پینتیس واں باب 
 
(بھارت کے ڈاکٹر عابداللہ غازی صاحب کا یہ مضمون مارچ 2007ء کے ’’ہم قدم‘‘ میں شائع ہوا تھا۔ یہ مضمون ڈاکٹر صاحب کے شکریے کے ساتھ یہاں نقل کیا جارہا ہے)
یہ بات تو میں نے بھی سن رکھی تھی کہ ہندو، انگریزاور یہودی،مسلمانوں کو پنپنے نہیں دیں گے۔ لیکن میں نے جس باپ کی آغوش میں زندگی کا شعور حاصل کیا، ان کے ذاتی حلقہ احباب میں مسلمانوں کے ساتھ ہندو، سکھ، عیسائی، پارسی سب شامل تھے اور وہ سب سے یکساں وسیع المشربی سے ملتے تھے۔ وہ انگریزوں سے جنگ بھی لڑ رہے تھے اور ان کی خوبیوں کے بھی قائل تھے۔ 
وہ فرمایا کرتے تھے کہ ’’اگر دشمن کو دوست کہتے رہو تو وہ دوست بن جاتا ہے۔ اور دوست کو دشمن سمجھنے لگو تو وہ دشمن ہوجاتا ہے۔ ‘‘ ابا جان قبلہ ہمیشہ حالات کا تجزیہ کرتے تھے، الزام تراشی نہ کرتے تھے۔ 
مجھے یوں تو والد صاحب سے ورثے میں ان کے وسیع قلب اور کشادہ ذہن کا تھوڑا سا حصہ ملا ہے، لیکن زندگی کے بہت سے مدوجزر میں خود میں نے بھی دوسروں پر الزام لگاکر اپنی یا اجتماعی زندگی کی ناکامیوں کا آسان اور مجرب قومی نسخہ تجویز کیا ہے کہ ہم خواہ کچھ بھی کرلیں دوسرے ہمیں پنپنے نہیں دیں گے۔ ایک واقعہ آپ بھی سن لیجئے۔ اگر چہ ذرا تفصیلی ہے لیکن مختلف پہلوؤں سے سبق آموز ہے۔ 
1967ء میں لندن میں گھر بیٹھے بغیر کسی درخواست کے ہارورڈیونیورسٹی سینٹر فار اسٹڈی آف ورلڈریلیجنس(Center for the study of world Religions)میں پی ایچ ڈی کے لیے داخلہ ملا۔ متعدد موضوعات تھے۔ تاہم پروفیسر اسمتھ کی ہدایات کے مطابق جنوبی ہندوستان کے راما نوجہ چاریہ کا میں نے انتخاب کیا جو ہندوازم کے عظیم مفکر تھے۔ مضمون کو 9تا11صفحات کا ہونا تھا اور آخری تاریخ پر داخل ہونا ضروری تھا۔ مضمون کا موضوع تھا ’’راما نوجہ چاریہ کا نظریہ خدا‘‘ 
یہ مضمون میرے لیے ایک سنہری موقع تھا، ہندوازم کا مطالعہ کرنا اور پھر اسمتھ صاحب پر اپنی علمیت کا تاثر قائم کرنا۔ میں نے سوچا اس مضمون کے ذریعے یہ فیصلہ بھی ہوجائے گا کہ میرا علمی مقام کیا ہے؟ اور اس کے نتیجے میں ہارورڈ میں میرے تعلیمی مستقبل کا فیصلہ بھی خود بہ خود ہو جائے گا۔مواد کی تیاری میں پوری لائبریری چھان ماری اور اس مفکر پر اس قدر مواد فراہم کیا کہ میں خود حیران رہ گیا۔ دراصل مواد کی ہارورڈ کی لائبیریری میں موجودگی خود اس ادارے کی عظمت کی دلیل تھی۔ اتنا مواد تو ہندوستان کی کسی لائبیریری میں بھی نہ ہوگا۔ میں نے کتابوں کا مطالعہ کیا، خاص خاص مقامات پر پنسل سے باریک باریک نشان لگائے، ان سے نوٹس بنائے اور پھر چل میرے خامہ بسم اللہ کہہ کر مضمون لکھنا شروع کردیا۔ مضمون کے شروع میں راما نوجہ چاریہ کی حیات کا ذکر کیا۔ مضمون کو ہر طرح کے فٹ نوٹ سے مرصع کیا اور اسے ظاہر وباطن سے علمی مرقع بنانے کی کوشش کی۔ مضمون کے داخلہ کی تاریخ قریب تھی اور میرے پاس ٹائپ رائٹر نہیں تھا۔ 
