۳-  امام رازیؒ نے اپنی تفسیر میں دوسرے شبہے کا ذکرکرکے سورہ والصّٰفّٰت کی تفسیر میںاس کا یوں جواب دیا ہے: ’’جواب کے مختلف پہلو ہیں۔پہلا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری سورتوں میں نہایت یقینی دلائل سے توحید ،بعث اور قیامت کو ثابت کردیا ہے چونکہ یہ دلائل گزر چکے ہیں اور ان کا بیان ابھی ذہنوں سے زیادہ دور نہیں ہوتا تھا۔

اس لیے دلائل سے قطع نظر کرکے بطور تاکید قسم کو ذکر کیا اور یہاں خصوصیت کے ساتھ یہ امر ملحوظ رہنا چاہیے کہ قرآن عربی زبان میں اترا ہے اور کسی دعوے کو قسم کے ذریعے سے ثابت کرنا اہل عرب کا معروف طریقہ ہے۔

یہ اخیر والی بات یعنی قسم کے ذریعے سے اپنے دعوے کو ثابت کرنا عربوں میں مشہور و معروف ہونا پہلے شبہے کا بھی جواب ہے۔

اس جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ قسم سے پہلے چونکہ دلائل بیان ہو چکے ہوتے ہیں، اس لیے اصل اعتماد ان دلائل پر ہوتا ہے نہ کہ قسم پر۔ قسم محض تاکید کے لیے ہوتی ہے جیسا کہ عربوں کی عادت ہے۔ ہمارے نزدیک یہ جواب صحیح نہیں ہے،خود قرآن مجید سے اس کی تردید ہو جاتی ہے۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ دلائل کی وضاحت کے بعد جتنی قسمیں آئی ہیں ان سے کہیں زیادہ وحی کے ابتدائی زمانہ میں پائی جاتی ہیں۔

آگے  امام رازیؒ کے جواب کی تقریر یوں ہے۔

’’پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے قول اِنَّ اِلٰھَکُمْ لَوَاحِدٌ (بے شک تمہارا معبود ایک ہی ہے) کی صحت پر ان چیزوں کی قسم کھائی۔ پھر اس کے بعد وہ بات بیان کی جو اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے کی یقینی دلیل ہے،یعنی رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرضِ وَمَابَیْنَھُمَا وَرَبُّ الْمَشَارِقِ (آسمانوں اور زمین کا رب ہے جو کچھ ان کے درمیان ہے اور مطالع کا رب ہے)اس کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لَوْ کَانَ فِیْھِمَآ اٰلِھَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا(اگر آسمان وزمین میں اللہ کے سوا بہت سے معبود ہوتے تو ان کا کار خانہ درہم برہم ہو جاتا) میں یہ بات بیان فرما دی ہے کہ آسمان وزمین کا انتظام قائم رہنا اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ ایک ہے۔ پس یہاں جب فرمایا کہ"اِنَّ إلٰھَکُمْ لَوَاحِدٌ" تو اس کے بعد فرمایا "رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا وَرَبُّ الْمَشَارِقِ" گویا پوری بات یوں ہوئی کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس عالم کے انتظام میں غور کرنے سے پہلے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ ایک ہے ۔ پاس اس دلیل پر غور کرو تاکہ تمہیں توحید کا علم حاصل ہو۔

اس جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ قسم کے بعد ایک ایسا قول لایا گیا ہے جس میں دلیل موجود ہے پس اصل استدلال اس قول سے ہے نہ کہ قسم سے۔ قسم محض تنبیہ وتاکید کے لیے آئی ہے۔ یہ جواب پہلے جواب سے بالکل ملتا جلتا ہوا ہے اور ان میں سے کسی جواب سے بھی قسم کی ان مختلف قسموں کی حکمت نہیں واضح ہوتی جو قرآن مجید میں وراد ہیں۔ پھر سمجھ میں نہیں آتاکہ خدا کی قسم چھوڑ کر ان چھوٹی چھوٹی مخلوقات کی قسم کیوں کھائی گئی ۔

آگے امام رازیؒ جواب کی تقریریوں فرماتے ہیں:

