تاہم جب ٹی وی کا آغاز ہوا تو صورت حال میں آہستہ آہستہ تبدیلی آنا شروع ہوئی۔ یہ بات اب ریکارڈ پر آچکی ہے کہ مقتدر طبقات کے ذہن میں ٹی وی کو معاشرے میں متعارف کرانے کاپس پردہ مقصد یہ تھا کہ مغربی اقدار کو معاشرے میں رائج کیا جائے۔ٹی وی کو عام ہوتے ہوتے مزید دس سال بھٹو صاحب کے دور میں لگے ۔اس دور میں پوری قوت کے ساتھ ٹی وی کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جانے لگا، تاہم مقتدر طبقات اس معاملے میں ذرا جلدی کرگئے ۔ چنانچہ ربع صدی قبل جب وہ کچھ سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے لگا جو آج بھی نہیں ہوتا تو ردعمل ہونا لازمی تھا۔ یہی ردعمل آگے بڑھا اورضیاء الحق کے اسلامی نظام کی صورت میں ظاہر ہوا، جب تحریک پاکستان کے بعد ایک دفعہ پھر اسلام کے نام پرایک مہم چلائی گئی۔اسی دوران میں ہمارے پڑوس میں ایک دو ایسے واقعات ہوئے جن سے اسلامی نظام کے نفاذ کی تحریک کو بہت مہمیز ملی۔ ان میں سے ایک ایران کا اسلامی انقلاب تھا اور دوسرا افغانستان میں روسی فوج کے قبضہ کے بعد جہاد کا آغاز۔
اس دور میں یوں محسوس ہوتا تھا گویا اسلام و مغرب کی اس کشمکش میں مذہبی حلقوں کو فیصلہ کن فتح حاصل ہوگئی ہے اور مغرب زدہ طبقہ بہت ہی محدود ہو چکا ہے، تاہم یہی دور مذہبی حلقوں کے لیے سب سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوا۔اسلامی نظام اور اس کی برکات کے دعوے بقول مولانا ابوالحسن علی ندوی ترکش کے واحد تیرکی طرح تھے۔جب یہ تیر نشانے پر نہ لگا تو لوگوں کی ساری امیدیں ختم ہوگئیں۔اسلام کے نام پر کیے گئے فلاحی ریاست کے وعدے ہوا ہوگئے۔ اسلام کے نام پر جو کچھ وجود میں آیا، اس سے معاشرے میں صرف منافقت کا اضافہ ہوا۔ دستوری ، معاشی اور معاشرتی سطح پر جو اسلامی اقدامات کیے گئے ، ان میں سے اکثر اسلام کی بدنامی کا باعث بن گئے۔ اس صورت حال کے نتیجے میں عوام کا اسلام سے وہ رومانس ختم ہوگیا جس کے لیے انھیں نصف صدی سے تیار کیا جارہا تھا۔
نفاذ اسلام کی ناکامی سے زیادہ بڑا مسئلہ افغان جہاد کی کامیابی نے پیدا کردیا۔ہماری مذہبی قیادت کا المیہ ہے کہ یہ بہت سادہ لوگ ہیں۔تحریک پاکستان کی کامیابی سے انھیں یہ غلط فہمی ہوئی تھی کہ اہل پاکستان پکے ’’اسلامی‘‘ لوگ ہیں جن کے لیے مذہب سے بڑا کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ افغان جہاد کی کامیابی سے انھیں یہ غلط فہمی پیدا ہوگئی کہ مسلمانوں نے جہاد کے ذریعے سے ایک سپرپاور کو ختم کرڈالاہے۔ اس سے انھوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ اب جہاد سے تمام مقبوضہ مسلم علاقوں کو نہ صرف بازیاب کرایا جاسکتا ہے، بلکہ دوسری سپر پاور جو اب تنہا سپر پاور تھی ، اس کے پرخچے بھی اڑائے جاسکتے ہیں :


اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں


روس کے خلاف جذبہ یقیناًہمارا تھا، مگر تلوار مغرب کی ۔جب مغرب ہمارے مد مقابل آیا تو طالبان کے اس المیہ نے جنم لیا جس میں سب نے دیکھا کہ بہت بہادر لوگ بھی ’’تلوار‘‘ کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے۔ اس کے بعد عراق کے سانحہ نے آخری کیل کا کام کردیا، تاہم ابھی تک بہت سے لوگ ’’مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی‘‘ پر یقین رکھتے ہیں۔
بہرحال، جہادی اور نظامی اسلام پر مبنی فکرنے انتہا پسندی کی ایک زبردست لہر کو فروغ دیا۔ قوم میں موجود جذباتی انداز فکر نے، جس کی موجودگی میں تحقیق و تجزیہ کا مزاج جنم نہیں لے سکتا، اس انتہا پسندی کو بہت فروغ دیا۔ہمارے بہترین دماغ ، زندگیاں اور سرمایہ انتہا پسندی کی نظر ہوگئے۔جس کے نتیجے میں علمی احیا کا عمل بدترین جمود میں بدل گیا۔ اور اب ان دونوں تجربوں کی مکمل شکست کے بعد بھی اس فکر کے پیش کرنے والے اپنی غلطی ماننے کے لیے تیار نہیں۔ اس کے دو اسباب ہیں: اول یہ کہ ہر سمجھانے والے کا منہ بند کرنے کے لیے ایک بہت آسان راستہ دستیاب ہے، وہ یہ کہ اسے منکر جہاد، منکر اسلام، مغرب کا ایجنٹ قرار دے دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ جان سے مار دینے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ دوسرا یہ کہ بدقسمتی سے ہمارے اہل علم کو سیرت پاک کے اس پس منظر سے غلط فہمی ہوگئی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی زندگی میں ہی عرب پر اقتدار حاصل ہوگیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ آپ جیسی جدوجہد کرکے ہم بھی اقتدار حاصل کرسکتے ہیں اور اس طرح اسلام کا غلبہ ممکن ہوجائے گا۔ یہ ایک اجتہادی خطا تھی۔ جیسا کہ ہم نے پیچھے بیان کیا ہے کہ یہ دراصل رسولوں کے باب میں خدا کا قانون تھا جو عام قوانین کو معطل کرکے حرکت میں آیا تھا۔ جس میں اتمام حجت کے بعد تمام تر بے سروسامانی کے باوجود رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی قوم کے خلاف کامیابی یقینی تھی،حتیٰ کہ اپنے معاصرین کے خلاف صحابۂ کرام اور بنی اسرائیل کے جہاد کی نوعیت بھی ہم نے واضح کردی کہ یہ بھی آسمانی رہنمائی کے بغیر نہیں کیا جاسکتااور ختم نبوت کے بعد اس طرح کے جہاد کا دروازہ بھی بند ہوگیا ہے۔

____________