میں نے اسمتھ صاحب کے ریسرچ اسسٹنٹ جان کارٹر سے اجازت چاہی کہ وقت کی تنگی کے پیش نظر مجھے ٹائپ سے مستثنیٰ قرار دیا جائے اور میرے ہاتھ کے لکھے کو سند سمجھا جائے۔ جان کارٹر صاحب نے نہ صرف میری درخواست رد کردی بلکہ مجھے ایک عظیم الشان لیکچر بھی دیا کہ مجھے فوراً ٹائپنگ سیکھنی چاہیے۔ میں نے کہا میرے پاس تو ٹائپ رائٹر نہیں ہے تو انہوں نے ٹائپ رائٹر خریدنے کی تلقین کی بلکہ اس کی قسموں اور قیمتوں پر بھی روشنی ڈال دی اور دکانوں کی بھی نشاندہی کردی۔ 
میں نے عرض کیا میں یہاں صرف ایک سال کے لیے آیا ہوں اور میرے وسائل محدود ہیں، تو انہوں نے کہا کہ میں کرائے پر ٹائپ رائٹر لاسکتا ہوں۔ اور ریسرچ سکالر کے لیے ٹائپ رائٹر اس قدر ضروری ہے کہ بہتر ہوگا کہ میں خرید کر ہندوستان لے جاؤں۔ میں نے کہا میری ٹائپ کی رفتار بہت سست ہے، انہوں نے نصیحت کی کہ ہر نئی رفتار سست ہوتی ہے۔ کوشش سے چستی آتی ہے۔ میری سمجھ میں جان کارٹر کی بات نہ آئی، اس کی باتوں کو میں نے امریکن گوری قوم کا پندار شمار کیا جو تیسری دنیا کے احوال سے ناواقف ہے اور اپنی اقدار ہی نہیں اپنی مشینیں بھی ان کے سرتھوپنا چاہتی ہے۔ 
میں نے بادل نانخواستہ ٹائپسٹ تلاش کرکے کچھ مضمون اس سے ٹائپ کروایا، کچھ خود ٹائپ کیا اور جیسے تیسے اسے وقت پر جمع کیا، ہدایات میں صاف لکھا تھا کہ اگر وقت پر جمع نہ ہوا تو جو گریڈ ملے گا وہ ایک درجہ کم ہوجائے گا۔ یعنی +Aگھٹ کرAرہ جائے گا۔ اور-Aگھٹ کر Bہو جائے گا۔ یہ بات مجھ پر واضح ہوگئی کہ ایسی شرائط صریحاً ہماری تیسری دنیا کے خلاف سازش ہیں، ظاہر ہے امریکہ کا کوئی عیسائی یہودی تو لیٹ ہونے سے رہا، وہ توسسٹم سے واقف ہیں، ٹائپ رائٹر رکھتے ہیں، خود ٹائپ کرنا جانتے ہیں یا بیوی اور گرل فرینڈز کی مدد حاصل کرلیتے ہیں۔ 
بہر کیف دن رات کی محنت کے بعد مضمون بالآخر مکمل ہوکر ٹائپ ہوگیا۔ اپنے ٹائپ شدہ مضمون سے میں بے حد متاثر تھا۔ اسے باربار پڑھ کر یک گونہ طمانیت محسوس کرتا۔ پہلی بار زندگی میں ٹائپ میں کوئی چیز اپنے نام کے ساتھ دیکھی۔ اچھا مضمون ٹائپ ہوکر اور اچھا ہوجاتا ہے۔ اور اگر اس پر اپنا نام ٹائپ ہوتو اور بھلا لگتا ہے۔ 
