درج بالا عوامل وہ تھے جو قوموں کے عروج و زوال میں بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں ، مگر اصلاً یہ کسی قوم کے دائرۂ اختیار میں نہیں ہوتا کہ وہ ان دونوں محرکات کو اپنی طرف سے متعین کرے۔ وقت بہرحال گزرے گا اور اس کے بعد ضعف لازمی ہے۔ اسی طرح قدرتی حوادث بھی پیش آتے رہتے ہیں جن پر کسی قوم کا اختیار نہیں ہوتا۔ دوسری اقوام کے حملے اور جنگیں بھی کوئی ایسی چیز نہیں کہ کوئی قوم تنہا ان کے انجام کو متعین کرلے،تاہم اس دنیا میں خدا نے دو معاملات ایسے رکھے ہیں جن میں قوموں کے پاس موقع ہوتا ہے کہ نہ صرف وہ اپنی طبعی عمر میں اضافہ کریں اور اپنی توانائی کو زیادہ دیر تک برقرار رکھیں ، بلکہ وہ ہر طرح کے خارجی چیلنج کا بھی مقابلہ کرسکتی ہیں۔ ان میں سے ایک چیزاخلاقی اقدار کی پاس داری ہے اور دوسری وقت کی مروجہ ٹیکنالوجی میں زیادہ سے زیادہ ترقی ہے۔ یہ دونوں چیزیں لوگوں کے اپنے اختیار کی ہیں اور جب وہ ان کی رعایت کرتے ہیں تو وہ غیر اختیاری محرکات کو بھی بالواسطہ اپنے اختیار میں کرلیتے ہیں۔

____________