ایک فرد کی طرح جو روزمرہ فرائض ادا کرنے کے لیے غذا کا محتاج ہوتا ہے ، ایک قوم بھی اپنی بقا کے لیے توانائی کے ان ذخائر کی محتاج ہوتی ہے جو اس کی ضروریات پوری کرسکیں ۔اس کے ساتھ ساتھ جس طرح ایک فرد اپنے وجود کے تحفظ کے لیے کسی چھت کا محتاج ہوتا ہے ، اسی طرح قوم کو بھی اپنے دفاع کے لیے طاقت کی ایک چھتری کی ضرورت ہوتی ہے۔دور جدید میں یہ توانائی اور یہ طاقت اب ایک ہی سرچشمہ سے حاصل ہوتی ہے،یعنی سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے سے ۔ سائنس اور ٹیکنالوجی علم کی وہ شاخ ہے جس نے اس دور میں انتہائی غیر معمولی ترقی کی ہے۔جس کے نتیجے میں دنیا زرعی سے صنعتی اور اب انفارمیشن ایج میں داخل ہوچکی ہے۔مغرب چونکہ اس تمام تر علمی ترقی کا امام رہا ہے، اس لیے طاقت اور توانائی میں بھی وہ سب سے آگے ہے،اور مشرق کی کچھ اقوام بھی تعمیر و ترقی کی سیڑھیاں چڑھ رہی ہیں تو اس کا سبب اسی سائنس و ٹیکنالوجی پر ان کی دسترس ہے۔
بدقسمتی سے ہماری قوم اس میدان میں بھی ایک انتہائی ناقابل رشک صورت حال سے دوچار ہے۔دفاعی میدان میں تو ہم نے کچھ تھوڑی بہت طاقت حاصل کرلی ہے، مگر یہ طاقت فطری طریقے پر حاصل نہیں کی گئی ، بلکہ بھارت کا مقابلہ کرنے کے لیے دوسرے ممالک کے تعاون سے حاصل کی گئی ہے۔ یہ طاقت اگر سائنس اور ٹیکنالوجی پر اپنے عبور کی بنیاد پر حاصل کی جائے تو اتنی مہنگی نہیں پڑتی ، مگر دوسروں سے لینے کی صورت میں منہ مانگے دام دینے پڑتے ہیں۔جس کے نتیجے میں ہماری قومی ترقی دیگر میدانوں میں شدید متاثر ہوتی ہے اور قومی بجٹ کا ایک بڑا حصہ فوجی اخراجات کی نظر ہوجاتا ہے۔
تاہم سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی تعلیم اور خواندگی کی جن بنیادوں پر ہوتی ہے ، وہ ہمارے ہاں انتہائی مخدوش ہیں۔غربت کی بنا پر ہمارے بچوں کی ایک بڑی تعداد پرائمری کی سطح پر بھی تعلیم حاصل نہیں کر پاتی۔ جاگیرداری نظام تعلیم کو اپنی موت سمجھتا ہے اور اس کے فروغ میں ہر طرح کی رکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔ حکومت کی ترجیحات میں تعلیم کی کیا اہمیت ہے؟ اس کا اندازہ قومی بجٹ میں تعلیم کے حصہ سے لگایا جاسکتا ہے۔ پہلے کیا ہوتا تھا ؟ اسے چھوڑیے، اس سال یعنی ۲۰۰۳ء کے بجٹ میں ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم کے لیے مختص رقم میں بالترتیب ۸۰ اور۰ ۲ فی صد کے اضافہ کے بعد بھی تعلیم کے لیے مخصوص رقم کل بجٹ کا ایک فیصد بھی نہیں بنتی،یعنی کل ۶.۷ارب روپے جو قومی بجٹ کا محض ۹۴.۰فی صد ہے۔چودہ کروڑ سے زائد آبادی پر اس رقم کو تقسیم کرنے سے فی کس سالا نہ تعلیمی بجٹ تقریباً ۵۰ روپے سالانہ یا ۴ روپے ماہانہ بنتا ہے۔ اس صورت حال پر کیا تبصرہ کیا جاسکتاہے؟
