کچھ عرصہ قبل علمی حلقوں میں ’’التزام جماعت‘‘ کے مفہوم کے بارے میں بحث و تمحیص کا ایک سلسلہ جاری رہا، جس سے التزام جماعت کے بارے میں مختلف آرا سامنے آئیں۔ بعض لوگوں کے نزدیک اس سے مراد امت مسلمہ سے جڑ کر رہنا ہے۔ بعض لوگوں نے اس سے مسلمانوں کی حکومت کا التزام مراد لیا ہے اور بعض کے نزدیک اس کے معنی مسلمانوں کے نظم اجتماعی سے وابستہ رہنے کے ہیں۔ اس سے واضح ہے کہ اس معاملے میں اصل اختلاف ’’الجماعۃ‘‘ کے مفہوم کے بارے میں ہے۔ بعض لوگوں نے ’’الجماعۃ‘‘ سے امت مسلمہ مراد لی ہے، بعض کے نزدیک اس کا اطلاق مسلمانوں کی حکومت پر اور بعض کے نزدیک مسلمانوں کے نظم اجتماعی پر ہوتا ہے۔
’’الجماعۃ‘‘ کے مفہوم کے بارے میں یہ اختلاف صرف اسی زمانے میں نہیں ہوا، اہل علم نے اپنی کتابوں میں اس کے معنی کے بارے میں اختلافات نقل کیے ہیں۔ چنانچہ ایک گروہ نے اس کے معنی ’’مسلمانوں کی اکثریت‘‘ کے لیے ہیں۔ امام شاطبی رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’الاعتصام‘‘ میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

إنہا السواد الأعظم من أہل الإسلام وہو الذی یدل علیہ کلام أبی غالب أن السواد الأعظم ہم الناجون من الفرق فما کانوا علیہ من أمر دینہم فہو الحق ومن خالفہم مات میتۃ جاہلیۃ سواء خالفہم فی شیء من الشریعۃ أو فی إمامہم وسلطانہم فہو مخالف للحق.(۲/ ۲۶۰)

’’اس سے مراد اہل اسلام کا اکثریتی گروہ ہے۔ ابوغالب کی درج ذیل بات بھی اسی پر دلالت کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں: بے شک، مختلف فرقوں میں سے نجات پانے والا کامیاب فرقہ مسلمانوں کا اکثریتی گروہ ہی ہے۔ چنانچہ دین سے متعلق کسی معاملے میں، وہ جس بات پر قائم ہو، وہی حق ہے۔ اور جو اس کی مخالفت کرے، وہی جاہلیت کی موت مرے گا۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ معاملہ شریعت سے متعلق ہے یا سیاست اور اقتدار سے متعلق، ان کا مخالف بہرحال حق کا مخالف ہو گا۔‘‘

دوسرے گروہ کے نزدیک اس کے معنی ’’امت کے علما اور مجتہدین کے گروہ‘‘ کے ہیں۔ اس بات کو بیان کرتے ہوئے امام شاطبی لکھتے ہیں:
 

إنہا جماعۃ أئمۃ العلماء المجتہدین فمن خرج مما علیہ علماء الأمۃ مات میتۃ جاہلیۃ لأن جماعۃ اللّٰہ العلماء جعلہم اللّٰہ حجۃ علی العالمین.(۲/ ۲۶۱)
’’اس سے مراد علماے ائمۂ مجتہدین کا گروہ ہے۔ چنانچہ (ان کے نزدیک) جس نے اس طریقے کو چھوڑا جس پر علماے امت کا اتفاق تھا، وہ جاہلیت کی موت مرا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا گروہ، دراصل علما ہی کا گروہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں پوری دنیا پر حجت بنایا ہے۔‘‘

تیسرے گروہ کے نزدیک ’’الجماعۃ‘‘ سے مراد صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا گروہ ہے۔ چنانچہ اس بات کی وضاحت میں صاحب ’’الاعتصام‘‘ لکھتے ہیں:

