پہلا باب: پہلے حصے کے مضامین کا خلاصہ۔

موجودہ زمانے میں کامیاب ممالک کے  تجزیے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آگے بڑھنے اور باوقار زندگی گزارنے کے لیے درج ذیل چار عوامل لازم ہیں۔ 
Oتعلیم سب کے لیے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر بچے کی پہلی بارہ سال کی تعلیم مفت لازمی اور یکساں ہو، ملک کے اندر سائنسی تعلیم کا جال بچھا ہوا ہو، عزت کی سب سے بڑی شرط تعلیم ہو اور تعلیم ہی مملکت کی اولین ترجیح ہو۔ 
موجودہ مغربی دنیا کی ترقی بنیادی طور پر 1440میں اُس وقت شروع ہوئی جب گٹن برگ نے جرمنی میں چھاپہ خانہ ایجاد کیا۔ اس ایجاد سے بڑے پیمانے پر کتابوں کی اشاعت ممکن ہوئی۔ چنانچہ عام لوگ بہت تیزی کے ساتھ نئے علوم وفنون سے واقف ہوئے۔ علم کے اس پھیلاؤ سے مذہب، معاشرت اور سائنس سمیت سب میدانوں میں بڑی تبدیلیوں نے جنم لیا۔ نئی ایجادات شروع ہوئیں جس کا نتیجہ صنعتی انقلاب کی شکل میں سامنے آیا۔ اس صنعتی انقلاب سے معاشرے میں دولت آئی، لوگوں کا معیارِ زندگی بلند ہوا، نئے نئے طبقات وجود میں آگئے، ان طبقات میں اپنے حقوق کا احساس پیدا ہوا اور اسی احساس نے جمہوریت کو جنم دیا۔ گویا حالیہ دور کی ابتدا دراصل تعلیم سے ہوئی۔ تعلیم ہی وہ کنجی ہے جسے ترقی کا تالہ کھلتا ہے۔ 
O جمہوری کلچر، جس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت عوام کی مرضی سے منتخب ہو، عوام کی مرضی سے ختم ہو، حکومت ہر معاملے میں عوام کے سامنے جواب دہ ہو، ہر چیز کے لیے ادارے قائم ہوں، سارے ادارے پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ ہوں، سارے حکومتی معاملات شفاف ہوں، ہر اہم معاملے کا فیصلہ مشورے سے ہو، آزاد پریس ہو اور احتساب کا آزاد اور کڑانظام نافذ ہو۔ 
O انصاف، جس کا مطلب یہ ہے کہ عدالتیں آزاد ہوں، انصاف سستا اور جلد ملتا ہو، لوگوں کے اندر ہر اجتماعی معاملے میں احساس ذمہ داری پیدا ہو، وہ ہر خطرے سے بے نیاز ہوکر گواہی دیں، پولیس دیانت دار ہو اور انصاف کسی حالت میں خریدا نہ جاسکے۔ اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ معاشرے کا ہرفرد ہر وقت یہ سوچے کہ کیا وہ ہر عمل انصاف کے مطابق کررہا ہے۔ یعنی سوسائٹی کی ترقی کے لیے یہ ضروری ہے کہ اجتماعی زندگی میں انصاف بطور زندہ قدر(Value)جاری ہو۔ 
O صبروحکمت، یعنی سوسائٹی میں دانش مندی اور مکالمے کا دور دورہ ہو۔ ہر معاملے پر ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ غوروفکر کیا جائے۔ فوری ردعمل (Instant Reaction) نہ کیا جائے۔ جذباتیت سے کام نہ لیا جائے۔ ہر فیصلے کے دور رس نتائج پر نگاہ رکھی جائے۔ ٹکراؤ اور مڈبھیڑ(Confrontation) کے بجائے تدبر کے ساتھ اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے حالات کے بدلنے کا انتظار کیا جائے۔ صبروحکمت کا یہ بھی مطلب ہے کہ حکمران، سیاسی لیڈر، میڈیا اور مذہبی رہنما عوام کے اندر ہیجان اور سنسنی خیزی(Sensationalism)پیدا نہ کریں، بلکہ عوام کو سوچنے سمجھنے اور مکالمے کی ترغیب دیں۔ 


