یہاں پر ہم ضمناً یہ بات بھی واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ’’التزام جماعت‘‘ کے معنی یہ نہیں ہیں کہ جہاں ’’الجماعۃ‘‘ موجود نہ ہو وہاں مسلمانوں کو اسے قائم کرنے کی جدوجہد کرنی ہے تاکہ اس کے بعد اس کا التزام کیا جا سکے۔ ’’التزام جماعت‘‘ کے معنی، جیسا کہ ہم اوپر بھی واضح کر چکے ہیں، یہ ہیں کہ جب ایک جگہ بسنے والے مسلمانوں کا کوئی نظم اجتماعی وجود میں آ جائے تو اس کا وفادار بن کر رہا جائے، اس میں خلل ڈالنے کی کوشش نہ کی جائے، اس میں انارکی اور خوں ریزی کرنے کی نہ خود کوشش کی جائے اور نہ دوسروں ہی کو اس بات کی ترغیب دی جائے کہ وہ ایسا کریں۔
دین کے بہت سے احکام ایسے ہیں جو بعض بیرونی شرائط کے پورا ہونے پرمنحصر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر زکوٰۃ، حج اور معاشرتی حقوق۔ ہر مسلمان یہ جانتا ہے کہ اسلام میں زکوٰۃ ادا کرنی لازم ہے۔ مگر وہ اس کے ساتھ یہ بات بھی بڑی اچھی طرح سے جانتا ہے کہ زکوٰۃ ادا کرنی اصحاب نصاب ہی پر لازم ہے۔ اگر کسی شخص کے پاس نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ مال ہی نہیں ہے تو اس پر زکوٰۃ ادا کرنے کی ذمہ داری بھی عائد نہیں ہو تی۔ یہی معاملہ حج کا بھی ہے۔ ہر مسلمان جانتا ہے کہ حج صرف صاحب استطاعت ہی پر فرض ہے۔ جس کے پاس حج کرنے کی استطاعت ہی نہ ہو، اس پر حج کرنے کی ذمہ داری بھی نہیں ہے۔ یہی معاملہ قرآن مجید کے ان احکام کا بھی ہے جن میں معاشرتی تعلقات اور روابط کے بارے میں احکام اور ان سے متعلق حقوق و فرائض زیر بحث آئے ہیں۔ والدین کے ساتھ اچھا رویہ رکھنا، بیوی بچوں کی کفالت کے لیے جدوجہد کرنا، بیوی کا شوہر کو خاندان کا قوام سمجھنا، بزرگوں کا احترام کرنا اور بچوں سے شفقت کے ساتھ پیش آنا، یہ سب احکام ظاہر ہے کہ ان رشتوں اور روابط کے وجود کے ساتھ مشروط ہیں۔ اگر والدین موجود ہی نہ ہوں تو ظاہر ہے کہ ان کے ساتھ احسان کا رویہ رکھنے کی ذمہ داری بھی ختم ہو جائے گی۔ اگر انسان کے بیوی بچے ہی نہ ہوں تو ان کی کفالت کی ذمہ داری بھی آپ سے آپ ختم ہو جائے گی، بعینہٖ یہی معاملہ ’’التزام جماعت‘‘ کے حکم کا بھی ہے۔ ظاہر ہے، جب ’’الجماعۃ‘‘ موجود ہی نہیں ہو گی تو مسلمان اس وقت تک اس حکم کے مخاطب بھی نہیں رہیں گے، جب تک مسلمانوں کا کوئی اجتماعی نظم وجود میں نہیں آ جاتا۔
بعض لوگوں کے نزدیک اگر ’’الجماعۃ‘‘ موجود نہ ہو تو اس کو وجود میں لانے کے لیے ’’اجتماعی جدوجہد‘‘ کرنا ہر مسلمان پر لازم ہو جاتا ہے۔ ہمارے نزدیک چونکہ اس بات کی کوئی دلیل قرآن مجید یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں موجود نہیں ہے، بلکہ آپ کے ارشادات سے اس کے برعکس مفہوم متبادر ہوتا ہے، اس وجہ سے یہ بات درست نہیں ہے۔’’التزام جماعت‘‘ کے حکم کا حوالہ دے کر مسلمانوں سے ’’الجماعۃ‘‘ کے قیام کی جدوجہد کرنے کا مطالبہ کرنا یا اسے لازم قرار دینا ایسا ہی ہے، جیسے یہ کہا جائے کہ ’’چونکہ اسلام میں زکوٰۃ ادا کرنی لازم ہے، اس لیے ہر مسلمان پر صاحب نصاب بننے کی جدوجہد کرنا بھی فرض ہے‘‘ یا کوئی مرد قلندر یہ اعلان کر دے کہ ’’چونکہ والدین کے ساتھ اچھا رویہ رکھنا لازم ہے، اس لیے جس کے والدین نہ ہوں، اسے اپنے لیے والدین کو پیدا کرنا بھی لازم ہے‘‘۔ بالبداہت واضح ہے کہ یہ سب باتیں کسی طرح بھی درست قرار نہیں دی جا سکتیں۔ دین کا مطالبہ یہ نہیں ہے کہ ’’مال کماؤ تاکہ زکوٰۃ ادا کر سکو‘‘۔ دین کا مطالبہ تو یہ ہے کہ ’’اگر مال ہو تو زکوٰۃ ادا کرو‘‘۔ بالکل اسی طرح دین کا حکم یہ نہیں ہے کہ ’’الجماعۃ قائم کرو تاکہ اس کا التزام کر سکو‘‘ ،دین کا حکم تو اس کے برعکس یہ ہے کہ ’’الجماعۃ قائم ہو تو اس کا التزام رکھو۔‘‘
یہی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی اس مضمون کی تمام روایات کو سامنے رکھنے سے بھی واضح ہوتی ہے۔ آپ نے لوگوں کو یہی تعلیم دی ہے کہ اگر مسلمانوں کا نظم اجتماعی قائم ہو، خواہ اس میں خرابیاں بھی موجود ہوں تو اس کے ساتھ جڑ کر، اس کا فرماں بردار بن کر اور اس کا وفادار رہتے ہوئے زندگی گزاری جائے۔ اس سے الگ ہونا، مسلمانوں کو متحارب گروہوں میں تقسیم کرنا، انارکی اور فتنوں کو ہوا دینا اور اپنی اور اپنے بھائیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنا نہ صرف یہ کہ جائز نہیں، بلکہ جو شخص ایسا کرتے ہوئے مر گیا، وہ جاہلیت کی موت مرا، لیکن اگر کبھی صورت حال ایسی بگڑ جائے کہ مسلمانوں کا کوئی مرکزی نظم ہی موجود نہ رہے، مسلمان متحارب گروہوں میں تقسیم ہو جائیں، ایک دوسرے پر تلوار اٹھا لیں اور اس طرح اپنے اجتماعی نظم کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کریں تو اس صورت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم یہ نہیں ہے کہ تم کسی ایسے گروہ میں شامل ہو جانا جو ’’الجماعۃ‘‘ کے قیام کا نعرہ لگا کر لوگوں کو اپنے ساتھ جمع کر رہا ہو اور تمھیں اس پر اعتماد ہو اور اگر بالفرض ایسا کوئی گروہ موجود نہ ہو تو ان متحارب گروہوں میں اپنے ایک گروہ کا مزید اضافہ کر دینا اور’’ الجماعۃ‘‘ کے قیام کی جدوجہد شروع کر دینا۔ اس کے برعکس اس صورت حال کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم یہ ہے کہ تم ہر قسم کی گروہ بندی سے الگ رہنا۔ اس مقصد کے لیے تمھیں، خواہ اپنے آپ کو اپنے گھر میں بند کرنا پڑے یا کسی جنگل میں جا کر رہنا پڑے تم بہرحال ہر قسم کی گروہ بندی سے الگ رہنا۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عام مسلمان اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تعلیم پرعمل کریں گے تو اس کے نتیجے میں آپ سے آپ تفرقہ بھی ختم ہو جائے گا اور اس طرح ایک نظم اجتماعی بھی وجود میں آ جائے گا۔ عوامی طاقت کے بغیر کوئی سیاسی یا مذہبی گروہ یہ حیثیت اختیار نہیں کر سکتا کہ وہ مسلمانوں کے نظم اجتماعی میں خلل اندازی پیدا کر کے انارکی اور فتنے کو ہوا دے۔ یہ چیز آپ سے آپ نظم اجتماعی یا ’’الجماعۃ‘‘ کو قائم کرنے کا بھی باعث بن جاتی ہے اور فرد پر ’’التزام جماعت‘‘ کی جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اسے بھی بالواسطہ طریقے پر ادا کرنے کا باعث بن جاتی ہے۔

____________