استاد نے مضمون گیارہ صفحہ کا کہا تھا، میں نے پچاس صفحہ کا کتابچہ تیار کر دیا۔ انہوں نے سوال صرف نظرےۂ خدا کا کیا تھا، میں نے راما نوجہ کی تمام زندگی کا احاطہ کردکھایا، مضمون کے اصل حاصل میرے وہ قیمتی فٹ نوٹ تھے جواصل عبارت سے بھی زیادہ طویل تھے اور مضمون کو علمی اور تحقیقی مرتبہ عطا کرتے تھے۔ مضمون جمع کرنے کے بعد مجھے یاد ہے کہ میں دیر تک اقبال کا قومی ترانہ گنگناتا رہا اور سوچتا رہا کہ ڈاکٹر اسمتھ مجھے بلاکر کہیں گے کہ ہمارے پاس تو زیادہ سے زیادہ A+گریڈ ہے جو تمہارے شایان شان تو نہیں۔ گرقبول افتدز ہے عزوشرف
کچھ دن بعد مجھے اسمتھ صاحب نے بلاکر میرا مضمون واپس کیا۔ گریڈ C+تھا اور اس کے ساتھ پورے گیارہ صفحات کی تنقید تھی۔ انہوں نے فرمایا کہ ان کے ریسرچ اسسٹنٹ جان کارٹر نے پندرہ گھنٹے تنقید لکھنے میں صرف کیے ہیں اور خود انہوں نے تین گھنٹے اس تنقید کو پڑھ کر اس کی تصدیق کرنے میں لگائے ہیں۔ تنقید کی ضخامت سے میرا چہرہ اتر گیا۔ اسمتھ صاحب فوراً سمجھ گئے۔ اس کے بعد انہوں نے بہت ہمت افزائی کی‘ بہت سی باتیں کیں اور فرمایا’’اس تنقید کو پڑھ کر تمہیں مستقبل میں بہت فائدہ ہوگا۔ تمہیں چاہیے کہ تم ہر تنقیدی جملے پر غور کرو اور جن غلطیوں کی نشان دہی کی گئی ہے ان کی آئندہ اصلاح کرو۔‘‘اسمتھ صاحب نے جو کچھ مجھ سے کہا میں نے غصہ میں بہت کم سنا۔اسمتھ صاحب تو بڑے آدمی تھے اور ہماری تہذیب میں بڑوں پر غصہ نہیں کرتے۔ میرا تمام غم وغصہ جان کارٹر کی طرف مبذول ہوگیا اور یہ بات واضح ہوکر سامنے آگئی کہ یہ گورا عیسائی ایک مسلمان کی علمیت کو ماننے کو تیار نہیں اور اس کے علمی مستقبل کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ میں نے سوچا ’’ اسمتھ صاحب کا کیا ہے ان کے گورے شاگرد نے جو کچھ کہہ دیا انہوں نے یقین کرلیا اور یوں بھی بڑے لوگ کانوں کے کچے ہوتے ہیں اور بات ایسی غیر یقینی بھی نہیں۔ گورا گورے کی نہیں سنے گا تو کیا ہم جیسے گندمی رنگ والوں کی سنے گا۔ 
میرے اس غصے کے پیچھے میری زبردست انا تھی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کا صدر اور فرسٹ کلاس طالب علم، جامعہ اسلامیہ دہلی اور دہلی یونیورسٹی کا پولیٹیکل سائنس کا لیکچرر، لندن اسکول آف اکنامکس کا گریجویٹ اور پچاس صفحات کا شاندار علمی مقالہ اور اس پر یہ تنقید 
’’تفو بر تو اے چرخ گردوں تفو‘‘ 
میں نے تھوڑی سی رپورٹ پڑھی اور اس کے خلاف بہت بڑی سی رائے قائم کرلی۔ میرا غصہ کچھ ایسا بے جا بھی نہ تھا۔ میں نے علی گڑھ سے فرسٹ کلاس بی اے اور ایم اے سیاسی سرگرمیوں میں شرکت کے ساتھ کیا تھا۔ پروفیسر حبیب نے جو سر ٹیفکیٹ میری رخصتی پر مجھے لکھ کر دیا اس میں انہوں نے علی گڑھ کے معدود چند صاحبِ علم وفکر طلباء میں میرا شمار کیا تھا۔ جس کا مجھے بھی ان کی تحریر دیکھ کر یقین آگیا تھا۔ میں نے جامعہ اور دہلی کالج میں پڑھایا تھا اور لندن اسکول آف اکنامکس سے ماسٹرز کی سند حاصل کرکے یونیورسٹی کے اکسٹینشن پروگرام میں لیکچرز دیے تھے۔ جان کارٹر کی تنقیدِ بے جانے میرے بلند مقام کو نہیں پہنچانا بلکہ مجھے بالکل ہی ایراغیرا بنا دیا۔ میں تنقید پڑھ کر علامہ اقبال کا یہ شعر گنگنا رہا تھا: 
