۵-      اوپر کی تفصیل سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اس مسئلہ میں ہمارے نزدیک صحیح مذہب ان لوگوں کا ہے جو کہتے ہیں کہ یہ قسمیں دلیل ہیں لیکن اگر ایک طرف یہ حضرات اپنے سامنے یہ روشنی رکھتے ہیں تو دوسری طرف اس شبہے میں بھی گرفتار ہیں کہ قسم میں مقسم بہ کی تعظیم کا پہلو بھی ہوتا ہے یہی وہ ظن باطل ہے جو قرآن کی قسموں کے باب میں در حقیقت تمام شبہات کا سر چشمہ بن گیا ہے۔ پس پہلے ہم اس ظن باطل کی تردید کریں گے تاکہ واضح ہو جائے کہ قسم کو مقسم بہ کی تعظیم سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تعظیم محض بعض قسموں سے سمجھی جاتی ہے اس کے بعد ہم اس امر کی تصریح کریں گے کہ مخلوقات کی قسمیں تمام تر از قبیل دلائل ہیں اور قسموں کی یہ قسم تعظیمی اقسام سے بالکل علیحدہ ہے نیز یہ صفات الٰہی کی قسم بھی نہیں ہے جیسا علامہ ابن قیمؒ نے لکھ دیا ہے:

اس کے بعدہم قسم کے پسندیدہ اور ناپسندیدہ مواقع کی تفصیل بیان کریں گے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ قسم کی مطلق ممانعت کا خیال صحیح نہیں ہے۔

یہ تین امور ہیں جو اس کتاب میں بحث ونظر کے محور ہوں گے اور چوں کہ ان کو پوری طرح روشنی میں لانے کے لیے بعض تفصیلات ناگزیر  ہیں اس لیے مجبوراً ہم کو قسم کی تاریخ ،قدیم وجدید زمانے میں اس کی ضرورت اور اس کے مختلف انواع واقسام سے بھی تعرض کرنا پڑے گا اور اس ضمن میں ہم کو کلمات قسم کے معانی ،قسم کے اصلی مفہوم اور اس کے تین ضمنی مفہوم یعنی اکرام تقدیس اور استدلال  وغیرہ سے بھی بحث کرنی ہوگی۔

پھر قسموں کی تاویل میں خود قرآن سے نہایت واضح دلیل پیش کریں گے اور اپنے پیشترو علماء کے عذر کو واضح کرنے کے لیے اس بات پر بھی بحث کریں گے کہ یہ حقیقت اس غذر واضح کرنے کے باوجود اب تک مخفی کیوں رہی۔

علاوہ ازیں اسی سلسلے میں اقسام القرآن کی بلاغت،قسم کی ممانعت،اس کے جواز اور اس کے استحسان کے پہلو، حضرت مسیح کی ممانعت قسم کے وجوہ وغیرہ امور بھی روشنی میں آئیں گے اور آخر میں ایک سرسری اشارہ ہم اس امر کی طرف بھی کریں گے کہ قرآن مجید نے الفاظ قسم کے فرق وامتیاز میں کس بلاغت کو ملحوظ رکھا ہے تاکہ ہم الفاظ قسم کے محل وموقع کو پہچان سکیں۔

یہ مطالب کتاب کا ایک اجمال بیان تھا۔ اب ہم ان کی تفصیل وتشریح کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔واللہ الموفق ونعم الوکیل۔