قومیں سپر پاورز کیسے بنتی ہیں۔ 

اگر کوئی قوم درج بالا چار عوامل پر عمل پیرا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ مزید تین چیزیں بھی اُس کو حاصل ہوں، تو وہ قوم سپر پاور بن جاتی ہے۔ وہ تین چیزیں درج ذیل ہیں۔ 
O سائنس اور ٹیکنالوجی پر دوسروں سے بڑھ کر دسترس، اس کا مطلب یہ ہے کہ جو قوم بھی اپنے آپ کو برتری کے مقام پر فائز دیکھنا چاہتی ہو، اُس کے لیے لازم ہے کہ وہ سائنسی علوم اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اعلیٰ ترین مقام پر فائز ہو۔ 
Oصحیح حکمت عملی، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر وقت عالمی حالات اور اپنی طاقت کا بالکل صحیح تجزیہ کیا جائے اور اُس کے مطابق عمل کیا جائے۔ اپنی کامیابیوں کے بجائے اپنی ناکامیوں کو یاد رکھا جائے اور اُس سے مستقبل کے لیے سبق حاصل کیا جائے۔ 
O بڑا رقبہ، معقول آبادی اور قدرتی وسائل پر دسترس: 


قومیں سپر پاور کے درجے سے کیسے گرتی ہیں۔ 

اگر کسی سپر پاور کے اندر درج بالا سات عوامل میں سے کسی بھی عامل میں کمزوری آجائے تو وہ اپنے مقام سے نیچے گرنا شروع ہوجاتی ہے ۔ یہ زوال غلطی کے حساب سے ہوتا ہے۔ اگر غلطی کرنے کے بعد کوئی قوم اپنی اصلاح کرے تو قدرت پھر اُسے آگے بڑھنے کا موقع دیتی ہے۔ 


چھوٹی اقوام کے لیے باوقار زندہ رہنے کا راستہ 

قدرت نے ایسا انتظام کیا ہے کہ اگر ایک چھوٹی قوم باوقار طریقے سے رہنے کا فیصلہ کرے تو کوئی سپر پاور کوشش کے باوجود اُس کو زیر نہیں کرسکتی۔ وہ یہ کہ اگر کوئی چھوٹی قوم تعلیم، جمہوری کلچر، انصاف اور حکمت و صبر پر پوری طرح عمل پیرا ہوتو قدرت اُسے بڑی اقوام کے ظلم سے بچائے رکھتی ہے۔ 


سپر پاور کی نفسیات: 

دنیا کی پوری تاریخ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر سپر پاور یہ چاہتی ہے کہ وہ مستقلاً ایک سپر پاور کے طور پر قائم رہے اور اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے وہ سب کچھ کرنے پر آمادہ رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہرسپر پاور دوسرے ممالک کے معاملے میں دُہرے معیار(Double standard) سے کام لیتی ہے۔ اپنے ملک کے لیے اُسے تعلیم، جمہوریت، انصاف اور صبر وحکمت ضروری معلوم ہوتا ہے، لیکن دوسرے ممالک کے معاملے میں اُس کا نقطہ نظر یہ ہوتا ہے کہ اُن سے صرف اپنے مفاد کے مطابق معاملہ کیا جائے۔ 


اُمت مسلمہ کی موجودہ حالت 

O اُمتِ مسلمہ کا پہلا دور حضورﷺ اور خلفائے راشدین پر مشتمل تھا۔ اس دور میں امتِ مسلمہ کے اندر تعلیم، انصاف، جمہوری کلچر اور حکمت وصبر اپنے بہترین معیار پر تھا۔ اس کے بعد دوسرا دور آیا جو تقریباً آٹھ صدیوں پر مشتمل تھا۔اس دور میں مسلمان حکمرانوں کو بلحاظ مجموعی سیاسی بالادستی حاصل رہی۔ اس دور میں جمہوری کلچر ختم ہوکر رہ گیا، تاہم انصاف اور تعلیم کے حوالے سے یہ امت دوسروں سے بہرحال بہتر تھی۔ 
O اس راقم کے نزدیک تیسرا دور دراصل سیاسی زوال کے آغاز اور آہستہ آہستہ نیچے گرنے کا دور تھا۔ یہ دور 1440ء میں اُس وقت شروع ہوا جب گٹن برگ نے چھاپہ خانہ ایجاد کیا۔ یہاں سے مغرب نے اپنے عروج کا سفر شروع کیا اور عالمِ اسلام زوال کی طرف جانا شروع ہوا۔ یہ دور 1774ء تک جاری رہا۔ یہ وہ سال ہے جب ترکی کی عثمانی سلطنت کو ’’معاہد ہ کوچک کینری‘‘ پر مجبور ہونا پڑا جس کے تحت روس کو ترکی کی مقبوضات میں مداخلت کا حق مل گیا۔ 
O اس راقم کے نزدیک چوتھا اور موجودہ دور مسلمانوں کے سیاسی زوال کا دور ہے۔ یہ دور 1774ء سے لے کر آج تک جاری ہے۔ اور یہ اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک کم ازکم نو مسلمان ممالک یعنی انڈونیشیا، ملائشیا، بنگلہ دیش، پاکستان، ایران، سعودی عرب، ترکی، مصر اور نائیجریا سائنسی اور دفاعی طاقت کے اعتبار سے مغرب کے ہم پلہ نہیں بن جاتے۔ 