’’جواب کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ اس کلام سے مقصود بت پرستوں کے اس قول کی تردید ہے کہ یہ بت خدا ہیں ۔ پس اس کی تردید میں گویا یوں کہا گیا ہے کہ یہ مذہب اپنی رکاکت اور لغویت کے اعتبار سے ایسا ناقابل توجہ ہے کہ اس کی تردید کے لیے بس اس طرح کی دلیل کافی ہے۔ واللہ اعلم‘‘

حضرت امام رازیؒ کا یہ جواب نہایت کمزور ہے جواب کے پہلے دو پہلو بیان کرتے ہوئے گویاانہوں نے اعتراف کر لیا کہ قسم میں دلیل کا کوئی پہلو نہیں ہے اور پھر آخر میں یہ فرما دیا کہ حریف کا مذہب ہی اس قابل تھا کہ اس کی تردید میں یہ غیر استدلالی اسلوب اختیار کیا جائے۔

اس کے علاوہ سورہ ذاریات کی تفسیر میں بھی انہوں نے ان شبہات سے کسی قدر تعرض کیا ہے فرماتے ہیں۔

’’قسم کی حکمت درآنحالیکہ وہ نہایت بلند اور عظیم الشان مطالب ومسائل میں سے ہے تفسیر سورہ والصّٰفّٰت میں ہم بیان کر چکے ہیں اور یہاں بھی ہم اس کو بیان کیے دیتے ہیں۔ اس میں چند پہلو ہیں ۔ پہلا پہلو یہ ہے کہ کفار بعض اوقات اعتراف کرتے تھے کہ نبیﷺ دلیلیں قائم کرنے میں ان سے زیادہ زوردار ہیں لیکن اس زور کو وہ آنحضرتﷺ کی قوت مناظرہ کا نتیجہ قراردیتے تھے اور کہتے تھے کہ آپ خود اپنے قول کی غلطی سے واقف ہیں لیکن محض اپنے مناظرہ کے زور سے (نہ کہ سچائی کے زور سے )ہم پر غالب آجاتے ہیں ۔ یہ اس طرح کی بات تھی جیسی کہ عام طور پر بحث میں ہارجانے والے اپنے حریف کے بارے میں کہا کرتے ہیں کہ یہ شخض محض اپنے زور بیان سے ہم غالب پر ہو گیا ہے اور ہم اس چیز سے محروم ہیں ورنہ وہ خودجانتا ہے کہ حق بات وہی ہے جو میں کہہ رہا ہوں۔ میں تم سے کوئی مناظرہ نہیں کررہا ہوں اگر وہ یہ طریقہ نہ اختیارکرے بلکہ دوسری دلیل بیان کرنی شروع کر دے تو اس دلیل کے ختم ہونے کے بعد بھی وہ وہی کہے گا کہ یہ دلیل بھی محض قوت مناظرہ کا کرشمہ ہے پس خاموشی یا قسم اور ترک دلیل ہی کی راہ اس صورت میں کچھ مفید ہو سکتی ہے۔"

یہ جواب اولاً صحیح اور غلط کی باتوں کا ایک مجموعہ ہے ۔ثانیاً اس جواب سے مصنف نے اپنے اس جواب کی خود تردید کردی ہے جو تفسیر سورہ الصّٰفّٰت میں دیا تھا۔ وہاں جواب کے کے دوسرے پہلو کی تقریر کرتے ہوئے مصنف نے بتایا ہے کہ قسم کے بعد دلیل آتی ہے اور وہی چیز اصل ہوا کرتی ہے۔ قسم کا مقصود محض تاکید ہوتا ہے یہ بات اپنے اندر ایک حقیقت رکھتی ہے کیونکہ قرآن مجید میں کہیں بھی کلام قسم پر ختم نہیں ہوا ہے بلکہ اس کے بعد کچھ اور بات بھی کہی گئی ہے لیکن یہاں انہوں نے ایک بالکل دوسری ہی بات کہہ دی ہے ۔حالانکہ اگر وہ یہ کہتے کہ بعض اوقات مخاطب طریق استدلال سے ناواقفیت یا اپنے فکر ونظر پر عدم اعتماد یا متکلم کی سحر بیانی کے اندیشے کے سبب سے دلیل  سے فائدہ نہیں اٹھاتا اور ایسی حالت میں ضروری ہو جاتا ہے کہ دلیل قسم کے ساتھ پیش کی جائے تو یہ ایک لگتی ہوئی بات ہوتی۔

اس کے بعد وہ جواب کے دوسرے پہلو کی تقریر یوں کرتے ہیں:

