۱۹-  ہمارے علماء کا یہ دعویٰ ہے اور مسیحی علماء بھی اس دعوے کی تصدیق کرتے ہیں کہ اصل انجیل مفقود ہو چکی ہے ہمارے ہاتھوں میں آج جو چیز انجیل کے نام سے موجود ہے اس کی حیثیت ترجمے کی ہے جس میں مسیح علیہ السلام کے اقوال کے ساتھ ساتھ انجیل کے راویوں کے اقوال بھی خلط ملط ہیں اور یہ روایتیں باہم دگر مختلف بلکہ بعض جگہ بالکل متضاد ہیں اتصال اور صحت کا سوال تو درکنار خود متن کا اضطراب اور اس کا بے سند ہونا بالکل واضح ہے ایسی حالت میں انجیل کی کسی روایت سے اگر ہم تعرض کررہے ہیں تو اس کے معنی ہرگز یہ نہیں ہیں کہ ہم اس کو صحیح تسلیم کررہے ہیں بلکہ اس کے معنی صرف یہ ہیں کہ ہم تھوڑی دیر کر لیے بغیر کسی بحث اور تحقیق کی صحت تسلیم کر لیتے ہیں اور اس مفروضہ کو سامنے رکھ کر اس کی وضاحت کرنا چاہتے ہیں۔

یہ ممانعت حضرت مسیح علیہ السلام کے اس وعظ میں وارد ہے جو پہاڑی کے وعظ کے نام سے مشہور ہے اور جو متی کی انجیل میں کسی قدر وضاحت کے ساتھ منقول ہوا ہے مرقس اور یوحنا کی انجیلوں میں اس کے صرف فقرات ملتے ہیں لوقامیں اس کا ایک مختصر حصہ ہے اس کے اختصار کی وجہ سے میں نے اسی کو اپنے اقتباس کے لیے پسند کیا ہے۔

 اس خطبے پر جو شخص بھی غور کرے گا کہ وہ اس کے موقع ومحل کی رعایت اور سیاق وسباق کی رہنمائی سے اس نتیجے پر  پہنچے گا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے اس خطبے کے مخاطب جمہور نہیں ہیں اور انہوں نے اس کو تورات کی جگہ ایک مستقل شریعت کی حیثیت نہیں دینی چاہی تھی بلکہ خاص مصالح کی وجہ سے جن کی تشریح آگے آئے گی انہوں نے یہ پیغام صرف اپنے خاص شاگردوں کو دیا ہے اس تخصیص کے وجود مندرجہ ذیل ہیں۔

۱- اس خطبہ میں ایسی تصریحات موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے مخاطب حضرت مسیح علیہ السلام کے خاص شاگرد اور پیرو ہی تھے چنانچہ متی میں اس خطبے سے پہلے یہ عبارت ہے۔

’’اور جب بیٹھ گیا تو اس کے شاگرد اس کے پاس آئے اور وہ اپنی زبان کھول کر ان کو یوں تعلیم دینے لگا‘‘۔

اسی طرح لوقا میں اس خطبے سے پہلے مذکور ہے کہ انہوں نے ساری رات خدا سے دعا کرنے میں گزاری پھر اپنے شاگردوں کو بلایا ان میں سے بارہ کو منتخب کر لیا اس کے بعد اس نے اپنے شاگردوں کی طرف نظر  کرکے کہا۔ پھر خطبہ ان الفاظ میں شروع ہوتا ہے۔

’’مبارک ہو تو جو غریب ہو کیونکہ خدا کی باشاہی تمہاری ہے مبارک ہو تم جواب بھوکے ہو کیونکہ آسودہ ہو گے… جب ابن آدم کے سبب سے لوگ تم سے عداوت رکھیں گے اور تمہیں خارج کر دیں گے اور لعن طعن کریں گے اور تمہارا نام برا جان کر کاٹ دیں گے تو تم مبارک ہوگے… مگر افسوس تم پر جو دولت مند ہو کیونکہ تم اپنی تسلی پا چکے۔افسوس تم پر جو اب سیر ہو کیونکہ بھوکے ہو گے ۔افسوس تم پر جواب ہنستے ہو کیونکہ ماتم کرو گے اور ردو گے۔

۲- اس خطبے میں جو احکام بیان ہوئے ہیں وہ صرف غربا اور مساکین کے لیے موزوں ہو سکتے ہیں اس میں صرف قسم کھانے ہی سے نہیں روکا ہے بلکہ مال ومتاع کی کثرت فکر فردا،اور حفاظت نفس کے اہتمام سے بھی روکا ہے اور اس پر اسی حد تک زور دیا ہے کہ جو تیرے ایک گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے اور جو تیرا چوغہ لے اس کو کرتہ لینے سے بھی منع نہ کر۔ جو کرئی تجھ سے مانگے اسے دے اور جو تیرا مال لے لے اس سے طلب نہ کر۔