موجودہ امریکی حکمت عملی 

پچھلے ایک سو برس سے امریکہ سپر پاور ہے۔ یہ حیثیت اُس نے درج بالا سات عوامل پر عمل کرکے حاصل کیا ہے۔ وہ اسرائیل کو عملاً اپنی اکیاون ویں ریاست سمجھتا ہے، اس لیے اسرائیل کی ہر جائز وناجائز بات کو سپورٹ کرتا ہے اور ہر بجٹ میں اسرائیل کے لیے اپنے ہی ملک کی ایک ریاست جتنی رقم مختص کرتا ہے۔ باقی ساری دنیا سے اُس کا تعلق اپنے مفاد پر مبنی ہے۔ کینیڈا اور مغربی یورپ اُ س سے معاشرتی اور سیاسی طور پر بہت قریب ہیں اس لیے امریکہ اُن کو ایک خاص مقام دیتا ہے۔ امریکی خارجہ پالیسی میں برازیل، مصر اور پاکستان کو بھی ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ سعودی عرب اور خلیج کے دوسرے ممالک بھی اُس کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ پچھلے چند برسوں سے امریکہ نے بھارت کو بھی اپنی خصوصی مہربانی کا مستحق گردانا ہے۔ اس کی ایک وجہ دراصل بھارت کی ایک ارب سے زیادہ لوگوں پر مشتمل صارفین کی آبادی ہے، اور دوسری وجہ یہ ہے کہ بھارت بڑی تیزی سے امریکی اقدار کو اپنا رہا ہے۔ 
امریکہ کی خارجی ترجیحات میں مذہب کو کوئی بڑا مقام حاصل نہیں۔ امریکہ نے افریقہ اور لاطینی امریکہ کے غریب عیسائی ملکوں کو کبھی کوئی اہمیت نہیں دی اور نہ ہی کبھی اُن کی کوئی مدد کی ہے۔ فلسطین کے اندر موجود سارے عیسائی اسرائیل کے مخالف ہیں لیکن امریکہ نے کبھی ان عیسائیوں کو اہمیت نہیں دی۔ دوسری طرف امریکہ نے یورپ کے اندر بوسنیا اور کوسوو نامی مسلمان ریاستوں کی آزادی میں عملاً کردار ادا کیاکیونکہ یہاں اُس کے مفادات تھے۔ 
امریکہ نے مذہب کے نام کو وقتاً فوقتاً اپنے مفادات کے لیے ضرور استعمال کیا ہے لیکن اس کی اصل دلچسپی اپنے ملک کی مفادات سے رہی ہے۔ 
نائن الیون کے بعد امریکہ نے افغانستان کی طالبان حکومت کو الٹی میٹم دیا کہ وہ بن لادن اور اُس کے ساتھیوں کو مقدمہ چلانے کے لیے امریکہ کے حوالے کردے۔ طالبان کے انکار کے بعد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کرکے طالبان حکومت کو ختم کیا۔ یہ حملہ خود امریکہ کے لیے بھی مفید نہیں تھا۔ اگر اس کے بجائے وہ غیر حربی طریقوں مثلاً اقتصادی ناکہ بندی کے ذریعے طالبان حکومت پر دباؤ ڈالتا تو یہ زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا تھا۔ نہ بن لادن کو پکڑا جاسکا اور نہ افغانستان کے پشتون علاقوں میں تعمیر نو کا کوئی کام ہوسکا۔ افغانستان کے پشتون علاقے افراتفری اور خانہ جنگی کا شکار ہیں۔ اس حملے نے عالمِ اسلام کے اندر انتہا پسندی کو مزید فروغ دیا۔ 
2002ء کے آواخر میں امریکہ نے دعویٰ کیا کہ عراق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی کے ہتھیار موجود ہیں۔ یہ الزام سراسر جھوٹ تھا۔ پھر بھی امریکہ نے اپریل 2003میں عراق پر حملہ کرکے صدام حکومت کا خاتمہ کیا۔ ویت نام جنگ کے بعد یہ امریکہ کی سب سے بڑی غلطی بلکہ جرم تھا جس کی سزا امریکہ سمیت سب نے بھگتی۔ اگر امریکہ کا مقصد صدام حکومت کو ہٹانا تھا تو یہ مقصد پرامن طریقے سے چند مہینوں کے اندر اندر حاصل ہوسکتاتھا۔ 
امریکہ صرف اپنے مفاد کا دوست ہے۔ اپنے مفادات کے لیے وہ کچھ بھی کرسکتا ہے۔ اس ضمن میں ہر طرح کی منافقت، دوغلاپن اور دُہرا معیار اُس کے نزدیک جائز ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکہ ایک سپر پاور ہے۔ اگر ہم چاہیں تو اس امریکی طاقت کو مثبت حکمتِ عملی کے ذریعے اپنے حق میں استعمال کرسکتے ہیں۔ ورنہ کم ازکم اتنا تو کرسکتے ہیں کہ یہ طاقت ہمارے خلاف استعمال نہ ہونے پائے۔ گویا امریکہ کی دوستی بھی خطرناک ہے اور اُس کی دشمنی بھی خطرناک ہے۔ اُس کی دشمنی پاکستان اور اُمتِ مسلمہ کے مفاد میں نہیں ہے کیونکہ وہ ہمارے لیے نا قابلِ بیان مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔ چنانچہ مناسب پالیسی یہ ہے کہ امریکہ سے صرف کام کا تعلق (Working Relation) رکھا جائے۔ اُس سے نہ دوستی رکھی جائے اور نہ دشمنی۔ 