’’دوسرا یہ کہ عرب جھوٹی قسم سے بہت ڈرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اس کے سبب سے طرح طرح کی مصیبتیں نازل ہوتی ہیں،اس کے اثر بد سے زمین ویران اور بنجر ہو جاتی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ بیشتر نہایت اعلیٰ واشرف چیزوں کی قسم کھاتے تھے۔ اس وجہ سے عربوں کو خیال ہوتا تھا کہ اگریہ قسمیں جھوٹی ہوتیں تو وبال ضرور آپ پر نازل ہوتا اور ان کی نحوست سے آپ ہرگز نہ بچ سکتے۔

اس جواب میں امام رازیؒ نے عربوں میں قسم کے ایک متعارف چیز ہونے کی طرف  جو اشارہ کیا ہے جیسا کہ اوپر گزرا ہے بالکل صحیح ہے لیکن اس میں انہوں نے یہ جو اضافہ فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیشتر اشرف واعلیٰ چیزوں کی جھوٹی قسم کھانا موجب وبال سمجھتے تھے بوجوہ  ذیل یہ بات کچھ قوی نہیں معلوم ہوتی۔

۱-      قرآن مجید میں جن چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے ان میں بہتیری  ایسی ہیں جن میں بظاہر کوئی شرف نہیں معلوم ہوتا۔

۲-      قرآن سے یہ امر بالکل واضح ہے کہ خدا کے سوا کسی چیز سے ڈرنا نہیں چاہیے۔

۳-      انجیر اور زیتون وغیرہ کی قسم سے کس وبال کا اندیشہ ہو سکتا ہے؟

۴-      آنحضرت ﷺ  قرآن مجید کی تبلیغ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرماتے تھے۔ پس قسمیں بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوئیں اور اللہ تعالیٰ کو کسی سے بھی اندیشہ نہیں ہو سکتا۔

اگر امام رازیؒ صرف جواب کے پہلے حصے پر قناعت کرتے اور اتنا ہی فرماتے کہ عرب جھوٹی قسم کے وبال سے بہت ڈرتے تھے اور یہ سمجھ کر کہ شریف آدمی کبھی جھوٹی قسم نہیں کھائے گا، اس کی بات کا احترام کرتے تھے تو پہلے اور دوسرے شبہے کا اس سے ایک کمزور سا جواب نکل آتا لیکن ان کی بعد کی تقریر تو بالکل ہی بے معنی ہو گئی ہے۔

اس کے بعد جواب کے تیسرے پہلو کی تقریر وہ یوں فرماتے ہیں:

’’تیسرا پہلو یہ ہے کہ تمام قسمیں جو اللہ تعالیٰ نے کھائی ہیں وہ دراصل دلائل ہیں لیکن ان کو پیش قسم کی صورت میں کیا گیا ہے اس کو مثال سے یوں سمجھو کہ جیسے کوئی شخص اپنے محسن سے کہے کہ تمہارے بے شمار احسانات کے حق کی قسم میں تمھارا شکر گزار ہوں ،اس میں اس کے بے پایاں انعامات کا ذکر دوامِ شُکر کا سبب ہے البتہ اسلوب قسم کا ہے۔ یہی صورت یہاں ہے(سورہ ذاریات کی قسموں کی طرف اشارہ ہے) یہ تمام چیزیں اس امرپر دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکتا ہے ۔ رہی یہ بات کہ اس قسم کی صورت میں کیوں پیش کیا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان جب اپنی بات قسم سے شروع کرتا ہے تو مخاطب کو خیال ہوتا ہے کہ یہ کوئی اہم بات کہنے والا ہے اس کو خاص اہتمام سے سنتا ہے پس اسی اصول پر یہاں بھی کلام کا آغاز قسم سے ہوا ہے اور دلیل قسم کے لباس میں پیش کی گئی ہے۔

