مولانا گوہر رحمن صاحب کے اعتراضات

’’الجماعۃ‘‘ اور’’التزام جماعت‘‘ کے مفہوم اور مصداق کے بارے میں ہماری راے سے بعض اہل علم کو اختلاف ہے۔ مولانا گوہر رحمن صاحب نے اپنے مضمون ’’التزام جماعت‘‘ ماہنامہ ’’فاران‘‘ کراچی،جون ۱۹۹۵ء میں اپنی راے تفصیل سے بیان فرمائی ہے۔ مولانا محترم کی راے اور استدلال کا خلاصہ درج ذیل ہے۔
۱۔ امت مسلمہ کی تشکیل کا مقصد ’’اقامت دین‘‘ یا بہ الفاظ دیگر ’’اظہاردین‘‘ ہے۔
۲۔ امت مسلمہ کی نمائندہ حکومت کا مقصد بھی ’’اقامت دین‘‘ اور’’اظہار دین‘‘ ہی ہونا چاہیے۔ جو حکومت ’’اقامت دین‘‘ اور ’’اظہار دین‘‘ کا فریضہ انجام نہیں دیتی، وہ ’’بالفعل‘‘ تو حکومت ہوتی ہے، مگر ’’بالحق‘‘ حکومت نہیں ہوتی۔ حکومت بالفعل کے قوانین کی عام حالات میں اگرچہ پابندی کی جائے گی اور ایسا کرنا شرعاً ممنوع بھی نہیں ہے، تاہم ہر قائم ہو جانے والی حکومت کو ’’الجماعۃ‘‘ کہہ کر اس کے التزام کو دین کا تقاضا قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ ایسا کرنا ’’الجماعۃ‘‘ کی اصطلاح کی توہین ہے۔ اگر ایسا ہو تو امریکا اور برطانیہ میں قائم ہونے والی غیر مسلموں کی حکومتیں بھی ’’الجماعۃ‘‘ ہی قرار پائیں گی جو بالبداہت غلط ہے۔
۳۔ قرآن و سنت سے منحرف حکومت کو بالحق حکومت نہیں کہا جا سکتا اگرچہ اسے مسلمانوں کی اکثریت کا اعتماد ہی کیوں نہ حاصل ہو۔ ’اَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ‘ کے معنی یہ نہیں ہیں کہ مسلمانوں نے اپنی جہالت، نادانی، فریب خوردگی، مفاد پرستی یا خود غرضی کی وجہ سے اگر قرآن و سنت سے منحرف حکومت کو منتخب کر لیا ہو تو وہ حکومت بالحق ہو جائے گی۔
۴۔ قرآن و سنت سے منحرف حکومت ’الطاغوت‘ہے۔ قرآن نے ’الطاغوت‘ سے اجتناب کا حکم دیا ہے نہ کہ اس کے التزام اور اس سے وابستہ رہنے کا۔ ایسی حکومت کو’’الجماعۃ‘‘ قرار دینا اور اس کے التزام کو لازم ٹھہرانا التزام طاغوت کے مترادف ہے۔
۵۔ بعض روایتوں میں یہ بات آئی ہے کہ امیر تمھیں پسند ہو یا نا پسند، اس کا حکم تمھاری راے یا طبیعت و مزاج کے مطابق ہو یا نہ ہو، وہ تم پر دوسروں کو ترجیح دے ر ہا ہو یا تمھارے حقوق ادا نہ کر رہا ہو، جیسی بھی صورت حال ہو، تمھیں ہر حال میں اس کی اطاعت کرنی اور مسلمانوں کی اجتماعی ہیئت کو نقصان پہنچانے سے باز رہنا ہے، تو اس کے معنی ایک تو یہ ہیں کہ ایسے امیر کے خلاف مسلح بغاوت نہ کی جائے، بلکہ دوسرے ذرائع سے اس کی اصلاح یا اس کو بدلنے کی کوشش کی جائے۔ دوسرے یہ روایات ایسی حکومت کے بارے میں ہیں جو ملک کا نظام شریعت کے مطابق چلا رہی ہو اور اس میں قرآن و سنت کی بالادستی عملاً تسلیم کی جاتی ہو۔ تیسرے، اس مضمون کی احادیث کا تعلق ذاتی اور شخصی حقوق سے ہے۔ گویا ایسی احادیث سے مراد یہ ہے کہ جب ملک میں شریعت نافذ کرنے والا حکمران تم پر ذاتی طور پر ظلم بھی کر رہا ہو تو تم اس ظلم پر صبر کرو اور مسلمانوں کی اجتماعیت کو نقصان نہ پہنچاؤ۔