مسئلہ افغانستان 

دسمبر1979ء میں جب روسی افواج افغانستان میں داخل ہوگئیں تو اُس وقت پاکستان کے پاس دو راستے تھے۔ ایک پُرامن راستہ، جو یہ تھا کہ اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے جایا جاتا، اس کو ایک عالمی مسئلہ بنایا جاتا، اقوام متحدہ کے تحت گفت وشنید کا آغاز کیا جاتا اور اس گفت وشنید کے ذریعے روس کو کچھ یقین دہانیاں کرواکر افغانستان سے واپس جانے پر آمادہ یا مجبور کیا جاتا۔ اس صورت میں پاکستان اپنی طرف سے کوئی قدم نہ اٹھاتا بلکہ وہ اقوام متحدہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلتا۔ پاکستان کے لیے یہی صحیح راستہ تھا۔ 
دوسرا راستہ عملی مزاحمت کا راستہ تھا۔ اس راستے کے اختیار کرنے کا لازمی تقاضا یہ تھا کہ سب سے پہلے ایک متفقہ افغان جلاوطن حکومت بنائی جاتی، اُس حکومت کو دنیا کے اہم ممالک اور اقوام متحدہ سے تسلیم کروایا جاتا۔ پھر اس جلاوطن حکومت کا امریکہ اور پاکستان سمیت دوسرے ممالک سے فوجی مدد کا معاہدہ ہوتا، اس معاہدے کو اقوام متحدہ کی تائید حاصل ہوتی اور پھر اس جلاوطن حکومت کی زیر نگرانی قائم شدہ فوج کے ذریعے افغانستان کی آزادی کی جدوجہد شروع کی جاتی۔یوں کامیابی کے فوراً بعد ایک مستحکم حکومت وجود میں آجاتی۔ 
لیکن پاکستان کی اُس وقت کی فوجی حکومت نے اس سے ہٹ کر ایک تیسرا راستہ اختیار کیا جو انتہائی غلط اور خطرناک تھا اور جس کی کامیابی کی کوئی مثال پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔ پاکستان نے سب سے پہلے یہ کیا کہ افغانستان کی مزاحمتی قوتوں کی چھ پارٹیاں بنادیں۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے افغانستان کے اندر صرف ایک ہی مزاحمتی پارٹی تھی جس کا نام جمعیتِ اسلامی تھا، جس کے سربراہ برہان الدین ربانی تھے اور سیکرٹری جنرل گل بدین حکمت یار تھے۔ پاکستان نے افغانستان کی تحریکِ مزاحمت کو اس مقصدکی خاطرچھ حصوں میں تقسیم کیا کہ یہ سب تنظیمیں پاکستان کے قابو میں رہیں اور مستقبل میں افغانستان پر پاکستان کی مضبوط گرفت رہے۔ اس بات کو واضح کرنے کے لیے اُس وقت کے جرنیل حربی گہرائی (Strategic Depth) کی اصطلاح استعمال کرتے تھے۔ پاکستان کے کچھ مذہبی اور سیاسی گروہوں نے بھی اس پالیسی کا خوب ساتھ دیا۔ چونکہ امریکہ کو یہ موقع مل رہا تھا کہ وہ اپنے کسی ایک سپاہی کو بھی مروائے بغیر روس کو شکست دے سکے، اس لیے اُس نے بھی حکومتِ پاکستان کا ہر طرح سے ساتھ دیا اور کوشش کی کہ روس کے خلاف مذہبی جذبات کو زیادہ سے زیادہ بھڑکایا جائے۔ چنانچہ ڈالر اور اسلحہ بہت بڑی مقدار میں پاکستان آنا شروع ہوا۔ امریکی امداد براہ راست پاکستانی ایجنسیوں کو ملتی تھی اور ایجنسیاں اُسے افغان تنظیموں میں تقسیم کرتی تھیں۔ 
