یہ بات بھی بالکل واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت ’’التزام جماعت‘‘ یا سیاسی نظم کے ساتھ وابستہ اور اس کے وفادار رہنے کا یہ حکم دیا تھا، اس وقت دنیا کے تمام مسلمانوں کا ایک ہی سیاسی نظم تھا، اس وجہ سے اس نظم کو تمام مسلمانوں کا سیاسی نظم یا ’جماعۃ المسلمین‘ کہا جاتا تھا۔ آج مسلمانوں کا کوئی ایک نظم موجود نہیں ہے۔ مراکش سے انڈونیشیا تک مسلمان الگ الگ ریاستوں اور اس طرح الگ الگ نظم ہاے سیاسی میں بٹ چکے ہیں۔ اب کوئی ایسا نظم موجود نہیں ہے جسے تمام مسلمانوں کا سیاسی نظم یا ’جماعۃ المسلمین‘ کہا جا سکے۔ ایسی صورت حال میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ’’التزام جماعت‘‘ کے حکم کا مصداق کیا ہے؟
ہمارے نزدیک، یہ بات اگرچہ درست ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ’’الجماعۃ‘‘ کا لفظ ادا کیا یا ’’التزام جماعت‘‘ کا حکم فرمایا تھا، اس وقت پوری امت ایک نظم میں بندھی ہوئی تھی، تاہم اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ اب مسلمانوں کا کوئی نظم موجود نہیں ہے۔ بہ الفاظ دیگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی روایتوں سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ ’’الجماعۃ‘‘ کے نہ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان باہمی طور پر متحارب گروہوں میں تقسیم ہو جائیں۔ ظاہر ہے کہ آج مسلمانوں کی صورت حال اگر یہ نہیں ہے کہ وہ ایک نظم اجتماعی میں بندھے ہوئے ہوں تو یہ بھی نہیں ہے کہ وہ باہمی طور پر متحارب گروہوں میں تقسیم ہو چکے ہوں۔ آج مسلمانوں کی صورت حال ان دونوں کے مابین ہے۔ وہ چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہو چکے ہیں، مگر ظاہر ہے، یہ ریاستیں محض ایک دوسرے کے مقابلے پر کھڑے سیاسی گروہ نہیں ہیں، بلکہ اپنی اپنی جگہ مکمل نظم ہاے اجتماعی ہیں۔ غور کیجیے تو یہ صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ اب ان میں سے ہر نظم سیاسی کو اس علاقے کے مسلمانوں کے لیے ’جماعۃ المسلمین‘ کا قائم مقام سمجھا جائے۔ گویا پاکستانی مسلمانوں کے لیے ریاست پاکستان، سعودی مسلمانوں کے لیے ریاست سعودیہ اور انڈونیشیا کے مسلمانوں کے لیے ریاست انڈونیشیا ہی ’’الجماعۃ‘‘ کے لفظ کا مصداق ہو گی۔ غور کیجیے تو روایتوں میں ایسی کوئی بات بھی بیان نہیں ہوئی ہے، جس سے ہماری اس بات کی نفی ہوتی ہو۔ اس کے برعکس بعض روایتوں سے واضح طور پر ہماری اس بات کی تائید ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر یہ بات روایتوں سے واضح ہے کہ اس حکم کی اصل علت اور حکمت مسلمانوں کو متحد اور منظم رکھنا اور انھیں انارکی، فتنوں اور تفرقے سے بچانا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر آج تمام مسلمان جسد واحد کی طرح نہیں رہے تو ہر ریاست میں خلل اندازی امت کے اس شیرازے کو مزید کمزور کرنے کا باعث بنے گی، اس میں مزید تفرقہ پیدا کرنے کی طرف ایک اقدام ہو گا جو کسی حال میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ان وجوہ کے باعث، ہمارے نزدیک آج مسلمانوں کی مختلف ریاستیں ہی ان میں بسنے والے مسلمانوں کے لیے ’’الجماعۃ‘‘ کا مصداق ہیں۔ انھی کے ساتھ وفاداری ’’التزام جماعت‘‘ کے حکم کی تعمیل ہے۔ ان ریاستوں کے سربراہوں کو وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو ’جماعۃ المسلمین‘ کے سربراہ کے لیے عقل و فطرت اور قرآن و حدیث کی رو سے ثابت ہیں۔ اور ان سربراہوں پر وہ تمام ذمہ داریاں عائد ہوں گی جو قرآن و حدیث اور عقل عام کی رو سے ’جماعۃ المسلمین‘ کے امیر پر عائد ہوتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ صحیح باتوں کے لیے دلوں میں جگہ پیدا فرمائے، غلط باتوں کے شر سے ہم سب کو محفوظ رکھے اور تمام مسلمانوں کو ایک مرتبہ پھر ایک امت بن جانے کی توفیق عطا فرمائے۔

[۱۹۹۸ء]

____________