۳- ان احکام میں بظاہر ایسی باتیں موجود ہیں جن سے تورات کے احکام کا نسخ لازم آتا ہے اور معلوم  ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام یہ نہیں کر سکتے تھے چنانچہ انہوں نے احکام کے ذکر سے پہلے کھلے لفظوں میں اسی شبہے کو دفع کردیا ہے۔ یہ نہ سمجھ کہ میں توریت یا نبیوںکی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔ منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں۔(متی) پھر ایک دوسرے شبہے کو رفع کیا اور یہ واضح فرمایا کہ دنیا کو یک قلم ترک کردینا اصل کمال نہیں، یہ کمال اضافی ہے ترک دنیا کی شکل میں انسان گناہوں سے جو پاکی حاصل کرتا ہے وہ امتحان سے فرار اختیار کرکے حاصل کر تا ہے اوریہ ترک دنیا کی سنت انہوں نے ان لوگوں کی تعلیم کے لیے اختیار کی ہے جو پورے کمال کے حصول سے عاجز ہیں چنانچہ فرمایا شاگرد اپنے استاد سے بڑا نہیں بلکہ ہر ایک جب کامل ہو ا تو اپنے استاد جیسا ہوگا(لوقا) لیکن بعد کے مبتد عین اس بات پر راضی نہیں ہوئے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی سنت کی حیثیت محض ایک اضافی کمال کی سمجھی جائے۔ چنانچہ انہوں نے متی کی روایت میںاضافہ کردیا کہ پس چاہیے کہ تم کامل ہو جیسا کہ تمہارا آسمانی باپ کامل ہے۔اور لوقاکی روایت میں اس جملے کے بجائے یہ الفاظ رکھ دیئے گئے جیسا تمہارا باپ رحیم ہے تم بھی رحم دل ہو۔حالانکہ ان الفاظ کی کراہت نہایت نمایاں ہے کوئی بندہ اپنے پروردگار کے برابر نہیں ہو سکتا!مگر خدا کا شکر کہ تحریف  کرنے والوں کی ان تمام دراندازیوں کے باوجود حق غالب رہا اور انجیل میں ایسی تصریحات ان کی خواہش کے خلاف باقی رہ گئیں ۔

جن سے ایک طرف تو ہر طرح کے شائبہ شرک کی نفی ہوتی ہے اور دوسری طرف یہ واضح ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا کمال ایک اضافی کمال تھا جو فقراء کے لیے مخصوص ہے چنانچہ متی ب۱۹۔۱۶میں ہے۔

اور دیکھو ایک شخص نے پاس آکر کہا اے نیک استاد میں کون سی نیکی کروں تاکہ ہمیشہ کی زندگی پائوں۔ اس نے اس سے کہا تو مجھے نیک کیوں کہتا ہے نیک تو صرف ایک ہی  ہے اور وہ اللہ ہے لیکن اگر تو زندگی میں داخل ہونا چاہتا ہے تو حکموں پر عمل کر۔اس نے کہا کون سے حکموں پر۔یسوع نے کہا یہ کہ خون نہ کرف ،زنا نہ کر،چوری نہ کر،جھوٹی گواہی نہ دے ،اپنے باپ کی اور ماں کی عزت کر،اپنے پڑوسی سے اپنے مانند محبت رکھ،اس جوان  نے اس سے کہا کہ میں نے ان سب پر عمل کیا ہے۔ اب مجھ میں کس بات کی کمی ہے؟یسوع نے اس سے کہا اگر تو کامل ہونا چاہتا ہے تو جا ،اپنا مال واسباب بیچ کر غریبوں کو دے۔ تجھے آسمان پر خزانہ ملے گا اور آکر میرے پیچھے ہولے۔ مگر وہ جوان یہ بات سن کر غمگین ہو کر چلا گیا کیونکہ بڑا مالدار تھا۔یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ دولت مند کا آسمان کی بادشاہی میں داخل ہونا مشکل ہے اور پھر تم سے سچ کہتا ہوں کہ اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے نکل جانا اس سے آسان ہے کہ دولت سند خدا کی بادشاہی میں داخل ہو۔