اسلامی تعلیمات یہ بتاتی ہیں اور دنیا کی جنگی تاریخ کا متفقہ تجربہ یہ ہے کہ صرف وہی تحریکِ مزاحمت کامیاب ہوتی ہے جو ایک متحد قیادت کے تحت ایک متحد فوج کی طرح لڑے۔ لیکن اُس وقت کے پاکستانی جرنیل اس سبق کو یاد نہ رکھ سکے اورسیاسی مذہبی تنظیمیں بھی اسلام کا یہ اصول فراموش کر بیٹھیں۔ ظاہر ہے کہ جب آٹھ تنظیموں کو اسلحہ اور ڈالر ملیں اور ان سب کے علیحدہ علیحدہ ٹریننگ کیمپس ہوں تو اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ ہم دراصل افغانستان کو چھ حصوں میں تقسیم کرنے کی ابتداء کررہے ہیں اور وہاں مستقبل میں خانہ جنگی کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ حکومت پاکستان نے افغان مسلح تنظیموں کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اپنے ٹریننگ کیمپس کھولنے سمیت ہر طرح کی آزادی دے دی اور اس کے ساتھ ساتھ افغان مہاجرین کو بھی پاکستان کے ہر علاقے میں جانے کی اجازت دے دی۔ یہ دونوں اقدامات پاکستان کے وجود اور مفادات سے کھیلنے کے مترادف تھے۔ 
گویا افغانستان کے موجودہ حالات کی اصل ذمہ داری روس کے بعد حکومتِ پاکستان پر عائد ہوتی ہے۔ امریکہ نے اس صورت حال کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا چنانچہ تیسرے نمبر پر وہ ذمہ دار ہے۔ 
فروری 1989میں روسی افواج افغانستان سے نکل گئیں، لیکن اگلے تین برس تک مجاہد تنظیمیں آپس کی خانہ جنگی کی وجہ سے اس قابل نہ ہوسکیں کہ وہ کابل پر قبضہ کرلیں۔ احمد شاہ مسعود صرف اُس وقت کابل پر قبضہ کرسکا جب روس نے افغانستان کو گیس سپلائی روک دی اور ڈاکٹر نجیب کے اپنے مقررکردہ کابل کے دفاع پر مامور جرنیل رشید دوستم نے اُس کے خلاف بغاوت کی۔ جب کابل میں مجاہدین کی حکومت قائم ہوئی تو اگلے چار برس پورا افغانستان لاقانونیت، ظلم ، بے انصافی اور طوائف الملوکی کی تصویر بنارہا۔ اس دور میں افغانستان کے اندر جتنی خونریزی ہوئی، اس سے پہلے نہیں ہوئی تھی۔ 
اس انارکی کے دوران میں نومبر1994ء میں طالبان تحریک نے جنم لے کر قندہار پر قبضہ کرلیا اور اگلے دو برس کے اندر کابل پر بھی اُن کا قبضہ ہوگیا۔ طالبان سب کے سب پشتون تھے اور انہوں نے سب سے پہلے پشتون علاقوں پر قبضہ کیا۔ اُ س وقت افغانستان کے غیر پشتون علاقوں میں امن وامان تھا، اس لیے اس امر کا کوئی جواز نہ تھا کہ طالبان غیر پشتون علاقوں پر حملہ کرتے۔ تاہم طالبان نے یہ بھیانک غلطی کی اور اگلے پانچ سال تک پشتونوں اور غیر پشتونوں کے درمیان لڑائی جاری رہی۔ 
