیاجائے اورباہمی رضامندی سے ایسی غیرحقیقت پسندانہ شرطوں کواعتدال پر لایاجائے۔
اگرنکاح ہوگیاہے ، مگر رخصتی سے پہلے طلاق ہوگئی ہے توشوہر کو مہر کا نصف حصہ اپنی بیوی کو دیناہوگا۔
اگلی بات جس کے ضمن میں قرآن مجید نے براہ راست ہدایت دی ہے وہ یہ ہے کہ کچھ رشتہ داروں اور افراد کا آپس میں نکاح ممنوع ہے۔
جن رشتہ داروں کا آپس میں نکاح ممنوع ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایسے رشتے ہو تے ہیں جن کی بنیا د رحم ،محبت اور شفقت کے کے اعلیٰ ترین جذبات کی بنیاد پر ہونی چاہیئے اور ان میں نفسانی وجنسی خواہشات ومیلانات کا کوئی گزرتک نہیں ہو ناچاہیئے ۔ان رشتوں میں کسی قسم کی رشک ورقابت کا شائبہ تک نہیں ہونا چاہیئے۔ یہ ہدایت سورہ نور آیت نمبر23 میں دی گئی ہے اور اس کے مطابق ایک مرد کیلئے اپنی ماں، بیٹی ،بہنوں ، پھوپھیوں ، خالاؤں ، بھتیجوں ، بھانجیوں ، وہ خواتین جنہوں نے اس مرد کو اپنی چھاتی سے دودھ پلایا ہو۔ اس دودھ پلانے والی خاتون کی بچیاں ، ساس ، سوتیلی بیٹیاں ، بیٹوں کی بیویاں ، ان سب سے شادی کرناممنوع ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی ممنوع ہے کہ دوبہنوں یا خالہ او ربھانجی اور پھوپھی اوربھتیجی کو ایک ہی فرد کے نکاح میں جمع کردیا جائے۔ ایک مسلمان مردکے لئے کسی مشرک عورت سے شادی کرنا منع ہے البتہ ایک مسلمان مرد کسی اہل کتاب (یعنی یہودی یا عیسائی) عورت سے بھی اس صورت میں شادی کرسکتاہے جب وہ پاک دامن ہو۔ ارشاد ہے:

اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَکُم الطَّیِبٰتُ وَطَعَامُ الَّذِین اوتوا الکتٰب حلُ لَکُم وَطَعَامُکُم حل لھم والمحصنٰت من المومنٰت والمحصنٰت من الذین اوتواالکتٰب من قبلکم اذآاٰتیتموحن اجورھن محصنین غیرمسٰفحین ولامتحذی اخدانٍ (مائدہ 5 ،آیت 5)
’’اب تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کردی گئی ہیں ۔ اہل کتاب کا کھاناتمہارے لئے حلال ہے اور تمہاری کھاناان کے لئے حلال ہے۔ اور شریف عورتیں بھی تمہارے لئے حلال ہیں خواہ وہ اہل ایمان کے گروہ میں سے ہوں یا ان قوموں میں سے جن کوتم سے پہلے کتاب دی گئی تھی۔ بشرط یہ کہ تم ان کے مہراداکرکے نکاح میں ان کے محافظ بنو۔ نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو یا چوری چھپے آشنائیاں کرو‘‘ 

مسلمان خواتین کے لئے کسی بھی غیرمسلم مرد سے شادی کرنا منع ہے۔ ارشاد ہے۔

لاھُنَّ حلُ لھم ولاھم یحلون لھن (الممتحنہ آیت 10)
’’نہ وہ مسلمان عورتیں ان کافروں کے لئے حلال ہیں اور نہ (کفار) ان(مسلمان) عورتوں کیلئے حلال ہیں۔‘‘

اس موقعہ پردوسوالات کا جواب ضروری ہے ۔ ایک یہ کہ کیایہ عدم مساوات نہیں ہے کہ مسلمان مرد تواہل کتاب سے شادی کرسکتاہے مگر مسلمان عورت اہل کتاب مرد سے شادی نہیں کرسکتی؟
اس کا جواب یہ ہے کہ مسلمان تو اہل کتاب کے انبیاء اور ان کی کتابوں کی مکمل تعظیم وتصدیق کرتے ہیں ۔ اس لئے کسی مسلمان مرد کی طرف سے کسی اہل کتاب عورت کی دل آزاری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔لیکن چونکہ اہل کتاب حضوؐر کی رسالت تسلیم نہیں کرتے۔ اس لئے یہ قوی اندیشہ ہے کہ اہل کتاب مرد اپنی مسلمان بیوی کے مذہبی جذبات کی پاسداری نہیں کرے گا۔
درج بالاہدایت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ حکم اس وقت دیا گیا جب حضوؐ ران سب لوگوں کو براہ راست مکہ میں تیرہ برس تک دعوت دے چکے تھے ۔ اس کے بعد مدینہ میں حضوؐر ایک ریاست بناچکے تھے اور اس ریا ست کوبھی بنے ہو ئے سات آٹھ برس گزرچکے تھے ۔ گویا اس وقت تک ان تمام لوگوں پر اسلامی دعوت کی بھرپور اتمام حجت ہوچکی تھی۔ چنانچہ اس سے معلوم ہوتاہے کہ اگر ایک خاتون مسلمان ہو جائے اور اس کا شوہربدستورغیرمسلم ہو تو اس وقت تک اس خاتون کواپنے شوہر سے رشتہ توڑنے کی ضرورت نہیں جب تک وہ کئی سال کی کوشش کے بعد اس نتیجہ تک نہ پہنچ جائے کہ اس کے شوہر کے قبول اسلام کا کوئی امکان نہیں اور یہ کہ وہ اسلام کا سخت دشمن ہے۔