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی 
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا نا پائیدار ہوگا
اور ساتھ ہی جان کارٹر سے جنگ کے لیے خود کو تیار کررہا تھا کہ خود جان کارٹر کا فون آیا اور انہوں نے مجھے دعوت دی کہ دوسرے دن ان کے ساتھ اپنے اشکالات پیش کروں۔ مجھے دل کی بھڑاس نکالنے کا جہاں موقع تھا وہاں یہ بھی طے تھا کہ میرے مستقبل کا فیصلہ تو جان کارٹر نے کردیا اب ہارورڈ میں تو دال گلے گی نہیں۔ اس لیے کیوں نہ کلمۃ الحق عند سلطان الجائر (ظالم بادشاہ کے سامنے کلمۂ حق) کہنے کی مثال قائم کرکے جام شہادت پیوں، اس تیاری کے لیے ضروری تھا کہ میں جان کارٹر کی تنقید ذرا غور سے پڑھوں، میں شب میں بڑے سکون کے ساتھ اپنے مضمون اور ان کی تنقید کو لے کر بیٹھا۔ 
پہلے حصے میں تو ٹائپ کے اصولوں پر گفتگو تھی۔ کتنا مارجن (Margin)ہونا چاہیے، پیراگراف کے لیے کس قدر جگہیں چھوڑنی چاہئیں، کاغذ کس قسم کا ہو۔ ایسی چھوٹی موٹی چیزیں جن کی طرف کوئی شریف آدمی کا ہے کو توجہ دے گا۔۔ مہاتماگاندھی تو لفافہ کھول کر اس کے اندر کے حصے پر سیاسی قرارداد لکھ ڈالتے تھے۔ ہم بچپن میں کاغذ پر قلم چلانے سے پہلے تختی اور سلیٹ کو تختۂ مشق بناتے تھے۔ میں نے سوچا امریکیوں کو تیسری دنیا کی اقتصادیات کے احوال کی شاید خبر نہیں۔ 
دوسرے حصے میں اس پر سرزنش تھی کہ میرا مضمون صرف اس سوال کے جواب میں نہ تھا جو پوچھا گیا تھا، بلکہ اس سے کہیں زائد اور غیر ضروری تھا جو اب اس قدر دینا چاہیے جس قدر سوال ہے اور اسی قدر صفحات میں جواب دیا جائے جتنے صفحات میں جواب مانگا گیا ہے۔ مجھے یہ شرط سراسرناجائز محسوس ہوئی۔علم کے سمندر کو کوزے میں بند کرنے کا محاورہ تو سنا تھالیکن ہم نے ہمیشہ کوزہ کو سمندر بناکر ہی لوگوں کو اور خود کو پیش کرتے دیکھا اور پردادوتحسین بھی پائی ہے۔ 
پھر فٹ نوٹس پر اعتراض تھا کہ ان میں سے اکثر غیر ضروری تھے۔ ہندوستان میں ہم نے ہمیشہ فٹ نوٹ کو اصل مضمون سے زیادہ ضروری سمجھا۔ وہ علمی مقالہ کی زینت ہوتے ہیں۔ ان کو کون پڑھتا ہے وہ تودیکھنے کے لیے ہوتے ہیں۔ لیکن ان کی موجودگی سے صحافتی مضمون علمی مقالہ بنتا ہے اور محدود علمی مجلسوں کی زینت بنتا ہے ،جو بعد کو لائبریریوں کی زینت بنتے ہیں۔ جان کارٹر اپنی تنقید میں بالکل اوچھے ہتھیاروں پر اتر آئے تھے۔ یہی نہیں، انہوں نے وہ ساری کتابیں لائبریری سے نکلوائیں جومیں نے استعمال کی تھیں، وہ صفحات کھولے جن سے میں سے اقتباسات لیے تھے اور دراصل یہ معلوم کیا کہ میرے اقتباسات صحیح ہیں یا غلط۔ اور پھر یہ تلاش کرلیا کہ میرے پنسل کے نشان کتابوں پر بدستور موجود ہیں اور کتاب کے صفحات بدستور مڑے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں باتیں یہاں کی علمی شریعت میں ناجائز سمجھی جاتی ہیں۔ انہیں کیا معلوم ہمارے ملک کی لائبریریوں میں کسی اہم کتاب کے اہم صفحات سرے سے ندارد ہوتے ہیں، وہ ہونہار طالب علموں کی امتحان گاہ میں مشیر اور امتحان سے پہلے رفیق ہوتے ہیں۔ 
اس ظالم نے اقتباسات پڑھ کر زیر زبر کی غلطیوں تک کی نشان دہی کر رکھی تھی اور جہاں کتابت کی غلطی کی میں نے اپنے اقتباس میں اصلاح تھی ،اس کو انہوں نے ناجائز قرار دیا کہ اقتباس کو ہونا چاہیے نہ کہ تحریک اصلاح۔ پھر مضمون کے خیالات پر شرح وبسط سے گفتگو تھی۔ 
گیارہ صفحات کی تنقید جس پر پندرہ گھنٹے صرف ہوئے ہوں یوں ہی تو نہیں لکھی جاتی، جب کوئی یہ طے ہی کرلے کہ کسی کے علمی مستقبل کو تباہ کرنا ہے تو اس کا صواب بھی عیب نظر آنے لگتا ہے۔ یہ رپورٹ پڑھ کر میرا غصہ تیز ہوگیا اور جھنجھلاہٹ بڑھ گئی،ُ تک والے اعتراض بھی بے تکے لگے اور بے تکے تو بالکل ہی دشمنوں کی چاند ماری نظر آئے، رات سخت اضطراب میں گزری۔
دوسرے دن جان کارٹر کے دفتر میں غصہ میں بھرا ہوا پہنچا۔ انہوں نے بڑی شفقت سے بٹھایا۔ میری تنقید کو سنا، غصہ کو ٹھنڈا کیا اور کمال ضبط سے میری غلطیوں کی نشان دہی کی۔ مستقبل کے مقالات لکھنے کے لیے قیمتی مشورے بھی دیے۔ میں نے ان سے دلبرداشتہ ہوکر کہا کہ ان کے عطاکردہ +Cگریڈ نے کس طرح میرے علمی مستقبل کے پلان خراب کردیے۔ اب مجھے اسکالر شپ نہ ملے گا، اور اب میری بیوی بچے ہندوستان سے ہارورڈنہ آسکیں گے۔ میری ان باتوں پر بجائے متاثر ہونے کے اور اظہار افسوس کرنے کے انہوں نے اسے غیر متعلق قرار دیا اور موضوع کو باربار میری ذاتی مشکلات سے میرے نفسِ مضمون کی طرف لاتے رہے۔ چلتے چلتے انہوں نے پھر نصیحت کی کہ میں ٹائپ سیکھوں، پیپر لکھنے کے بارے میں یونیورسٹی کے رائٹر مینول کا مطالعہ کروں اور اسے شمع راہ بناؤں، ان کی تنقید پر سنجیدگی سے غور کروں اور آئندہ مضمون لکھتے وقت میں ان پر عمل کروں۔