طالبان کا اپنا ایک فہمِ اسلام تھا۔ اس فہمِ اسلام میں اصل اہمیت ان چیزوں کی تھی جن کو پچھلے چودہ سو برس میں اسلام کی پوری تاریخ میں کسی نے بھی بنیادی احکام قرار نہیں دیا اور جن کو بعض مسلمہ فقہی مسالک سرے سے ہی فرائض یا واجبات میں سے نہیں مانتے۔ طالبان کا سب سے بڑا نشانہ مردوں اور عورتوں کی ظاہری ہےئت تھی۔ عورتوں کے سب سکول بند کردئے گئے۔ طالبان کے ہاں جمہوریت، آزادئ رائے اور اپنے مخالفین کے لیے انصاف، عفوودرگزر اور رواداری کا جذبہ مفقود تھا۔ طالبان کا یہ فہمِ اسلام درحقیقت امریکہ اور مغرب کے بہت زیادہ مفاد میں تھا، اس لیے کہ اس کے نتیجے میں مغرب کو اسلام کے خلاف خوب پروپیگنڈے کا موقع ملتا ہے۔ اگر طالبان بن لادن کی سرپرستی نہ کرتے تو امریکہ کو افغانستان پر حملہ کرنے کی کوئی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔ 
اُس وقت القاعدہ کا ہیڈکوارٹر افغانستان میں تھا اور اُس کے ٹریننگ کیمپس مختلف جگہوں میں کام کررہے تھے۔ 23فروری1998ء کو بن لادن، ایمن الظواہری اور ابو یزید المصری کی طرف سے خوست کے مقام سے ایک تفصیلی فتویٰ منظر عام پر آیا جس میں امریکہ کے خلاف اعلان جنگ کیا گیا اور یہ بھی کہا گیا کہ امریکہ اور اُس کے اتحادی ممالک کے باشندوں، خواہ وہ سویلین ہوں یا فوجی، کو قتل کرنا مسلمانوں پر فرض ہے۔ اس اعلان کے بعد کینیا، تنزانیہ اور یمن سمیت کئی ملکوں میں امریکی سفارتخانوں اور بحری جہازوں پر حملے ہوئے۔ القاعدہ نے ان سب کی ذمہ داری قبول کی۔ امریکہ اس معاملے کو اقوام متحدہ میں لے گیا جہاں طالبان حکومت سے یہ متفقہ مطالبہ کیا گیاکہ ملزموں کو امریکہ کے حوالے کیاجائے۔ گویا القاعدہ تنظیم کے ہیڈکوارٹر کی افغانستان میں موجودگی طالبان کے لیے آگ سے کھیلنے کے مترادف تھی۔ جب نائن الیون کا واقعہ پیش آیا تو امریکہ نے بہت واضح الفاظ میں طالبان کو الٹی میٹم دیا کہ القاعدہ کے آٹھ اہم ارکان کو اُس کے حوالے کیا جائے۔ اقوام متحدہ نے بھی اپنی متفقہ قرارداد کے ذریعے طالبان سے یہ مطالبہ کیا کہ ان افراد کو امریکہ کے حوالے کیا جائے۔ تاہم طالبان نے اس سے انکار کیا۔ 
نائن الیون سے پہلے طالبان نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ تین مسلمان ملکوں پر مشتمل ایک عدالت بنائی جائے جس کے سامنے بن لادن کو پیش کیا جائے۔ تاہم جب نائن الیون کے بعد پاکستانی علماء کا ایک وفد طالبان سے ملاقات کے لیے قندہار گیا تو طالبان اپنی اس پیشکش سے پیچھے ہٹ گئے اور کہا کہ اب حالات بدل چکے ہیں، اس لیے اب بن لادن پر صرف طالبان کی عدالت میں ہی مقدمہ چل سکتا ہے۔ نائن الیون کے چند ہفتے بعد امریکہ کے وزیر خارجہ کولن پاؤل نے یہ پیش کش کی کہ بن لادن پر کسی دوسرے غیر جانبدار ملک میں اُس ملک کے قانون کے مطا بق مقدمہ چلایا جائے تو یہ بھی امریکہ کو منظور ہوگا۔ لیکن اس پیش کش کو طالبان نے یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ دنیا بھر میں شرعی عدالت تو صرف طالبان کی ہے، اس لیے بن لادن کے متعلق صرف اسی کا فیصلہ چلے گا۔ 