ان حالات میں جتنی کچھ بھی تعلیم ہے ، وہ زیادہ تر فنون کی ہے۔ سائنس کی اعلیٰ تعلیم کا حال یہ ہے کہ صرف گنی چنی تعداد میں یہاں پی ایچ ڈی ہوتے ہیں۔ملک کی جامعات میں تحقیق، خاص طور پر سائنسی تحقیق کا کام اور اس کے لیے ضروری مواقع اور وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اگر ملک میں کوئی بڑا سائنس دان پیدا بھی ہوا ہے تو وہ اپنی ذاتی قابلیت کی بنا پر ہوا ہے، ورنہ ملک کا نظام تعلیم ایسا ہے کہ اس کی بنیاد پر یہاں کوئی قابل شخص پیدا نہیں ہوسکتا۔پھر جو کچھ تعلیم ہے، اس کا معیار انتہائی پست ہے۔اس کا سبب رٹے اور نقل کی بنیاد پر پاس کرنے کا وہ نظام ہے جس میں طلبا کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کے بجاے ٹیوشن کے ذریعے سے ان کی صلاحیتوں کو مردہ کیا جاتا ہے۔ چنانچہ ایک ماسٹر ڈگری کے حامل کی قابلیت بھی مشکوک ہوتی ہے اور بیرونی ممالک میں ہمارے اعلیٰ جامعات کی ڈگریاں کوئی وقعت نہیں رکھتیں۔
اس نظام میں اساتذہ کا معاملہ یہ ہے کہ جو لوگ قابل ہیں، ان کو کوئی حقیقی بدلہ نہیں ملتا اور وہ قابل رحم حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ پھر جو لوگ اس شعبے میں آتے ہیں ، وہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو معاشرے میں کسی دوسرے کام کے لیے موزوں نہیں ہوتے۔ ملک کا کوئی ایک نظام تعلیم نہیں۔ ہمارا ملک غالباً دنیا کا واحد ملک ہے جس میں نصف درجن نظام تعلیم موجود ہیں۔ تعلیم کی زبان مادری ، قومی یا سرکاری ہو، اس کا فیصلہ بھی نصف صدی میں نہیں ہوسکا ۔ انگریزی پر عبور آج قابلیت کی واحد اساس ہے۔پرائیویٹ شعبے کے لیے تعلیم صرف ایک کاروبار ہے جس میں بچوں کے وزن سے زیادہ بھاری بستے ان کی پیٹھوں پر لادکراور ان کے والدین سے، ان سے بھی زیادہ بھاری فیس وصول کرکے ایک نامانوس زبان میں انھیں ’’علم‘‘ دیا جاتا ہے۔
ذاتی مطالعہ جو شعور کی بلندی اور علم کے حصول کا سب سے مؤثر غیر رسمی طریقہ ہے، اس کا حال بھی انتہائی ناگفتہ ہے۔چودہ کروڑ کی آبادی میں کسی مصنف کی کتاب پانچ سو کی تعداد میں شائع ہوتی ہے اور برسوں گزر جاتے ہیں ، مگر دوسرے ایڈیشن کی اشاعت کی نوبت نہیں آتی۔یہاں لوگ کسی بھی چیز کے لیے پیسے خرچ کرسکتے ہیں ، مگر کتاب کے لیے نہیں۔ قوم کی اکثریت ذوق مطالعہ سے عاری ہے۔خصوصاً الیکٹرونک میڈیا کے غلبے کے بعد تو قوم مطالعہ کرنے کی صلاحیت سے ہی محروم ہوتی جارہی ہے۔نتیجتاً کتاب کی موت واقع ہورہی ہے۔ کتاب کی موت علم کی موت ہوتی ہے اور علم کی موت قوم کی موت ہوتی ہے، مگر اس قوم کو کون یہ بات سمجھائے؟
