اداروں کے ضمن میں کچھ بحث ہم اوپر کر چکے ہیں، جہاں ہم نے یہ بتایا تھا کہ ادارے معاشرے کے نظام کو چلانے اور اس کے استحکام کے لیے وجود میں لائے جاتے ہیں۔ کوئی قوم جیسے جیسے تہذیب و تمدن کا سفر طے کرتی ہے، زندگی کے مختلف شعبوں کو ہموار طریقے سے چلانے کا عمل پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ پہلے جو ذمہ داری ایک یا چند افراد مل کر غیر منظم طریقے سے ادا کردیا کرتے تھے، اس کی ادائیگی کے لیے وقت کے ساتھ ساتھ ایک پورا ادارہ قائم کرنا، اس کے حدود و قیود اور اصول و ضوابط مرتب کرنا اور اس کا ایک تنظیمی ڈھانچا ترتیب دینا ایک ناگزیر تمدنی ضرورت بن جاتا ہے۔ 
ادارے چونکہ اجتماعی مفاد کے اصول پر چلتے ہیں ، اس لیے ان کا استحکام ہمیشہ معاشرتی استحکام کا باعث ہوا کرتا ہے۔یہ جتنے طاقت ور ہوتے ہیں، معاشرہ اسی رفتار سے ترقی کا سفر طے کرتا ہے۔ ادارے ان قومی روایات کے امین ہوتے ہیں جو اجتماعی زندگی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں،تاہم مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے کہ جب کوئی طالع آزما ان روایات کو توڑتا ہے اور اداروں کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنا شروع کردیتا ہے۔ یہ چیز نہ صرف اداروں کے زوال کا باعث ہوتی ہے ، بلکہ آخر کار قومی زوال کا سبب بھی بن جاتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ قومی طاقت اب ان اداروں میں مرتکز ہوجاتی ہے، اور ان کی تباہی قومی تباہی کا باعث بنتی ہے۔
اداروں کی مزید اہمیت اس اعتبار سے بھی ہے کہ ادارہ ہی وہ جگہ ہے جہاں قوم کے افراد اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرتے ہیں، کیونکہ یہی ادارے افراد کو وہ اسباب و وسائل مہیا کرتے ہیں جو ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ جب تک کسی قوم کے اداروں میں اصول اور میرٹ کا رواج رہتا ہے ، باصلاحیت افراد آگے آتے رہتے ہیں اور جب قابلیت کے بجاے سفارش ، رشوت اور تعلقات کی بنیاد پر معاملات چلنے لگتے ہیں تو اول ادارے اور پھر پوری قوم بنجر ہونا شروع ہوجاتی ہے۔
آج مغرب نے جو ترقی کی ہے ، اس میں بنیادی کردار اس حقیقت کا ہے کہ وہاں ادارے شخصیات پر مقدم ہوچکے ہیں، جبکہ ہمارے ہاں چند سالہ شخصی اقتدار اور ذاتی مفادات کے لیے بارہا اداروں کو ذبح کیا گیا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے ادارے قومی زندگی کی تعمیر تو کیا کرتے اپنی زندگی و بقا کے لیے بھی صاحبان اقتدار کے محتاج ہیں، تاہم یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ادارے خود کچھ نہیں ہوتے ،بلکہ قوم کے اجتماعی شعور کے عکاس ہوتے ہیں۔ جب اداروں کا وقار مجروح ہورہا ہو اور قوم خاموش ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قوم بے شعوری کے آخری مقام پر کھڑی ہے۔ یہ اصلاً قوم کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اداروں کو تحفظ دے۔ اس کے بعد وہ وقت آتا ہے کہ ادارے قوم کو تحفظ دینا شروع ہو جاتے ہیں۔

____________