نائن الیون کے واقعے کے بعد بن لادن نے اس واقعہ کی ذمہ داری اٹھانے کے متعلق اپنا موقف باربار بدلا۔ مثلاً بارہ ستمبر2001ء کو اپنے ایک بیان میں اس واقعے میں اپنے براہ راست ملوث ہونے سے انکار کیا مگر ان خودکش حملہ آوروں کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اُن کی تائید کی۔ 7اکتوبر کے بیان میں اُنہوں نے کہا کہ یہ خودکش حملہ آور بہت اچھے نوجوان مسلمان تھے جن کو پروردگار نے اس حملے کی توفیق بخشی اور جنت کی ابدی نعمتیں اُن کا انتظار کررہی ہیں۔ 13اکتوبر کو القاعدہ کے ترجمان نے الجزیرہ ٹی وی پر کہا کہ مغرب کے اندر رہنے والے مسلمانوں کو اونچی عمارتوں میں رہنے اور ہوائی سفر سے گریز کرنا چاہیے اس لیے کہ اس طرح کے مزید خودکش حملے بھی ہوسکتے ہیں۔ اس کے بعد بن لادن نے اپنے ایک انٹرویو میں نیوکلئیر، کیمیاوی اور حیاتیاتی ہتھیار رکھنے کا دعویٰ کیا۔ اُنتیس اکتوبر2004 کو بن لادن نے اپنی ایک ویڈیو تقریر میں واضح طور پر کہا کہ یہ حملہ القاعدہ کی طرف سے کیا گیا ہے۔ پاکستان کے ممتاز صحافی حامد میر نے یہ انکشاف کیا کہ جب نائن الیون سے کچھ عرصہ پہلے وہ بن لادن سے ملنے کے لیے گئے تھے تو وہاں القاعدہ کے کمپیوٹرز میں نائن الیون کے مرکزی کردار عطا محمد کی تصویریں اور معلومات موجود تھیں اور وہ یہ بات سمجھ گئے تھے کہ عطا محمد کی کوئی بھاری ذمہ داری سپرد کی گئی ہے۔ بن لادن کے ذاتی معالج ڈاکٹر عامر عزیز کے مطابق بن لادن نے اُن کو بتایا کہ یہ حملے اُن کے حکم پر کئے گئے۔ 2007ء میں نائن الیون کی چھٹی سالگرہ کے موقعے پر بن لادن نے نائن الیون کے ایک خودکش حملہ آور کو خصوصی خراج تحسین پیش کیا۔ اس کے بعد23جولائی کو القاعدہ کے ایک اہم رہنما ابو یزید نے اپنے ویڈیوتقریر میں واضح طور پر کہا کہ نائن الیون کی منصوبہ بندی القاعدہ نے کی۔اب تو القاعدہ کی طرف سے ایسی ویڈیوز منظرِ عام پر آگئی ہیں جن میں نائن الیون کی پوری سکیم اور تربیت کے بارے میں بتایا گیا ہے اور نائن الیون کے بعض خودکش حملہ آوروں کے بیانات بھی شامل ہیں۔ 
