۱۳۔عدت کی پابندیاں۲۵؂

عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ مطلقہ یا بیوہ خاتون کوعدت کے دوران اپنے گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہیے اور اس دوران اپنے آپ کو سفید کپڑوں میں ملبوس رکھنا چاہیے۔ مزید یہ کہ ہمارے ہاں عام طور پر عدت شوہر کے گھر نہیں گزاری جاتی۔ اس ضمن میں درج ذیل نکات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے:
۱۔عدت کی اصل وجہ اس بات کا یقین حاصل کرنا ہے کہ آیا خاتون حاملہ ہے یا نہیں۔ خاوند کے خاندان کو تحفظ دینے کے لیے ضروری ہے کہ وہ عدت کی مدت کو پورا کرے۔ سورۂ احزاب (۳۳) کی آیت ۴۹ کے الفاظ ’فَمَا لَکُمْ عَلَیْہِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ تَعْتَدُّوْنَھَا‘ (ان پر تمھارے لیے کوئی عدت واجب نہیں جسے انھیں پورا کرنا ہو ) واضح طور پر اس حقیقت کو بیان کرتے ہیں کہ اگر حمل کا امکان ہو تو پھر شوہر کی طرف سے عدت کی پابندی کرنا بیوی کے لیے لازم ہے۔ لہٰذا اگر کوئی خاتون بچہ پیدا کرنے کی عمر سے گزر چکی ہو یا موجودہ سائنسی ذرائع سے یہ معلوم ہوجائے کہ یہ وہ حاملہ نہیں ہے تو اس کے لیے عدت گزارنے کی ضرورت نہیں ہے۔چنانچہ اسی وجہ سے قرآن مجید نے ان نئی شادی شدہ خواتین کو عدت سے بری قرار دیا ہے جو شوہر کے قریب نہ گئی ہوں۔ قرآن مجید میں ہے:

یٰٓاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا نَکَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْہُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْہُنَّ فَمَا لَکُمْ عَلَیْہِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ تَعْتَدُّوْنَہَا. (الاحزاب ۳۳: ۴۹)
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم مومن عورتوں سے شادی کرو اور ان کو چھونے سے پہلے انھیں طلاق دے دو تو تمھارے لیے ان پر کوئی عدت نہیں جسے پورا کرنے کے لیے تم ان سے کہو۔‘‘

۲۔ عدت کے دوران کسی مطلقہ کو اپنا گھر چھوڑنا چاہیے اور نہ ہی شوہر اس بات کا حق رکھتا ہے کہ اسے اس کے گھر سے باہر نکالے۔ اکٹھے رہنے کے نتیجے میں یہ ہوسکتا ہے کہ یہ چیز دونوں کے لیے فائدہ مند ہواور ان کے مابین صلح ہوجائے اور ایک خاندان ٹوٹنے سے بچ جائے۔ شوہر کا گھر چھوڑنے کا استثنا صرف اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب بیوی نے بدکاری کا ارتکاب کیا ہو۔اس صورت میں نہ تو شوہر کے لیے مناسب ہے کہ وہ بیوی کو گھر میں رکنے پر اصرار کرے اور نہ ہی جس وجہ سے یہ حکم دیا جارہا ہے، اس کا مقصد حاصل ہوگا۔
۳۔جہاں تک عدت کی پابندی کا تعلق ہے تو اس حکم کی بنیاد ساری کی ساری اس وجہ سے ہے کہ بیوہ یا مطلقہ خاتون کے پیٹ میں جو بچہ ہے، اس کے حسب نسب کا تعین کیا جائے۔ اس ضمن میں کوئی بیوہ خاتون کسی بھی مقصد سے باہر جاسکتی ہے۔ چنانچہ اگر بنیادی مقصد فوت ہونے کا اندیشہ نہ ہو، وہ حج جیسی اہم دینی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے بھی جاسکتی ہے اور تفریح کی غرض سے کسی پارک میں بھی جاسکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ کوئی ایسا کام نہ کرے گی جس سے بچے کے نام و نسب میں کوئی شبہ پیدا ہو۔
۴۔ عدت کا اپنا ایک تقدس ہے۔ اس دوران میں بیوہ خاتون کو وقار اور سادگی سے وقت گزارنا چاہیے۔ یہ اتنی فطری بات ہے کہ کسی بیوہ یا مطلقہ خاتون کو اسے بتانے کی ضرورت ہی نہیں۔
_____
۲۵؂ اس باب میں پیش کردہ وضاحت ’’میزان‘‘سے لی گئی ہے۔ دیکھیے: میزان، جاوید احمد غامدی ۴۵۲۔۴۵۵۔

____________