اُنیسو اں باب 

دنیا کے حالات بدلتے ہیں۔ نئی ایجادات ہوتی ہیں۔ ہر ایجاد کے ساتھ کچھ مثبت اور کچھ منفی چیزوں کا انسان کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ معاملات، کاروبار، کاشت کاری، رہائش، ذرائع ابلاغ اور فنونِ جنگ میں عظیم الشان تبدیلیاں واقع ہوگئی ہیں۔ جرائم کے نئے نئے طریقے ایجاد ہوگئے ہیں۔ تعلیم کی وسعت سے انسان کے سامنے نئے افق بھی نمودار ہوگئے ہیں اور اس کے سامنے لاتعداد نئے سوالات بھی آگئے ہیں۔ انہی سوالات پر قرآن مجید اور سنتِ رسولؐ کی روشنی میں غوروفکر کرنااور ان کا حل ڈھونڈنا اجتہاد وتحقیق کہلاتا ہے۔ تاہم ان دونوں اصطلاحات میں ایک باریک فرق موجود ہے۔ تحقیق کا مطلب یہ ہے کہ علمی ذرائع کے پھیلاؤ کی وجہ سے کسی چیز پر ازسر نو غوروفکر کیا جائے۔ مثلاً آج سے کچھ عرصہ پہلے کے علماء اور محققین کے سامنے قرآن مجید کے تمام مفسرین اور احادیث کا سارا ذخیرہ اپنے متعلقہ مواد سمیت ہر وقت موجود نہیں رہتا تھا۔ تاہم آج کتابوں کی فراوانی اور کمپیوٹر کی نئی ٹیکنالوجی کی بدولت یہ ممکن ہوگیا ہے کہ کسی موضوع کے متعلق پچھلے چودہ سو برس کی تمام آراء اور ساری متعلقہ احادیث کسی محقق کے سامنے آجائیں۔ یوں جب ایک محقق ان سب امور پر مربوط انداز میں غوروفکر کرتا ہے تو اس کے سامنے تحقیق کے نئے دروازے کھلتے ہیں اور یوں اپنی تحقیق کی وجہ سے وہ ایک نئے نتیجے تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ گویا تحقیق کے نتیجے میں پچھلے مواد کو ایک نئی صورت میں مربوط کرکے اُس سے کوئی نتیجہ اخذ کرلیا جاتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ ایک صاحبِ علم کواپنے غوروفکر کے نتیجے میں ایک ایسی بات سوجھ جائے جس کی طرف پہلے لوگوں کی توجہ نہ گئی ہو۔ توجہ نہ جانے کی وجہ یہ نہیں تھی کہ پچھلے لوگوں میں عقل وفہم کی کمی تھی، بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ ایک خاص زمانے میں کچھ سوالات درپیش ہی نہیں ہوتے، اس لیے ان پر اُس خاص زاویے سے غوروفکر کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ زمانے کی ترقی یا کچھ لوگوں کی طرف سے کچھ سوالات اٹھانے کے نتیجے میں غوروفکر کے نئے دروازے کھلتے ہیں اور ان کے جواب سامنے آتے ہیں۔ یہ تحقیق ہے۔ اسی لیے حضورؐ نے فرمایا کہ قرآن مجید کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوں گے اور ہر زمانے کے لوگ اس سے اپنے زمانے کے مطابق فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔ اس کی ایک نمایاں مثال مشہور صاحبِ علم مولانا حمید الدین فراہیؒ کی طرف سے بیان کردہ یہ اصول ہے کہ پورے قرآن مجید میں ایک گہری تنظیم پائی جاتی ہے۔ اس کی ہر سورہ دوسرے سورہ کے ساتھ جڑی ہوئی ہوتی ہے۔ اس سیاق وسباق پر غور کرنے کے نتیجے میں ہی قرآنِ مجید کے اصل معنی واضح ہوتے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے یہ اصول بھی پیش کیا کہ خود قرآنِ مجید کا اندرونی نظم، اُس کے استعمال کردہ الفاظ اور کسی حکم کے ضمن میں اس کی بیان کی گئی حکمت اس بات کو واضح کردیتی ہے کہ کون سا حکم مستقل ہے اور کون سا وقتی ہے۔ 