ہماری اس علمی پس ماندگی کے نتائج صرف سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں پیچھے رہ جانے کی صورت میں ہی ظاہر نہیں ہورہے ، بلکہ ہماری یہ اجتماعی جہالت دیگر میدانوں میں بھی ہمارے لیے شدید مسائل پیدا کررہی ہے۔آج جو تنگ نظری، تعصب اور عدم برداشت کا ہم شکار ہیں ، اس کا سبب بھی ہماری علمی پس ماندگی ہے۔علم و مطالعہ کی کمی کی بنا پر ہمارے ہاں لوگ صرف اپنا نقطۂ نظر جانتے ہیں۔ وہ اس بات سے واقف ہی نہیں ہوتے کہ یہاں کوئی دوسرا نقطۂ نظر بھی ہے۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ وہ دوسروں کا نقطۂ نظر سمجھنے کی کوشش کریںیا ان کی راے کا وزن محسو س کریں۔جن لوگوں کا واحد منبع علم کتاب کے بجاے لفاظی وخطابت کی جادو گری ہو، وہ عقل کی دشمن جذباتیت کے اسیر نہیں ہوں گے تو اورکیا ہوگا؟علم و تحقیق کی روایت ہمارے ہاں ویسے بھی زیادہ روشن نہیں، مگر جتنی کچھ بھی ہے قوم کی جہالت اس کی آگہی سے اسے محروم رکھتی ہے۔
ان حالات میں کیسے ممکن ہے کہ ملک میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو فروغ حاصل ہو اور باصلاحیت لوگ سامنے آئیں۔ ہمارے نزدیک جب تک جہاد کی اسپرٹ کے ساتھ حکومت اور عوام اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری محسوس نہیں کریں گے، ملک میں سائنس اور ٹیکنالوجی کا فروغ ممکن نہیں۔اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ کوئی حوصلہ مند سر سید کی طرح سیاست کی پرخار وادی میں اترنے کے بجاے اپنی زندگی علم کے فروغ کے لیے وقف کردے۔ نظام تعلیم کی اصلاح اور فروغ مطالعہ کے لیے جب تک مؤثر تحریکیں نہیں چلائی جائیں گی ، اس وقت تک ہماری علمی پستی دور نہیں ہوگی۔اس ضمن میں حکومت ، میڈیا اور دیگر باشعور طبقات کو آگے بڑھ کر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہییں۔
مگربدقسمتی سے ہمارے مقتدر طبقات ،اشرافیہ اور میڈیاکے لوگ ذہنی طور پر مغرب سے اس قدر مرعوب ہیں کہ وہاں سے لینے کی کوئی چیز اگر انھیں نظر آتی ہے تو وہ ان کی تہذیب و ثقافت ہے، نہ کہ ان کا علم و فن۔یہی کچھ ترقی اور روشن خیالی کے نام پر وہ ہمارے معاشرے میں پھیلانے کی شعوری یا لاشعوری کوشش کررہے ہیں۔ہم ان کی خد مت میں اقبال کا یہ پیغام پہنچاکر اس گفتگو کو ختم کرتے ہیں:

قوتِ مغرب نہ از چنگ و رباب
نے ز رقصِ دختران بے حجاب
نے ز سحرِ ساحرانِ لالہ روست
نے ز عریاں ساق ونے از قطعِ موست
محکمی او را نہ از لا دینی است
نے فروغش از خطِ لاطینی است
قوتِ افرنگ از علم و فن است
از ہمیں آتش چراغش روشن است


’’ مغرب کی قوت گانے بجانے اور لڑکیوں کے بے حجابانہ رقص میں نہیں۔نہ جادوگر حسیناؤں کی ساحرانہ اداؤں، ان کے نیم عریاں لباس اور تراشیدہ بالوں ہی کی وجہ سے ہے۔ان کی طاقت مذہب کو چھوڑنے یاکسی خاص رسم الخط اور زبان کی وجہ سے بھی نہیں۔ مغرب کی قوت علم و ہنر سے ہے۔ان کی کامیابی کا چراغ اس آگ سے روشن ہے۔‘‘

____________