طالبان کے پورے دور اقتدار میں پاکستان طالبان حکومت کا حامی رہا۔ ظاہر ہے کہ یہ اندھی حمایت غلط تھی۔ نائن الیون کے بعد جب امریکہ نے جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت کو سات مطالبات پر مبنی فہرست پیش کی تو جنرل مشرف نے بغیر کسی توقف اور مشورے کے امریکہ کے سارے مطالبات مان لیے۔ ظاہر ہے کہ یہ بھی بالکل غلط تھا۔ اگر اُس وقت پاکستان میں کوئی کمزور جمہوری حکومت بھی موجود ہوتی تو نہ امریکہ اس رنگ میں یہ مطالبہ کرسکتا تھا اور نہ حکومت ان مطالبات کو اس انداز میں مان سکتی تھی۔ تاہم فوجی حکومت نے یہ کام کیا جس کا نتیجہ پاکستان کے لیے مزید پولر ائزیشن اور تباہی کی صورت میں نکلا۔ 
موجودہ صورت حال یہ ہے کہ افغانستان کے غیر پشتون صوبے اور وہ صوبے جن میں غیر پشتون بڑی تعداد میں موجود ہیں، پرامن ہیں۔ وہاں سیاسی پارٹیاں قائم ہیں جن کی نمائندگی پارلیمنٹ میں موجود ہے۔ افغانستان کا موجودہ آئین بظاہر ایک اچھی دستاویز ہے۔ تاہم پشتون صوبوں میں بدامنی ہے، جگہ جگہ طالبان کا قبضہ ہے، ترقیاتی کام نہیں ہورہا اور سب سے بڑھ کر بدقسمتی یہ ہے کہ حامد کرزئی کے انکار اور حوصلہ شکنی کی وجہ سے پشتون علاقوں میں کوئی حقیقی معتدل سیاسی پارٹی بھی موجود نہیں ہے۔ گویااِس وقت افغانستان کے حوالے سے پاکستان، امریکہ، طالبان اور حامد کرزئی سب کے سب ناکامی سے دوچار ہیں۔ البتہ غیر پشتون علاقے بظاہر کامیاب ہیں، اس لیے کہ وہاں سیاسی عمل اور ترقیاتی کام دونوں جاری ہیں۔ 
سوال یہ ہے کہ اب کیا کیا جائے؟ اس معاملے میں ہماری طرف سے امریکہ کو کوئی مشورہ دینا فضول ہے اس لیے کہ وہ تو اپنے عالمی مفادات کے مطابق کام کرتا ہے۔ بھلا اُسے ہمارا مشورہ پہنچے گا کیسے اور وہ اُن پر کیوں عمل کرے گا۔ تاہم باقی تینوں فریقوں کو ہم اپنی تجاویز پیش کرسکتے ہیں۔ پاکستان کے لیے ہماری تجویز یہ ہے کہ پاکستان حکمت کے ساتھ اس جنگ سے اپنے آپ کو عملی لحاظ سے لاتعلق کرلے ، پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جاری شورش کا خاتمہ کیا جائے، اور قبائلی علاقوں کو پاکستان میں ضم کرکے صوبہ پختون خواہ کا ایک حصہ بنایا جائے۔ طالبان سے ہمارا یہ کہنا ہے کہ وہ مسلح مزاحمت کا راستہ چھوڑ کر اپنے آپ کو ایک سیاسی تنظیم میں ڈھال لیں اور اس کے بعد امریکہ سے مطالبہ کریں کہ چونکہ افغانستان میں کوئی بدامنی نہیں اس لیے اُس کی افواج افغانستان سے نکل جائیں۔ جب کہ حامد کرزئی کے لیے یہ ضروری ہے کہ پشتون علاقوں میں ایک معتدل سیاسی پارٹی کی تشکیل کے ذریعے ایک بھرپور سیاسی عمل کا آغاز کیا جائے اور یہ تجویز پیش کی جائے کہ اگر طالبان مسلح مزاحمت چھوڑ دیں اور انتخاب میں حصہ لیں تو امریکہ کو افغانستان سے واپسی کا ٹائم ٹیبل دینا چاہیے۔ 
موجودہ صورت حال میں اصل نقصان پاکستان اور افغانستان کو پہنچ رہا ہے، اس لیے سب سے بڑھ کر یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اپنے گھر کو ٹھیک کریں۔