اجتہاد اس بات کو کہتے ہیں کہ کسی نئے مسئلے کا حل قرآن وسنت کی روشنی میں تلاش کیا جائے۔ مثلاً آج جس طریقے سے ملازمین کو ماہانہ تنخواہ ملتی ہے، کیا اس پر زکواۃ کے لیے فصل کے اصول کا اطلاق کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟اجماع و قیاس بھی دراصل اجتہاد ہی کا حصہ ہیں۔ اجتہاد کی دو قسمیں ہیں، ایک انفرادی اور ایک اجتماعی۔ کسی انفرادی معاملے میں ہر فرد اُس معاملے سے متعلق تمام دلائل کا جائزہ لے کرخود کسی نتیجے تک پہنچ سکتا ہے۔ اجتماعی مسائل میں یہ ضروری ہے کہ سارے نکتہ ہائے نظر منتخب پارلیمنٹ کے سامنے موجود ہوں اور وہ اس میں کسی ایک تعبیر کو اختیار کرکے اُس کے مطابق قانون سازی کرے۔ اجتہاد دین کے اصولوں میں سے ایک اصول ہے، لیکن بذات خود کوئی اجتہاد بھی ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا۔ انفرادی اجتہاد ہو یا اجتماعی، اس پر غوروفکر کا سلسلہ مسلسل جاری رہنا چاہیے۔ آج کی قانون سازی نئے حالات میں تبدیل بھی ہوسکتی ہے۔ یوں زندگی کا پہیہ جاری وساری رہتا ہے۔ 
تحقیق و اجتہاد کا یہ مطلب ہے کہ قرآن وسنت کو بنیادی اور حتمی حیثیت دی جائے۔ یہ دونوں چیزیں حجت ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ امت میں اجتہاد وتحقیق کا جتنا کام پچھلے چودہ سو برس میں ہوچکا ہے، اُس سے رہنمائی ضرور لی جائے لیکن اسے اپنے لیے لازمی (Binding) نہ سمجھا جائے۔ اس کا مطلب پچھلے اہل علم کی تحقیر نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ آج کے سوالات ان کے سامنے اس طرح موجود نہیں تھے جس طرح وہ آج ہمارے سامنے موجود ہیں، اس لیے پچھلے صاحبانِ علم نے ان زاویوں سے ان سوالات پر غوروفکر نہیں کیا تھا۔ اِسی طرح فی الوقت ہم جو غوروفکر کررہے ہیں، آج سے پچاس سو برس بعد نئے حالات کی روشنی میں ان پر لازماً نظرثانی کرنی پڑے گی۔ ممکن ہے حالات اتنی تیزی سے تبدیل ہوجائیں کہ اس سے پہلے ہی ان پر نظرثانی کی ضرورت محسوس ہو۔ 
اس بات کا خوف دل میں نہیں لانا چاہیے کہ اجتہاد وتحقیق کے نتیجے میں دین کے اندر نئی نئی باتیں آجائیں گی اور دین کا حلیہ بگڑ جائے گا۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ معاشرے کے اندر وہی چیز پنپ سکتی ہے جس کے پیچھے دلیل کی قوت ہو۔ اگر دلیل کے ساتھ جواب دیا جائے تو امت میں کوئی غلط بات قبولِ عام نہیں پاسکتی۔ ہمیں امتِ مسلمہ کے عقل وفہم اور اس کے اجتماعی ضمیر پر اعتماد اور بھروسہ ہونا چاہیے۔ کسی کی زبان بندی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ حل یہ ہے کہ اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے علمی مکالمے کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ یہی امت کی ترقی اور فلاح وبقا کا راستہ ہے۔ صرف اسی طریقے سے نئے نئے چیلنجز کا سامنا کیا جاسکتا ہے۔