میں جان کارٹر کے پاس سے بہت بددل لوٹا۔ لیکن مرتا کیا نہ کرتا میں نے ان کی نصیحت کے مطابق ٹائپ رائٹر خرید لیا، کچھ ٹائپ سیکھی اور بیوی کو ہندوستان میں دردمندانہ نصیحت لکھی کہ اگر قسمت سے امریکہ آنا ہو تو بغیر ٹائپ سیکھنے نہ آنا۔ جان کارٹر کی نصیحت کے مطابق حاشیہ چھوڑنے شروع کیے۔ فٹ نوٹ کم گئے اور انہیں مختصر اور ٹو دی پوائنٹ بنایا۔ نفس مضمون کو صفحات کی قید کا پابند کیا۔ جن کتابوں کا استعمال کیا ان پرپنسل سے نشان لگایا، کام وقت پر ختم کیا۔ زندگی میں کچھ نظم پیدا کیا اور اس کے بعد بہت سے مضامین پرAاورBپایا۔ کافی مدت کے بعد میں نے جان کارٹر کی تنقید پھر پڑھی۔ یہُ ا س وقت ہواجب میں خود پروفیسر ہوگیا اور میں نے یہودیوں اور عیسائیوں کو ادیان عالم پر سبق دینا شروع کیا تو اس وقت اپنے لکھے پر شرمندگی ہوئی اور جان کارٹر کے لکھے کی قدر ہوئی۔ اب سوچتاہوں کہ وہ کون سا جذبہ تھا جس نے جان کارٹر کو میرا مضمون اتنی دقت نظری سے پڑھنے پر مجبور کیا اور اتنی باریک بینی سے اپنا وقت لگاکر میری غلطیوں کی نشاندہی کروائی۔ دراصل ان کے اس عمل کے پیچھے وہی جذبہ تھا جو پوری مغربی زندگی میں جاری وساری ہے۔ اول فرائض کا احساس اور کام کو عبادت سمجھ کر کرنااور دوسرے عدل کہ جس کام کو کرنا اس سے انصاف کرنا، تیسری غیر جذباتیت، کام کا تعین ذاتی احساس وجذبات سے نہیں بلکہ تعلیمی نقطۂ نظر سے کرنا۔ میں نے جان کارٹر کی تنقید سے بہت کچھ سیکھا۔ میں نے یہ واقعہ جس محفل میں بیان کیا وہاں کوئی نہ کوئی شخص ایسا ضرور ملا جس نے اس طرح کے تجربہ کی تصدیق کی اور کہا کہ اس تجربے میں اول تاثر ان کا بھی یہی تھا کہ ان کی ناکامیابی یا ان پر تنقید ہندوؤں اور عیسائیوں کی مسلمانوں کے خلاف سازش ہے۔ 
اب سوچتا ہوں تو امریکہ کی زندگی کا یہ تجربہ غیر جانبداری اور عدل کا ایک عجیب سبق نظر آتا ہے۔ امریکہ میں رہتے ہوئے مجھے شاید ہی کوئی تجربہ ایسا ہوا ہو جب کسی پروفیسر کے بارے میں (وہ عیسائی ہو یا یہودی، ہندو ہو یا مسلمان) یہ شبہ ہوا کہ اس نے تعلیم دینے میں بخل سے، گریڈ دینے میں تعصب سے اور فیصلہ کرنے میں جانبداری سے کام لیا ہے۔ 
انفرادی زندگی ہویا اجتماعی معاشرہ، قدرت کے کچھ اصول ہیں جن کی بنیاد پر معاشرہ آگے بڑھتا ہے یا پیچھے جاتا ہے، مشرقی معاشرے کی پس ماندگی اور مغربی معاشرے کی ترقی دراصل ان کے اپنے اصولوں اور طرزِ زندگی کی وجہ سے ہے۔ کسی سازش کے سبب نہیں۔ ہمارا وہ ذہن جو ہماری پس ماندگی کے اسباب میں سازش دیکھ لیتا ہے ہمیں کوشش سے محروم کردیتا ہے۔ ہمیں اگر ترقی کرنی ہے تو ان عدل وانصاف کے اصولوں کو اپنانا ہوگاجو درحقیقت اسلامی اور فطری ہیں لیکن ہماری زندگی میں عملی طور پر رائج نہیں ہیں۔ یہ واقعہ میری زندگی کے سب سے زیادہ سبق آموز واقعات میں سے ہے اور اگرکوئی اس کا تجزیہ کرے تو مندرجہ ذیل اسباب میرے اس ذاتی تجربے سے اخذ کرسکتے ہیں: 