یہ تقریر دوسرے شبہے کے جواب  کے لیے اگرچہ کافی ہے لیکن جو شخص اس بات کا قائل ہوا اس پر لازم ہے کہ وہ قسم کا مقسم علیہ پر دلیل ہونا ثابت کرے اور یہ ایک ایسی بات ہے  جو ہر چند کہ بعض مقامات میں واضح ہے لیکن بیشتر نہایت شدید غوروفکر اور حجت واستدلال کی محتاج ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ امام رازیؒ نے اسی اصول پر سورہ ذاریات اور بعض خاص سورتوں کے سوا کہیں اعتماد نہیں کیا ہے۔ عام طور پر وہ دو طریقے اختیار کرتے ہیں، ایک تو یہ کہ جہاں تک ممکن ہوتا ہے قسم کے قسم ہونے ہی سے انکار کردیتے ہیں کہ نہ  قسم مانیں گے شبہات واعتراضات کے تیروں سے مجروح ہوں گے چنانچہ سورہ قیامہ کی تفسیر میں انہوں نے یہی مسلک اختیار فرمایا ہے۔ سورہ کے پہلے لفظ ’’لا‘‘ (نہیں) کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

’’دوسرا احتمال یہ ہے کہ’’لا‘‘ یہاں قسم کی نفی کے لیے ہو،گویا یوں فرمایا کہ میں اس دن اور اس نفس کی قسم نہیں کھاتا بلکہ بغیر قسم کھائے تم سے پوچھتا ہوں کہ کیا تمہارا گمان ہے کہ تمہارے سڑگل جانے کے بعد ہم تمہاری ہڈیاں جمع نہیں کر سکتے اور اگر تمہارا یہ گمان ہوتو یاد رکھو کہ ہم قادر ہیں کہ ایسا کر دیں ۔ یہی قول ابومسلم نے اختیار کیا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے‘‘

امام رازیؒ کی اس رائے کو عربی زبان کا کوئی جاننے والا کبھی تسلیم نہیں کر سکتا ۔ اگر یہی بات ہوتی جو انہوں نے سمجھی ہے تو اس کو ایسے اسلوب سے ہونا تھا جس میں مطلق قسم کی نفی ہوتی اس کو خاص خاص چیزوں مثلاً یوم قیامت ،نفس لوامہ، خنّس، جواری کنّس وغیرہ کے ساتھ مقید کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟پھریہ بات عربی اسلوبِ کلام کے بھی خلاف ہے عرب قسم سے پہلے حرف"لا" استعمال کرتے ہیں اور وہ منقطع یعنی کلام مابعد سے الگ ہوتا ہے۔ تفسیر سورہ قیامہ میں ہم اس کو بالتفصیل بیان کر چکے ہیں اور یہی زمخشری کا مذہب ہے۔

امام رازیؒ کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ وہ قسم کو مقسم بہ کی عظمت وشرافت کے لیے ایک طرح کی تاکید وتنبیہ سمجھتے ہیں ۔ سورۃ ذاریات کی تفسیر میں انہوں نے فرمایا ہے کہ قسم سے مقصود مقسم بہ کی عظمت وجلالت پر تنبیہ کرنا ہوتا ہے۔‘‘ یہی اصول نے سورہ تین کی تفیسر میں بھی اختیار فرمایا ہے لکھتے ہیں۔

’’یہاں ایک اہم اشکال یہ ہے کہ تین اور زیتون کا شمار بلند اور اشراف چیزوں میں نہیں ہے پس اللہ تعالیٰ کے لیے کیسے زیبا ہے کہ وہ ان چیزوں کی قسم کھائے۔ اس سوال کے جواب میں دو قول ہے۔"

اس کے بعد انہوں نے تین وزیتون کے پہلے عام معنی فرض کرکے انجیر اور زیتون کے فوائد پر تقریر کی ہے اور اس کے بعد اس مفروضہ پر کہ ان سے دو مسجدیں یا دو مخصوص مقام مراد ہیں: اِن دو مسجدوں اور مقامات کے عظمت وتقدس کوواضح کیا ہے لیکن اولاً یہ اس جواب کا ضعف مخفی نہیں۔ ثانیاً اس سے تیسرے شبہے کا کسی طرح ازالہ نہیں ہوتا۔ یہ چیزیں جن کی قرآن مجید نے قسم کھائی ہے اور جن میں ہانپنے والے گھوڑے،دبک جانے والے ستارے،شب ،صبح،انجیر،زیتون وغیرہ سب ہی قسم کی چیزیں شامل ہیں ۔ کسی صورت میں بھی یہ  مرتبہ نہیں رکھتی ہیں (اگر کسی چیز کی قسم اس کے مرتبہ وعظمت کی وجہ سے کھائی جاتی ہے (کہ ان کا پیدا کرنے والا اور ان کا پالنے والا ا ن کی قسم کھائے۔