بیسویں صدی کا نصف اول انسانیت کی تاریخ کا بہت ڈرامائی عرصہ رہا ہے۔ جس میں رونما ہونے والے واقعات کی نظیر پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔ دو عظیم اورتاریخ انسانی کی سب سے تباہ کن جنگیں اسی عرصہ میں ہوئیں۔پہلی جنگ عظیم کے بعد اس خطہ کے مسلمانوں نے علی برادران کی قیادت میں تحریک خلافت میں بھر پور طریقے سے حصہ لیا۔اس تحریک کا مقصد خلافت عثمانیہ کا تحفظ تھا۔یہ اپنا مقصد تو حاصل نہیں کر سکی، مگر اس سے مسلمانان ہند کی امت مسلمہ سے وابستگی کا اظہار ضرور ہوتا ہے۔ ہمارے نزدیک تو تاریخ کا یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی حقیقی اساسات آسمان اور زمین ، دونوں میں نمودار ہوئیں۔قومی زندگی میں اس تحریک کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ مغربیت کا جو فروغ عوام میں شروع ہوا تھا ، اس پر بند لگ گیا اور مغرب کے شکنجے میں جکڑے ہوئے پورے عالم اسلام کے برخلاف ہمارے ہاں مغربیت صرف طبقۂ اشرافیہ تک محدود ہوگئی اور مغربی تہذیب کی موجودہ یلغار تک، اس کا نفوذ عوام میں نہیں ہو سکا۔ اس کے علاوہ حکمرانوں کے سامنے کھڑے ہونے کا حوصلہ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خود اعتمادی بھی اسی تحریک کی دین ہے۔
یہی وہ عرصہ ہے جس میں برصغیر کی مسلم قوم اپنے لیے ایک الگ وطن حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی جو سب سے بڑی اسلامی مملکت اور دنیا کی پانچویں بڑی ریاست بھی تھی۔اس مقصد کے حصول کے لیے ایک دفعہ پھر قدرت نے اس قوم میں ایک بہت بڑا لیڈر پیدا کردیا۔دنیا اسے سرمحمد اقبال کے نام سے جانتی ہے۔شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی سے شروع ہونے والے مسلمانوں کے علیحدہ تشخص کے عمل کو انھوں نے ہی ایک وطن کی صورت دی۔ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے سے اس خطے کے مسلمانوں کو ایک جوش و ولولہ دیا ۔ انھوں نے مغربی فکر پر تنقید کرکے مسلمانوں کو ان کی ذہنی غلامی میں جانے سے روکا۔ انھوں نے ہی اجتہاد کی روایت کو مسلمانوں میں بھر پور طور پر زندہ کرنے کی طرف توجہ دلائی۔یہ اقبال تھے جنھوں نے مسلمانوں کے ایک خود مختار وطن کا تصور دیا، انھی نے اس ناممکن کو ممکن بنانے کے لیے ایک بہترین قائد ،یعنی محمد علی جناح کا انتخاب کیا۔ ان تمام اعتبارات سے اقبال کی خدمات بے مثل ہیں اور بلاشبہ وہ مفکر پاکستان کہلائے جانے کے مستحق ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ شاہ ولی اللہ ، ان کے خانوادے، رفقا اور متوسلین ، پھر سر سید اور ان کے رفقا کے بعد اقبال نے مسلمانوں کے قومی مزاج کو بہت متاثر کیا، تاہم اقبال نے قوم کے مزاج میں موجود جذباتیت کے عنصر کو بہت بڑھادیا۔ وہ یہ نہ دیکھ سکے کہ یہ قوم حال ہی میں ایک بڑے زوال سے گزری ہے۔ زوال کا آنا معمولی بات ہوتا ہے اورنہ بلاوجہ قوم کو زوال آتاہے۔ زوال کا مطلب یہ ہے کہ قوم مردہ ہوچکی ہے۔اس مردہ قالب میں نئی روح صرف جذباتی باتوں سے نہیں پیدا کی جا سکتی۔ حقیقت پسندانہ بنیادوں پر اس کی تربیت و تیاری بہت ضروری ہے، تاہم اس سے اقبال کی عظمت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ تاریخ کے ایک نازک لمحے میں موجود تھے۔اس زمانے کے حالات کا پہلا تقاضا یہ تھاکہ مسلمانوں کو ہندوؤں کی غلامی میں جانے سے بچایا جائے،کیونکہ ایک زوال پذیر قوم اگر کسی دوسری تہذیب کے زیرسایہ آجائے تو پھر لازماً اس کے بہت گہرے اثرات قبول کرتی ہے۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا تھا کہ بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نجات دلاؤ۔ایک الگ وطن کے حصول کے لیے ضروری تھا کہ قوم کے تن مردہ میں حرارت پیدا کی جائے۔ اس عمل کے نتیجے میں اگر ایک خطۂ ارضی میسر آجاتا ہے تو پھر آنے والوں کے لیے یہ امکان باقی رہے گا کہ وہ ملت کے قومی تشخص کے بارے میں پریشان ہوئے بغیر اس کی تربیت کر سکیں گے۔ہمارا حسن ظن ہے کہ اقبال کو اس چیز کا احساس تھا۔ہمیں اس کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ اقبال نے جس طرح قائد اعظم کو اس قوم کے سیاسی لیڈر کے طور پر چنا تھا ، اسی طرح انھوں نے قومی تربیت کے لیے ایک اور بڑے آدمی کا انتخاب کیا تھا۔ہماری مراد مولانا مودودی سے ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مولانابعد میں آنے والے وقتوں میں سیاسی مصالح سے خود کو الگ کرکے قوم کی تربیت کے لیے خاص نہ کرسکے ، بلکہ بہت سطحی بنیادوں پر عملی سیاست کے میدان میں اتر گئے۔ جس کے بعد نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔

____________