۶۔ حضرت حذیفہ بن یمان کی مشہور حدیث (جس میں انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ’إن لم یکن لہم جماعۃ ولا إمام‘) کے معنی یہ ہیں کہ جب بدعت و ضلالت کے غلبے کا دور آ جائے اور ہر فرقہ، گروہ اور جماعت لوگوں کو اپنی طرف بلائے تو تم ائمۂ بدعت و ضلالت میں سے کسی کی دعوت قبول نہ کرنا، کیونکہ یہ اسلام کے نام پر بدعت و ضلالت کی دعوت ہو گی۔ اس کے برعکس مسلمانوں کی اس جماعت کا التزام کرنا جو قرآن و سنت کا التزام کرنے والے امیر کی امارت پر مجتمع ہوں، چاہے وہ صالحیت اور صلاحیت کے اعتبار سے اپنے وقت کا معیاری مسلمان ہو یا اس کے اندر کچھ خرابیاں بھی موجود ہوں، مگر جب تک اس حکمران نے ’الطاغوت‘ کی شکل اختیار نہ کی ہو اور قرآن و سنت سے منحرف نہ ہوا ہو، اس وقت تک اسی کا التزام کرنا دین کا تقاضا ہے، لیکن اگر تم ایسی صورت حال سے دوچار ہو جاؤ کہ مسلمانوں کا اجتماعی نظم درہم برہم ہو گیا ہو اور قرآن و سنت کی بالادستی قبول کرنے والی کوئی حکومت موجود نہ ہو اور اس نظام کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے جدوجہد کرنے والی ایسی دینی جماعت بھی موجود نہ ہو جو قرآن و سنت کا التزام کرتی ہو اور تم اپنے اندر حالات کا تنہا مقابلہ کرنے یا اس مقصد کے لیے کوئی جماعت بنانے کی قوت بھی نہ پاتے ہو، بلکہ تمھارے اپنے دین و ایمان کو خطرہ درپیش ہو تو ایسے حالات میں اپنے ایمان کے تحفظ کے لیے لوگوں سے الگ ہو کر کسی محفوظ جگہ میں بیٹھ کر زندگی کے باقی دن پورے کرنا زیادہ بہتر ہے۔
۷۔ ’’الجماعۃ‘‘ سے مراد وہ حکومت ہے جو ’’اقامت دین‘‘ کا فرض انجام دیتی ہو۔ اس طرح ’’التزام جماعت‘‘ کا صحیح مفہوم اسلامی حکومت کی اطاعت کرنا ہے۔ ’’جماعۃ المسلمین‘‘ سے مراد امت مسلمہ ہے۔ احادیث میں ’’الجماعۃ‘‘ کا اطلاق ان تمام مسلمانوں پر بھی ہوا ہے جو فکر و عمل کے اعتبار سے سنت رسول اور سنت اصحاب رسول کا التزام کرتے ہیں۔
۸۔ اگر اسلامی حکومت موجود ہی نہ ہو تو پھر اس کے لیے منظم اور اجتماعی جدوجہد کرنا ایک دینی فریضہ ہے۔ جو جماعتیں ’’اسلامی حکومت برائے اقامت دین‘‘ کے لیے دین و شریعت اور سنت رسول اور سنت اصحاب رسول کے اصول و ہدایات کے مطابق کام کر رہی ہوں، ان میں سے جس پر زیادہ اعتماد ہو، اس میں شمولیت اختیار کرنا اور اس کے نظم کا التزام کرنا، جدوجہد برائے غلبۂ دین اور اقامت دین کا لازمی تقاضا ہے۔
یہاں ہم مولانا محترم کی ان آرا کا جائزہ لیں گے۔

____________