إن الجماعۃ ہی الصحابۃ علی الخصوص فإنہم الذین أقاموا عماد الدین وأرسوا أوتادہ وہم الذین لا یجتمعون علی الضلالۃ أصلًا، وقد یمکن فیمن سواہم ذلک.(۲/ ۲۶۲)
’’’الجماعۃ‘ سے مراد، علی الخصوص صحابۂ کرام (رضی اللہ عنہم) کا گروہ ہے، کیونکہ یہ وہی ہیں جنھوں نے دین کو پوری طرح سے قائم رکھا اور اس کی عمارت کو مستحکم کیا۔ اور یہ وہی ہیں جو سرے سے گمراہی پر جمع ہی نہیں ہو سکتے۔ انھیں چھوڑ کر باقی سب کے لیے کسی گمراہی پر جمع ہو جانے کا امکان بہرحال موجود ہی ہے۔‘‘

چوتھے گروہ کے نزدیک اس سے مراد ’’تمام مسلمان‘‘ ہیں۔ چنانچہ اس بات کو بیان کرتے ہوئے امام صاحب لکھتے ہیں:

إن الجماعۃ ہی جماعۃ أہل الإسلام إذا أجمعوا علی أمر فواجب علی غیرہم من أہل الملل إتباعہم وہم الذین ضمن اللّٰہ لنبیہ علیہ الصلٰوۃ والسلام أن لا یجمعہم علی ضلالۃ فان وقع بینہم إختلاف فواجب تعرف الصواب فیما اختلفوا فیہ.(۲/ ۲۶۳)
’’’الجماعۃ‘ اہل اسلام کے گروہ کو کہتے ہیں جب وہ کسی معاملے میں آپس میں اتفاق کر لے، اس صورت میں دوسری ملتوں کے لیے ان کی پیروی لازم ہو جاتی ہے، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو یہ ضمانت دی ہے کہ وہ انھیں کسی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا۔ چنانچہ ان کے مابین اگر کوئی اختلاف ہو جائے تو ضروری ہے کہ اس معاملے میں صحیح بات کو جاننے کی کوشش کی جائے۔‘‘

پانچویں گروہ کے نزدیک اس سے مراد ’’مسلمانوں کا اجتماعی نظم‘‘ ہے۔ چنانچہ اس بات کو بیان کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:

الجماعۃ جماعۃ المسلمین إذا اجتمعوا علی أمیر فأمر علیہ الصلٰوۃ والسلام بلزومہ ونہی عن فراق الأمۃ.(۲/ ۲۶۴)
’’’الجماعۃ‘ مسلمانوں کے گروہ کو کہتے ہیں۔ جب وہ کسی ایک امیر کی اطاعت پر اتفاق کر لیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کے ساتھ التزام کا حکم دیا اور اس کی خلاف ورزی کر کے امت میں تفرقہ برپا کرنے سے منع فرمایا ہے۔‘‘

اس سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ اہل علم کے ما بین ’’الجماعۃ‘‘ کے مفہوم کو متعین کرنے میں اختلاف صرف آج ہی نہیں ہوا، بلکہ ماضی میں بھی یہ اختلاف موجود رہا ہے۔
اس مضمون میں ہم ’’الجماعۃ‘‘ کا صحیح مفہوم متعین کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کے بعد ہم ان اعتراضات کا جائزہ لیں گے جو اس زمانے میں بعض اہل علم کی طرف سے اس مفہوم پر کیے گئے ہیں۔ تمام اہل علم سے ہماری درخواست ہے کہ وہ اگر کسی بات کو مبنی بر صواب نہ پائیں تو ہمیں اس سے مطلع فرمائیں۔ کسی صحیح بات کو تسلیم کر لینے میں ان شاء اللہ ہمیں ہرگز کوئی تامل نہ ہو گا۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صحیح بات کو سمجھنے، اسی کو پہنچانے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

____________