 اس میں حضرت مسیح علیہ السلام نے سائل کے سامنے واضح کردیا کہ اس کے لیے حصول کمال کی راہ یہ ہے کہ ان کی پیروی کرے اور تمام اسباب تمدن سے دست کش  ہو جائے اور یہ قطعی معلوم ہے کہ یہ کمال حقیقی کاملین کا کمال نہیں ہے بلکہ ایک اضافی کمال ہے کیونکہ حضرت ابراہیم ،حضرت دائود،حضرت یوسف علیہم السلام سب صاحب مال وجاہ بھی تھے اور ساتھ ہی دینی کمال کی عظمت کے بھی مالک تھے۔ ان کے متعلق کون کہہ سکتا ہے کہ یہ انبیائے عظام آسمان کی بادشاہی میں نہیں داخل ہوئے تھے۔

قانون کی منسوخی اور تورات وانجیل کے باہمی اختلاف جو شبہ پیدا ہوتا تھا ہماری اس تقریر سے وہ شبہ رفع ہو جاتا ہے۔

۴- حضرت مسیح علیہ السلام کے ان ارشادات کو اگر عام سمجھا جائے تو اس سے حضرت ابراہیم اور حضرت دائود علیہ السلام جیسے جلیل القدر انبیاء کی سنتوں کی مخالفت لازم آتی ہے۔ ان بزرگ انبیا نے خدا کی راہ میں جہاد کیے اس کے لیے  فوجیں جمع کیں مال اکٹھا کیا اس کو اچھے مواقع پر صرف کیا اور کبھی دوسروں کی کمائی پر تکیہ نہیں کیا پھر کیسے کہا جا سکتا ہے کہ حصول کمال کے لیے ترک دنیا لازم ہے؟یہ بات عیسائیوں کو بھی کھٹکی ہے ۔ چنانچہ اس کو رفع کرنے کے لیے انہوں نے متی کی انجیل میں ایسے اضافے کر دیئے جس سے اصل کلام کی بالکل قلب ماہیت تبدیل ہو گی ہے۔ متی کے الفاظ یہ ہیں مبارک ہیں وہ جو دل کے غریب ہیں مبارک ہیں وہ جو راستبازی کے بھوکے اور پیاسے ہیں حالانکہ ان تبدیلیوں کے بعد بھی بقیہ کلام کی روح میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی ہے اور اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اصلی مخاطب مال کے فقراء ومساکین ہیں روح وردل کے فقراء ومساکین نہیں ہیں ۔ اس تحریف کی وجہ یہ ہوئی کہ ان لوگوں کے سامنے کلام کی صحیح تاویل واضح نہیں ہوئی ہم آگے چل کر اس کی صحیح تاویل واضح کریں گے بہر حال یہ قطعی ہے کہ یہ ارشادات ایک ایسی جماعت  کے لیے مخصوص تھے جو اپنا دور پورا کر چکی یہ کسی کامل شریعت کا کا بیان نہیں تھا جو تہذیب وتمدن کی آخری منزلوں تک بنی نوع آدم کی رہنمائی کے لئے آئی ہو یہ شریعت  صرف شریعت اسلام کو حاصل ہے جو ایک طرف تو جان ومال دونوں اللہ تعالیٰ کو سونپی ہے پھر اس کی طاعت الٰہی کی راہوں میں استعمال کرنے کی دعوت دیتی ہے جیسا کہ فرمایا۔

 اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَ اَمْوَالَھُمْ (توبہ: ۱۱۱)

اللہ نے مسلمانوں سے ان کے جان ومال کو خرید لیاہے۔

اس کی پوری تفصیل اس کے محل میں گزر چکی ہے۔

اس تخصیص کے واضح ہو جانے کے بعد اب یہ دعویٰ بالکل بے دلیل ہو گیا کہ قسم کی مطلقاً ممانعت کی گئی ہے ہم عقل ونقل کے تمام پہلوئوں سے اس کے جواز اور اس کی ضرورت کو ثابت کر چکے ہیں ہم مسلمان تمام انبیائے کرام کی یکساں تعظیم کرتے ہیں اور ان کے کلام کی کسی ایسی تاویل پر راضی نہیں ہوتے جو عقل کے خلاف پڑے یا اس سے کوئی اخلاقی اصول منہدم ہو رہا ہو۔ آئندہ فصل میں ہم اس عظیم مصلحت کو روشنی میں لائیں گے جس کی وجہ سے حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے پیروئوں کو یہ حکم دیا تھا کہ لیکن اپنی اس بحث میں اہم اختصار کو ملحوظ رکھیں گے اس کی تفصیل میں پڑنے کی صورت میں اندیشہ ہے کہ ہم نے اس کتاب کے لیے جو حدود وقرار دیئے ہیں اس سے باہر نکل جائیں گے اس کتاب کی پوری توضیح اس کے محل میں ملے گی۔