پہلی چیز تو یہی ہے، جو اس مضمون کا اصل موضوع ہے کہ ہم مسلمانوں اصل دشمن ہندو، عیسائی، یہودی دشمن نہیں ہے،بلکہ ہمارا اصل دشمن ہماری منفی فکر ہے۔ ہم اپنی ناکامیوں کا الزام دوسروں پر اس کامیابی سے لگاکر خود بری الذمہ ہوجاتے ہیں۔ ہمیں دراصل اپنی کمزوریوں کو سمجھ کر انہیں دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، ہم اپنی اس منفی فکر کی وجہ سے ساری دنیا کی طرف سے مشتبہہ رہتے ہیں۔ اور اکثر دوسرے کی نیکیوں کو مصلحتِ وقت کا تقاضا سمجھ کر اس نیکی پر اظہارِ تشکر نہیں کرتے نہ اس کے بدلے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسری چیز یہ ہے کہ مغرب کی ترقی کا راز ان کی تنظیم اور نظام عدل پر ہے۔ پہلی بات تو اکثر لوگ مان لیں گے اور دوسری بات کے لیے نہ صرف اکثر لوگ انکار کریں گے بلکہ اس کے خلاف تاریخ، جغرافیہ اور منطق کی مدد سے دلائل وبراہین بھی لے آئیں گے اور اس میں سے اکثر باتیں درست بھی ہوں گی۔ لیکن دنیا کی اکثر قوموں کے مقابلے میں اور خود مسلمانوں کے معاشرے کے مقابلے میں مغرب کا نظام اور معاشرہ زیادہ عادلانہ ہے۔ اس کا اعتراف ہمارے اکثر بزرگوں نے کیا ہے، ہمیں بھی اعترافِ حقیقت سے ہچکچانا نہیں چاہیے۔ 
تیسری چیز ہارورڈ یونیورسٹی کا نظام تعلیم ہے۔ ہارورڈ کی تعلیم بھی سونے کو کندن بناتی ہے۔ اس عمل سے گزرنے کے لیے امریکی اور دوسری اقوام اس ادارے میں داخلے کے لیے کوشش کرتی ہیں اور اس کی 27ہزار ڈالر سالانہ فیس کے بوجھ کو سب ہنسی خوشی صبر وتحمل سے برداشت کرتے ہیں، یہ ہارورڈ اور امریکہ کی دس (lvy league) یونیورسٹیوں کا نظام تعلیم عالم میں مستند ہے جو قوموں کے ہونہاروں کو لے کر انہیں علمی میدانوں کی عادت سونپتا ہے اور مستقبل کا لائق بناتا ہے۔ 
میں نے اپنی ذاتی زندگی میں ہارورڈ کے اس تجربے سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ 
میں اب ہر تنقید کو مثبت انداز میں دیکھتا ہوں اور اپنی ناکامیوں کا الزام دوسروں پر نہیں لگاتا۔ میں انسانوں کے نیک اعمال کو مشتبہہ نظروں سے نہیں دیکھتا اور ان کی نیکیوں کا بدلہ نیکی سے دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں بھی اپنے طالب علموں اور عام انسانوں کے ساتھ پورے احساس ذمہ داری کے ساتھ فرض ادا کرتا ہوں اور ان کی تعلیمی ترقی کے لیے جس کڑی جانچ کی ضرورت ہوتی ہے اُسے انجام دیتا ہوں،آخری چیز یہ ہے کہ جان کارٹر اور پروفیسر اسمتھ کی تنقید اب میرے 
علمی کاموں کے لیے مشعل راہ ہے اور میں اس سے مستقل روشنی حاصل کرتا رہتا ہوں، اور ان کے لیے نیک جذبات رکھتا ہوں اور ان کا احسان مند ہوں۔